कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بارش کیوں نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔؟

تحریر: عادل مدنی
9975911674

بارانِ رحمت نے ہمارے شہر سے پہلو تہی کر رکھی تھی، اوسط سے بھی کم بارش ہوئی تھی، جانوروں کے چارے کے تک لالے پڑے ہوئے تھے، کسان زمین میں بیج ڈال کر بادلوں کی طرف نظریں گاڑھے ہوئے تھے۔ مذہبی ذمہ داران نے نمازِ استسقاء کا اعلان کیا، اخبارات میں اپیل ہوئی۔ شہر کے باہر واقع عید گاہ میدان میں ہزاروں لوگ جمع ہوئے اور بارش کے لیے نمازِ استسقاء ادا کی گئی، گڑگڑا کر بارش کے لیے دعائیں بھی مانگی گئیں۔ ان ہزاروں لوگوں میں شہر کے بڑے تاجر الحاج لڈھن پٹیل، سلمان قریشی، احمق چاؤش بھی تھے اور نوجوان کامران خان بھی تھا۔ الحاج لڑھن پٹیل صاحب نماز سے لوٹنے کے بعد گھر تشریف لائے، پوتے اور نواسوں کے درمیان بیٹھ کر اخبار کا جائزہ لینے لگے، خبر چھپی تھی مسلم دوشیزہ نے ہندو لڑکے سے بیاہ رچایا، تفصیلات میں درج تھا مسلم دوشیزہ جس کا تعلق غریب گھرانے سے تھا، والد کے پاس بیٹی کے نکاح کے لیے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے اس نے ہندو نوجوان کے ساتھ بھاگ کر شادی کر لی۔ لڈھن پٹیل صاحب نے خبر پڑھ کر آدابِ تجوید ملحوظ رکھتے ہوئے لاحول پڑھا اور اخبار رکھ کر اپنے بیٹے کو آواز دی، ارے ٹریول پر جا کر میرا حج کا ٹکٹ بک کیا یا نہیں؟ آخری تاریخ چلی گئی تو اس سال حج نصیب نہیں ہوگا، یہ غالباً ان کے تیسرے حج کا ذکر تھا، اس سے قبل حج کمیٹی سے ان کے دو حج اور رمضان المبارک میں دو عمرے ہو چکے تھے۔
اسحاق چاؤش جو نمازِ استسقاء سے لوٹے تو ان کا ڈرائیور چھوٹو کار لیے ان کے گھر کے سامنے کھڑا تھا۔ چاؤش پھرتی سے ٹو ویلر کو سائیڈ اسٹینڈ پر لگا کر اترے اور چھوٹو کے پیٹ میں زوردار لات رسید کی اور دانت پیس کر چلاتے ہوئے کہا، اتنی دیر کیوں ہوئی کار لانے میں، مجھے ٹویٹر پر نماز کے لیے جانا پڑا۔ چھوٹو درد کی وجہ سے پیٹ پکڑ کر گھٹنوں کے درمیان سر رکھ کر بیٹھ گیا اور تھوڑی دیر بعد رکے ہوئے دم کے ساتھ اس نے کراہتے ہوئے کہا "سر وسنگ سینٹر پر لائٹ نہیں تھی، یابا۔۔۔ اس لیے گاڑی دھو کر لانے میں دیر ہوگئی۔“ چاؤش نے غصے سے چھوٹو کو دیکھا اور گالیاں بکتے ہوئے گھر میں داخل ہوئے، سگریٹ سلگائی اور عالیشان صوفے پر بیٹھ کر ریال میڈرڈ اور لیورپول کے درمیان جاری فٹ بال میچ دیکھنے میں مشغول ہو گئے۔ چھوٹو کی آنکھوں سے زار و قطار آنسوؤں کی بارش جاری تھی۔
سلمان قریشی نماز کی ادائیگی کے بعد راست اپنے کاروبار کی وصولی کے لیے عید گاہ سے ہی اپنی رائل اینفیلڈ بُلٹ پر نکل گئے تھے۔ سیدھا شہر کے مضافات میں واقع سلم بستی میں سبزی فروش وسیم کے گھر گئے۔ دروازے کے سامنے پہنچ کر اپنی بُلٹ کے پیتل کی مٹھی والے ایکسیلٹر سے ریس کرتے ہوئے پکارا وسیم۔۔۔ وسیم۔۔۔ ہے کیا؟ اندر سے نسوانی آواز آئی کون؟ جواب دیا ”میں ہوں سلمان۔“ اندر سے جواب ملا، وہ ہاتھ گاڑی لے کر دھندے پر گئے ہوئے ہے۔“ سلمان قریشی نے ڈانٹنے کے انداز میں کہا "روز دھندے پر جارا اور پیسے جمع نہیں کر را‘ اندر سے پھر لرزتے ہوئے آواز آئی ‘طبیعت خراب تھی تو دو چار دن دھندہ بند تھا صاب، اس لیے ہفتہ دینے میں لیٹ ہو گئے۔“ سلمان نے پھر دہاڑتے ہوئے گالی بکنی شروع کر دی اور گھر میں داخل ہوتے ہوئے کہا، طبیعت خراب ہے تو میں کیا کرو؟ میرے کو شام تک پیسے ہونا۔۔۔۔۔ اُس کو بول اصل دیتے رہنا بعد میں۔۔۔ لیکن بیاض میں دیر کرا تو میری دوسری سیٹنگ بگڑ جاتی‘‘ حوس بھری نظروں سے وسیم کی جواں سال بیوی کو دیکھتے ہوئے قریشی نے اپنی انگلیوں میں موجود ہمہ اقسام کے پتھروں پر مشتمل انگوٹھیوں کو سستے سنگھار دان کے شیشے پر آہستہ آہستہ بجاتے ہوئے کہا، میں روز روز چکر مارنے کے لیے ریکاما نہیں ہوں، مجھے وصولی کے دوسرے طریقے بھی آتے ہیں۔“ کہتے ہی وہ باہر نکلا اور بُلٹ اسٹارٹ کر کے پھرتی سے روانہ ہو گیا۔۔۔۔ بُلٹ کی زوردار فائرنگ خاتون کے دل میں انجانے خوف اور اندیشے پیدا کر رہی تھی اور آنکھوں میں آنسوؤں کی جھڑی لگی ہوئی تھی۔
کامران خان نماز کے بعد گھر میں داخل ہوا، ماں نے کہا بیٹا اچھا ہوا تو آگیا، میں نے کرانہ سامان کی لسٹ بنادی ہے، تو جا کر لے آ، ماں کی بات کو ٹالتے ہوئے کامران پلنگ پر لیٹ گیا اور جینز کی جیب سے اپنا اسمارٹ فون نکال کر واٹس ایپ پر میسج پڑھنے لگا۔ کافی دیر تک کامران کو فون میں مشغول دیکھ کر آٹا گوندھتی ہوئے ماں نے دوبارہ کہا، جانا بیٹا۔ لے کر آنا دیر ہوجائیگی کھانا بنانے میں۔۔۔۔ تیرے ابوا بھی کام سے لوٹتے ہی ہوں گے، وہ ناراض ہوں گے۔ یہ کہتے ہوئے ماں نے فون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کی جس کی وجہ سے تھوڑا سا آٹا فون کی اسکرین پر لگ گیا، یہ دیکھ کر کامران جھلایا، اوہ شیٹ یار ممی۔۔ عقل ہی نہیں ہے تم کو۔۔۔۔ کل ہی نیا اسکرین گارڈ لگایا تھا ”کہتے ہوئے کامران جلدی سے تولیے کی طرف لپکا، اس دوران ہڑبڑاہٹ میں اس کا فون زمین پر گر گیا ’’ممی تمہاری کرکری بڑی منحوس ہے، ایک ساتھ پخ پخ لگائے تم نے، دیکھو میرا فون گر گیا۔۔۔۔ دم جارا تھا تمہارا کرانہ سامان کے لیے جاؤ، اب میں نہیں لاتا‘‘ یہ کہتے ہوئے کامران نے فون اٹھایا اور باہر چلا گیا، نکڑ پر جاکر اس نے بہت ٹینشن میں ٹپری والے سے کہا، ایک چھوٹی گولڈ فلیک دے“ سگریٹ لینے کے بعد کامران نے ٹپری میں رکھے کٹورے میں سے ماچس کی دو تین تیلیاں لیں اور ماچس کے رگڑنے والے کاغذ کا چھوٹا سا حصہ پھاڑ کر جیب میں رکھا اور ٹپری سے متصل ہوٹل میں گیا اور بولا، ایک چائے لے بھائی، چائے کے ساتھ سگریٹ کے کش لیتے ہوئے وہ فون درست کرنے میں لگ گیا۔
ادھر ماں نے کامران کے کڑوے کسیلے جملے سنے اور دوبارہ آٹا گوندھنے لگی، اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی بارش جاری تھی۔۔۔۔۔۔۔ اور شہر میں تیسری مرتبہ نمازِ استسقاء کے باوجود بارش نہیں ہوئی تھی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے