कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

رشتوں میں حدود قائم کرنا کیوں ضروری ہے؟

تحریر: نکہت انجم ناظم الدین
بذریعہ نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

زندگی کا حسن تعلقات سے عبارت ہے لیکن تعلقات اسی وقت خوش گوار رہتے ہیں جب ان کی بنیاد احترام، اعتماد اور باہمی شعور پر استوار ہو۔ جہاں ہم اپنی ذات کی حدود سے غافل ہو جاتے ہیں وہاں محبت بھی بوجھ بننے لگتی ہے، خلوص آزمائش میں بدل جاتا ہے اور نزدیکیوں کے باوجود دلوں میں فاصلے پیدا ہونے لگتے ہیں۔ ہر انسان کے اندر ایک الگ دنیا آباد ہوتی ہے۔ جس میں اس کے احساسات، خواب، ترجیحات، اس کی شخصی خوبیاں اور خامیاں شامل ہیں۔ ایک انسان کی ان ہی خصوصیات کا احترام کرنا دوسرے انسان کے لیے ضروری ہے اور اسی احترام کا نام حدود ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایثار اور قربانی کو ہمیشہ بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لیکن بعض اوقات یہی خوب صورت اقدار ایسی صورت اختیار کر لیتی ہیں کہ ہم اپنی ذات کو فراموش کر بیٹھتے ہیں۔ ہر آواز پر لبیک کہنے لگتے ہیں، متعلقہ فرد کی خواہش کی تکمیل کو اپنی ذمہ داری سمجھ لیتے ہیں اور ہر مسئلے کو اپنا مسئلہ سمجھ کر حل کے لیے کوشاں ہوجاتےہیں۔ بظاہر یہ رویہ محبت کا اظہار معلوم ہوتا ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہی طرزِ فکر خاموش تھکن، بے بسی اور محرومی پیدا کر دیتا ہے۔ جو شخص ہمیشہ دوسروں کے لیے جیتا رہے ایک دن وہ اپنے اس عمل سے تھکنے لگتا ہے۔ بس یہیں سے حدود قائم کرنے کا خیال اس کے دل میں پیدا ہوتا ہے۔حدود دراصل انسان کی عزتِ نفس کا حصار ہیں۔ جس طرح ایک گھر کی چار دیواری اس کی حفاظت کرتی ہے اسی طرح شخصیت کے گرد قائم کردہ حدود انسان کے وقار، سکون اور انفرادی شناخت کی نگہبانی کرتی ہیں۔ جس انسان کو اپنی اہمیت کا احساس ہو وہ اپنی رائے کا احترام کرتا ہے، اپنے وقت کی قدر جانتا ہے اور اپنی توانائی کو بے مقصد مصرف ہونے سے بچاتا ہے۔ ایسی شخصیات دوسروں کے لیے بھی احترام کا باعث بنتی ہیں کیونکہ دنیا اکثر اسی انسان کی قدر کرتی ہے جو اپنی قدر خود کرتا ہے۔بہت سے لوگ انکار کو بدتمیزی سمجھتے ہیں حالاں کہ شائستگی کے ساتھ کیا گیا انکار اخلاق کے منافی نہیں ہوتا۔ ہر مطالبہ قبول کرنا، سبھی کی توقعات پر پورا اترنا یا ساری ذمہ داری اپنے سر لے لینا عقل مندی نہیں۔ انسان کی جسمانی طاقت محدود ہے، ذہنی صلاحیت محدود ہے اور جذباتی برداشت بھی ایک حد تک ہی ساتھ دیتی ہے۔ ان حقیقتوں سے صرفِ نظر کرنے والا انسان آہستہ آہستہ اپنے وجود پر ظلم کرنے لگتا ہے۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ تو باقی رہتی ہے لیکن دل خاموش احتجاج میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
حدود ہمیں یہ شعور عطا کرتی ہیں کہ ہم اوروں کی زندگی کے مالک نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی اور ہماری زندگی کا مالک ہے۔ ہر فرد کو اپنی پسند، اپنی رائے اور اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے۔ اختلاف کا مطلب دشمنی نہیں ہوتا اور اتفاقِ رائے ہر تعلق کی لازمی شرط بھی نہیں ہوتی اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ فکری آزادی ہی وہ فضا پیدا کرتی ہے جہاں محبت سانس لیتی ہے اور اعتماد پروان چڑھتا ہے۔ جبر سے وابستگی پیدا نہیں ہوتی کیونکہ دل صرف احترام سے جیتے جاتے ہیں۔گھریلو زندگی میں بھی اس حقیقت کی اہمیت ہے۔ ہم جانتے ہی ہیں کہ والدین کی محبت بے مثال ہوتی ہے۔اولاد ان کی آنکھوں کا نور ہوتی ہے۔اسی طرح میاں بیوی ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں لیکن ان تمام رشتوں میں شخصیت کی انفرادیت برقرار رہنا ضروری ہے۔ ہر وقت اگلے شخص کی نگرانی کرنا، افراد خانہ کے معاملات میں مسلسل مداخلت کرنا یا اپنی مرضی دوسروں پر تھوپنے کی خواہش رکھنا، تعلقات میں ایسی دراڑیں پیدا کر دیتا ہے جو بسا اوقات برسوں تک باقی رہتی ہیں۔ محبت کا تقاضا اعتماد ہے اور اعتماد آزادی کے احساس سے جنم لیتا ہے۔
اسی طرح دوستی بھی حدود کے احترام کی متقاضی ہے۔ مخلص دوست ہماری خاموشی کو بھی سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، مصروفیت کا احترام کرتا ہے اور ہمارے فیصلوں کو اپنی انا کا مسئلہ نہیں بناتا۔ تعلق اگر احساسِ ملکیت میں ڈھل جائے تو محبت اپنی لطافت کھونے لگتی ہے۔ دلوں کو قریب رکھنے کے لیے فاصلوں کا شعور بھی ضروری ہوتا ہے۔ یہ سمجھنا بھی بے حد ضروری ہے کہ حدود کا تعلق صرف اوروں سے نہیں اپنی ذات سے بھی ہے۔ہم اپنی زندگی میں بہت سی ایسی عادتوں کو جگہ دے دیتے ہیں جو ہمارے وقت، ذہنی سکون اور صلاحیتوں کو آہستہ آہستہ نگل جاتی ہیں۔ بے مقصد مصروفیات، فضول گفتگو، منفی سوچ، ہر معاملے میں الجھ جانے کی عادت اور ہر ایک کو خوش رکھنے کی خواہش ہماری شخصیت کو منتشر کر دیتی ہے۔ جو شخص اپنی زندگی کے گرد نظم و ضبط کا حصار قائم کر لیتا ہے، اس کے خیالات میں ٹھہراؤ آ جاتا ہے، فیصلوں میں پختگی پیدا ہوتی ہے اور زندگی بامقصد محسوس ہونے لگتی ہے۔ ہمارا مذہب بھی ہمیں توازن، عدل اور وقار کی تعلیم دیتا ہے۔ حقوق کی ادائیگی کے ساتھ اپنی عزت اور اپنی ذمہ داریوں کی حفاظت بھی اسی تعلیم کا حصہ ہے۔ نرم مزاجی، خوش اخلاقی اور درگزر یقیناً اعلیٰ اوصاف ہیں، مگر کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ان اوصاف سے ناجائز فائدہ اٹھائے۔ حکمت، اعتدال اور بصیرت ہی وہ راستہ ہے جو ہمیں انتہا پسندی سے محفوظ رکھتا ہے۔ حدود قائم کرنا دلوں کے درمیان دیواریں کھڑی کرنا نہیں ہے بلکہ دلوں کو ٹوٹنے سے بچانا ہے۔ یہ تعلقات میں فاصلے پیدا کرنے والا عمل نہیں ہے بلکہ اس سے تعلقات دیرپا ثابت ہوتے ہیں۔ یاد رہے کہ جو انسان اپنی ذات کی حفاظت کرنا سیکھ لیتا ہے، وہ اوروں کے حقوق کی حفاظت بھی زیادہ دیانت داری سے کرتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ عزت، سکون اور آزادی کی خواہش ہر دل میں یکساں طور پر موجود ہوتی ہے۔ زندگی کی پختگی اسی لمحے شروع ہوتی ہے جب ہم یہ جان لیتے ہیں کہ محبت کا مفہوم اپنی ذات کو مٹا دینا نہیں ہے بلکہ اپنی ذات کو سنوار کر اوروں کے لیے خیر کا ذریعہ بننا ہے۔ یہی شعور انسان کو باوقار بناتا ہے، انسانی تعلقات کو استحکام عطا کرتا ہے اور معاشرے میں ایسی فضا قائم کرتا ہے جہاں محبت بھی برقرار رہتی ہے اور انسانیت بھی محفوظ ہوتی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے