कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ناندیڑ ضلع میں ایک ماہ کے دوران 36 کم عمری کی شادیوں کو روکنے میں انتظامیہ کو کامیابی

محکمہ خواتین و اطفال کی مؤثر کارروائی۔ 1098 ہیلپ لائن بنی سہارا

ناندیڑ:14؍مئی (نمائندہ اعتبار)  محکمہ خواتین و اطفال ترقیات نے ضلع ناندیڑ میں بڑھتے ہوئے کم عمری کی شادیوں کے واقعات پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کرتے ہوئے گزشتہ ایک ماہ کے دوران 36 کم عمری کی شادیوں کو روکنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ضلع کے مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی شکایات پر فوری کارروائی کرتے ہوئے انتظامیہ نے طے شدہ کم عمری کی شادیوں کو روکا، جس میں 1098 قومی ایمرجنسی چائلڈ پروٹیکشن ہیلپ لائن نے اہم کردار ادا کیا۔ضلع کلکٹر راہل کرڈیلے کی رہنمائی اور ضلع خواتین و اطفال ترقیاتی آفیسر گنیش واگھ کی ہدایات کے تحت یہ مہم چلائی گئی۔ ضلع چائلڈ پروٹیکشن آفیسر محترمہ ودیا آلنے، محکمہ خواتین و اطفال کے ملازمین اور چائلڈ لائن 1098 کی ٹیموں نے باہمی تال میل کے ساتھ کام کرتے ہوئے 12 اپریل تا 13 مئی کے دوران موصول ہونے والی شکایات پر فوری مداخلت کی۔اس عرصے کے دوران ضلع کے مختلف مقامات پر کم عمری کی شادیوں کی شکایات 1098 ہیلپ لائن پر موصول ہوئی تھیں۔ اس کے بعد محکمہ خواتین و اطفال کی مختلف مشنری کی مدد سے کونسلنگ، بیداری مہم اور براہِ راست جانچ کے ذریعے 36 طے شدہ کم عمری کی شادیوں کو روکا گیا۔کارروائی کے دوران تعلقہ سطح کے چائلڈ ڈیولپمنٹ پروجیکٹ آفیسرس، جونیئر پروٹیکشن آفیسرس، گرام پنچایت آفیسرس اور آنگن واڑی سیوکاؤں نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر متعلقہ دلہا اور دلہن کی عمر کی جانچ کی اور کم عمری کی شادیوں کو روکا۔ اس مداخلت کے باعث کم عمر لڑکے اور لڑکیوں کی زندگیوں پر پڑنے والے سنگین اثرات اور قانونی پیچیدگیوں سے بچاؤ ممکن ہوسکا۔خاص بات یہ ہے کہ گزشتہ دو دنوں میں ہی ضلع میں 6 کم عمری کی شادیوں کو روکا گیا ہے۔ ان میں لوہا تعلقہ کی ایک، نائیگاؤں تعلقہ کی ایک، کندھار تعلقہ کی دو، بلولی تعلقہ کی ایک اور عمری تعلقہ کی ایک واردات شامل ہے۔انتظامیہ نے بتایا کہ جن لڑکیوں کی کم عمری کی شادیوں کو روکا گیا، انہیں آئندہ نگہداشت اور تحفظ کے نقطۂ نظر سے چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کے سامنے پیش کیا جارہا ہے۔انتظامیہ نے واضح کیا کہ کم عمری کی شادیوں کی روک تھام ایکٹ 2006ء کے مطابق لڑکے کی شادی کے لیے کم از کم عمر 21 سال اور لڑکی کی عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی گنجائش موجود ہے۔انتظامیہ نے کہا کہ کم عمری کی شادی جیسی سماجی برائی کے مکمل خاتمے کے لیے سماج کے تمام طبقات کو آگے آنا ہوگا۔ گاؤں کی سطح پر گرام پنچایت آفیسرس، آنگن واڑی سیوکاؤں اور کم عمری کی شادی روکنے والے آفیسرس کا کردار نہایت اہم ثابت ہورہا ہے۔ضلع میں کہیں بھی کم عمری کی شادی ہونے کی اطلاع ملنے پر شہری فوری طور پر 1098 اس ٹول فری نمبر پر رابطہ کریں، ایسی اپیل ضلع کلکٹر راہل کرڈیلے نے کی ہے۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے