कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

افسانہ۔۔خاموش چیخ

تحریر:سویرا رمضان

زرینہ کی ایک عجیب سی عادت تھی۔وہ چیزوں کو صرف چیزیں نہیں سمجھتی تھی، انہیں نام دیتی تھی۔ جیسے ہر بے جان شے کے اندر بھی کوئی روح چھپی ہو، کوئی شخصیت، کوئی کہانی۔
گھر کے صحن میں کھڑا پرانا نیم کا درخت اس کے لیے صرف ایک درخت نہیں تھا۔ وہ اسے "بابا جی” کہتی تھی۔ گرمیوں کی دوپہروں میں جب وہ اس کے نیچے بیٹھ کر پڑھتی تو اسے یوں محسوس ہوتا جیسے درخت اپنی خاموش شاخوں کے ذریعے اس کی ہر بات سن رہا ہو۔
چھت پر لگا پرانا پنکھا "ضدی” تھا، کیونکہ عین گرمی کے موسم میں اچانک رک جاتا اور پھر اپنی مرضی سے چل پڑتا اور آسمان میں ایک ستارہ تھا شمال کی سمت ذرا سا ٹیڑھا باقی سب سے الگ۔اس کا نام زرینہ نے "میرا” رکھا ہوا تھا۔وہ اکثر خود سے کہتی "جو سب سے الگ ہو… وہی سب سے زیادہ اپنا لگتا ہے۔”
شاید اسی لیے وہ ستارہ اسے اچھا لگتا تھا۔
اٹھارہ سالہ زرینہ کی دنیا بہت بڑی نہیں تھی، مگر اس کے خواب بہت بڑے تھے۔
صبح آنکھ کھلتے ہی وہ ریڈیو کا پرانا بٹن دباتی جو ہمیشہ پہلی کوشش میں نہیں چلتا تھا روٹیاں بناتے ہوئے کتاب کھول کر رکھ لیتی، ہر تیسری روٹی جلا دیتی اور پھر خود ہی اپنی بے دھیانی پر ہنس پڑتی۔
گھر کی سفید بلی کو اس نے "چاندنی” کا نام دیا ہوا تھا۔ وہ ابو کی نظروں سے بچا کر اسے دودھ پلاتی کیونکہ ابو کو جانور پالنے کا زیادہ شوق نہیں تھا۔
زرینہ مکمل نہیں تھی۔وہ کبھی کبھی چھوٹے چھوٹے جھوٹ بھی بول دیتی تھی۔
جب ماں پوچھتیں:”نماز پڑھ لی؟”
تو وہ کبھی کبھی "جی” کہہ دیتی، حالانکہ وہ کسی ناول یا حیاتیات کی کتاب میں اس قدر گم ہوتی کہ وقت کا احساس ہی نہ رہتا۔
پھر رات کو سونے سے پہلے ہاتھ اٹھا کر آہستہ سے دعا مانگتی”یا اللہ… آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔”اور چند دن بعد پھر وہی غلطی دہرا بیٹھتی۔اس معصوم کمزوری کے باوجود وہ ایک اچھی لڑکی تھی ایک خواب دیکھنے والی لڑکی اس کا سب سے بڑا خواب ڈاکٹر بننا تھا۔صرف سفید کوٹ پہننا نہیں…بلکہ ان عورتوں کا علاج کرنا جو دور دراز دیہات میں صرف اس لیے جان کی بازی ہار دیتی تھیں کہ وقت پر ڈاکٹر نہیں ملتا تھا۔پانچویں جماعت میں استانی جمیلہ نے ایک دن پوری کلاس سے کہا تھا:
"یاد رکھنا، ایک اچھا ڈاکٹر صرف مریض نہیں بچاتا، پورا خاندان بچاتا ہے۔”باقی بچے اگلے سبق میں مصروف ہو گئے تھے۔زرینہ وہیں رک گئی تھی۔وہ جملہ اس کے دل میں اس طرح اتر گیا تھا جیسے گیلی دیوار میں کیل ٹھونک دی جائے۔سال گزر گئے، مگر وہ جملہ آج بھی وہیں موجود تھا۔
لاہور کے اندرون شہر، محلہ کاغذیاں، کوچہ نمبر سات میں ان کا چھوٹا سا گھر تھا۔دیواروں کی سفیدی زرد پڑ چکی تھی۔زنگ آلود گیٹ کبھی پوری طرح نہیں کھلتا تھا۔
اوپر والی کھڑکی کا ایک پٹ برسوں سے ٹوٹا ہوا تھا۔ابو ہر جمعے کہتے:”اس ہفتے مستری بلا لیتا ہوں۔”مگر ہر بار کوئی نیا خرچ آ جاتا۔اور کھڑکی ویسے ہی رہ جاتی۔گھر چھوٹا تھا، مگر محبت سے بھرا ہوا۔ابو سخت مزاج ضرور تھے، مگر جب زرینہ اچھے نمبر لاتی تو پورے محلے کو اس کی مارک شیٹ دکھاتے پھرتے۔اور ماں…وہ ہر صبح اس کے بیگ میں روٹیوں کے ساتھ اپنی دعائیں بھی رکھ دیتی تھیں۔
گھر سے اکیڈمی تک کا راستہ بارہ منٹ کا تھا۔زرینہ نے یہ وقت گھڑی سے زیادہ دل سے ناپ رکھا تھا۔
پہلے شکینہ اماں کی چائے کی دکان آتی۔
وہ ہر صبح آواز دیتیں:
"بیٹی، ایک دن ڈاکٹر بن کر میری شوگر بھی ٹھیک کرنا۔”
زرینہ ہنس کر جواب دیتی:
"پیسے لوں گی اماں!”
اور دونوں ہنس پڑتیں پھر مسجد کا کونا آتا وہاں روز ایک کبوتر بیٹھا ہوتا۔پھر حافظ جی کا پان والا کھوکھا۔اور اس کے سامنے ایک چھوٹا سا سفید مکان۔وہ نسرین آپا کا گھر تھا۔نسرین آپا سرکاری اسکول میں اردو پڑھاتی تھیں۔محلے کے بچوں کو مفت پڑھانا بھی ان کی عادت تھی۔زرینہ جب کبھی کسی سوال میں پھنس جاتی تو انہی کے دروازے پر دستک دیتی۔
نسرین آپا ہنس کر کہتیں:
"ڈاکٹر صاحبہ! اتنی جلدی ہمت ہار گئیں؟”
پھر وہ سوال حل کرواتیں اور آخر میں ہمیشہ ایک ہی بات کہتیں:
"خواب پہلے پورے ہوتے ہیں، ڈگریاں بعد میں ملتی ہیں۔”
وقت کے ساتھ یہ مختصر گفتگو زرینہ کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن گئی تھی۔
مگر راستے کا آخری حصہ مختلف تھا۔بارہواں منٹ ایک موڑ عام سا موڑ لیکن زرینہ کے لیے وہ راستے کا سب سے بھاری حصہ تھا۔وہاں پہنچتے ہی اس کے قدم خود بخود سست پڑ جاتے۔بیگ کا پٹہ اس کے ہاتھ میں اور مضبوط ہو جاتا۔سانسیں بے ترتیب ہونے لگتیں۔کیونکہ وہاں تین لڑکے کھڑے ہوتے تھے۔
روز تقریباً ایک ہی وقت شکیل…ندیم…اور ایک خاموش لڑکا جس کا نام زرینہ نہیں جانتی تھی۔اس نے دل ہی دل میں اسے "سایہ” کا نام دے دیا تھا۔کیونکہ بعض اوقات سایے روشنی سے زیادہ خوفناک ہوتے ہیں۔شروع میں صرف نظریں تھیں۔پھر آوازیں۔۔۔پھر طنز۔۔۔اور اب زرینہ کو محسوس ہونے لگا تھا کہ خوف آہستہ آہستہ اس کے راستے میں نہیں، اس کے اندر جگہ بنا رہا ہے۔
ایک صبح نسرین آپا نے اسے غور سے دیکھا۔
آج زرینہ نے سلام تو کیا تھا، مگر مسکرائی نہیں تھی۔”خیریت ہے؟”انہوں نے پوچھا۔”جی… امتحان کا دباؤ ہے۔”
زرینہ نے فوراً جواب دیا۔نسرین آپا نے چند لمحے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔پھر آہستہ سے بولیں:
"اگر کبھی کتابوں سے زیادہ دل بھاری ہو جائے… تو میرے دروازے پر دستک دے دینا۔”
زرینہ خاموش رہی۔اسے کیا معلوم تھا کہ بہت جلد اسے واقعی اس دروازے کی ضرورت پڑنے والی ہے۔
زرینہ نے مصنوعی سی مسکراہٹ اوڑھ لی۔
"جی آپا، آتی ہوں۔”
مگر وہ جانتی تھی کہ وہ کبھی کسی کو کچھ نہیں بتائے گی۔اسی شام وہ باورچی خانے میں ماں کے پاس کھڑی تھی۔ کئی بار اس کے ہونٹ ہلے، کئی بار اس نے خود کو خاموش رہنے پر مجبور کیا۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ اپنے خوف کو لفظ کیسے دیے جاتے ہیں۔ماں برتن دھو رہی تھیں۔ بہتے ہوئے پانی کی آواز پورے باورچی خانے میں پھیل رہی تھی۔
"کیا بات ہے، بیٹی؟”
ماں نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
زرینہ نے گہرا سانس لیا۔
"امی… گلی کے موڑ پر کچھ لڑکے ہوتے ہیں۔”
ماں کے ہاتھ یکدم رک گئے۔پہلی بار زرینہ نے پوری بات کہی۔ کہ وہ راستہ روکتے ہیں، آوازیں لگاتے ہیں، طنز کرتے ہیں، اور روز اسی موڑ پر اس کا انتظار کرتے ہیں۔
کافی دیر تک دونوں کے درمیان صرف پانی بہنے کی آواز رہی۔ پھر ماں نے آہستہ سے نل بند کر دیا۔ شاید وہ الفاظ تلاش کر رہی تھیں، یا شاید اپنی بیٹی کے لیے ایک محفوظ دنیا۔
"بیٹی… دوپٹہ ٹھیک رکھا کرو، جلدی گھر آیا کرو اور نظریں نیچی رکھا کرو۔”
زرینہ کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔
"لیکن امی… میں نے کیا کیا ہے؟”
یہ سوال اس نے اپنی ماں سے کم اور اس دنیا سے زیادہ کیا تھا۔ماں نے اس کی طرف دیکھا۔ اس بار ان کی آنکھوں میں نصیحت نہیں، صرف خوف تھا۔
"کچھ نہیں کیا۔”
انہوں نے بمشکل کہا۔
"میری بچی! غلطی تمہاری نہیں ہے۔ میں صرف اس دنیا سے ڈرتی ہوں، جو بیٹیوں کے زخموں سے زیادہ ان کے قدموں کا حساب مانگتی ہے۔”
یہ کہتے کہتے ان کی آواز بھر آئی۔
پہلی بار زرینہ نے محسوس کیا کہ ماں اسے نہیں، اس معاشرے کو جانتی ہیں۔ مگر اس احساس سے بھی اس کے خوف میں کوئی کمی نہ آئی۔
اس رات وہ حسبِ معمول چھت پر گئی۔ آسمان پر نظریں دوڑائیں اور اپنا پسندیدہ ستارہ "میرا” تلاش کرنے لگی۔ وہ آج بھی وہیں تھا، مگر آج اسے بھی دھندلا دیکھ کر زرینہ نے آہستہ سے آنکھیں بند کر لیں۔
اسے معلوم نہیں تھا کہ چند دن بعد اس کی زندگی بھی اسی ستارے کی طرح دھندلی ہونے والی ہے۔
اکتوبر کی شامیں عجیب ہوتی ہیں۔ سورج پوری طرح ڈوبنے سے پہلے ہی اندھیرا زمین پر اترنے لگتا ہے، جیسے روشنی خاموشی سے اپنا بستر سمیٹ رہی ہو۔
اس دن بھی کچھ ایسا ہی تھا۔
اکیڈمی کی آخری کلاس ختم ہوئی تو زرینہ نے اپنی کتابیں بیگ میں رکھیں، پانی کی بوتل بند کی اور ایک نظر نوٹ بک پر ڈالی۔ آج کا ماڈل ٹیسٹ توقع کے مطابق نہیں ہوا تھا۔ وہ راستے بھر یہی سوچتی رہی کہ سوال نمبر سترہ میں آخر غلطی کہاں ہوئی تھی۔
اکیڈمی کے دروازے سے باہر نکلی تو بجلی جا چکی تھی۔
پورا محلہ نیم تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ چند دکانوں کے باہر بیٹری والے بلب جل رہے تھے، مگر وہ روشنی اندھیرے سے لڑنے کے لیے کافی نہیں تھی۔
زرینہ نے بے اختیار اپنا بیگ سینے سے لگا لیا۔ اس کے قدم معمول سے کچھ زیادہ تیز تھے۔
وہ جانتی تھی…اب بارہواں منٹ شروع ہونے والا ہے۔
شکینہ اماں کی دکان بند ہو چکی تھی۔ مسجد کے صحن میں صرف ایک مدھم سا بلب جل رہا تھا۔ حافظ جی اپنا کھوکھا سمیٹ رہے تھے۔
نسرین آپا کے گھر کے باہر رکھے گملے خاموش کھڑے تھے۔ دروازہ بند تھا۔ زرینہ نے ایک لمحے کے لیے سوچا کہ آج سلام کیے بغیر ہی گزر گئی۔
پھر اس نے خود کو ڈانٹا۔
"جلدی گھر پہنچنا ہے۔”
وہ موڑ تک پہنچی اور اسی لمحے اس کے قدم رک گئے۔
اسے کوئی آواز سنائی نہیں دی تھی، مگر اس کے وجود میں ایک انجانا سا خوف اتر آیا۔ خوف کبھی کبھی آواز سے نہیں، احساس سے پہچانا جاتا ہے۔
چند لمحوں بعد اس نے دیکھا۔ سامنے راستہ بند تھا۔
ایک طرف موٹر سائیکل کھڑی تھی اور دوسری طرف چند سائے۔
اس نے دوسری سمت مڑنے کی کوشش کی، مگر راستے جیسے یکایک سمٹ گئے تھے۔ اس کا دل بے اختیار تیزی سے دھڑکنے لگا۔ اس نے آواز دینے کی کوشش کی، مگر خوف نے اس کی آواز کو جیسے گلے ہی میں قید کر لیا۔
اسی لمحے اس کے ذہن میں کئی تصویریں ایک ساتھ ابھریں۔
ماں…ابو…استانی جمیلہ…ڈاکٹر بننے کا خواب…اور آسمان کا وہ ٹیڑھا سا ستارہ "میرا”۔
پھر…رات نے اس گلی کو اپنی خاموشی میں لپیٹ لیا۔
کچھ دیر بعد گلی دوبارہ ویسی ہی تھی۔دیواریں اپنی جگہ کھڑی تھیں۔ ہوا چل رہی تھی۔ دور کہیں کتے بھونک رہے تھے۔مگر زمین پر چند کتابیں بکھری پڑی تھیں۔
حیاتیات کی کتاب کا ایک صفحہ ہوا کے ساتھ بار بار پلٹ رہا تھا۔ کاپی کے پہلے صفحے پر صبح جلدی میں لکھا گیا "زرینہ” کا نام اب بھی واضح تھا۔
قریب سے کئی لوگ گزرے۔کسی نے کتابوں کی طرف دیکھا، کسی نے قدم تیز کر لیے، اور کسی نے رکنا مناسب نہ سمجھا۔
اس رات خاموشی صرف اس گلی میں نہیں تھی، لوگوں کے اندر بھی تھی۔
گھر کا دروازہ آہستہ سے کھلا۔
ماں نے جیسے ہی زرینہ کو دیکھا، ان کا دل دھک سے رہ گیا۔ انہوں نے کوئی سوال نہیں کیا۔ وہ دوڑ کر اس کے قریب آئیں اور اسے اپنے بازوؤں میں سمیٹ لیا۔
"یا اللہ…”
بس یہی دو لفظ ان کے لبوں سے نکل سکے۔
ان دو لفظوں میں دعا بھی تھی، فریاد بھی اور ایک ماں کا ٹوٹ جانا بھی۔
ابو کو آواز دی گئی۔
وہ جلدی سے باہر آئے۔ چند لمحے تک ان کی نظریں زرینہ پر جمی رہیں۔ پھر جیسے ان کے قدموں کے نیچے سے زمین کھسک گئی ہو۔ وہ قریب رکھی کرسی پر بیٹھ گئے۔
کمرے میں ایسی خاموشی تھی جسے کوئی توڑ نہیں پا رہا تھا۔
کافی دیر بعد انہوں نے دھیمی آواز میں کہا:
"ہمیں… ہسپتال جانا چاہیے۔”
مگر اگلے ہی لمحے ان کے چہرے پر معاشرے کا خوف اتر آیاانہوں نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا۔وہ ایک باپ تھے، مگر اسی لمحے ایک ایسے معاشرے کے سامنے خود کو بے بس محسوس کر رہے تھے جہاں اکثر سوال مجرم سے پہلے متاثرہ فرد سے پوچھے جاتے ہیں۔زرینہ خاموش بیٹھی رہی۔اس کے کانوں میں صرف ایک سوال بار بار گونج رہا تھا۔
"آخر قصور کس کا تھا؟”
اور اس سوال کا جواب ابھی بہت دور تھا۔گھر وہی تھا۔ وہی زرد دیواریں، وہی زنگ آلود گیٹ اور وہی ٹوٹی ہوئی کھڑکی۔مگر اب اس گھر کی خاموشی بدل چکی تھی۔پہلے یہاں خاموشی سکون دیتی تھی۔اب یہی خاموشی دم گھونٹنے لگی تھی۔
"آپا۔۔۔”
نسرین آپا نے آہستگی سے کتاب بند کر دی اور محبت بھری نگاہ سے زرینہ کو دیکھا۔
"جی، بیٹی؟”
زرینہ نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد پوچھا۔
"اگر میں اُس دن اُس راستے سے نہ جاتی تو۔۔۔؟”
یہ وہ سوال تھا جو کئی راتوں سے اس کے اندر سانس لے رہا تھا۔ وہ سوال جس نے اسے ہر لمحہ خود کو کٹہرے میں کھڑا کرنے پر مجبور کر رکھا تھا۔نسرین آپا نے جواب دینے میں جلدی نہیں کی۔ وہ چند لمحے خاموش رہیں، پھر نہایت دھیمے لہجے میں بولیں:
"تو وہ کسی اور راستے پر کسی اور زرینہ کا انتظار کرتے۔”
زرینہ خاموش ہو گئی۔
"بیٹی! ظلم کا راستہ مظلوم طے نہیں کرتا۔۔۔ ظالم کرتا ہے۔ اس لیے کبھی اپنے آپ کو اُس ظلم کا ذمہ دار مت سمجھنا، جس کا فیصلہ تم نے نہیں، کسی اور نے کیا ہو۔”
کمرے میں پھر خاموشی چھا گئی، مگر آج اس خاموشی کا رنگ پہلے جیسا نہیں تھا۔ آج اس میں امید کی ایک مدھم سی کرن بھی شامل تھی۔
اگلے دن نسرین آپا نے آہستگی سے کہا:
"میں تمہیں ایک بات بتاؤں؟”
زرینہ نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
نسرین آپا نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کہا:
"آج سے بارہ سال پہلے۔۔۔ میں بھی تمہاری ہی جگہ بیٹھی تھی۔”
زرینہ نے چونک کر ان کی طرف دیکھا۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ دوسروں کے زخموں پر مرہم رکھنے والی یہ عورت خود بھی کبھی اتنے گہرے زخموں سے گزری ہوگی۔
"مہینوں تک مجھے بھی یہی لگتا رہا کہ شاید قصور میرا تھا۔ میں نے خود کو ہر روز کٹہرے میں کھڑا کیا۔ اپنے ہر قدم کا حساب لیا۔ پھر ایک دن کسی نے مجھ سے صرف پانچ الفاظ کہے تھے۔۔۔”
وہ پہلی بار پوری طرح زرینہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولیں:
"تم نے کچھ غلط نہیں کیا۔”
یہ الفاظ سنتے ہی زرینہ کے ضبط کا بند ٹوٹ گیا۔ وہ کسی مضبوط لڑکی کی طرح نہیں، بلکہ ایک معصوم بچے کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ اس کی ہچکیاں پورے کمرے میں گونجنے لگیں۔نسرین آپا نے اسے چپ کرانے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے صرف اس کا ہاتھ تھام لیا۔کچھ آنسو بہہ جانے چاہییں، ورنہ وہ دل کے اندر پتھر بن جاتے ہیں۔
جب زرینہ کچھ سنبھلی تو دھیمی آواز میں بولی:
"آپا۔۔۔ اب کیا ہوگا؟”
نسرین آپا نے گہرا سانس لیا۔
"اگر تم چاہو تو خاموش رہ سکتی ہو، یہ تمہارا حق ہے۔ اور اگر تم چاہو تو انصاف کے لیے کھڑی بھی ہو سکتی ہو، یہ بھی تمہارا حق ہے۔ مگر یاد رکھو، یہ فیصلہ کوئی اور نہیں کرے گا۔۔۔ صرف تم کرو گی۔”
زرینہ نے سر جھکا لیا۔ وہ جانتی تھی کہ دونوں راستے آسان نہیں تھے۔
اگلے روز نسرین آپا اکیلی نہیں آئیں۔ دروازے پر کھڑی ماں سے انہوں نے دھیمے لہجے میں کہا:
"میں ایک خاتون کو جانتی ہوں۔ وہ برسوں سے ایسی بچیوں کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ وہ آپ سے کوئی جھوٹا وعدہ نہیں کریں گی، لیکن راستہ ضرور دکھائیں گی۔ اگر آپ لوگ اجازت دیں تو میں انہیں کل اپنے ساتھ لے آؤں؟”
ماں نے ایک لمحے کے لیے زرینہ کی طرف دیکھا۔ شاید پہلی بار انہوں نے فیصلہ خود اس پر چھوڑ دیا تھا۔
زرینہ نے دھیرے سے سر ہلا دیا۔
"جی۔”
نسرین آپا مسکرائیں۔
"کل میری ایک دوست آئے گی۔ اُس کا نام صائمہ ہے۔۔۔ اور شاید یہیں سے تمہاری خاموشی ختم ہونا شروع ہو جائے۔”
کمرے کی کھڑکی سے آتی ہوا نے میز پر رکھی حیاتیات کی کتاب کا ایک صفحہ پلٹ دیا۔ زرینہ نے بے اختیار اس کتاب کی طرف دیکھا۔
کئی ہفتوں بعد پہلی بار اس کے دل میں ایک خیال ابھرا:
"شاید۔۔۔ میری کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔”
اگلے دن دوپہر کے قریب دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ حسبِ معمول نسرین آپا تھیں، مگر آج اُن کے ساتھ ایک اور خاتون بھی تھیں۔ سادہ سیاہ عبایا، کندھے پر پرانا سا بیگ، ہاتھ میں چند فائلیں اور چہرے پر ایک پُرسکون وقار۔
"السلام علیکم!”
انہوں نے اندر آتے ہوئے کہا۔
"میں صائمہ ہوں۔”
ان کی آواز میں ہمدردی ضرور تھی، مگر ترس نہیں تھا۔ اور شاید یہی پہلی چیز تھی جس نے زرینہ کو ان کی طرف متوجہ کیا۔کمرے میں سب خاموش بیٹھ گئے۔ صائمہ نے فائل کھولی، مگر فوراً سوالات شروع نہیں کیے۔ اُن کی نظر میز پر رکھی حیاتیات کی کتاب پر پڑی تو مسکرا کر بولیں:
"سنا ہے تم ڈاکٹر بننا چاہتی ہو؟”
زرینہ نے آہستگی سے سر ہلا دیا۔
"اب بھی؟”
یہ سوال غیر متوقع تھا۔ زرینہ چند لمحے خاموش رہی، پھر دھیرے سے بولی:
"پتہ نہیں۔۔۔”
صائمہ نے فائل بند کر دی۔
"اچھا ہے کہ تم نے سچ بولا۔”
پھر وہ دھیمے لہجے میں بولیں:
"جن لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے، وہ اکثر اپنے خوابوں پر بھی شک کرنے لگتے ہیں۔ حالانکہ خواب کا قصور کبھی نہیں ہوتا۔”
کافی دیر تک وہ صرف زرینہ کی بات سنتی رہیں۔ نہ درمیان میں ٹوکا، نہ جلدی کی اور نہ کوئی فیصلہ سنایا۔
جب زرینہ خاموش ہو گئی تو صائمہ نے کہا:
"میں تمہیں دو راستے بتاتی ہوں۔ پہلا یہ کہ تم خاموش رہو۔ زندگی شاید بظاہر چلتی رہے، مگر یہ خاموشی تمہارے اندر ہمیشہ زندہ رہے گی۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ تم انصاف کے لیے کھڑی ہو جاؤ۔ یہ راستہ لمبا بھی ہوگا، تھکا دینے والا بھی، اور بعض دن ایسے بھی آئیں گے جب تم خود سوچو گی کہ کاش خاموش رہ جاتی۔ لیکن اگر تم آخر تک ڈٹی رہیں تو صرف اپنے لیے نہیں، کسی اور لڑکی کے لیے بھی راستہ آسان کر سکتی ہو۔”
کمرے میں ایک گہری خاموشی اتر آئی۔
ابو پہلی بار گفتگو میں شامل ہوئے۔ دھیمی آواز میں بولے:
"اگر۔۔۔ ہمیں انصاف نہ ملا تو؟”
صائمہ نے اُن کی طرف دیکھا اور نہایت سنجیدگی سے کہا:
"میں آپ سے انصاف کا وعدہ نہیں کر سکتی، کیونکہ کوئی ایماندار انسان ایسا وعدہ نہیں کرتا۔ لیکن اتنا ضرور کہوں گی کہ اگر آپ خاموش رہے تو ناانصافی یقینی ہے۔ اور اگر آپ کھڑے ہو گئے تو کم از کم امید باقی رہے گی۔۔۔ اور بعض اوقات امید ہی انسان کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔”
یہ جملہ سیدھا ابو کے دل میں اتر گیا۔ انہوں نے خاموشی سے نظریں جھکا لیں۔ شاید پہلی بار انہیں محسوس ہوا تھا کہ خاموشی بھی بعض اوقات ناانصافی کا ساتھ بن جاتی ہے۔
صائمہ نے ایک بار پھر اپنی فائل کھولی اور نہایت نرم لہجے میں بولیں:
"میں تم سے کچھ سوال کروں گی۔ اگر کسی سوال کا جواب نہ دینا چاہو تو مت دینا۔ یہ تمہارا حق ہے۔”
زرینہ نے پہلی بار محسوس کیا کہ کوئی اس کے حقوق کی بات بھی کر رہا ہے۔ پچھلے کئی دنوں سے لوگ اس سے صرف سوال کرتے آئے تھے، مگر آج پہلی بار کسی نے اسے جواب نہ دینے کا اختیار بھی دیا تھا۔
ایک ایک سوال نہایت احتیاط سے پوچھا گیا۔ کبھی زرینہ کی آواز بھر آتی، کبھی خاموشی طویل ہو جاتی۔ ایسے ہر لمحے میں نسرین آپا خاموشی سے اس کا ہاتھ تھام لیتیں اور وہ ایک بار پھر ہمت جمع کر لیتی۔
گفتگو ختم ہوئی تو صائمہ نے فائل بند کرتے ہوئے کہا:
"ہمیں جلدی آغاز کرنا ہوگا۔ کچھ ثبوت وقت کے ساتھ کمزور پڑ جاتے ہیں اور کچھ گواہ وقت کے ساتھ ڈر جاتے ہیں۔”
پھر انہوں نے ایک لمحے کے لیے کمرے میں موجود سب لوگوں کی طرف دیکھا اور نہایت سنجیدگی سے بولیں:
"لیکن یاد رکھیے، یہ صرف ایک قانونی جنگ نہیں ہوگی۔ یہ اس سوچ کے خلاف بھی لڑائی ہوگی جو آج بھی مظلوم سے سوال کرتی ہے اور ظالم کو خاموشی کا تحفہ دے دیتی ہے۔”
شام ڈھل رہی تھی۔ صائمہ اٹھ کر جانے لگیں تو زرینہ نے پہلی بار خود انہیں آواز دی:
"صائمہ آپا!”
وہ رک گئیں اور مسکرا کر اس کی طرف متوجہ ہوئیں۔
"اگر۔۔۔ میں درمیان میں ڈر گئی تو؟”
صائمہ کی مسکراہٹ مزید گہری ہو گئی۔
"ڈرنا بہادری کے خلاف نہیں ہوتا، زرینہ! ڈر کے باوجود صحیح راستے پر چلتے رہنا ہی اصل بہادری ہے۔”
یہ کہہ کر وہ دروازے کی طرف بڑھ گئیں۔
ان کے جانے کے بعد کمرے میں ایک عجیب سی خاموشی تھی، مگر یہ خاموشی پہلے جیسی نہیں تھی۔ اس میں خوف کے ساتھ ساتھ امید کی ایک مدھم سی روشنی بھی شامل ہو چکی تھی۔
ابو آہستہ آہستہ زرینہ کے قریب آئے۔ کئی دنوں سے وہ بہت کچھ کہنا چاہتے تھے، مگر لفظ شاید ان کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ آج انہوں نے پہلی بار اپنی بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھا۔ ان کی آواز ہلکے سے کانپ رہی تھی۔
"اگر تم یہ لڑائی لڑو گی۔۔۔ تو اس بار تم اکیلی نہیں ہوگی۔”
زرینہ نے سر اٹھا کر اپنے ابو کو دیکھا۔ یہ وہی شخص تھے جو چند دن پہلے معاشرے کے خوف کے سامنے خاموش ہو گئے تھے۔ آج ان کی آنکھوں میں خوف تو اب بھی تھا، مگر اس سے کہیں بڑا اپنی بیٹی کے ساتھ کھڑے رہنے کا عزم تھا۔
زرینہ کی آنکھوں سے خاموشی سے آنسو بہہ نکلے۔ اس نے پہلی بار مضبوط لہجے میں کہا:
"میں لڑوں گی۔”
یہ صرف ایک فیصلہ نہیں تھا۔ یہ اس خاموشی کے خلاف پہلا قدم تھا، جو نہ جانے کتنی آوازوں کو برسوں سے اپنے اندر دفن کرتی آئی تھی۔
فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا، اور فیصلہ کرنے کے بعد اس پر قائم رہنا اس سے بھی زیادہ مشکل۔
اگلے ہی دن صائمہ نے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا۔ کاغذات تیار ہوئے، بیانات قلم بند کیے گئے اور ہر لفظ کئی کئی مرتبہ پڑھا گیا، کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ عدالت میں بعض اوقات ایک لفظ بھی پورے مقدمے کی سمت بدل دیتا ہے۔
زرینہ ہر دستخط کرتے وقت اپنے ہاتھوں کی ہلکی سی کپکپاہٹ محسوس کرتی، مگر اب وہ ہاتھ واپس نہیں کھینچتی تھی۔
چند دن بعد صائمہ نے ایک نقشہ میز پر پھیلاتے ہوئے پوچھا:
"یہ وہی گلی ہے نا؟”
زرینہ نے خاموشی سے سر ہلا دیا۔
صائمہ نے اپنی انگلی نقشے میں بنی ایک چھوٹی سی دکان پر رکھتے ہوئے پوچھا:
"یہاں کون ہوتا ہے؟”
"رضا چچا۔”
"کیا وہ اس وقت وہاں موجود تھے؟”
زرینہ نے چند لمحے سوچنے کے بعد دھیمی آواز میں کہا:
"شاید۔۔۔”
صائمہ نے فوراً کہا:
"یاد رکھو، عدالت میں بعض اوقات ‘شاید’ بھی بہت اہم ہوتا ہے۔”
اگلی صبح صائمہ اور نسرین آپا رضا چچا کی دکان پر پہنچیں۔ وہ پچپن ساٹھ برس کے ایک سادہ سے آدمی تھے۔ پرانے طرز کی کریانے کی دکان، چہرے پر وقت کی تھکن اور آنکھوں میں مسلسل خوف۔
صائمہ نے سلام کیا اور نہایت ادب سے بولیں:
"چچا! آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔”
رضا چچا نے خاموشی سے ان کی پوری بات سنی۔ پھر ایک لمبی سانس لے کر بولے:
"بیٹی! میں نے کچھ نہیں دیکھا۔”
یہ کہتے ہوئے انہوں نے نظریں جھکا لیں۔صائمہ ان کی آنکھوں میں چھپے خوف کو پڑھ چکی تھیں۔ انہوں نے نہایت نرمی سے پوچھا:
"یا واقعی کچھ نہیں دیکھا۔۔۔ یا دیکھ کر خاموش رہ گئے تھے؟”
رضا چچا کے ہونٹ کانپ گئے۔ انہوں نے فوراً کوئی جواب نہیں دیا۔ کافی دیر کی خاموشی کے بعد آہستہ سے بولے:
"میں نے۔۔۔ کچھ آوازیں سنی تھیں۔ دکان سے باہر بھی آیا تھا۔۔۔ مگر۔۔۔”
ان کی آواز بھرّا گئی۔
"میں ڈر گیا تھا۔”
یہ کہتے ہی ان کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔
"شکیل کے گھر والوں کا بڑا اثر و رسوخ ہے۔ مجھے اپنی دکان کا بھی خوف تھا۔۔۔ اور اپنے گھر والوں کا بھی۔”
صائمہ نے کرسی کھینچ کر ان کے سامنے بیٹھتے ہوئے کہا:
"چچا! میں آپ کا خوف سمجھ سکتی ہوں، لیکن ایک سوال پوچھوں؟”
رضا چچا نے خاموشی سے سر ہلا دیا۔
"آپ کی بیٹی کہاں پڑھتی ہے؟”
وہ چونک گئے۔
"فیصل آباد میں۔”
صائمہ نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد دھیرے سے کہا:
"اگر کل اس کے ساتھ بھی کوئی ایسا ظلم ہو جائے۔۔۔ اور وہاں موجود سب لوگ یہی کہہ دیں کہ ‘ہم ڈر گئے تھے’۔۔۔ تو کیا آپ اپنی بیٹی سے یہ کہہ سکیں گے کہ بیٹی! لوگ مجبور تھے، اس لیے خاموش رہے؟”
رضا چچا کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ ان کے ہاتھ بے اختیار کانپنے لگے۔
صائمہ نے اپنی بات جاری رکھی:
"چچا! بعض اوقات ظلم کرنے والے سے زیادہ خطرناک وہ خاموشی ہوتی ہے جو ظلم کو اگلے شکار تک پہنچا دیتی ہے۔”
رضا چچا نے آہستگی سے اپنی آنکھیں پونچھیں۔ شاید برسوں بعد آج انہیں اپنی خاموشی کا بوجھ محسوس ہوا تھا۔اور بعض اوقات۔۔۔ انسان کو سب سے پہلے اپنے خوف کے خلاف گواہی دینی پڑتی ہے۔
"تو آپ کو کیسا لگے گا؟”
یہ سوال ختم ہوا تو دکان میں ایک ایسی خاموشی اتر آئی جس نے جیسے وقت کو چند لمحوں کے لیے روک دیا۔ رضا چچا کی آنکھوں کے سامنے اپنی بیٹی کا چہرہ گھوم گیا۔ وہی بیٹی جو ہر اتوار فون کر کے پوچھتی تھی:
"ابو! آپ نے دوائی وقت پر کھا لی نا؟”
انہوں نے لرزتے ہاتھوں سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا۔ ان کی آنکھوں سے ندامت کے چند قطرے ہتھیلیوں پر آ گرے۔
"بیٹی! میں نے اُس دن خاموش رہ کر بہت بڑی غلطی کی تھی۔”
صائمہ نے دھیمے لہجے میں کہا:
"غلطی کا کفارہ ہمیشہ ممکن ہوتا ہے، چچا! بس ایک قدم سچ کی طرف بڑھانا پڑتا ہے۔”
رضا چچا نے ایک گہری سانس لی۔ پھر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔ ان کی آواز ابھی بھی کانپ رہی تھی، مگر اس کانپتی ہوئی آواز میں پہلی بار عزم کی حرارت شامل تھی۔
"میں عدالت میں سچ بولوں گا۔”
اسی شام ابو نے زرینہ کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ یہ کئی دنوں بعد پہلی بار تھا کہ وہ صرف دروازے کے باہر خاموش کھڑے نہیں رہے تھے۔ آج وہ اندر آئے، کرسی کھینچی اور خاموشی سے بیٹھ گئے۔
کافی دیر تک کمرے میں صرف خاموشی بولتی رہی۔
پھر ابو نے آہستہ سے کہا:
"آج میں بازار گیا تھا۔”
زرینہ نے سوالیہ نظروں سے ان کی طرف دیکھا۔
"دو آدمیوں نے مجھے روکا۔ کہنے لگے، بھائی! بات بڑھانے سے کیا فائدہ؟ لڑکی کا ہی نام خراب ہو گا۔”
وہ چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گئے۔ پھر پہلی بار ان کے لہجے میں وہ مضبوطی تھی جو ایک باپ کی پہچان ہوتی ہے۔
"پہلے شاید میں ان کی بات مان لیتا۔۔۔ لیکن آج میں نے ان سے صرف ایک بات کہی۔۔۔”
انہوں نے زرینہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:
"نام میری بیٹی کا نہیں، جرم کرنے والوں کا خراب ہونا چاہیے۔”
زرینہ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ اسے محسوس ہوا کہ اس کے ابو صرف اس کے ساتھ نہیں کھڑے ہوئے، بلکہ وہ اپنی برسوں پرانی خاموشی کے خلاف بھی کھڑے ہو گئے ہیں۔
اس رات بہت دنوں بعد زرینہ چھت پر گئی۔ ہوا پہلے جیسی ہی تھی۔ صحن میں کھڑا نیم کا درخت "بابا جی” آج بھی اسی سکون سے کھڑا تھا۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔
وہی ٹیڑھا سا ستارہ "میرا” آج بھی اپنی جگہ موجود تھا۔
زرینہ ہلکے سے مسکرائی اور آہستہ سے بولی:
"میں بھی ابھی اپنی جگہ ہوں۔۔۔”
اور شاید کئی دنوں بعد یہ پہلی رات تھی جب اس نے خود کو صرف ایک متاثرہ لڑکی کے طور پر نہیں، بلکہ ایک لڑنے والی انسان کے طور پر محسوس کیا۔
عدالت کی عمارت دور سے ہمیشہ بہت بڑی دکھائی دیتی تھی، مگر اس کے دروازے پر کھڑے ہو کر زرینہ کو محسوس ہوا کہ عمارت نہیں، امتحان بڑا ہے۔
اس نے اپنی ہتھیلیوں پر نظر ڈالی۔ ان میں ہلکی سی نمی تھی۔ دل کی دھڑکن معمول سے کہیں زیادہ تیز تھی۔
صائمہ اس کے قریب آئیں اور آہستہ سے بولیں:
"گھبرانا فطری بات ہے۔”
زرینہ نے دھیمی آواز میں پوچھا:
"اگر میری آواز ہی نہ نکل سکی تو؟”
صائمہ مسکرائیں۔
"پھر تمہاری خاموشی بھی ایک بیان ہو گی۔ لیکن مجھے یقین ہے۔۔۔ تم بول سکو گی۔”
عدالت کے باہر لوگوں کا ہجوم تھا۔ کچھ لوگ اپنے مقدمات کے لیے آئے تھے، کچھ صرف تماشائی تھے، اور کچھ ایسے بھی تھے جو دوسروں کے دکھ کو خبر بنا کر گھر لے جانا چاہتے تھے۔
زرینہ نے بے اختیار اپنا دوپٹہ درست کیا۔ پھر اچانک اسے اپنی ماں کی وہ پرانی بات یاد آ گئی:
"دوپٹہ ٹھیک رکھا کرو۔”
وہ چند لمحوں کے لیے ٹھٹھکی۔ پھر خود کو سنبھال لیا۔
آج وہ دوپٹہ کسی خوف کی وجہ سے نہیں، اپنی مرضی سے درست کر رہی تھی۔ اور یہ فرق بہت بڑا تھا۔
عدالت کے اندر شکیل، ندیم اور وہ تیسرا لڑکا بھی موجود تھا۔ آج تینوں مہنگے کپڑوں میں ملبوس تھے۔ ان کے ساتھ وکیل بھی کھڑا تھا۔
چند لمحوں کے لیے شکیل کی نظر زرینہ سے ملی۔
وہی پرانی نخوت۔۔۔ وہی تکبر۔۔۔ مگر آج زرینہ نے نظریں نہیں جھکائیں۔
اس نے پہلی بار پورے اعتماد کے ساتھ اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
شکیل نے نظریں پھیر لیں۔
صائمہ نے دھیرے سے کہا:
"یہ تمہاری پہلی جیت ہے۔”
پہلی پیشی مختصر تھی۔ تاریخ پڑی، ابتدائی کارروائیاں مکمل ہوئیں، مگر اصل امتحان اگلی سماعتوں میں شروع ہوا۔
وکیلِ صفائی کے سوالات قانون کے نام پر ضرور پوچھے جا رہے تھے، مگر ان میں معاشرے کے صدیوں پرانے تعصبات کی بو صاف محسوس ہوتی تھی۔
ہر سوال کے ساتھ زرینہ کو یوں محسوس ہوتا جیسے وہ دوبارہ اسی اندھیری گلی میں کھڑی ہو۔
کبھی اس کی آواز لرز جاتی، کبھی چند لمحوں کے لیے خاموشی اس کا ساتھ پکڑ لیتی، مگر پھر اسے صائمہ کے الفاظ یاد آ جاتے:
"ڈر کے باوجود آگے بڑھتے رہنا ہی بہادری ہے۔”
اور وہ دوبارہ جواب دینے لگتی۔
عدالت سے باہر نکلتے ہی محلے کے دو آدمی ابو کے پاس آئے۔
ایک نے دھیمی آواز میں کہا:
"بھائی صاحب! اب بھی وقت ہے، صلح کر لیجیے۔ بات ختم کیجیے۔”
ابو نے چند لمحے انہیں دیکھا۔ چند ہفتے پہلے شاید وہ خاموش رہ جاتے، مگر آج انہوں نے نہایت مضبوط لہجے میں جواب دیا:
"جو ظلم برداشت کر لے، وہ صلح کرتا ہے۔ ہم ظلم نہیں، انصاف کے سامنے کھڑے ہیں۔”
وہ دونوں خاموشی سے وہاں سے چلے گئے۔
دور کھڑی زرینہ یہ منظر دیکھ رہی تھی۔ اسے محسوس ہوا کہ اس کے ابو اب صرف اس کے والد نہیں رہے، وہ اس کی طاقت بن چکے ہیں۔
سماعتیں ایک کے بعد ایک ہوتی رہیں۔ کبھی تاریخ آگے بڑھ جاتی، کبھی کوئی کاغذ مکمل نہ ہوتا، کبھی کوئی افسر حاضر نہ ہوتا۔
مہینے گزرتے گئے۔اور ہر گزرتا ہوا دن زرینہ سے اس کی ہمت کا ایک نیا امتحان لیتا رہا۔ایک رات اس نے نسرین آپا کو فون کیا۔ اس کی آواز بری طرح تھکی ہوئی تھی۔
"آپا۔۔۔ میں مزید نہیں لڑ سکتی۔ ہر پیشی کے بعد ایسا لگتا ہے جیسے مجھے دوبارہ کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔”
یہ کہتے کہتے اس کی آواز بھر آئی۔کبھی کبھی انصاف کی لڑائی انسان کو اس کے زخموں سے زیادہ تھکا دیتی ہے۔
فون کے دوسری طرف چند لمحے خاموشی رہی۔ پھر نسرین آپا نے نہایت دھیمے لہجے میں کہا:
"زرینہ! یاد ہے، ایک دن تم نے مجھ سے کہا تھا کہ تم ڈاکٹر بن کر اُن عورتوں کی مدد کرنا چاہتی ہو جن تک کوئی نہیں پہنچتا؟”
زرینہ خاموش رہی۔
نسرین آپا نے بات آگے بڑھائی:
"آج بھی تم وہی کام کر رہی ہو، بیٹی! فرق صرف اتنا ہے کہ آج تم کسی اسپتال میں نہیں، عدالت میں کھڑی ہو۔”
زرینہ نے بے اختیار آنکھیں بند کر لیں۔ اُسے اپنی استانی جمیلہ کا وہ جملہ یاد آگیا جو برسوں پہلے اُس کے دل میں اتر گیا تھا:
"ایک انسان کو بچاؤ تو کئی زندگیاں بدل جاتی ہیں۔”
اُسی رات اُس نے فیصلہ کر لیا کہ اب وہ آخری دن تک پیچھے نہیں ہٹے گی۔
اگلی پیشی سے پہلے صائمہ نے سب کو صرف ایک بات کہی:
"اب مقدمہ اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اگلی سماعت میں رضا چچا کی گواہی ہو گی۔ اور بعض اوقات ایک سچا گواہ پورے مقدمے کا رخ بدل دیتا ہے۔”
عدالت کی اگلی تاریخ مقرر ہو گئی۔ فیصلے کی گھڑی اب پہلے سے کہیں زیادہ قریب تھی۔
صبح کی ہوا میں آج ایک عجیب سا بوجھ گھلا ہوا تھا۔ عدالت کی سیڑھیاں آج پہلے سے زیادہ اونچی محسوس ہو رہی تھیں۔ شاید اس لیے کہ آج صرف مقدمے کا نہیں، کئی خاموشیوں کا فیصلہ ہونا تھا۔
زرینہ نے سفید رنگ کا سادہ لباس زیب تن کیا تھا۔ ماں نے خاموشی سے اُس کا دوپٹہ سر پر درست کیا۔ مگر اس بار اُن کے لبوں پر وہ پرانا جملہ نہیں آیا:
"نظریں نیچی رکھا کرو۔”
اس کے بجائے انہوں نے اُس کے ماتھے کو چوما اور دھیمی آواز میں کہا:
"اللہ تمہیں حق پر قائم رکھے۔”
زرینہ نے جھک کر اُن کے ہاتھ چوم لیے۔
عدالت کے اندر غیر معمولی خاموشی تھی۔ جج اپنی نشست پر آ چکے تھے۔ شکیل، ندیم اور "سایہ” اپنے وکیل کے ساتھ موجود تھے۔ مگر آج اُن کے چہروں پر وہ پہلی سی بے پروائی نہ تھی۔ کئی مہینوں کی قانونی کارروائی اُن کے تکبر میں پہلی بار دراڑ ڈال چکی تھی۔
"رضا احمد!”
عدالت کے محرر کی آواز گونجی۔
رضا چچا آہستہ آہستہ گواہوں کے کٹہرے تک آئے۔ اُن کے ہاتھ لرز رہے تھے۔ انہوں نے ایک لمحے کے لیے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ زرینہ کی نظریں اُن سے ملیں۔ اُس نے خاموشی سے سر ہلایا، جیسے کہہ رہی ہو:
"آپ اکیلے نہیں ہیں۔”
وکیل نے سوال شروع کیے:
"آپ نے کیا دیکھا تھا؟”
رضا چچا نے ایک گہری سانس لی۔
"میں نے۔۔۔”
وہ چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گئے۔ پورا کمرۂ عدالت ساکت ہو گیا۔
پھر انہوں نے مضبوط لہجے میں کہا:
"میں نے اُس رات ظلم ہوتے دیکھا تھا۔۔۔ اور میں خاموش رہا تھا۔ یہ میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ آج میں وہ خاموشی ختم کرنے آیا ہوں۔”
عدالت میں ایک لمحے کے لیے مکمل سکوت چھا گیا۔ یہ صرف ایک بیان نہ تھا، بلکہ ایک انسان کا اپنے ضمیر کے سامنے کیا گیا اعتراف تھا۔
وکیلِ صفائی نے انہیں الجھانے کی بہت کوشش کی۔
"آپ کو اندھیرے میں اتنا یقین کیسے ہے؟”
"آپ نے اسی وقت پولیس کو اطلاع کیوں نہیں دی؟”
"کیا آپ کسی کے کہنے پر یہ بیان دے رہے ہیں؟”
ہر سوال کے بعد رضا چچا چند لمحے توقف کرتے اور پھر ایک ہی جواب دیتے:
"میں نے غلطی کی تھی کہ اُس رات خاموش رہا۔ آج صرف سچ بول رہا ہوں۔”
ان کی آواز میں کوئی بناوٹ نہ تھی، صرف سچائی کی لرزش تھی۔
سماعت مکمل ہوئی۔ جج نے چند لمحے فائل کا مطالعہ کیا، پھر فیصلہ سنانا شروع کیا۔
زرینہ نے آہستہ سے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ اُس نے دعا نہیں مانگی، صرف ایک گہری سانس لی۔
چند لمحوں بعد جج کی آواز پورے کمرۂ عدالت میں گونجی:
"عدالت پیش کیے گئے شواہد، گواہوں کے بیانات اور قانونی تقاضوں کی روشنی میں ملزمان کو جرم کا مرتکب قرار دیتی ہے۔۔۔”
زرینہ نے آہستہ سے آنکھیں کھول دیں۔
ماں کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ ابو نے پہلی بار سکون کا سانس لیا۔
شکیل کا سر جھکا ہوا تھا۔ ندیم کی طنزیہ ہنسی کہیں گم ہو چکی تھی۔ اور وہ تیسرا لڑکا، جسے زرینہ نے کبھی "سایہ” کا نام دیا تھا، آج حقیقتاً ایک سایہ ہی دکھائی دے رہا تھا۔۔۔ بے آواز، بے حیثیت اور بے وقعت۔
عدالت سے باہر نکلتے ہی سورج بادلوں کے پیچھے سے نکل آیا۔ ہوا پہلے جیسی ہی تھی، سڑکیں بھی وہی تھیں اور شہر بھی وہی تھا۔
مگر زرینہ وہ نہیں رہی تھی جو چند ماہ پہلے اس دروازے سے اندر داخل ہوئی تھی۔
وہ ٹوٹی نہیں تھی۔۔۔ وہ اپنے زخموں کے ساتھ جینا سیکھ چکی تھی۔
عدالت کی سیڑھیوں پر ابو اُس کے سامنے آ کر رک گئے۔ کافی دیر تک کچھ نہ کہہ سکے۔ پھر دھیمے لہجے میں بولے:
"بیٹی! اُس دن میں تمہارے لیے مضبوط نہیں بن سکا تھا، لیکن آج۔۔۔ مجھے تم پر فخر ہے۔”
زرینہ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ اُس نے آگے بڑھ کر پہلی بار اپنے ابو کو گلے لگا لیا۔
یہ شکست کے آنسو نہ تھے، بلکہ اُس خاموشی کے ختم ہونے کے آنسو تھے جو کئی مہینوں سے اس گھر کے در و دیوار سے لپٹی ہوئی تھی۔
ذرا فاصلے پر نسرین آپا اور صائمہ کھڑی تھیں۔ دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور خاموشی سے مسکرا دیں۔
کچھ کامیابیاں شور سے نہیں، خاموش مسکراہٹوں سے منائی جاتی ہیں۔
اسی لمحے زرینہ نے آسمان کی طرف دیکھا۔ دن کی روشنی میں ستارے نظر نہیں آتے، مگر اُسے یقین تھا کہ رات آئے گی تو "میرا” آج بھی وہیں ہو گا۔
اور آج پہلی بار۔۔۔ وہ اُسے شرمندگی سے نہیں، امید سے دیکھے گی۔
عدالت سے واپس آتے ہوئے راستہ وہی تھا۔۔۔ وہی محلہ، وہی گلیاں اور وہی موڑ۔
مگر آج پہلی بار زرینہ نے محسوس کیا کہ بعض راستے نہیں بدلتے، اُن پر چلنے والے بدل جاتے ہیں۔
وہی لوگ۔۔۔ جو کبھی سرگوشیوں میں سوال کیا کرتے تھے، آج خاموش کھڑے تھے۔ زرینہ نے کسی کی طرف نہیں دیکھا۔ اب اسے ہر نظر کا جواب دینا ضروری نہیں لگتا تھا۔
گھر کے اندر داخل ہوتے ہی چاندنی دوڑتی ہوئی اس کے قدموں سے آ لپٹی۔ کئی مہینوں بعد زرینہ جھکی اور اسے اپنی گود میں اٹھا لیا۔ چاندنی نے محبت سے اپنا سر اس کے ہاتھوں سے رگڑا۔
زرینہ ہلکا سا مسکرا دی۔
شاید زندگی بھی ایسے ہی واپس آتی ہے۔۔۔ آہستہ آہستہ۔۔۔ بغیر کسی شور کے۔
وہ سیدھی اپنے کمرے میں گئی۔ میز پر وہی حیاتیات کی کتاب رکھی تھی۔ وہی کتاب، جس کے چند صفحات کبھی گلی کی دھول میں بکھر گئے تھے۔ اس نے کتاب اٹھائی اور محبت سے اس کے سرورق پر ہاتھ پھیرا، پھر دھیرے سے اسے کھول لیا۔
پہلا صفحہ کھلتے ہی ایک خشک چنبیلی کا پھول اس کی گود میں آ گرا۔
زرینہ چونک گئی۔ یہ وہی پھول تھا جو نسرین آپا ایک دن اس کے لیے لائی تھیں۔ اس نے پھول کو نہایت احتیاط سے دوبارہ کتاب کے صفحات میں رکھ دیا، جیسے امید کو ایک بار پھر اپنے خوابوں میں محفوظ کر رہی ہو۔
اسی لمحے باہر سے ہتھوڑی کی آواز سنائی دی۔
ٹھک۔۔۔ ٹھک۔۔۔ ٹھک۔۔۔
زرینہ کھڑکی کے قریب آ گئی۔ صحن میں ایک مستری سیڑھی پر کھڑا تھا اور ابو اس کے ساتھ کھڑے برسوں سے ٹوٹی ہوئی کھڑکی کا پٹ تبدیل کروا رہے تھے۔
وہ خاموشی سے یہ منظر دیکھتی رہی۔
کام مکمل ہوا تو ابو نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا۔ دونوں کی نظریں ملیں۔ ابو ہلکے سے مسکرائے اور نرم لہجے میں بولے:
"اس بار کل پر نہیں چھوڑا۔۔۔”
پھر چند لمحے خاموش رہ کر کہا:
"سوچا، کچھ ٹوٹی ہوئی چیزیں وقت پر ٹھیک کر دینی چاہئیں۔”
زرینہ جانتی تھی کہ وہ صرف کھڑکی کی بات نہیں کر رہے تھے۔
اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی، مگر اس بار یہ آنسو کمزوری کے نہیں، سکون کے تھے۔
شام ڈھل چکی تھی۔ مغرب کی اذان کی آواز فضا میں پھیل رہی تھی۔ نماز کے بعد زرینہ ہمیشہ کی طرح چھت پر چلی گئی۔ ہوا میں ہلکی سی خنکی تھی۔ صحن کا نیم کا درخت "بابا جی” آج بھی اسی سکون سے کھڑا تھا۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔
تارے ایک ایک کر کے نمودار ہونے لگے۔ اور پھر۔۔۔ شمال کی سمت۔۔۔ وہی ذرا سا ٹیڑھا ستارہ۔
"میرا”
زرینہ بے اختیار مسکرا دی۔
"تم تو آج بھی وہیں ہو۔۔۔”
پھر اس نے آہستہ سے خود سے کہا:
"اور میں بھی۔۔۔”
فرق صرف اتنا تھا کہ پہلے وہ اس ستارے کو اپنی تنہائی کی علامت سمجھتی تھی، مگر آج وہ اسے امید کی علامت محسوس ہو رہا تھا۔
چند ماہ بعد داخلہ امتحان کا نتیجہ آیا۔ زرینہ کامیاب ہو چکی تھی۔
اسی شام وہ نسرین آپا کے گھر گئی۔ دروازہ کھلا تو نسرین آپا نے اسے دیکھتے ہی مسکراتے ہوئے کہا:
"میں نے کہا تھا نا! خواب پہلے پورے ہوتے ہیں، ڈگریاں بعد میں ملتی ہیں۔”
زرینہ برسوں بعد اس طرح دل کھول کر ہنسی تھی۔ پھر آگے بڑھ کر اس نے نسرین آپا کو گلے لگا لیا۔
صائمہ بھی وہیں موجود تھیں۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا:
"اب ایک وعدہ کرو۔”
"کیا؟”
"جب کبھی تمہارے سامنے کوئی اور زرینہ آئے، تو اس سے صرف پانچ الفاظ کہنا۔”
زرینہ نے دھیرے سے وہ الفاظ دہرائے:
"تم نے کچھ غلط نہیں کیا۔”
کئی برس بعد۔۔۔ ڈاکٹر زرینہ ایک دیہاتی مرکزِ صحت میں اپنی خدمات انجام دے رہی تھی۔
اس کے کمرے کی دیوار پر کسی ڈگری یا اعزاز کی تصویر آویزاں نہیں تھی۔ وہاں صرف ایک جملہ لکھا تھا:
"خاموشی ظالم کی طاقت بن سکتی ہے، مگر ایک سچی آواز کسی زندگی کی امید بھی بن سکتی ہے۔”
ہر نئی مریضہ۔۔۔ ہر خوف زدہ لڑکی۔۔۔ ہر خاموش آنکھ کو دیکھ کر زرینہ کو اپنا ماضی یاد آ جاتا۔
اور وہ دل ہی دل میں دعا کرتی:
"اے اللہ! کسی بیٹی کو کبھی خود کو قصوروار نہ سمجھنے دینا۔ آمین۔”
### اختتامیہ
اس معاشرے میں ہر سال بے شمار زرینہ پیدا ہوتی ہیں۔ کچھ کی آواز سن لی جاتی ہے اور بہت سی آوازیں خاموشی کے اندھیروں میں گم ہو جاتی ہیں۔
فرق اکثر صرف ایک انسان پیدا کرتا ہے۔
وہ جو فیصلہ نہیں سناتا۔۔۔ ساتھ دیتا ہے۔
وہ جو سوال نہیں کرتا۔۔۔ یقین کرتا ہے۔
وہ جو الزام نہیں دیتا۔۔۔ حوصلہ دیتا ہے۔
اور وہ جو صرف اتنا کہتا ہے:
"تم نے کچھ غلط نہیں کیا۔”
شاید کسی کی زندگی بدلنے کے لیے کبھی کبھی صرف یہی پانچ الفاظ کافی ہوتے ہیں۔
**۔۔۔ ختم شد ۔۔۔**
### پیغامِ افسانہ
یہ افسانہ ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ ظلم کا شکار ہونے والا کبھی قصوروار نہیں ہوتا۔ خاموشی اور خوف صرف ظالم کو طاقت دیتے ہیں، جبکہ سچ، یقین، ساتھ اور انصاف کے لیے اٹھایا گیا ایک قدم نہ صرف ایک زندگی، بلکہ پورے معاشرے کی سوچ بدل سکتا ہے۔ ہر متاثرہ فرد کو الزام نہیں، اعتماد، ہمدردی اور انصاف ملنا چاہیے، کیونکہ زخموں کو بھرنے کے لیے سب سے پہلے انسانیت کا مرہم درکار ہوتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے