कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

قربانی ہر سیکنڈ ہر منٹ دینی ہے

از: ظفر ہاشمی ندوی
سابق فیملی کونسلر دبئی کورٹ
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

قربانی ہر سال صرف بکرا اور بیل وغیرہ ذبح کرنے کا نام نہیں ہے اور نہ قربانی ختم ہو جاتی ہے- بلکہ ایک مسلمان کو اپنی زندگی کے ہر سیکنڈ، ہر منٹ، دن و رات، صبح و شام، ہر دن، ہر ہفتہ، ہر مہینہ اور ہر سال اپنی اپنی موت کے آخری لمحے تک غلط خواہشات اور خلافِ اسلام ہر عمل کو چھوڑنے کی قربانی دینی ہے تبھی صحیح اسلام پر عمل ہوگا- عید الاضحیٰ تو ہر سال صرف زندگی بھر اللہ کی اطاعت کرنے کے عہد کی یاد دہانی ہے-
یہ کون سا اسلام ہے کہ عین عید کے دن عید کی نماز جو بعض علماء کے نزدیک سنت مؤکدہ اور بعض کے نزدیک واجب ہے، وہ تو پڑھی جائے مگر اسی دن کی فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء نہ پڑھی جائے- اور پھر اللہ سے وہی غداری جو بے شمار مسلمان مرد و عورت، بوڑھے و بچے، صبح و شام مسلسل کر رہے ہیں- یعنی سال بھر نماز نہ پڑھنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا جو شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے، حلال و حرام کی پروا کیے بغیر کمانا یا فضول خرچی کرنا وغیرہ وغیرہ- بدقسمتی سے تقریباً ہر مسلمان نے اپنی اپنی آسانی سے بھرا نیا اسلام بنا لیا ہے- میں نے کئی سو عرب و عجم کے مسلمانوں سے صرف نماز کے بارے میں پوچھا: کیا آپ روزانہ پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہو؟ تو مختلف مسلمانوں نے پوری بے شرمی سے مسکرا کر مختلف جوابات دیے- بعض نے کہا پانچ تو نہیں، دو پڑھ لیتا ہوں، بعض نے تین یا چار کہا- اور بعض نے پورے اطمینان سے کہا جمعہ کو جمعہ پڑھ لیتا ہوں- میرا سوال یہ ہے: کس نے آپ کو یہ حق دیا ہے کہ آپ اپنی مرضی سے نماز کم پڑھیں؟ آگے بڑھنے سے پہلے آپ بتائیے کہ آپ کس قسم کے مسلمان ہیں؟
کیا اسلام صرف نماز پڑھنے کا نام ہے؟ ہرگز نہیں- انسانی زندگی کی ہر بات قرآن و حدیث کے مطابق کرنے کا نام اسلام ہے- اس اسلام سے دیندار مسلمان بھی محروم ہیں- جو جس دینی جماعت سے تعلق رکھتا ہے وہ اس لائن کے اسلام پر چل رہا ہے اور اسی کو پورا اسلام سمجھ رہا ہے- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (الحکمة ضالة المؤمن حیث وجدها فهو أحق بها) ہر عقلمندی کی بات مسلمان کی کھوئی ہوئی دولت ہے، وہ جہاں سے مل جائے تو ایک مسلمان اس کا سب سے زیادہ حق دار ہے-
خود عقلمندی کیا ہے؟
عقلمندی ہر وہ بات ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے اور عقلمندی ہر وہ بات ہے جس سے قرآن و حدیث میں منع کیا گیا ہے-
اس کے علاوہ دنیا بھر کے بڑے سے بڑے فلسفی اور مفکر کی بات صرف بیوقوفی اور پاگل پن ہے اگر اس کی وہ بات قرآن و حدیث کے خلاف ہے- کیونکہ اس نے اس دنیا کی کوئی چیز بھی نہیں بنائی ہے، صرف اللہ تعالیٰ نے بنائی ہے، لہٰذا صرف اللہ تعالیٰ ہی بتا سکتا ہے کہ کس چیز کو کس طرح سے استعمال کرنا ہے تاکہ وہ استعمال نقصان نہ پہنچائے-
مختصر یہ کہ ہماری ہر عادت قرآن و حدیث کے حکم کے مطابق ہو جائے اور اس اہم مقصد کے لیے ہم ہر طرح کی قربانی دے دیں- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: (لا يؤمن أحدكم حتى يكون هواه تبعاً لما جئت به) تم میں سے کسی کا ایمان صحیح نہیں ہے جب تک اس کی ہر خواہش اس دین کے تابع نہ ہو جائے جو میں لے کر آیا ہوں-
کیا ہم سب اس کے لیے تیار ہیں؟

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے