कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

صرف نمبر نہیں، زندگی جیتنے والے بچے تیار کیجیے

تحریر: جنید عبدالقیوم شیخ
(کالم نگار، مصنف، ماہر تعلیم)

ایک زمانہ تھا جب والدین کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی تھی کہ ان کا بچہ کلاس میں اول آئے، ہر امتحان میں نمایاں نمبر حاصل کرے اور دن رات کتابوں میں مصروف رہے۔ اس دور میں یہی کامیابی کی سب سے بڑی علامت سمجھی جاتی تھی۔ لیکن اکیسویں صدی کی دنیا نے کامیابی کے معیار بدل دیے ہیں۔ آج مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence)، روبوٹکس، انٹرنیٹ، ڈیجیٹل معیشت اور تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے دور میں صرف کتابی معلومات انسان کی کامیابی کی ضمانت نہیں رہیں۔ آج ضرورت ایسے نوجوانوں کی ہے جو سوچ سکتے ہوں، مسائل حل کر سکتے ہوں، نئے حالات کے مطابق خود کو ڈھال سکتے ہوں، دوسروں کے ساتھ بہتر انداز میں کام کر سکتے ہوں اور اپنی صلاحیتوں کو عملی زندگی میں استعمال کرنا جانتے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور میں بچوں کی پرورش کا انداز بھی بدلنے کی ضرورت ہے۔
تعلیم کا مقصد صرف معلومات کا ذخیرہ جمع کرنا نہیں بلکہ ایک متوازن، باکردار، خوداعتماد اور باشعور انسان تیار کرنا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اب بھی بہت سے والدین اپنے بچوں کی کامیابی کا معیار صرف رپورٹ کارڈ اور امتحانی نمبروں کو سمجھتے ہیں۔ اگر بچہ نوّے یا پچانوے فیصد نمبر لے آئے تو اسے کامیاب قرار دیا جاتا ہے، لیکن اگر وہ دوسروں کا احترام نہ کرے، ذمہ داری نہ سمجھے، فیصلے نہ کر سکے یا زندگی کے چھوٹے چھوٹے مسائل سے گھبرا جائے تو اس پہلو پر کم توجہ دی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امتحان میں حاصل کیے گئے نمبر صرف تعلیمی قابلیت ظاہر کرتے ہیں، جبکہ زندگی میں کامیابی کے لیے جذباتی ذہانت، اخلاق، قیادت، تخلیقی سوچ اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کہیں زیادہ اہم ہوتی ہے۔
آج معلومات کی دنیا ہماری جیب میں موجود ہے۔ چند لمحوں میں موبائل فون یا کمپیوٹر کے ذریعے دنیا کی بڑی سے بڑی لائبریری تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت چند سیکنڈ میں وہ معلومات فراہم کر دیتی ہے جنہیں تلاش کرنے میں پہلے کئی گھنٹے لگتے تھے۔ ایسے حالات میں صرف معلومات یاد کر لینا کوئی غیر معمولی بات نہیں رہی۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ انسان ان معلومات کو سمجھ کر صحیح جگہ استعمال کرنا جانتا ہو۔ مستقبل ان لوگوں کا ہوگا جو صرف جانتے ہی نہیں بلکہ سوچتے بھی ہیں، سوال کرتے ہیں، تحقیق کرتے ہیں اور نئے حل تلاش کرتے ہیں۔
اس حقیقت کو سمجھنے کے بعد والدین کی ذمہ داری بھی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اب ان کا کام صرف بچوں کو پڑھانا یا اچھے نمبر دلوانا نہیں بلکہ انہیں زندگی جینے کا ہنر سکھانا بھی ہے۔ بچوں کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ ناکامی سے گھبرانا نہیں، اختلافِ رائے کو برداشت کرنا ہے، دوسروں کے جذبات کو سمجھنا ہے، اپنی غلطیوں سے سیکھنا ہے اور ہر نئے چیلنج کو سیکھنے کا موقع سمجھنا ہے۔ یہی وہ صلاحیتیں ہیں جو مستقبل میں انہیں ایک کامیاب اور باوقار انسان بنائیں گی۔
ماہرینِ نفسیات کے مطابق بچوں کی پرورش کے مختلف انداز ہوتے ہیں، جن میں سے ہر ایک کا اثر بچے کی شخصیت پر نمایاں طور پر پڑتا ہے۔
ایک انداز ہیلی کاپٹر پیرنٹنگ کہلاتا ہے۔ اس میں والدین ہر وقت بچے کے اردگرد موجود رہتے ہیں، اس کے ہر فیصلے میں مداخلت کرتے ہیں، ہر مشکل خود حل کر دیتے ہیں اور ہر ناکامی سے اسے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بظاہر یہ محبت محسوس ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں اس کا نقصان زیادہ ہوتا ہے۔ ایسے بچے اپنے فیصلے خود کرنے سے گھبراتے ہیں، معمولی مشکلات میں بھی دوسروں پر انحصار کرتے ہیں اور زندگی کے حقیقی چیلنجز کا سامنا کرنے کی صلاحیت کمزور رہتی ہے۔ اگر ہر راستہ والدین ہی صاف کریں گے تو بچہ چلنا کب سیکھے گا؟
دوسرا انداز غیر ذمہ دارانہ یا لاپرواہ پرورش ہے، جس میں والدین بچوں کی تعلیم، اخلاق، جذبات یا سرگرمیوں کی طرف مناسب توجہ نہیں دیتے۔ بچے اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارتے ہیں، مگر انہیں رہنمائی، محبت اور حدود کا احساس نہیں ملتا۔ ایسی آزادی اکثر بچے کو الجھن، بے راہ روی اور غیر ذمہ دارانہ رویوں کی طرف لے جا سکتی ہے۔ بچے کو آزادی ضرور چاہیے، مگر ایسی آزادی جس کے ساتھ ذمہ داری بھی سکھائی جائے۔
ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ایک تیسرا اور متوازن انداز موجود ہے جسے لائٹ ہاؤس پیرنٹنگ یا روشن مینار طرزِ پرورش کہا جاتا ہے۔ سمندر میں موجود روشن مینار جہازوں کو راستہ دکھاتا ہے، خطرات سے آگاہ کرتا ہے، مگر ان کے سفر کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیتا۔ اسی طرح بہترین والدین وہ ہیں جو بچوں کو صحیح اور غلط کا فرق سمجھاتے ہیں، اچھے اور برے نتائج سے آگاہ کرتے ہیں، مگر ہر فیصلہ خود نہیں کرتے۔ وہ بچوں کو سوچنے، انتخاب کرنے اور اپنے فیصلوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا موقع دیتے ہیں۔
یہی طرزِ پرورش بچوں میں خود اعتمادی پیدا کرتی ہے۔ جب بچہ چھوٹے چھوٹے فیصلے خود کرتا ہے تو اس کے اندر اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ اگر وہ غلط فیصلہ بھی کرے تو وہ اس غلطی سے سبق سیکھتا ہے۔ یہی تجربات مستقبل میں اسے بڑے فیصلے کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر ہر فیصلہ والدین کریں گے تو بچہ ہمیشہ دوسروں کی رہنمائی کا محتاج رہے گا۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بچوں پر غیر ضروری تعلیمی دباؤ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ بہت سے والدین ہر قیمت پر اپنے بچوں کو کلاس میں اول دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر چند نمبر کم آ جائیں تو گھر کا ماحول کشیدہ ہو جاتا ہے۔ اس مسلسل دباؤ کی وجہ سے کئی بچے ذہنی تناؤ، خوف، بے چینی اور احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کامیابی کا مطلب صرف اول آنا نہیں بلکہ مسلسل سیکھتے رہنا، اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانا اور اپنی بہترین کوشش کرنا ہے۔ اگر بچہ ہر سال اپنی کلاس ایمانداری سے پاس کر رہا ہے، کچھ نیا سیکھ رہا ہے اور اخلاقی طور پر بھی ترقی کر رہا ہے تو یہ بھی ایک بڑی کامیابی ہے۔
موجودہ دور میں بچوں کو صرف نصابی تعلیم نہیں بلکہ زندگی کی مہارتیں بھی سکھانا ضروری ہیں۔ انہیں گفتگو کا سلیقہ، ٹیم ورک، وقت کی پابندی، مالی شعور، ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال، تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت، ماحول کی حفاظت اور معاشرتی ذمہ داری جیسے موضوعات سے بھی روشناس کرانا چاہیے۔ یہ وہ مہارتیں ہیں جو کسی بھی نصاب سے زیادہ زندگی میں کامیابی دلاتی ہیں۔
والدین کو چاہیے کہ بچوں میں سوال پوچھنے کی عادت پیدا کریں۔ اگر بچہ ہر بات پر "کیوں؟” پوچھتا ہے تو اسے خاموش کرانے کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی کریں، کیونکہ سوال ہی تحقیق کی پہلی سیڑھی ہے۔ جو بچے سوال کرنا سیکھتے ہیں، وہی مستقبل میں نئی دریافتیں کرتے ہیں، نئی ایجادات کرتے ہیں اور معاشرے کو نئی راہیں دکھاتے ہیں۔
اسی طرح بچوں کو ناکامی کا سامنا کرنا بھی سکھانا چاہیے۔ ہر خواہش پوری کر دینا یا ہر مشکل سے بچا لینا محبت نہیں بلکہ ان کی قوتِ برداشت کو کمزور کرنا ہے۔ زندگی میں کامیابی حاصل کرنے والے تقریباً ہر انسان نے ناکامیوں کا سامنا کیا ہے، مگر فرق صرف یہ تھا کہ انہوں نے ہار ماننے کے بجائے ہر ناکامی کو نئی کامیابی کی بنیاد بنایا۔
ایک اور اہم حقیقت یہ ہے کہ بچے والدین کی باتوں سے زیادہ ان کے عمل سے سیکھتے ہیں۔ اگر والدین خود کتاب پڑھتے ہیں، وقت کی پابندی کرتے ہیں، دوسروں کا احترام کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں اور ٹیکنالوجی کا متوازن استعمال کرتے ہیں تو بچے بھی یہی رویے اختیار کرتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر والدین ہر وقت موبائل فون میں مصروف رہیں اور بچوں کو صرف نصیحت کرتے رہیں تو نصیحت کا اثر محدود رہ جاتا ہے۔
آج کی دنیا میں کامیابی کا مطلب صرف ایک اچھی ملازمت حاصل کرنا نہیں بلکہ ایک ایسا انسان بننا ہے جو بدلتے ہوئے حالات میں خود کو ڈھال سکے، نئی چیزیں سیکھنے کے لیے ہمیشہ تیار رہے، دوسروں کے ساتھ مل کر کام کر سکے اور اپنے علم کو انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال کرے۔ ایسے بچے ہی مستقبل کے سائنس دان، معلم، ڈاکٹر، انجینئر، صنعت کار، محقق اور باکردار قائد بن سکتے ہیں۔
آخر میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ والدین کا اصل فرض بچوں کی زندگی کا ہر فیصلہ خود کرنا نہیں بلکہ انہیں اتنا مضبوط بنانا ہے کہ وہ خود صحیح فیصلے کر سکیں۔ انہیں صرف کتابوں کا عاشق نہیں بلکہ علم کا متلاشی بنائیے، صرف امتحان کا فاتح نہیں بلکہ زندگی کا فاتح بنائیے، صرف زیادہ نمبر لینے والا نہیں بلکہ اچھا انسان بنائیے۔ جب بچے کے اندر علم کے ساتھ کردار، عقل کے ساتھ حکمت، آزادی کے ساتھ ذمہ داری اور کامیابی کے ساتھ انسانیت پیدا ہو جائے تو سمجھ لیجیے کہ آپ نے واقعی ایک کامیاب نسل کی بنیاد رکھ دی ہے۔ یہی جدید دور کی کامیاب پرورش ہے، یہی روشن مستقبل کا راستہ ہے، اور یہی وہ سرمایہ ہے جو آنے والی نسلوں کو ایک بہتر معاشرہ دے سکتا ہے۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے