कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مسلمان ہوشیار رہیں فتنۂ شکیلیت دروازے پر ہے

تحریر:محمد عادل ارریاوی

اس وقت امتِ مسلمہ جن ایمان سوز فتنوں کی یلغار کا سامنا کر رہی ہے ان میں ایک نہایت خطرناک مہلک اور خاموش فتنہ شکیلیت کا فتنہ ہے جس کا بانی شکیل بن حنیف مدعیِ مہدویت و مسیحیت اور کذابِ زمانہ ہے۔ اس کے گمراہ کن نظریات اور ارتدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ فتنہ بہت حد تک قادیانیت کے نقشِ قدم پر چل رہا ہے بلکہ بعض پہلوؤں سے اس کا فریب قادیانیت سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ قادیانی عموماً اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں جبکہ شکیلیت کے پیروکار ظاہری طور پر مکمل مسلمان دیندار سر پر ٹوپی چہرہ پر داڑھی مولویانہ لباس اور سنت کے پابند نظر آتے ہیں تاکہ اسی ظاہری دینداری کو ڈھال بنا کر سادہ لوح مسلمانوں کو اپنے دامِ فریب میں گرفتار کر سکیں۔
یہی وجہ ہے کہ اس فتنہ نے نہ صرف عام لوگوں بلکہ دین سے بے زار اور بظاہر دیندار سمجھے جانے والے افراد حتیٰ کہ جدید تعلیم یافتہ طبقے کو بھی اپنا نشانہ بنایا ہے۔ چند ہی برسوں میں اس کے اثرات ملک کے طول و عرض سے نکل کر بیرونِ ملک تک پہنچ چکے ہیں اور اس کی گمراہ کن سرگرمیوں کی خبریں سن کر ہر درد مند مسلمان کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔
کذاب شکیل بن حنیف کا تعلق عثمان پور رتن پورہ موضع دربھنگہ صوبہ بہار سے ہے۔ اس نے ایک غریب اور پسماندہ خاندان میں آنکھ کھولی۔ دینی تعلیم سے تقریباً ناواقف تھا البتہ اسکولی تعلیم کے بعد روزگار کی تلاش میں دہلی پہنچا جہاں محلہ نبی کریم میں ہارڈویئر کا کاروبار شروع کیا اور بظاہر تبلیغی جماعت سے وابستگی اختیار کر لی۔ کچھ عرصہ بعد جب مالی حالات بہتر ہوئے تو اس نے نہایت خفیہ انداز میں اپنے باطل نظریات کی اشاعت اور لوگوں کی ذہن سازی کا سلسلہ شروع کر دیا۔
جب اس کی حقیقت اہلِ محلہ پر آشکار ہوئی تو غیرت مند مسلمانوں نے سخت باز پرس کی جس کے نتیجے میں اسے وہاں سے نکلنا پڑا۔ بعد ازاں لکشمی نگر میں رہائش اختیار کی جہاں ٹیوشن پڑھانے کے ساتھ ساتھ خاموشی سے اپنے نظریات کی تبلیغ اور نام نہاد روحانی مجلسوں کے ذریعے مہدویت کی بیعت لینے کا سلسلہ جاری رکھا۔ جب علماء اور عوام نے اس سے اس کے دعوے کی دلیل طلب کی تو وہ لاجواب ہو گیا معافی مانگی اور تحریری طور پر اپنے دعوے کو غلط قرار دیا۔ بعد میں اس نے مہاراشٹر کے ضلع اورنگ آباد میں مہدی نگر کے نام سے اپنا مرکز قائم کیا جہاں وہ اپنے پیروکاروں کے ساتھ رہ کر خفیہ انداز میں اپنی گمراہ کن سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہ اپنے ماننے والوں کو خصوصیت کے ساتھ یہ ہدایت دیتا ہے کہ علماء سے کسی قسم کی گفتگو نہ کریں تاکہ اس کے باطل عقائد بے نقاب نہ ہو سکیں۔
معتبر ذرائع سے یہ اطلاع موصول ہوئی ہے کہ کذاب شکیل بن حنیف کی دوسری شادی ضلع ارریہ کے جوکی ہاٹ پرکھنڈ کے گاؤں ہروا کے ایک جھولا چھاپ ڈاکٹر کی بیٹی سے ہوئی ہے۔ یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ انہوں نے ظاہری دولت ٹھاٹھ باٹھ اور جھوٹی شان و شوکت سے متاثر ہو کر اپنی بیٹی کا نکاح اس کے ساتھ کر دیا بلکہ اس کے مشن اور سرگرمیوں کی تائید و حمایت بھی کرتے رہے۔
یہ نہایت ہی دل سوز غمگین اور فکر کی بات ہے۔ دنیا کی چند روزہ چمک دمک اور ظاہری آسائشوں کی خاطر دین و ایمان جیسے عظیم سرمایہ کو داؤ پر لگا دینا کسی بھی صاحبِ ایمان کے لیے انتہائی خسارے کا سودا ہے۔ ایک مسلمان کی اصل دولت اس کا ایمان ہونا چاہیے نہ کہ مال و دولت جاہ و منصب یا ظاہری شان و شوکت۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ وہ جھولا چھاپ ڈاکٹر اپنا گھر بار چھوڑ کر کذاب شکیل بن حنیف کے ساتھ رہنے لگا ہے اور اس کی سرگرمیوں میں اس کا معاون و مددگار ہے۔ یہ انتہائی تشویش ناک معاملہ ہے جس پر ہر مسلمان کو غور کرنا چاہیے اور ایسے گمراہ کن افکار و فتنوں سے خود بھی بچنا چاہیے اور اپنے اہل و عیال کی بھی حفاظت کرنی چاہیے۔
مرزا غلام احمد قادیانی اور کذاب شکیل بن حنیف دونوں کے پیروکار بظاہر اسلام کا نام لیتے ہیں مگر حقیقت میں اسلام کے مسلمہ عقائد کو مسخ کرنے اور امت میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول جیسے متفقہ اسلامی عقیدے کا انکار کیا قرآن و حدیث کی من مانی تاویلیں کیں اور امتِ مسلمہ کے چودہ سو سالہ متفقہ عقائد سے انحراف کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اکابر علماء اور مفتیانِ کرام نے ان کے کفریہ عقائد کی بنا پر انہیں دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔
لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ ایسے فتنوں سے خود بھی محفوظ رہے اور اپنے اہل و عیال کو بھی ان کے شر سے بچائے۔ ظاہری دینداری لمبی داڑھی سنت کے مطابق لباس کثرتِ عبادت یا خوش نما گفتگو کسی شخص کے حق پر ہونے کی دلیل نہیں بلکہ اصل معیار قرآن و سنت اجماعِ امت اور اکابر علماءِ حق کی تعلیمات ہیں۔ اسی میں دنیا و آخرت کی کامیابی اور ایمان کی حفاظت مضمر ہے۔
اے اللہ ربّ العزت ہمیں تمام ظاہر و باطن فتنوں سے محفوظ فرما ہمارے دلوں کو ایمان پر ثابت قدم رکھ ہمیں حق کی پیروی کی توفیق عطا فرما اور ہمیں اپنے نیک بندوں میں شامل فرما۔ آمین یا رب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے