कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

انڈین ڈی این اے مختصر افسانہ

از قلم محمود علی لیکچرر

رات کے دو بج رہے تھے۔
پروفیسر مخدوم اپنی میز پر جھکے ہوئے ونگ رہے تھے۔ سامنے تاریخ کی کئی کتابیں کھلی پڑی تھیں۔ ایک طرف ویدوں کے اوراق، دوسری طرف بائبل، قرآن، بدھ مت اور جین مت کی کتابیں ساتھ ہی مارکس ڈارون نطشے اور اسپنسر کی کتابیں بھی پڑی تھیں۔
وہ کئی گھنٹوں سے ایک ہی سوال سے لڑ رہے تھے:

"انسان نے اتنی ترقی کی، مگر انسان کے اندر کا انسان اتنا پیچھے کیوں رہ گیا؟”

انہوں نے کمپیوٹر کی اسکرین پر لکھا:

INDIAN DNA

پھر خود ہی مسکرا دیے۔

"DNA تو جسم میں ہوتا ہے، مخدوم ذات مذہب اور طبقہ کہاں سے DNA میں آگیا؟”

مگر فوراً ان کے ذہن نے جواب دیا
"شاید خون میں نہیں، ذہن میں۔”

ہزاروں سال پہلے انسان نے غار سے نکل کر بستی بنائی۔

پھر خاندان بنا۔

خاندان سے قبیلہ۔

قبیلے سے ریاست۔

ریاست سے سلطنت۔

اور سلطنت کے ساتھ ایک نیا سوال پیدا ہوا:

"ہم کون ہیں اور وہ کون ہیں؟”

انسان نے اپنے لیے نام بنائے۔

ذاتیں بنائیں۔

نسلیں بنائیں۔

مذہب بنائے۔

طبقے بنائے۔

اور پھر انہی خانوں میں دوسرے انسانوں کو بانٹ دیا۔

جو طاقتور تھا، اس نے اپنی برتری کو مقدس بنا دیا۔

جو کمزور تھا، اس نے اپنی کم تری کو تقدیر سمجھ لیا۔

مخدوم نے کتاب بند کی۔

اسے اپنے بچپن کا اسکول یاد آگیا۔

کلاس میں سب بچے ایک ساتھ بیٹھتے تھے، مگر کھانے کے وقت کسی نہ کسی طرح ایک لکیر کھینچ جاتی تھی۔

کسی کی ذات معلوم ہوتی۔

کسی کا مذہب۔

کسی کا خاندان۔

کسی کا پیشہ۔

وہ سوچنے لگا:

"ہم بچوں کو پیدائش کے ساتھ ہی شناخت کیوں دے دیتے ہیں؟”

بچہ تو صرف بچہ ہوتا ہے۔

اسے نہ ذات معلوم ہوتی ہے، نہ مذہب، نہ طبقہ۔

یہ سب اسے سکھایا جاتا ہے۔
یعنی تعصب بھی ایک طرح کی تعلیم ہے۔

صدیوں بعد مذہب آیا

اس نے انسان کو بتایا

تم سب ایک خدا کی مخلوق ہو۔

لیکن انسان نے مذہب کو بھی اپنی شناخت کی دیوار بنا لیا۔

ایک نے کہا:

"میرا مذہب سچا ہے۔”

دوسرے نے کہا

"میرا خدا بہتر ہے۔
تیسرے نے کہا
"میری ذات پاک ہے۔”
چوتھے نے کہا
"میری نسل برتر ہے۔”
اور پھر مذہب، جو انسان کو جوڑنے آیا تھا، بعض انسانوں کے ہاتھوں شناخت کی جنگ بن گیا۔

مخدوم نے سر اٹھایا۔

"کیا مسئلہ مذہب ہے؟”
وہ کچھ دیر خاموش رہا۔
پھر خود ہی بولا
"یا مسئلہ انسان کی طاقت کی خواہش ہے؟”
اس نے ڈارون کی کتاب اٹھائی۔

Struggle for Existence.

زندگی بقا کی جدوجہد ہے۔

کمزور پیچھے رہ جاتا ہے۔

طاقتور آگے بڑھتا ہے۔

مخدوم نے کتاب میز پر رکھ دی۔

"لیکن انسان تو حیوان سے آگے بڑھ گیا تھا۔”

پھر اسے جنگل یاد آیا۔

وہاں شیر کمزور ہرن کو کھا رہا تھا۔

اور شہر میں؟

وہاں طاقتور انسان کمزور انسان کو قرض قانون ذات مذہب سرمایہ اور سیاست کے ذریعے کھا رہا تھا۔
فرق صرف اتنا تھا کہ جنگل میں شیر کے دانت نظر آتے تھے۔

انسانی معاشرے میں دانت مسکراہٹ کے پیچھے چھپے ہوتے ہیں۔

پھر مغرب آیا۔

سائنس آئی۔

انسانی حقوق کا تصور آیا۔

جمہوریت آئی۔

آزادی آئی۔
برابری کا نعرہ بلند ہوا۔
لیکن اسی جدید دنیا نے نوآبادیات بھی بنائیں۔
نسل پرستی نے جنم لیا۔
افریقہ کے انسانوں کو غلام بنایا گیا۔
کسی کو "مہذب” کہا گیا، کسی کو "وحشی”۔
سفید اور سیاہ کے درمیان بھی ایک مصنوعی دیوار کھڑی کردی گئی۔
مخدوم نے سوچا
"انسان ہر جگہ ایک جیسا ہے۔ وہ اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی دلیل ڈھونڈ لیتا ہے۔
اس نے ہندوستان کا نقشہ کھولا۔
اس کی انگلی مہاراشٹر پر رک گئی۔
پھر شمال کی طرف گئی۔
جنوب کی طرف گئی۔
اور اچانک اسے محسوس ہوا جیسے نقشے پر لاکھوں چھوٹی چھوٹی لکیریں بن گئی ہوں۔

ذات۔

مذہب۔

زبان۔

علاقہ۔

طبقہ۔

فرقہ۔
ذات کے اندر ذات
مذہب کے اندر فرقہ
فرقے کے اندر گروہ۔
اور ہر گروہ اپنے آپ کو دوسرے سے کچھ بہتر سمجھنے لگا۔
مخدوم کے فون پر ایک پیغام آیا۔

اس کا ایک دوست لکھ رہا تھا
"ہم سب برابر ہیں۔
مخدوم مسکرایا۔

اسی دوست نے چند دن پہلے کسی کی ذات پوچھ کر اپنے بیٹے کی شادی کا فیصلہ کیا تھا۔
مخدوم نے موبائل رکھ دیا۔

اس نے لکھا
"انسان کا سب سے بڑا مذہب شاید اس کی منافقت ہے۔”
پھر اس جملے کو مٹا دیا۔
"نہیں۔”
اس نے لکھا
"منافقت مذہب نہیں، خوف ہے۔”
پھر وہ بھی مٹا دیا
آخرکار اس نے صرف ایک جملہ رہنے دیا
"انسان اپنے نظریات سے زیادہ اپنی عادتوں کا غلام ہے۔”
صبح کی اذان کی آواز آئی۔
مخدوم نے کھڑکی کھولی۔
دور ایک مسجد سے اذان آرہی تھی۔
کچھ فاصلے پر مندر کی گھنٹی بھی بج رہی تھی۔
اور شہر کے کسی حصے میں ایک گرجا گھر کی گھنٹی بھی شاید اسی صبح کو جگا رہی تھی۔
مخدوم نے سوچا
خدا نے انسان کو الگ الگ راستے دیے یا انسان نے خدا تک پہنچنے کے لیے الگ الگ راستے بنا لیے؟
اسے جواب معلوم نہیں تھا
اور پہلی بار اسے اپنے "نہ معلوم” ہونے پر اطمینان ہوا۔
اس نے کمپیوٹر دوبارہ کھولا
INDIAN DNA
نیچے لکھا
"یہ خون کا DNA نہیں ہے۔
یہ ہماری یادوں تعصبات خوفوں ذاتوں مذہبوں طبقوں اور نسلوں سے منتقل ہونے والی ایک سماجی میراث ہے۔
پھر کچھ دیر سوچ کر اس نے آخری سطر لکھی
"انسان کی اصل برتری یہ نہیں کہ وہ دوسروں سے بہتر پیدا ہوا ہے؛ اصل برتری یہ ہے کہ وہ اپنے اندر پیدا ہونے والی برتری کے غرور کو شکست دے سکے۔”
باہر سورج نکل رہا تھا۔
شہر جاگ رہا تھا۔
مگرمخدوم جانتے تھے
اصل سوال یہ نہیں کہ ہندوستان کب بدلے گا۔
اصل سوال یہ تھا
"میں اپنے اندر موجود ہزاروں سال پرانے انسان کو کب بدلوں گا؟”
اور شاید وہی تبدیلی
انڈین ڈی این اے کی پہلی تبدیلی ہوگی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے