कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

حالات حاضرہ کے تناظر میں چشم کشا تحریر

از قلم : مفتی محمد سفیان سہیل

مذہبِ اسلام ہی وہ دینِ حق ہے جس نے پوری انسانیت کو حسنِ اخلاق سے آراستہ کیا ہے۔ اسلام کے مخالفین نے بھی اس کی اس نمایاں خوبی کا اعتراف کیا ہے، کیونکہ جس عظیم المرتبت ہستی ، نبیِ عربی ﷺ، نے ہمیں دینِ اسلام کی دعوت دی، آپ ﷺ نے اپنی بعثت کا مقصد ان الفاظ میں بیان فرمایا:
«إنما بُعثتُ لأتممَ مكارمَ الأخلاق»
یعنی: "مجھے عمدہ اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔
جب خود رسولِ اکرم ﷺ کی بعثت کا مقصد مکارمِ اخلاق کی تکمیل ہو، تو آپ ﷺ کے پیروکار ان بلند پایہ اخلاق سے کیسے منحرف ہو سکتے ہیں؟
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اہلِ اسلام نے ہر دور میں اپنے حسنِ اخلاق، حسنِ سلوک اور کردار کے ذریعے غیر مسلموں کے دل جیتے ہیں۔ آج بھی چودہ سو سال گزر جانے کے باوجود یہ وصف اہلِ اسلام میں زندہ ہے۔
حال ہی میں جنتر منتر پر مسلمانوں نے جس اعلیٰ کردار، نظم و ضبط اور حسنِ اخلاق کا مظاہرہ کیا، اس نے بہت سے لوگوں کے دلوں سے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں اور نفرتوں کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
خصوصاً ان چند شخصیات میں جنہوں نے اپنے عمل کے ذریعے اسلام کی صحیح تصویر پیش کی،ان میں ہمارے جنید بھائی بھی قابلِ ذکر ہیں۔ انہوں نے غیر مسلم نوجوانوں کی ہر ممکن مدد کی، ان کے لیے اشیائے خورد و نوش کا انتظام کیا اور اپنے حسنِ سلوک سے اسلام کی حقیقی تعلیمات کی عملی جھلک پیش کی ، یہ ساری باتیں اپنی جگہ مسلم ہے ؛ لیکن اس کے ساتھ مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنا ہرقدم حکمت ومصلحت کے ساتھ بڑھائے جذباتی نعروں سے ہٹ کر جذباتی فیصلوں سے بچتے ہوئے تدبر وتفکر سے آراستہ ہوکر آگے بڑھے ،کہیں آپ کا ایک قدم آپ کے لیے آپ کے کنبے کے لیے آپ کے معاشرے کے لیے فتنہ پردازی کا باعث نہ ہوں بعد میں آپ کو اپنے کیے پر شرمندگی نہ ہو ، سارے عالم میں اسلام ہی ایک ایسا عظیم لائحہ عمل مذہب ہے ، جس کی تعلیمات جس کی ہدایات تا قیامت آنے والے احوال و کوائف پر محیط ہے ؛ نیز بالخصوص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مقدسہ ایک باشعور باہمت وباحوصلہ طبقۂ شباب کے لیے موقع محل کالحاظ، حکمت و دانائی سےلبریز،ناعاقبت اندیشانہ رویوں سے اجتناب پر ابھارتی ہے ، اور یہی شریعت کابھی مطلوب ہے ؛ مگر افسوس کہ نوجوانانِ ملت کا اپنے دین وشریعت کی تعلیمات سے ناواقف ہونے کی وجہ سے اور ہر اقدام میں چاہے کسی کی مناصرت میں ہو یا کسی کی منافرت میں ہو ، اپنے اکابر علماء امت کے مشورے سے بالاتر ہو کر جذباتی فیصلوں کے پاداش میں اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لیے درپیش مسائل کا سبب بنتے ہیں ؛
لہذا موجودہ حالات میں حدیث نبوی ﷺ :
الكلمةُ الحِكْمَةُ ضالَّةُ المؤمنِ فحَيْثُ وجدها فهو أَحَقُّ بها.
(جامع ترمذی ،رقم الحدیث:٢٦٨٧)
کی روشنی میں اپنے آپ کو ہرقسم کےپروپیگنڈے ہر قسم کی بے اعتدالیوں سے محفوظ رکھتے ہوئے اپنے علماء کی ہدایات پر عمل کریں ،اور اس کی فضاء بھی ہموار کریں،
فرمان خداوندی :
فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَىٰ .(طہ :44)
کے اسباق سے درس عبرت حاصل کرتے ہوئے اپنے خلاف ہونے والے مظالم سے حکومت کو اگرچہ حکومت سے اختلاف ہی کیوں نہ ہو ، قانون کے دائرے میں رہتے ہوئےاپناپیغام پہنچاناہے ، اسلام نےکسی بھی دورمیں فتنہ کوپسندنہیں کیا ؛ بلکہ قرآن نے اسے قتل سے بھی زیادہ سنگین قرار دیا ہے ، ہمارے لیے یہ قرآنی آیات دراصل ہمارے ایمان کو جلاء بخشنے کا ذریعہ ہے ،
آج کل ملک کے موجودہ حالات جس میں غیر مسلم نوجوانانِ کی طرف سے حکومت کے ناکارہ نظام تعلیم کو لیکر ملک کے مختلف علاقوں میں مظاہرے ہوئے… اور پایۂ تکمیل کو پہونچے، اورطلبہ اپنے مطالبات منوانے میں کامیاب ہو گئے؛ لیکن اس نوعیت کے مظاہروں میں مسلمانوں کی شرکت اور حکومت وقت کے خلاف جذباتی تقاریر نہ صرف ان کے لیے بلکہ سارے مسلم سماج کے لئے فساد برپا کرنے کا ذریعہ ہے ، یہ کیفیت صرف امت مسلمہ کے نوجوانوں تک محدود نہیں، بلکہ بعض نوجوان علماء بھی اسی طرزِ عمل کا مظاہرہ کررہے ہیں۔
ہمیں اس قسم کے جلسوں اور جلوسوں سے بچناچاہیے ؛ کیوں کہ شریعت خود کہتی ہے :
وَلا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ[البقرة:١٩٥].
اپنے آپ کو ایسے افعال سے دور رکھو ، کہ جس سے تمہارے مستقبل کا ، تمہارے جان ومال کے ضیاع ہونے کا خدشہ ہو ؛ اسی لیے بزرگوں کا مقولہ ہےکہ،
إتقوا مواضع التهمة .
یعنی: تہمت اور الزام کا سبب بننے والے مقامات سے بچو۔
لیکن حالیہ کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں بہت سے مسلم نوجوان شریک ہوئے ، اور ان میں نمایاں شخصیت محمد جنید نے بلا تفریق مذہب انسانیت کی خدمت کی ،
"جس کے نتیجے میں انہیں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ صورتحال اس تاثر کو تقویت دیتی ہے کہ بہت سے مواقع پر مسلمانوں کے اعمال کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ،
آخر میں ، میں: اپنے دلی احساسات کو علامہ اقبال رحمہ اللہ کے اس شعر کے قالب میں ڈھال کر اپنے مضمون کو اختتام پذیر کرتا ہوں ۔
"شعر”
انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے۔
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات ۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے