कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ظواہر کی فریب کاری اور نادان لڑکپن: ایک معلم کی ڈائری سے

تحریر:فضیل اختر قاسمی بھیروی
خادم التدریس دارالعلوم رحیمیہ پیلیر آندھراپردیش

استاذی اور شفیق نگہبانی کا تعلق ہمیشہ سے دلوں کے تار چھیڑنے کا فن رہا ہے۔ مدرسے کی پرسکون اور روحانی فضا میں جب کوئی استاد اپنے سامنے بیٹھے معصوم چہروں کو دیکھتا ہے، تو یہی گمان ہوتا ہے کہ تقویٰ اور پاکیزگی کے اس چمن میں ہوا کا کوئی ناپاک جھونکا داخل نہیں ہو سکتا۔ لیکن دورِ حاضر میں جب فتنوں کی یلغار ہر دیوار کو عبور کر چکی ہے، ظاہری معصومیت کے پیچھے پوشیدہ تلخ حقیقتیں انسان کو ششدر کر دیتی ہیں۔
درسگاہ کا ماحول روز مرہ کی طرح باوقار اور پر سکون ہونا چاہیے تھا، مگر گزشتہ کل کا دن جیسے ہی قدم اندر رکھا، ایک عجیب سا سکتہ اور اجنبی فضا محسوس ہوئی۔ چہروں پر الجھن کے آثار تھے اور سنسنی خیز خاموشی چلی آ رہی تھی۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ دو ہم جماعتوں میں تکرار ہوئی اور اسی گرمی میں ایک طالب علم کی زبان سے انتہائی غلیظ گالی نکل گئی۔ یہ سن کر عقل دنگ رہ گئی۔ جس بچے کا نام لیا جا رہا تھا، وہ صرف ۱۵ برس کا ایک کمسن طالب علم تھا۔ اس کی متانت، خاموشی اور پرہیزگاری کا یہ عالم تھا کہ اسے دیکھ کر بزرگوں کے تقویٰ کا گمان ہوتا تھا۔ تمام بچوں میں وہ سب سے زیادہ صوفی(موجودہ عام اصطلاح) نظر آتا تھا۔ دل ماننے کو تیار نہ تھا کہ ایسی پاکیزہ پیشانی والا بچہ اتنی گراوٹ کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔ دل بار بار اس کی بے گناہی کی گواہی دے رہا تھا، مگر جب تمام بچوں نے یک زبان ہو کر تصدیق کی اور خود اس طالب علم نے بھی ندامت سے سر جھکا کر اپنے جرم کا اعتراف کیا، تو گمان کی تمام عمارتیں زمین بوس ہو گئیں اور گہری سوچ کا ایک نامتنہی سلسلہ شروع ہو گیا۔
ابھی اس دھچکے کی کیفیت سے ذہن آزاد نہ ہوا تھا کہ اگلے دن بعد نمازِ عشاء وہ طالب علم خود تنہائی میں حاضری دینے آیا۔ اس کی آنکھوں میں بے چینی تھی اور چہرے پر ایک عجیب سی التجا۔ کہنے لگا: "حضرت! میرا دل سبق میں بالکل نہیں لگتا۔” سبب پوچھا تو اس نے جو داستان سنائی، وہ سن کر پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس نے اعتراف کیا کہ وہ اپنے محلے کی ایک لڑکی کی زلفِ گرہ گیر کا اسیر ہو چکا ہے اور یہ سلسلہ گزشتہ چند سالوں سے جاری ہے۔ دونوں کے درمیان تحائف کا تبادلہ بھی چل رہا ہے؛ وہ اسے کپڑے اور رقم بھیجتا ہے، جبکہ دوسری طرف سے عطر، رومال اور ٹوپیاں تحفے میں آ رہی ہیں۔ جب وہ سبق یاد کرنے بیٹھتا ہے، تو کتاب کے صفات پر اسی کا چہرہ لہرانے لگتا ہے۔
اس کی یہ داستاں سن کر حیرت کی انتہا نہ رہی۔ میں نے انتہائی دردمندی اور تعجب سے کہا: "میاں! میں تو تمہیں زہد و تقویٰ کا مجسمہ سمجھتا تھا، لیکن تم تو علم و تجربے کی ان گہرائیوں میں استاذ سے بھی دس قدم آگے نکل چکے ہو۔ جس راستے کی خبر بھی ہمیں نہیں، تم اس پر دور تک نکل چکے ہو۔”
میری اس بات پر اس کے چہرے پر گہری ندامت چھا گئی اور اس نے نہایت لجاجت و عاجزی سے کہا: "حضرت! آپ جیسا کہیں گے، میں بالکل ویسا ہی کروں گا، مجھے اس دلدل سے نکال لیں۔”
اس کی تڑپ دیکھ کر میں نے شفقت سے اسے سمجھایا: "میرے بچے! تم علمِ دین کے طلبگار ہو۔ علم کی شمع اور نفسانی خواہشات کا اندھیرا ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔ یہ خیال اور یہ یاد دراصل دورِ درس میں تمہاری توجہ بھٹکانے کے لیے شیطان کا ایک وار ہے۔ اس لیے جب بھی ذہن اس سمت بہکنے لگے، فوراً "اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم” پڑھ کر اس وسوسے کو جھٹک دیا کرو۔ ابھی سچے دل سے توبہ کرو کہ اب اس راستے پر قدم نہیں رکھو گے اور گھر جا کر بھی اسے دل سے نکال پھینکوں گے۔” اس نے سچے دل سے وعدہ کیا، توبہ کی اور اس کے چہرے پر ایک اطمینان اور خوشی کی لہر دوڑ گئی جس کے بعد وہ رخصت ہو گیا۔ پھر اگلے دن جب صبح سپیدہ سحر نمودار ہوا اور نمازِ فجر کی نورانی فضا قائم ہوئی، تو میں نے اس طالب علم کو اپنے پاس بلایا۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سا اطمینان اور تازگی تھی، وہ کل والی بے چینی سے آزاد نظر آ رہا تھا۔ میں نے شفقت سے دریافت کیا: "بابو! اب کیا صورتحال ہے؟ کیا اب بھی کتابیں یاد کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے؟”
اس کے چہرے پر ایک باوقار مسکراہٹ ابھری اور اس نے نہایت عاجزی و شکر گزاری سے جواب دیا: "الحمدللہ حضرت! ایک ہی دن میں کافی تبدیلی محسوس ہو رہی ہے اور دل کو بڑا سکون ملا ہے۔ اب میں نے پکا ارادہ کر لیا ہے کہ جب بھی ذہن میں اس کا خیال آئے گا، میں فوراً "اعوذ باللہ” کا ورد کر کے اس وسوسے کو دور کر دیا کروں گا۔”
اس کمسن بچے کا یہ جواب سن کر دل فرطِ مسرت سے بھر گیا۔ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ اگر بچوں کے ساتھ رعب اور سختی کے بجائے حکمت، شفقت اور دوست دارانہ انداز اختیار کیا جائے، تو ان کی اصلاح کی راہ نہایت آسان ہو جاتی ہے۔ نصاب کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کے قلبی اور نفسیاتی الجھنوں کو سمجھنا ہی ایک معلم کا اصل امتحان ہے۔ جب استاذ ایک طبیب کی طرح ان کی اندرونی بیماریوں کو سمجھ کر ان کا علاج کرتا ہے، تو نفس کے بہکاوے میں آئے ہوئے قدَم بھی دوبارہ صراطِ مستقیم پر گامزن ہو جاتے ہیں۔
آج کا دور شدید آزمائش کا دور ہے۔ اس دورِ پُر فتن میں، جہاں موبائل اور جدید وسائل نے نوعمر بچوں کو ان کی عمر سے کہیں زیادہ چالاک اور آگے بنا دیا ہے، وہاں ایک استاذ کے لیے بچوں کی تربیت کا روایتی انداز کارگر نہیں ہو سکتا۔ اگر استاذ بچوں پر بےجا سختی کرے، تو وہ یا تو پڑھائی چھوڑ دیتے ہیں، یا پھر ضد اور ڈھیٹ پن کا شکار ہو کر مار کھانے کے عادی بن جاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ میں نے کبھی خود کو ایک روایتی استاذ کے رعب دار خول میں بند نہیں رکھا۔ ہمیشہ ان بچوں کی نفسیات کو سمجھنے کی کوشش کی ہے، ان کے درمیان دوستوں کی طرح ہنسنا، کھیلنا اور ان کے دکھ درد میں شریک ہونا ہی میری تربیت کا بنیادی طریقہ رہا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ بچہ ڈرنے کے بجائے اپنے گناہ کا اعتراف کرنے استاذ کے پاس چلا آیا۔ اگر ڈنڈے اور سختی کا ماحول ہوتا تو شاید وہ اپنی گمراہی چھپاتا رہتا اور اندر ہی اندر تباہ ہو جاتا۔
یہ واقعہ اس بات کی کھلی عبرت ہے کہ صرف ظاہری صورت و سیرت کو دیکھ کر کسی کی پاک بازی کا حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ نیز موجودہ دور میں بچوں کی اصلاح ڈنڈے سے نہیں بلکہ حکمت، دوست دارانہ رویے اور نفسانی بیماریاں سمجھ کر ان کا علاج کرنے سے ہی ممکن ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے