कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

شرعی رقیہ ہر طرح کی حفاظت کا ذریعہ قسط(6)

مصنف: شیخ جاسم حسین العبیدلی
ترجمہ: ظفر ھاشمی ندوی
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا : ( من قال بسم اللہ الذی لا یضر مع اسمه شیئ فی الارض ولا فی السماء و ھو السمیع العلیم ثلاث مرات لم تصبه فجأة بلاء حتی یصبح و من قالھا حین یصبح ثلاث مرات لم تصبه فجأة بلاء حتی یمسی ( رواه ابو داؤد رقم5088وصححه الالبانی رحمه اللہ نمبر 6426) جو شخص ( بسم اللہ الذی لا یضر مع اسمه شیئ فی الارض ولا فی السماء وھو السمیع العلیم) شام میں تین دفعہ پڑھ لے تو صبح تک اس پر کوئی مصیبت اچانک نہیں آئے گی اور اگر وہ صبح تین دفعہ پڑھ لے تو شام تک کوئی مصیبت اچانک نہیں آئے گی-
خلاصہ یہ ہے کہ اہل علم کی ایک تعداد کہتی ہے کہ شرعی حفاظت یعنی شرعی الفاظ اور نبوی تعویذات کا مصیبت آنے سے پہلے ہی پڑھ لینا یہ بھی رقیہ کرنے میں شامل ہے اور اس طرح رقیہ کا مطلب ( عوذہ یعنی حفاظت) جو شروع میں بیان ہو چکا ہےوہ ثابت ہو تا ہے)-
علامہ ابن العربی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم مصیبت کے پیش آنے سے پہلے ہی رقیہ کے الفاظ پڑھتے تھے اور مصیبت سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے پناہ ( حفاظت) مانگنے کا حکم دیتے تھے ( المسالک شرح موطا مالک 7/431).
امام بخاری رحمہ اللہ نے باب النفس فی الرقیہ، رقیہ کرکے پھونکنے کا بیان) میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کی ہوئی حدیث ذکر کی ہے جس میں سونے سے پہلے تمام معوذات پڑھنے کا ذکر ہے- اس حدیث میں فرماتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب بستر پر تشریف لاتے تو اپنے دونوں ہاتھوں پر قل ھو اللہ أحد کی سورہ اور دونوں معوذتین( سورہ الفلق اور سورہ الناس) پڑھتے پھر ہتھیلیوں پر پھونکتے اور انھیں اپنے چہرہ پر پھیرتے اور پورے جسم پر بھی جہاں تک ہاتھ پہونچتا ( صحیح بخاری حدیث نمبر 5748)
ترمذی شریف میں باب ما جاء فی الرقیہ بالمعوذتین ، معوذتین کا رقیہ پڑھنے کا بیان) – اس باب میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ہر دن تمام معوذات پڑھ کر حفاظت مانگنے کا ذکر ہے- حدیث یوں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم عام طور پر جنوں اور انسانوں کی بری نظروں سے پناہ مانگتے تھے – جب معوذتین نازل ہو گئیں تو پھر اس کو اختیار فرمایا اور اس کے علاوہ دوسرے عمل کو چھوڑ دیا-( ترمذی حدیث نمبر 2058, علامہ البانی کی تصدیق نمبر 4902)-

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے