कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کڑوے لفظوں سے اجڑتے ہیں محبت کے نگر

از قلم: فضیل اختر قاسمی بھیروی
خادم التدریس دارالعلوم رحیمیہ پیلیر آندھراپردیش

انسان کی زندگی میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو بظاہر چھوٹی معلوم ہوتی ہیں لیکن ان کے اثرات بہت دور رس ہوتے ہیں۔ انہی میں ایک "زبان” بھی ہے۔ زبان کا نہ کوئی وزن ہوتا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے، لیکن یہی زبان کبھی دلوں کو جوڑ دیتی ہے اور کبھی برسوں پرانے رشتوں کو توڑ دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے انسان کے عقائد اور اعمال کے ساتھ ساتھ اس کی گفتگو اور طرزِ کلام پر بھی خصوصی توجہ دی ہے۔
نرم دمِ گفتگو، گرم دمِ جستجو
رزم ہو یا بزم ہو، پاک دل و پاکباز
(علامہ محمد اقبال)
آج ہم ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں الفاظ پہلے سے زیادہ طاقتور ہو چکے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب آدمی کی بات چند لوگوں تک پہنچتی تھی، لیکن آج سوشل میڈیا کے ذریعے ایک جملہ ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جتنا ترقی کا سفر تیز ہوا ہے، اتنی ہی زبان کی تلخی بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھ لیا گیا ہے، تنقید کو تذلیل بنا دیا گیا ہے اور گفتگو کے آداب کو اکثر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔
قرآنِ کریم نے گفتگو کے بارے میں نہایت خوبصورت اصول عطا کیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا”
ترجمہ: "لوگوں سے اچھی بات کہو۔”
غور کیجیے! قرآن نے یہ نہیں فرمایا کہ صرف دوستوں سے اچھی بات کہو، بلکہ عمومی حکم دیا کہ تمام لوگوں سے بھلے انداز میں گفتگو کرو۔
رسول اللہ ﷺ کی زندگی اس تعلیم کی بہترین عملی تفسیر ہے۔ آپ ﷺ نے کبھی کسی کو بدزبان نہیں کہا، کبھی گالی نہیں دی اور نہ ہی سخت لہجے کو اپنی عادت بنایا۔
آپ ﷺ نے فرمایا: "مَن كانَ يُؤْمِنُ باللهِ واليومِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ”
ترجمہ: "جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔”
یہ حدیث ہماری روزمرہ زندگی کے لیے ایک مکمل ضابطۂ اخلاق ہے۔ بہت سے جھگڑے، بہت سی ناراضگیاں اور بہت سی دشمنیاں صرف اس لیے پیدا ہوتی ہیں کہ انسان سوچے بغیر بول دیتا ہے۔ ایک تلخ جملہ بعض اوقات ایسا زخم دے جاتا ہے جو برسوں بعد بھی نہیں بھرتا۔ گھر ہو یا دفتر، مدرسہ ہو یا بازار، دوستوں کی مجلس ہو یا سوشل میڈیا کا پلیٹ فارم، ہر جگہ الفاظ اپنا اثر چھوڑتے ہیں۔ ایک نرم جملہ ٹوٹے ہوئے دل کو سہارا دے سکتا ہے اور ایک کڑوا جملہ ہنستے بستے ماحول کو خراب کر سکتا ہے۔ کتنے ہی خاندان معمولی باتوں سے شروع ہونے والے تلخ الفاظ کی وجہ سے بکھر گئے، کتنی ہی دوستیاں سخت لہجوں کی نذر ہو گئیں اور کتنے ہی رشتے صرف زبان کی بے احتیاطی سے ختم ہو گئے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو دیکھے بغیر، سمجھے بغیر اور سوچے بغیر تبصرے کر دیتے ہیں۔ بعض اوقات ایک پوسٹ کے نیچے لکھا گیا ایک جملہ کسی کی عزت، دل اور جذبات کو بری طرح مجروح کر دیتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم الفاظ لکھتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ سامنے بھی ایک انسان ہے جس کے احساسات ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ زبان انسان کے کردار کا آئینہ ہوتی ہے۔ جس کے دل میں نرمی، محبت اور خیر خواہی ہوتی ہے، اس کی گفتگو میں بھی مٹھاس ہوتی ہے۔ اور جس کے دل میں غصہ، حسد اور نفرت بھری ہو، اس کے الفاظ میں بھی سختی نمایاں ہو جاتی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی زبان کا محاسبہ کریں۔ بولنے سے پہلے سوچیں کہ ہماری بات کسی کے دل کو خوش کرے گی یا دکھائے گی؟ کسی کا حوصلہ بڑھائے گی یا توڑے گی؟ کسی کو قریب لائے گی یا دور کر دے گی؟
یاد رکھیے! محبت کے شہر تلواروں سے کم اور کڑوے الفاظ سے زیادہ اجڑتے ہیں۔ اسی لیے دانا لوگ کہتے ہیں کہ زخمِ تلوار بھر سکتا ہے، لیکن زخمِ زبان بعض اوقات عمر بھر نہیں بھرتا۔
آج ہمارے معاشرے میں بہت سے مسائل کی جڑ صرف یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو سننے کے بجائے ایک دوسرے پر بولنا چاہتے ہیں۔ ہر شخص اپنی بات منوانا چاہتا ہے لیکن دوسروں کے جذبات اور احساسات کا خیال کم ہی رکھا جاتا ہے۔ گھروں میں میاں بیوی کے درمیان اختلافات ہوں، والدین اور اولاد کے تعلقات ہوں یا دوستوں اور رشتہ داروں کے معاملات، اکثر جھگڑوں کے پیچھے تلخ الفاظ اور سخت لہجے کارفرما ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ غصے کے چند لمحے بعض اوقات برسوں کی محبت کو نقصان پہنچا دیتے ہیں۔ انسان جب غصے میں ہوتا ہے تو وہ ایسے الفاظ کہہ جاتا ہے جن پر بعد میں اسے خود شرمندگی ہوتی ہے، لیکن افسوس کہ زبان سے نکلے ہوئے الفاظ واپس نہیں آتے۔ معافی مانگ لی جائے تو بھی بعض زخم دلوں میں باقی رہ جاتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده”
ترجمہ: "مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔”
اس حدیث میں زبان کو ہاتھ سے پہلے ذکر کیا گیا ہے، کیونکہ بہت مرتبہ زبان کا نقصان ہاتھ کے نقصان سے زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ ایک چوٹ جسم پر لگتی ہے اور وقت کے ساتھ بھر جاتی ہے، لیکن بعض الفاظ روح پر لگتے ہیں اور مدتوں تک یاد رہتے ہیں۔
سوشل میڈیا کے اس دور میں زبان کی حفاظت پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔ آج ہماری تحریریں بھی ہماری زبان کا حصہ ہیں۔ فیس بک، واٹس ایپ، ٹویٹر، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز پر لکھا جانے والا ہر لفظ ہمارے اخلاق اور تربیت کی نمائندگی کرتا ہے۔ افسوس کہ بعض لوگ اختلاف کو گالی، تنقید کو تضحیک اور بحث کو دشمنی میں بدل دیتے ہیں۔ حالانکہ مہذب انسان کی پہچان یہ ہے کہ وہ اختلاف کے باوجود احترام کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اچھے الفاظ بولنے کے لیے مال و دولت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک مسکراہٹ، ایک دعائیہ جملہ، ایک حوصلہ افزا بات اور ایک نرم لہجہ کسی کے دل میں امید پیدا کر سکتا ہے۔ کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو زندگی کی مشکلات سے تھکے ہوئے ہوتے ہیں، اور آپ کے دو اچھے جملے ان کے لیے نئی ہمت کا سبب بن جاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے گھروں کو خوش گوار، اپنے معاشرے کو پرامن اور اپنے تعلقات کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی زبان کی اصلاح سے آغاز کرنا ہوگا۔ بولنے سے پہلے سوچنے کی عادت ڈالنی ہوگی، غصے کے وقت خاموشی اختیار کرنی ہوگی، دوسروں کی عزت کا خیال رکھنا ہوگا اور ہمیشہ خیر خواہی کے جذبے کے ساتھ گفتگو کرنی ہوگی۔
آئیے! آج ہم یہ عہد کریں کہ ہماری زبان نفرت نہیں محبت پھیلائے گی، دل نہیں توڑے گی بلکہ دل جوڑے گی، مایوسی نہیں بلکہ امید پیدا کرے گی، اور اختلاف کے باوجود اخلاق و شرافت کا دامن کبھی نہیں چھوڑے گی۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ محبت کے محل اینٹوں اور پتھروں سے نہیں بلکہ حسنِ اخلاق، نرم گفتاری اور خلوص کے ستونوں پر قائم ہوتے ہیں، اور جب زبان کی تلخی بڑھ جاتی ہے تو پھر واقعی کڑوے لفظوں سے اجڑتے ہیں محبت کے نگر۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مَا مِنْ شَيْءٍ أَثْقَلُ فِي مِيزَانِ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ حُسْنِ الْخُلُقِ
ترجمہ: "قیامت کے دن مومن کے میزان میں حسنِ اخلاق سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہیں ہوگی۔”
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے الفاظ کو خیر و محبت کا ذریعہ بنائیں، اپنی گفتگو کو شائستگی کا آئینہ بنائیں اور اپنے لہجوں میں ایسی مٹھاس پیدا کریں جو دلوں کو جوڑے، نفرتوں کو مٹائے اور معاشرے میں اخوت و محبت کی فضا قائم کرے۔ یہی حسنِ اخلاق کا تقاضا ہے، یہی سنتِ نبوی ﷺ کا پیغام ہے اور یہی ایک مہذب اور پُرامن معاشرے کی بنیاد ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے