कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ہندوستان میں صد فیصد خواندگی اب بھی دور کی کوڑی

تحریر:ڈاکٹر شیخ حاجی حسین

تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، خوشحالی اور تہذیبی ارتقا کی بنیاد ہوتی ہے۔ یہ صرف پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت کا نام نہیں بلکہ انسان کی شخصیت، کردار، شعور، اخلاق، تنقیدی سوچ اورسماجی ذمہ داریوں کو پروان چڑھانے کا ذریعہ بھی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ قوم ہی مضبوط معیشت، مستحکم جمہوریت، سماجی انصاف اور سائنسی ترقی کی ضامن بن سکتی ہے۔ دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جن ممالک نے تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بنایا، آج وہ ترقی یافتہ اقوام کی صف میں کھڑے ہیں، جبکہ جن ممالک نے تعلیم کو نظر انداز کیا، وہ قدرتی وسائل کی فراوانی کے باوجود غربت، بے روزگاری، جہالت اور سماجی پسماندگی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے۔ آج ہندوستان خلائی تحقیق، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، فارماسیوٹیکل صنعت اور عالمی معیشت میں اپنی موجودگی کا احساس دلا رہا ہے، لیکن دوسری طرف ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ملک اب تک مکمل خواندگی حاصل نہیں کر سکا۔ آزادی کے تقریباً آٹھ دہائیاں گزر جانے کے باوجود کروڑوں افراد بنیادی تعلیم سے محروم ہیں، لاکھوں بچے اسکول سے باہر ہیں اور بڑی تعداد میں ایسے طلبہ موجود ہیں جو برسوں اسکول جانے کے باوجود مطلوبہ تعلیمی صلاحیت حاصل نہیں کر پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ ملک کا اصل مسئلہ صرف اسکولوں کی تعداد یا داخلوں میں اضافہ نہیں بلکہ معیاری تعلیم کی فراہمی ہے۔
ہندوستان کا دیگر ممالک سے تقابل کریں تو حقیقت مزید واضح ہوتی ہے۔ کیوبا نے تعلیم پر غیر معمولی توجہ دے کر خواندگی کی شرح 99.8 فیصد سے اوپر پہنچا لی ہے۔ فن لینڈ اور سنگاپور نے اساتذہ کی بہترین تربیت، جدید نصاب اور تحقیق پر مبنی تدریسی نظام کے ذریعے عالمی معیار قائم کیا ہے۔ جنوبی کوریا نے 1950 کی دہائی میں شدید غربت اور جنگی تباہی کے باوجود تعلیم پر مسلسل سرمایہ کاری کی اور آج وہ دنیا کی ترقی یافتہ معیشتوں میں شمار ہوتا ہے۔ ملائیشیا اور انڈونیشیا نے بھی تعلیم کو قومی ترقی کا ستون بنایا اور مختصر عرصے میں خواندگی اور انسانی وسائل کی ترقی میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔
ملک کی مجموعی آبادی تقریباً ایک ارب چوالیس کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ نیشنل سٹیٹسٹیکل آفس (NSO) کے حالیہ سرویز کے مطابق ملک کی خواندگی کی شرح تقریباً 80 فیصد کے قریب پہنچ چکی ہے، لیکن اس کا دوسرا رخ بھی نہایت تشویش ناک ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آج بھی تقریباً 25 سے 30 کروڑ افراد بنیادی خواندگی سے محروم ہیں، جو دنیا میں ناخواندہ افراد کی سب سے بڑی تعداد سمجھی جاتی ہے۔ طبقاتی اعتبار سے دیکھا جائے تو اعلیٰ ذاتوں میں شرح خواندگی نسبتاً زیادہ ہے، جبکہ درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور دیگر پسماندہ طبقات میں یہ اب بھی کم ہے۔ اسی طرح خواتین کی خواندگی مردوں سے کم اور دیہی علاقوں کی خواندگی شہری علاقوں کے مقابلے میں کمزور ہے، اگرچہ گزشتہ دو دہائیوں میں اس فرق میں بتدریج کمی ضرور آئی ہے۔
ماہرین تعلیم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ صرف خواندگی کی شرح میں اضافہ کسی ملک کی تعلیمی کامیابی کا معیار نہیں ہو سکتا۔ اگر ایک بچہ اپنا نام لکھنا سیکھ جائے لیکن وہ سادہ عبارت نہ پڑھ سکے، ریاضی کے بنیادی سوالات حل نہ کر سکے، یا اپنی روزمرہ زندگی میں علم کا استعمال نہ کر سکے تو ایسی خواندگی محض اعداد و شمار کی حد تک محدود رہ جاتی ہے۔ سالانہ تعلیمی جائزہ رپورٹ (ASER) کے نتائج کئی برسوں سے اس جانب اشارہ کرتے رہے ہیں کہ پانچویں جماعت کے بہت سے طلبہ دوسری جماعت کی کتاب روانی سے نہیں پڑھ سکتے، جبکہ آٹھویں جماعت کے متعدد طلبہ بنیادی ریاضی میں بھی دشواری محسوس کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو ماہرین ’’لرننگ کرائسز‘‘یعنی تعلیمی بحران یا اکتسابی بحران قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اسکول میں داخلہ بڑھانا یقیناً ایک کامیابی ہے، لیکن اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب ہر بچہ معیاری تعلیم حاصل کرے اور عملی زندگی کے لیے تیار ہو۔
آزادی سے پہلے تعلیمی صورتحال انتہائی تشویش ناک تھی۔ برطانوی دور میں تعلیم بنیادی طور پر نوآبادیاتی انتظامیہ کی ضرورت کے مطابق ترتیب دی گئی تھی۔ مقصد ایسے افراد تیار کرنا تھا جو دفتری امور انجام دے سکیں، نہ کہ ایسے شہری جو آزادانہ سوچ رکھتے ہوں یا سائنسی و تحقیقی میدان میں آگے بڑھ سکیں۔ دیہی علاقوں میں تعلیم تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی، جبکہ لڑکیوں کی تعلیم کو بہت کم اہمیت دی جاتی تھی۔ 1947 میں آزادی کے وقت ملک کی مجموعی خواندگی کی شرح صرف 12 فیصد کے قریب تھی، جو اس وقت کی سماجی اور تعلیمی پسماندگی کی واضح تصویر پیش کرتی ہے۔آزادی کے بعد تعلیم کو قومی ترقی کا اہم ستون قرار دیا اور آئین میں اسے بنیادی اہمیت دی گئی۔ وقتاً فوقتاً مختلف تعلیمی پالیسیاں، کمیشن اور اصلاحات متعارف کرائی گئیں تاکہ ہر بچے تک تعلیم پہنچائی جا سکے اور ایک جدید، سائنسی اور ترقی پسند معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔حکومت ہند نے تعلیم کے شعبے میں متعدد اصلاحات کا آغاز کیا۔ 1968 کی پہلی قومی تعلیمی پالیسی نے یکساں تعلیمی نظام اور سہ لسانی فارمولے پر زور دیا۔ 1986 کی قومی تعلیمی پالیسی اور 1992 میں اس میں کی گئی ترامیم نے خواتین، دیہی علاقوں اور سماجی طور پر پسماندہ طبقات کی تعلیم کو ترجیح دی۔ اس کے بعدسروا شکشا ابھیان،راشٹریہ مدھیامک شکشا ابھیان، مڈ ڈے میل اسکیم اور 2009 کا حق تعلیم قانون (RTE)جیسے پروگرام متعارف کرائے گئے، جن کا مقصد 6 سے چودہ برس کے ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنا تھا۔ ان اقدامات سے اسکولوں میں داخلوں کی شرح میں نمایاں اضافہ ضرور ہوا، لیکن تعلیمی معیار، اساتذہ کی کمی اور بنیادی سہولتوں کے مسائل بدستور موجود رہے۔2020 میں نافذ کی گئی نئی قومی تعلیمی پالیسی (NEP 2020) کو گزشتہ تین دہائیوں کی سب سے بڑی تعلیمی اصلاح قرار دیا جاتا ہے۔ اس پالیسی کے تحت 10+2 نظام کی جگہ 5+3+3+4 کا نیا ڈھانچہ متعارف کرایا گیا، ابتدائی جماعتوں میں مادری زبان کے ذریعے تعلیم، ہنر پر مبنی نصاب، تحقیق، ڈیجیٹل تعلیم، مصنوعی ذہانت، کوڈنگ اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت پر خصوصی زور دیا گیا۔ اگرچہ اس پالیسی کو مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ قرار دیا گیا، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے مؤثر نفاذ کے لیے خاطر خواہ مالی وسائل، تربیت یافتہ اساتذہ، جدید انفراسٹرکچر اور مضبوط انتظامی نظام ناگزیر ہے۔ ہندوستان کی ریاستوں میں خواندگی کی صورتحال یکساں نہیں ہے۔ بعض ریاستوں نے تعلیم کے میدان میں مثالی کامیابیاں حاصل کی ہیں جبکہ کئی ریاستیں اب بھی قومی اوسط سے پیچھے ہیں۔ ہماچل پردیش، کیرالہ، میزورم، تریپورہ، ناگالینڈ اور اتراکھنڈ جیسے صوبوں نے تقریباً مکمل خواندگی حاصل کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر سیاسی عزم، بہتر حکمرانی، معیاری سرکاری اسکول اور سماجی بیداری موجود ہو تو محدود وسائل کے باوجود غیر معمولی نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ دوسری جانب بڑی آبادی والی ریاستوں میں آبادی کا دباؤ، غربت، بچوں سے مزدوری، کم عمری کی شادی، اساتذہ کی کمی اور کمزور بنیادی ڈھانچہ تعلیمی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
تلنگانہ کی تعلیمی صورتحال بھی امید اور چیلنج، دونوں کا امتزاج ہے۔ ریاست کے قیام کے وقت 2011 کی مردم شماری کے مطابق یہاں کی خواندگی کی شرح تقریباً 66.5 فیصد تھی۔ گزشتہ ایک دہائی میں مختلف سرکاری اقدامات، رہائشی تعلیمی اداروں کی توسیع، اقلیتی، درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور پسماندہ طبقات کے لیے خصوصی اسکولوں، اسکالرشپس اور بنیادی سہولتوں کی بہتری کے نتیجے میں خواندگی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، جو مختلف حالیہ اندازوں کے مطابق تقریباً 74 سے 76 فیصد کے درمیان ہے۔ریاست کے اندر بھی نمایاں تفاوت موجود ہے۔ حیدرآباد، میڈچل ملکاجگیری، رنگا ریڈی، ہنمکنڈہ اور کریم نگر جیسے اضلاع میں تعلیم کی صورتحال نسبتاً بہتر ہے، جبکہ ملوگو، کومرم بھیم آصف آباد، نارائن پیٹ، جوگولامبا گدوال اور ناگر کرنول جیسے اضلاع میں تعلیمی سہولتیں اب بھی محدود ہیں۔ قبائلی علاقوں، جنگلاتی بستیوں اور موسمی نقل مکانی کرنے والے مزدوروں کے بچوں تک معیاری تعلیم پہنچانا آج بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔تلنگانہ حکومت نے گزشتہ برسوں میں سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کی مرمت، نئے کلاس رومز، فرنیچر، کمپیوٹر لیب، ڈیجیٹل کلاس رومز، پینے کے صاف پانی، بیت الخلا اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی ہے۔ گروکل اور رہائشی تعلیمی اداروں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، جن سے ہزاروں غریب اور پسماندہ طبقے کے طلبہ مستفید ہو رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ انفراسٹرکچر کی ترقی کے ساتھ ساتھ تدریس کے معیار، اساتذہ کی مسلسل تربیت اور بچوں کی سیکھنے کی صلاحیت پر بھی یکساں توجہ دینا ضروری ہے۔تلنگانہ اسٹیٹ کونسل آف ہائر ایجوکیشن (TSCHE)، تلنگانہ اسٹیٹ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن (TSBIE)، اسٹیٹ کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (SCERT)، مختلف یونیورسٹیاں، ضلع تعلیمی دفاتر اور متعدد سماجی تنظیمیں ریاست میں تعلیم کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہیں۔ اس کے باوجود دیہی علاقوں میں معیاری تعلیم کی فراہمی،انگریزی اور علاقائی زبانوں جیسے اردو، تلگو میڈیم اسکولوں میں وسائل کی مساوی تقسیم، جدید ٹیکنالوجی تک رسائی اور اساتذہ کی خالی آسامیوں کو پُر کرنا ایسے مسائل ہیں جن پر فوری توجہ درکار ہے۔
تعلیم کے میدان میں کام کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان کا موجودہ نظام اب بھی بڑی حد تک امتحان، نمبروں اور رٹّہ بازی کے گرد گھوم رہا ہے۔ نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات امرتیہ سین متعدد مواقع پر اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ کسی بھی ملک کی پائیدار معاشی ترقی کا انحصار بنیادی تعلیم پر ہوتا ہے۔۔ اسی طرح سابق ڈائریکٹر این سی ای آر ٹی پروفیسر کرشنا کمار بھی بارہا اس بات کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ ہمارے تعلیمی نظام میں تخلیقی سوچ، تحقیق، سوال کرنے کی صلاحیت اور عملی مہارتوں کے بجائے امتحان میں نمبر حاصل کرنے کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں تعلیم اپنی اصل روح کھو دیتی ہے۔اساتذہ کی ایک بڑی شکایت یہ بھی ہے کہ انہیں تدریس سے زیادہ غیر تدریسی کاموں میں مصروف رکھا جاتا ہے۔ مردم شماری، انتخابی ڈیوٹی، مختلف سرکاری سرویز، ڈیٹا اپ لوڈ کرنا، انتظامی رپورٹیں تیار کرنا اور دیگر سرکاری ذمہ داریاں ان کے تدریسی وقت کا بڑا حصہ لے لیتی ہیں۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق اگر استاد کا زیادہ وقت کلاس روم کے بجائے دفتری کاموں میں گزرے گا تو اس کا براہِ راست اثر طلبہ کی تعلیم پر پڑے گا۔ اسی لیے اساتذہ کو غیر تعلیمی ذمہ داریوں سے زیادہ سے زیادہ آزاد کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد کیا جائے، سرکاری اسکولوں کے معیار کو بہتر بنایا جائے، تعلیم پر بجٹ میں اضافہ کیا جائے اور دیہی و پسماندہ علاقوں تک معیاری تعلیم کی یکساں رسائی یقینی بنائی جائے۔ ہماچل پردیش، کیرالہ اور دیگر کامیاب ریاستوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ درست پالیسی، مضبوط سیاسی عزم اور مسلسل توجہ سے تعلیمی میدان میں بڑی تبدیلی ممکن ہے۔ اگر تلنگانہ سمیت ملک کی تمام ریاستیں اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھیں تو ہندوستان کے لیے صد فیصد خواندگی کا خواب حقیقت بن سکتا ہے۔آخر میں سوال صرف یہ نہیں کہ کتنے بچے اسکول جا رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ کیا سیکھ رہے ہیں اور مستقبل کے لیے کس حد تک تیار ہو رہے ہیں۔ کیونکہ تعلیم ہی وہ سرمایہ ہے جو کسی بھی قوم کو ترقی، خوشحالی اور باوقار مستقبل کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے