कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

رحمتِ انسانیت کا ایک منظر: تنہائی کے زخم اور ایک کپ چائے

A Portrait of Human Compassion: The Scars of Loneliness and a Cup of Tea

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

اسلام ایک ایسا دین ہے جو صرف عبادات اور عقائد ہی کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ انسانوں کے باہمی تعلقات، ہمدردی، خیر خواہی اور حقوق العباد کی ادائیگی کو بھی نہایت اہمیت دیتا ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویہﷺ میں بار بار اس بات کی تلقین کی گئی ہے کہ کمزوروں، محتاجوں، یتیموں، مسکینوں اور خصوصاً عمر رسیدہ افراد کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے، ان کی دلجوئی کی جائے اور ان کی ضروریات کا خیال رکھا جائے۔
رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا کہ "وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کا حق و احترام نہ پہچانے”۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی معاشرے کی ایک نمایاں خصوصیت یہ رہی ہے کہ اس میں بزرگ افراد کو عزّت، محبت اور توجہ کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ ان کی موجودگی کو باعثِ برکت اور ان کے تجربات کو سرمایۂ حیات تصور کیا جاتا تھا۔
لیکن مادّی ترقی، مصروفیات کی کثرت اور انفرادی طرزِ زندگی کے بڑھتے ہوئے رجحان نے انسانی رشتوں میں ایک خاموش خلا پیدا کر دیا ہے۔ آج بہت سے بزرگ ایسے ہیں جن کے پاس رہنے کے لیے گھر، خرچ کرنے کے لیے مال اور علاج کے لیے دوائیاں تو موجود ہیں، مگر انہیں سننے والا کوئی کان، ان کی خیریت پوچھنے والی کوئی آواز اور ان کے ساتھ چند لمحے گزارنے والا کوئی اپنا میسر نہیں۔ بسا اوقات تنہائی کا زخم جسمانی بیماریوں سے زیادہ گہرا اور تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔
ایسے ہی غالباً 2006ء کا ایک واقعہ آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہے، جس نے مجھے یہ گہرا احساس دلایا کہ بعض اوقات ایک مختصر ملاقات، ایک خیرخواہی بھرا سلام اور ایک کپ چائے بھی کسی انسان کے دل میں امید کی شمع روشن کر سکتا ہے۔ یہ واقعہ دراصل ہمارے معاشرے کے ایک ایسے خاموش المیے کی عکاسی کرتا ہے جو وقت کے ساتھ مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ آج رابطے کے بے شمار ذرائع موجود ہیں؛ موبائل فون، انٹرنیٹ اور سماجی ذرائع ابلاغ نے دنیا کو گویا ایک گاؤں بنا دیا ہے، لیکن اس کے باوجود تنہائی بھی اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہے۔ بظاہر لوگ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، مگر دلوں کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔
خصوصاً عمر رسیدہ افراد اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ وہ لوگ جنہوں نے اپنی جوانی، اپنی توانائیاں اور اپنی زندگی کا بہترین حصّہ اولاد اور خاندان کی خدمت میں صرف کر دیا، اکثر بڑھاپے میں توجہ، گفتگو اور رفاقت کے چند لمحوں کے محتاج رہ جاتے ہیں۔ انہیں صرف علاج، دوائی یا مالی معاونت ہی درکار نہیں ہوتی، بلکہ ایک ہمدرد آواز، ایک مخلص سامع اور کسی اپنے کی توجہ بھی ان کی بنیادی ضرورت بن جاتی ہے۔ انہی حقیقتوں کو میں نے ایک واقعے کے ذریعے قریب سے محسوس کیا، جس نے میرے دل پر گہرا اثر چھوڑا۔
نوجوانی کے ایّام میں، جب میں اپنے گھر اور اہلِ خانہ سے دور ایک علاقے میں مقیم تھا، مسجد کے قریب واقع ایک چھوٹی سی چائے کی دکان میری روزمرّہ زندگی کا حصّہ بن گئی تھی۔ نمازِ فجر کے بعد میرا معمول تھا کہ کچھ دیر وہاں بیٹھ کر چائے پیتا اور دن کے آغاز سے پہلے چند پُرسکون لمحات گزار لیتا۔ اسی دکان کے ایک گوشے میں ایک بزرگ شخص بھی روزانہ خاموشی سے بیٹھے نظر آتے تھے۔ ان کے چہرے پر سنجیدگی اور طبیعت میں عجیب سی متانت و انکساری جھلکتی تھی۔ وہ نہ کسی محفل میں شریک ہوتے، نہ خود گفتگو کا آغاز کرتے اور نہ ہی کبھی بے تکلفی سے ہنستے مسکراتے دکھائی دیتے۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ لوگوں کے درمیان موجود ہوتے ہوئے بھی اپنی ہی سوچوں کی دنیا میں گم رہتے ہوں۔
ان کی خاموشی اور تنہائی نے آہستہ آہستہ میری توجہ اپنی جانب مبذول کر لی، اور پھر ایک دن میں نے ان سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک دن حسبِ معمول میں نے ادب و احترام کے ساتھ انہیں سلام کیا۔ بزرگ نے مسکرا کر جواب دیا، اور یوں ایک خاموش سی شناسائی کا آغاز ہوگیا۔ رفتہ رفتہ یہ معمول بن گیا کہ روزانہ ملاقات کے وقت سلام دعا کے ساتھ دو چار جملوں کا تبادلہ بھی ہونے لگا۔ اگرچہ ہماری گفتگو مختصر ہوتی تھی، لیکن اس میں خلوص اور اپنائیت کی ایک خاص کیفیت محسوس ہوتی تھی۔
کچھ عرصہ اسی طرح گزرتا رہا، مگر پھر اچانک میں نے محسوس کیا کہ وہ بزرگ کئی دنوں سے دکان پر نظر نہیں آ رہے۔ ان کی غیر حاضری نے میرے دل میں تشویش پیدا کر دی۔ چنانچہ میں نے دکاندار سے دریافت کیا: "وہ بابا جی آج کل نظر نہیں آ رہے؟”۔ دکاندار نے افسوس بھرے لہجے میں جواب دیا: "بیٹا! وہ اکیلے رہتے ہیں، شاید طبیعت ناساز ہے، اسی لیے کئی دنوں سے یہاں نہیں آئے”۔ یہ سن کر میرے دل میں تشویش کی ایک لہر دوڑ گئی۔ میں نے فوراً دکاندار سے ان کا پتا معلوم کیا اور خیریت دریافت کرنے کے ارادے سے ان کے گھر پہنچ گیا۔
دروازے پر دستک دی تو کچھ دیر تک کوئی جواب نہ آیا۔ پھر اندر سے ایک کمزور اور نحیف آواز سنائی دی: "کون ہے؟”
میں نے جواب دیا: "بابا جی! میں وہی ہوں جو روزانہ چائے کی دکان پر آپ سے ملتا تھا۔”
چند لمحوں بعد دروازہ آہستہ آہستہ کھلا۔ سامنے وہی بزرگ کھڑے تھے، مگر اس روز ان کے چہرے پر بیماری اور تنہائی کے آثار نمایاں تھے۔ مجھے دیکھتے ہی ان کی آنکھیں نم ہوگئیں اور لبوں پر ایک مدھم سی مسکراہٹ ابھر آئی۔ لرزتی ہوئی آواز میں کہنے لگے: "بیٹا! مجھے تو یوں لگنے لگا تھا جیسے دنیا مجھے بھول چکی ہے۔ تین دن سے بخار میں مبتلا ہوں، مگر اس دوران کوئی میرا حال پوچھنے نہیں آیا، نہ کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا اور نہ ہی خیریت دریافت کی”۔
ان کے یہ الفاظ محض شکایت نہیں تھے، بلکہ ایک ایسے دل کی خاموش فریاد تھے جو بیماری سے زیادہ تنہائی کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا۔ اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ بوڑھے لوگوں کی سب سے بڑی ضرورت دوائی، علاج یا مالی معاونت ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ان کی بہت سی جسمانی تکالیف تنہائی، بے توجہی اور احساسِ محرومی سے بھی جنم لیتی ہیں۔ ایک مسکراہٹ، چند منٹ کی گفتگو اور کسی کی خیر خبر پوچھ لینا ان کے لیے کسی دوا سے کم نہیں ہوتا۔
میں نے فوراً ان کے لیے دوائیاں لا کر دیں، کھانے پینے کا انتظام کیا اور آئندہ چند دن باقاعدگی سے ان کی عیادت اور دیکھ بھال کرتا رہا۔ آہستہ آہستہ ان کی طبیعت سنبھلنے لگی اور چہرے پر دوبارہ زندگی کی رونق لوٹ آئی۔ جب وہ مکمل طور پر صحت یاب ہوگئے تو ایک دن بڑی محبت سے میرا ہاتھ تھام کر کہنے لگے: "بیٹا! مجھے تمہاری لائی ہوئی دوائیوں سے زیادہ تمہارے آنے نے شفا دی ہے۔ بیماری جسم کو کمزور کرتی ہے، لیکن تنہائی روح کو توڑ دیتی ہے”۔ یہ کہتے کہتے ان کی آواز بھرّا گئی۔ چند لمحے خاموش رہے، پھر آہستہ سے بولے: "بوڑھے لوگوں کو اکثر روٹی کی نہیں، کسی اپنے کی آواز کی ضرورت ہوتی ہے”۔
ان کے یہ الفاظ میرے دل میں اتر گئے۔ ان کی آنکھوں میں تشکر کے آنسو تھے، اور مجھے پہلی بار شدّت سے احساس ہوا کہ بعض اوقات ایک مخلصانہ سلام، ایک مختصر ملاقات اور ایک کپ چائے کسی انسان کی پوری دنیا کو روشن کر سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ایک سماجی مخلوق ہے۔ وہ صرف خوراک، لباس اور آرام سے زندہ نہیں رہتا بلکہ محبت، توجہ، اپنائیت اور تعلق بھی اس کی بنیادی ضرورت ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جن معاشروں میں خاندانی روابط مضبوط، پڑوسیوں کے تعلقات خوشگوار اور سماجی رشتے زندہ ہوتے ہیں، وہاں بزرگ افراد نسبتاً زیادہ مطمئن، پُرسکون اور خوش باش زندگی گزارتے ہیں۔ اس کے برعکس جہاں بے توجہی اور تنہائی عام ہو جائے، وہاں جسمانی آسائشوں کے باوجود دل ویران اور زندگیاں بے رنگ ہو جاتی ہیں۔
ہم میں سے ہر شخص اپنے محلے، خاندان یا جان پہچان میں ایسے افراد کو ضرور جانتا ہے جو بڑھاپے، بیماری یا تنہائی کے باعث کسی ہمدرد آواز کے منتظر ہوتے ہیں۔ اگر ہم ہفتے میں چند منٹ بھی ان کے لیے نکال لیں، ان کی خیریت دریافت کر لیں یا ان کے ساتھ چند لمحے گزار لیں تو شاید ہم ان کے دل کی ویرانی کو کم کر سکیں۔ بعض اوقات ایک مختصر ملاقات وہ اثر پیدا کر دیتی ہے جو بڑی بڑی مالی امداد بھی نہیں کر پاتی۔ گھروں کی دیواریں اینٹوں اور پتھروں سے بنتی ہیں، مگر ان میں زندگی انسانوں کی موجودگی، محبت اور آوازوں سے آتی ہے۔ جب اپنے بچھڑ جاتے ہیں تو مکان باقی رہتا ہے، لیکن گھر کی رونق رخصت ہو جاتی ہے۔
زندگی میں بہت سے لوگ دولت، سہولت اور آسائشوں کے باوجود تنہائی کا شکار ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی ہمارا چند منٹ کا وقت، ایک فون کال، ایک سلام یا ایک مختصر ملاقات کسی کے لیے زندگی کا سہارا بن سکتی ہے۔ "پرندے آشیاں سے اڑ جائیں تو گھر خالی نہیں ہوتا، مگر دل ضرور ویران ہو جاتے ہیں”۔ شاید ہمارے معاشرے کو آج بڑی بڑی تقریروں سے زیادہ ایک سلام، ایک ملاقات، ایک فون کال اور ایک کپ چائے کی ضرورت ہے؛ کیونکہ بعض دل دلیل سے نہیں، توجہ سے زندہ ہوتے ہیں۔
اسلام ہمیں صرف نماز، روزہ اور دیگر عبادات ہی کا درس نہیں دیتا بلکہ بندگانِ خدا کے دل جوڑنے، ان کے غم بانٹنے اور ان کی ضرورتوں کا احساس کرنے کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ بسا اوقات ہم نیکی کو بڑے بڑے کاموں میں تلاش کرتے ہیں، حالانکہ اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مخلصانہ سلام، ایک دکھی دل کی دلجوئی، ایک بیمار کی عیادت اور ایک تنہا انسان کے پاس چند لمحے بیٹھ جانا بھی عظیم عبادت بن جاتا ہے۔
آج ہمارے معاشرے میں بے شمار ایسے بزرگ، بیمار، بیوائیں، یتیم اور تنہا افراد موجود ہیں جو شاید مالی تنگی سے زیادہ محبت، توجہ اور اپنائیت کے محتاج ہیں۔ ان کے دروازے پر دستک دینا، ان کی خیریت دریافت کرنا اور ان کے ساتھ چند لمحے گزارنا دراصل سنّتِ نبویﷺ پر عمل اور حقوق العباد کی ادائیگی ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ جس دل کو ہم اپنی توجہ سے آباد کرتے ہیں، ممکن ہے وہی عمل قیامت کے دن ہماری نجات کا ذریعہ بن جائے۔
رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: "لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب شخص اللّٰہ کے نزدیک وہ ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ نفع پہنچائے۔” اس لیے ہمیں اپنے گرد و پیش نظر دوڑانی چاہیے اور یہ سوچنا چاہیے کہ کہیں کوئی ایسا شخص تو نہیں جو ہماری ایک ملاقات، ایک فون کال، ایک مسکراہٹ یا ایک کپ چائے کا منتظر ہو۔ آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی مصروف زندگی میں سے کچھ وقت اللّٰہ کی رضا کے لیے اس کے بندوں کے نام بھی وقف کریں گے۔ شاید کسی تنہا بزرگ کے چہرے پر آنے والی مسکراہٹ، کسی بیمار کے دل کو ملنے والا حوصلہ، یا کسی اداس انسان کی آنکھوں میں جاگنے والی امید ہمارے لیے صدقۂ جاریہ بن جائے۔
اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اپنے والدین، بزرگوں، پڑوسیوں اور تمام انسانوں کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطاء فرمائے، ہمارے دلوں میں رحم، محبت اور ہمدردی پیدا فرمائے، اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جو زمین والوں پر رحم کرتے ہیں تاکہ آسمان والا ان پر رحم فرمائے۔ یاد رکھیے! کبھی کبھی جنّت کی طرف جانے والا راستہ کسی بڑے کارنامے سے نہیں، بلکہ ایک مخلص سلام، ایک خیرخواہ ملاقات اور ایک کپ چائے سے بھی شروع ہو جاتا ہے۔
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
🗓 (20.02.2010)

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے