कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

صحت و تندرستی اور لمبی عمر کا راز

از قلم: ڈاکٹر محمد عبدالسمیع ندوی
اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج، اورنگ آباد
موبائل: 9325217306

انسان نے جب سے شعور کی آنکھ کھولی ہے، وہ طویل عمر، صحت مند جسم اور پُرسکون زندگی کا متلاشی رہا ہے۔ ہر دور میں حکماء، فلاسفہ اور سائنس دان اس سوال کا جواب تلاش کرتے رہے کہ آخر انسان زیادہ عرصے تک صحت مند، توانا اور خوشحال کیسے رہ سکتا ہے؟ اکیسویں صدی میں جاپان کے جزیرہ اوکیناوا نے دنیا بھر کے محققین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی، جہاں سو سال یا اس سے زائد عمر پانے والے افراد کی تعداد دنیا کے بیشتر علاقوں سے کہیں زیادہ ہے۔ ان کے طرزِ زندگی پر ہونے والی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اعتدال پسند غذا، جسمانی سرگرمی، بھرپور نیند، مضبوط سماجی تعلقات، مقصدِ حیات، ذہنی سکون اور شکر گزاری ان کی طویل عمر اور خوشحال زندگی کے بنیادی اسباب ہیں۔
یہ حقیقت نہایت قابلِ غور ہے کہ آج جدید سائنس جن اصولوں کو انسانی صحت، تندرستی اور خوش حالی کی بنیاد قرار دے رہی ہے، قرآن مجید نے چودہ سو سال قبل نہایت مختصر، جامع اور حکیمانہ انداز میں ان کی تعلیم دے دی تھی۔ قرآن سائنس کی کتاب نہیں بلکہ کتابِ ہدایت ہے، تاہم جب وہ کائنات، انسانی جسم اور فطرت کے قوانین کی طرف رہنمائی کرتا ہے تو اس کی حکمت ہر دور میں مزید روشن ہوتی چلی جاتی ہے۔
اگر قرآن مجید کی صرف تین آیات پر تدبر کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان میں صحت مند، متوازن اور بابرکت زندگی کا پورا دستور پوشیدہ ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا﴾
’’کھاؤ، پیو اور اسراف نہ کرو۔‘‘
یہ آیت اسلامی غذائی فلسفے کی اساس ہے۔ اسلام نہ شکم پرستی کی تعلیم دیتا ہے اور نہ رہبانیت کی، بلکہ اعتدال کی راہ دکھاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’آدمی نے اپنے پیٹ سے زیادہ برا کوئی برتن نہیں بھرا۔ آدمی کے لیے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی کمر سیدھی رکھ سکیں، اور اگر زیادہ کھانا ہی ہو تو ایک تہائی کھانے، ایک تہائی پانی اور ایک تہائی سانس کے لیے چھوڑ دے۔‘‘
آج جدید طبی تحقیقات بھی اس حقیقت کی تائید کرتی ہیں کہ انسان اپنی بھوک سے کچھ کم کھائے۔ زیادہ کھانا موٹاپے، ذیابیطس، دل کے امراض، بلند فشارِ خون، جگر کی بیماریوں اور قبل از وقت بڑھاپے کا سبب بنتا ہے، جبکہ اعتدال کے ساتھ کھانا جسم کو متوازن، فعال اور صحت مند رکھتا ہے۔ گویا قرآن کے دو الفاظ "وَلَا تُسْرِفُوا” میں صحت کا ایک مکمل ضابطہ مضمر ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ لِبَاسًا وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا﴾
"اور ہم نے رات کو تمہارے لیے آرام کا ذریعہ بنایا اور دن کو روزی کمانے کا وقت بنایا۔”
یہ آیت انسان کے قدرتی جسمانی نظام کی بہترین ترجمان ہے۔ جدید طبی تحقیقات کے مطابق رات کی گہری نیند کے دوران جسم ایسے قدرتی ہارمون خارج کرتا ہے جو دماغ، یادداشت، قوتِ مدافعت، جسمانی مرمت اور ذہنی سکون میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے برعکس رات بھر جاگنے اور فطری نظامِ زندگی سے انحراف کرنے والے افراد بے خوابی، ذہنی دباؤ، افسردگی، موٹاپے اور دل کے امراض کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ قرآن نے چودہ سو سال پہلے ہی انسان کو فطرت کے مطابق زندگی گزارنے کا اصول عطا کر دیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ﴾
’’اور ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا۔‘‘
جدید حیاتیاتی تحقیقات کے مطابق انسانی جسم کا بڑا حصہ پانی پر مشتمل ہے۔ خون، دماغ، گردے، عضلات، نظامِ ہضم، جسمانی درجہ حرارت اور خلیوں کی تمام سرگرمیاں پانی پر منحصر ہیں۔ پانی کی کمی ذہنی کارکردگی، توجہ، جسمانی طاقت اور قوتِ مدافعت کو متاثر کرتی ہے۔ قرآن نے اس حقیقت کو ایک جامع اور آفاقی اصول کے طور پر بیان کیا کہ زندگی کی بنیاد ہی پانی ہے۔
اوکیناوا کے باشندوں کی طویل عمر کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ صرف اعتدال پسند غذا ہی نہیں کھاتے بلکہ اپنی روزمرہ زندگی میں مقصد، سماجی تعلقات اور مثبت سوچ کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔ ان کے معاشرے میں ایسے مستقل دوستوں کے حلقے ہوتے ہیں جو زندگی بھر ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں۔ اسی طرح دنیا کی ایک طویل المدت تحقیق بھی اس نتیجے پر پہنچی کہ خوشحال اور طویل زندگی کا سب سے بڑا راز مضبوط خاندانی اور سماجی تعلقات ہیں، نہ کہ صرف دولت اور شہرت۔
اسلام نے اس حقیقت کو بھی صدیوں پہلے بیان کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں کشادگی اور اس کی عمر میں برکت ہو، وہ صلہ رحمی کرے۔‘‘
اسی طرح جدید نفسیاتی تحقیقات کے مطابق شکر گزاری انسان کے ذہنی سکون اور خوشی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ﴾
’’اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا۔‘‘
شکر گزاری انسان کے دل کو حسد، مایوسی اور اضطراب سے پاک کرتی ہے اور امید، اطمینان اور مثبت سوچ کو فروغ دیتی ہے۔
اسی طرح بعض اقوام زندگی کو بامقصد بنانے پر زور دیتی ہیں، لیکن قرآن مجید اس سے کہیں زیادہ جامع تصور پیش کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ‘‘
’’میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔‘‘
جب انسان اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی رضا، خدمتِ خلق، دیانت، علم اور خیر خواہی سے وابستہ کر دیتا ہے تو اس کی زندگی کا ہر لمحہ بامقصد بن جاتا ہے۔ یہی وہ روحانی اطمینان ہے جسے جدید نفسیات بھی انسان کی بنیادی ضرورت قرار دیتی ہے۔
یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ سائنس مسلسل تحقیق کرتی ہے اور اپنے نتائج میں وقتاً فوقتاً ترمیم بھی کرتی رہتی ہے، جبکہ قرآن کی تعلیمات ہر دور میں انسان کی رہنمائی کرتی ہیں۔ قرآن کا مقصد طبی یا سائنسی کتاب بننا نہیں بلکہ انسان کو ایسا متوازن طرزِ حیات عطا کرنا ہے جس میں جسم بھی تندرست ہو، ذہن بھی مطمئن ہو، معاشرہ بھی صالح ہو اور روح بھی اپنے رب سے وابستہ رہے۔
آج جب دنیا صحت، ذہنی سکون اور طویل عمر کے راز تلاش کر رہی ہے تو قرآن مجید ہمیں بتاتا ہے کہ اعتدال کے ساتھ کھانا، فطرت کے مطابق جینا، پانی کی قدر کرنا، مضبوط خاندانی اور سماجی تعلقات قائم رکھنا، شکر گزار بننا اور اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے وقف کر دینا ہی حقیقی کامیاب، متوازن اور بابرکت زندگی کا راستہ ہے۔ یہی وہ ابدی اصول ہیں جن کی افادیت ہر دور میں نمایاں ہوتی رہی ہے، اور یہی قرآنِ حکیم کی آفاقی رہنمائی کا روشن ثبوت ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے