कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

افسانہ۔۔۔آخری وائس نوٹ

از قلم: سویرا رمضان

مریم کی انگلی کئی لمحوں سے موبائل کی اسکرین پر ٹھہری ہوئی تھی۔اسکرین پر ایک سبز نشان چمک رہا تھا۔
"امی 1 Unheard Voice Message”
یہ پیغام چار دن پرانا تھا۔
اس نے حسبِ عادت خود سے کہا تھا، "دفتر سے واپس آکر سکون سے سن لوں گی۔”
مگر دفتر کی میٹنگ، دوستوں کی محفل، سوشل میڈیا کی مصروفیات اور زندگی کی بے شمار الجھنوں نے اس "بعد میں” کو چار دن لمبا کر دیا۔
پانچویں دن فون بجا۔دوسری طرف خالہ کی ٹوٹتی ہوئی آواز تھی۔
"مریم… بہن چلی گئی۔”
وہ ایک لمحے کو کچھ سمجھ نہ سکی۔ جیسے الفاظ نے اپنا مطلب کھو دیا ہو۔ پھر اچانک اس کے ہاتھ سے موبائل چھوٹ کر فرش پر گر گیا۔
گھر لوگوں سے بھرا ہوا تھا، مگر اسے ہر طرف ایک ایسی خاموشی سنائی دے رہی تھی جو چیخ رہی تھی۔
تدفین کے بعد سب لوگ واپس چلے گئے۔ رات ڈھلنے لگی تو وہ ماں کے خالی کمرے میں جا بیٹھی۔
الماری سے اب بھی وہی ہلکی سی خوشبو آ رہی تھی جسے وہ بچپن سے پہچانتی تھی۔ تکیے پر پڑی چادر جیسے ابھی کسی نے تہہ کی ہو۔
اس نے موبائل اٹھایا۔وہی سبز نشان اب بھی موجود تھا۔کانپتے ہاتھوں سے اس نے وائس نوٹ چلا دیا۔
"السلام علیکم، میری بچی… آج نہ جانے کیوں تیرا بہت خیال آ رہا ہے۔ بس دل چاہا تیری آواز سن لوں۔ جب وقت ملے تو فون کر لینا۔ اور ہاں… کھانا وقت پر کھا لیا کر، اپنے آپ کا خیال بھی رکھا کر۔ اللہ تجھے ہر دکھ سے محفوظ رکھے۔”
بس اتنے ہی الفاظ تھے۔
بارہ تیرہ سیکنڈ کا ایک معمولی سا پیغام…
مگر اس مختصر آواز میں برسوں کی ممتا، دعائیں اور انتظار سمٹ آیا تھا۔
مریم نے بے اختیار موبائل سینے سے لگا لیا۔آنسو اس کے رخساروں پر خاموشی سے بہتے رہے۔
اچانک اسے یاد آیا…
بچپن میں جب وہ اسکول سے دیر سے گھر پہنچتی تو ماں دروازے پر کھڑی ملتی تھی۔
جب وہ بیمار ہوتی تو پوری رات جاگتی رہتی تھی۔جب پہلی بار شہر سے باہر ملازمت ملی تو سب سے زیادہ خوش بھی وہی تھی اور سب سے زیادہ اداس بھی۔
اور اب…
وہ صرف ایک وائس نوٹ بن کر رہ گئی تھی۔اگلی صبح مریم قبرستان گئی۔وہ ماں کی قبر کے پاس خاموش بیٹھی رہی۔ بہت کچھ کہنا چاہتی تھی۔
"امی! میں نے جان بوجھ کر دیر نہیں کی تھی۔”
"امی! میں واقعی مصروف تھی۔”
"امی! ایک بار اور آواز دے دیں…”
مگر قبر کے اس پار نہ کوئی کال جا سکتی تھی، نہ کوئی وائس نوٹ بھیجا جا سکتا تھا۔
ہوا آہستہ آہستہ درختوں کے پتوں کو ہلا رہی تھی، جیسے فطرت بھی اسے ایک ہی بات سمجھا رہی ہو کہ کچھ دروازے ایک بار بند ہو جائیں تو پھر دنیا کی کوئی دستک انہیں نہیں کھول سکتی۔
واپسی پر اس نے موبائل سے وہ وائس نوٹ حذف نہیں کیا۔وہ آج بھی محفوظ ہے۔
جب کبھی زندگی کی دوڑ اسے اپنوں سے دور کرنے لگتی ہے تو وہ ماں کی وہ بارہ سیکنڈ کی آواز سن لیتی ہے۔
اور ہر بار اسے محسوس ہوتا ہے کہ انسان اکثر سب سے قیمتی رشتوں کو اس یقین پر ٹالتا رہتا ہے کہ "وقت ابھی بہت ہے۔”
حالانکہ زندگی کی سب سے بڑی بے رحمی یہی ہے کہ وقت کبھی کسی کو یہ بتا کر نہیں جاتا کہ کون سی ملاقات آخری ہوگی، کون سی دعا آخری ہوگی… اور کون سا وائس نوٹ آخری۔

 

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے