कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ایم پی ایس سی اسسٹنٹ پروفیسر امتحان میں اردو فونٹ کا مسئلہ؛ امیدواروں کا دوبارہ امتحان لینے کا مطالبہ

اشتہار نمبر 114/2023 و 115/2023 کے تحت 27 اگست کو منعقدہ امتحان میں سوالیہ پرچے کی ناقابلِ قرأت عبارت سے امیدواروں کو شدید دشواری

از قلم: اسماء جبین فلک

متاثرہ اردو امیدواروں کی جانب سے:
مسابقتی امتحان کسی بھی امیدوار کے لیے محض چند گھنٹوں کا امتحان نہیں ہوتا، بلکہ اس کے پیچھے مہینوں اور برسوں کی محنت، مطالعہ، وقت، وسائل اور مستقبل کی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔ امیدوار امتحانی مرکز میں اس یقین کے ساتھ پہنچتا ہے کہ اسے اپنی علمی قابلیت اور تیاری ثابت کرنے کا ایک منصفانہ موقع فراہم کیا جائے گا۔ لیکن اگر امتحان کے بنیادی وسیلے، یعنی سوالیہ پرچے کو ہی واضح طور پر پڑھنا اور سمجھنا ممکن نہ رہے تو یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ ایسے حالات میں امیدوار کی حقیقی قابلیت کا منصفانہ اندازہ آخر کیسے لگایا جاسکتا ہے؟
27 اگست 2026 کو مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن (MPSC) کے تحت اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے سے متعلق، اشتہار نمبر 114/2023 اور 115/2023 کے تحت منعقدہ امتحان میں اردو میڈیم کے امیدواروں کو سوالیہ پرچے کے اردو فونٹ سے متعلق ایک سنگین تکنیکی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
متاثرہ اردو امیدواروں کے مطابق سوالیہ پرچے میں استعمال ہونے والی اردو عبارت متعدد مقامات پر اس قدر غیر واضح اور ناقابلِ قرأت تھی کہ سوالات کو درست طور پر پڑھنے اور ان کا مفہوم سمجھنے میں شدید دشواری پیش آئی۔
یہاں معاملہ کسی سوال کے مشکل یا آسان ہونے کا نہیں تھا،مسئلہ یہ تھا کہ سوال کو پڑھنا اور سمجھنا ہی دشوار ہوگیا تھا۔
جب سوال واضح نہ ہو تو جواب کیسے درست ہوگا؟:
کسی بھی مسابقتی امتحان میں امیدوار کی کارکردگی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ اسے سوال پوری طرح سمجھ میں آئے۔ سوال واضح ہو تو امیدوار اپنی معلومات، فہم اور علمی صلاحیت کو بروئے کار لاکر جواب دے سکتا ہے۔ لیکن اگر حروف اور الفاظ کی ساخت ہی واضح نہ ہو تو امیدوار کو جواب دینے سے پہلے سوال کو سمجھنے میں غیر معمولی وقت صرف کرنا پڑتا ہے۔
اردو رسم الخط اپنی مخصوص لسانی اور بصری ساخت رکھتا ہے۔ حروف کی شکل، نقطوں کی جگہ، باہمی اتصال اور الفاظ کی ترکیب میں معمولی سی تکنیکی خرابی بھی پورے لفظ یا جملے کے مفہوم کو متاثر کرسکتی ہے۔ اسی لیے اردو کے آن لائن امتحان میں فونٹ اور ٹیکسٹ کی درست پیش کش محض ایک تکنیکی سہولت نہیں بلکہ امتحانی انصاف کی بنیادی ضرورت ہے۔
امتحان کے دوران متعدد امیدواروں کو سوالات کو بار بار پڑھنا پڑا تاکہ عبارت کا مفہوم واضح ہوسکے۔ اس عمل میں قیمتی وقت صرف ہوا اور ذہنی دباؤ میں بھی اضافہ ہوا۔ مسابقتی امتحان میں جہاں ہر لمحہ اہم ہوتا ہے، وہاں سوال سمجھنے میں اضافی وقت صرف ہونا امیدوار کی مجموعی کارکردگی کو متاثر کرسکتا ہے۔
امتحان میں غلط جواب دینا امیدوار کی اپنی ذمہ داری ہوسکتی ہے، لیکن سوال کو ہی درست طور پر نہ پڑھ پانا امیدوار کی علمی کمزوری نہیں بلکہ امتحانی نظام کی خامی ہے۔
یہ رعایت کا نہیں، مساوی مواقع کا مطالبہ ہے
اردو امیدواروں کی یہ اپیل کسی اضافی سہولت یا خصوصی رعایت کا مطالبہ نہیں ہے۔
امیدوار نہ اضافی نمبر چاہتے ہیں، نہ انتخاب میں کسی خصوصی ترجیح کے خواہش مند ہیں اور نہ ہی کسی دوسرے امیدوار کے حق پر اثر انداز ہونا چاہتے ہیں۔
ان کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ:
"ہماری قابلیت کا فیصلہ ایسے سوالیہ پرچے کی بنیاد پر کیا جائے جسے ہم واضح طور پر پڑھ اور سمجھ سکیں۔”
یہی ایک منصفانہ اور شفاف امتحان کی بنیادی روح ہے۔
اگر ایک امیدوار کو واضح اور قابلِ خواندگی سوالیہ پرچہ فراہم ہو اور دوسرے امیدوار کو ایسی عبارت کا سامنا کرنا پڑے جسے سمجھنے میں تکنیکی رکاوٹ پیش آرہی ہو تو دونوں کے لیے امتحانی حالات یکساں کیسے قرار دیے جاسکتے ہیں؟
کمیشن سے شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی اپیل:
اس معاملے کی حساسیت کے پیشِ نظر ضروری ہے کہ مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن اس شکایت کا فوری نوٹس لے اور معاملے کی باقاعدہ تکنیکی جانچ کرائے۔
یہ جاننا ضروری ہے کہ سوالیہ پرچہ تیار ہونے سے لے کر امتحانی اسکرین پر ظاہر ہونے تک کن مراحل سے گزرا؟ کیا اردو فونٹ کو مختلف آلات اور اسکرینوں پر پہلے سے آزمایا گیا تھا؟ کیا حتمی سوالیہ پرچے کو اسی تکنیکی ماحول میں چیک کیا گیا تھا جس میں امیدواروں نے امتحان دیا؟
اگر یہ تمام مراحل موجود تھے تو ایسی خرابی کیسے پیدا ہوئی؟ اور اگر مکمل جانچ کا مؤثر نظام موجود نہیں تھا تو مستقبل میں اس کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے؟
یہ سوالات کسی فرد یا ادارے کو موردِ الزام ٹھہرانے کے لیے نہیں بلکہ امتحانی نظام کو مزید شفاف، قابلِ اعتماد اور امیدوار دوست بنانے کے لیے اٹھائے جارہے ہیں۔
متاثرہ امیدواروں کی جانب سے فراہم کیے جانے والے تحریری شکایات کو بھی تحقیقات کا حصہ بنایا جانا چاہیے، تاکہ مسئلے کی نوعیت اور اس کے اثرات کا غیر جانب دارانہ اندازہ لگایا جاسکے۔
اگر تکنیکی خرابی کے باعث امیدواروں کو سوالیہ پرچہ سمجھنے میں حقیقی دشواری پیش آئی اور اس کا اثر ان کی کارکردگی پر پڑا، تو محض شکایت درج کرکے معاملہ ختم کردینا کافی نہیں ہوگا۔
ایسی صورتِ حال میں سب سے مناسب اور منصفانہ راستہ یہ ہے کہ متاثرہ اردو امیدواروں کو واضح، معیاری اور مکمل طور پر قابلِ قرأت سوالیہ پرچے کے ساتھ دوبارہ امتحان دینے کا موقع فراہم کیا جائے۔
دوبارہ امتحان کسی امیدوار کو غیر ضروری فائدہ پہنچانا نہیں ہوگا،بلکہ اس کا مقصد صرف یہ ہوگا کہ امیدواروں کو اپنی اصل علمی قابلیت ثابت کرنے کا وہ موقع دوبارہ مل سکے جو تکنیکی خرابی کے باعث متاثر ہوا۔
اس واقعے سے ایک اہم سبق یہ بھی ملتا ہے کہ اردو زبان کے آن لائن امتحانات کے لیے صرف سوالیہ پرچہ تیار کرلینا کافی نہیں۔ اس کی تکنیکی اور لسانی آزمائش بھی ضروری ہے۔
مستقبل میں اردو امتحانات سے قبل:
اردو فونٹ کی مکمل readability testing کی جائے؛
حروف، نقطوں، الفاظ اور جملوں کی درست rendering جانچی جائے،
مختلف اسکرینوں اور سسٹمز پر سوالیہ پرچے کی پیشگی جانچ کی جائے،
حقیقی امتحانی ماحول میں mock test یا test run کیا جائے،
اور ضرورت پڑنے پر اردو زبان کے ماہرین اور تکنیکی ماہرین سے حتمی تصدیق کرائی جائے۔
اگر آن لائن نظام میں ایسی تکنیکی خامیوں کا مستقل سدباب ممکن نہ ہو تو اردو امتحانات کے لیے آف لائن، قلم و کاغذ کے طریقۂ امتحان پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔
اردو امیدواروں کے اہم مطالبات:
متاثرہ اردو امیدواروں کی جانب سے مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن سے درج ذیل مطالبات پیش کیے جاتے ہیں:
اول: 27 اگست 2026 کو منعقدہ اسسٹنٹ پروفیسر امتحان میں اردو سوالیہ پرچے سے متعلق تکنیکی خرابی کی فوری اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں۔
دوم: متاثرہ اردو امیدواروں کے لیے واضح، معیاری اور قابلِ قرأت سوالیہ پرچے کے ساتھ دوبارہ امتحان (Re-examination) منعقد کیا جائے۔
سوم: امیدواروں کی جانب سے پیش کیے جانے والے تحریری شکایات کو تحقیقات کا حصہ بنایا جائے۔
چہارم: آئندہ اردو آن لائن امتحانات سے قبل سوالیہ پرچے کی تکنیکی و لسانی جانچ کے لیے باقاعدہ اور لازمی پروٹوکول وضع کیا جائے۔
پنجم: اگر آن لائن نظام میں اردو فونٹ کی خواندگی کو یقینی بنانا ممکن نہ ہو تو اردو امتحانات کو آف لائن، قلم و کاغذ کے طریقے سے منعقد کرنے کے امکان پر غور کیا جائے۔
ششم: کمیشن اس معاملے میں اپنے فیصلے اور آئندہ کے لائحۂ عمل سے متاثرہ امیدواروں کو بروقت آگاہ کرے۔
ایک آخری اپیل:
امیدواروں کے لیے امتحان محض ایک سوال نامہ نہیں ہوتا، یہ ان کے مستقبل کی طرف کھلنے والا ایک دروازہ ہوتا ہے۔ وہ اس دروازے تک پہنچنے کے لیے اپنی نیندیں، وقت، وسائل اور بے شمار خواہشیں صرف کرتے ہیں۔ اس لیے امتحانی نظام کی ایسی تکنیکی خامی کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے جو امیدوار کی سوال سمجھنے اور جواب دینے کی صلاحیت کو متاثر کرسکتی ہو۔
مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن سے امیدواروں کی اپیل کسی ادارے کو بدنام کرنا نہیں، بلکہ امتحانی نظام پر امیدواروں کے اعتماد کو برقرار رکھنا اور منصفانہ امتحانی عمل کو یقینی بنانا ہے۔
امیدواروں کو یقین ہے کہ کمیشن اس شکایت کو سنجیدگی سے لے گا، حقائق کی غیر جانب دارانہ جانچ کرے گا اور اگر تکنیکی خرابی سے امیدواروں کی کارکردگی واقعی متاثر ہوئی ہے تو انہیں اپنی قابلیت ثابت کرنے کا منصفانہ موقع فراہم کرے گا۔
یہ امیدوار کسی خصوصی رعایت کے طلب گار نہیں، صرف مساوی موقع، واضح سوالیہ پرچہ اور منصفانہ امتحان چاہتے ہیں۔
کیونکہ امیدوار کی قابلیت کا فیصلہ اس کے علم سے ہونا چاہیے، کسی تکنیکی خرابی سے نہیں۔
متاثرہ اردو امیدواروں کی جانب سے
امتحان سے متعلق اہم معلومات
ادارہ: مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن (MPSC)
عہدہ: اسسٹنٹ پروفیسر
امتحان کی تاریخ: 27 اگست 2026
اشتہار نمبر: 114/2023 اور 115/2023
میڈیم: اردو
شکایت: سوالیہ پرچے میں اردو فونٹ کی غیر واضح/ناقابلِ قرأت پیش کش
بنیادی مطالبہ: متاثرہ اردو امیدواروں کا دوبارہ امتحان
دیگر مطالبات: شفاف تحقیقات، تکنیکی جانچ اور مستقبل کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے