कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مغربی بنگال: ووٹروں کا خاموش طوفان اور سیاسی دعوے

از قلم: ڈاکٹر سید تابش امام
کاکو، جہان آباد
رابطہ۔۔۔9934933992

مغربی بنگال کی سیاست ہمیشہ سے اپنے اندر ایک مخصوص حرارت، فکری شدت اور عوامی بیداری کا عنصر سموئے رہی ہے۔ یہاں انتخابات محض اقتدار کی تبدیلی کا عمل نہیں ہوتے بلکہ ایک ہمہ جہت سماجی و سیاسی بیانیہ کی تشکیل کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بنگال کے انتخابی معرکے نہ صرف ریاستی سطح پر بلکہ قومی سیاست میں بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ 2026 کے اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں 152 نشستوں پر ہوئی ریکارڈ توڑ ووٹنگ نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کر دیا ہے کہ بنگال کا ووٹر نہ صرف سیاسی طور پر باشعور ہے بلکہ اپنے جمہوری حق کے استعمال کے معاملے میں غیر معمولی سنجیدگی کا مظاہرہ بھی کرتا ہے۔ پہلے مرحلہ کی ووٹنگ میں تقریباً 92 فیصد سے زائد شرحِ رائے دہی نے سیاسی حلقوں میں ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے اور تمام جماعتیں اپنی اپنی سیاسی عینک سے اس کے معنی اخذ کرنے میں مصروف ہیں۔ پہلے مرحلے میں ووٹروں نے 152 نشستوں پر 1478 امیدواروں، جن میں 167 خواتین بھی شامل ہیں، کی قسمت الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں بند کر دی ہے، اور اب نتائج کے اعلان تک یہ خاموش فیصلہ سیاسی قیاس آرائیوں کا محور بنا رہے گا۔
بہر کیف یہ ریکارڈشرحِ ووٹنگ محض ایک عددی کامیابی نہیں بلکہ ایک “خاموش سیاسی طوفان” کی علامت ہے، جو نتائج کے اعلان کے بعد کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ اگر ہم 2011، 2016 اور 2021 کے انتخابات کا تقابلی جائزہ لیں تو اس بار کی ووٹنگ نے سابقہ تمام ریکارڈز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اس غیر معمولی اضافے کو محض اتفاق نہیں کہا جا سکتا، بلکہ یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ عوام کے اندر ایک فیصلہ کن کیفیت کا ظہور ہو چکا ہے—ایک ایسی کیفیت جس میں امید، بے چینی، اضطراب اور تبدیلی کی خواہش سبھی عناصر بیک وقت کارفرما دکھائی دیتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ریکارڈشرحِ ووٹنگ عموماً دو بنیادی رجحانات کی عکاسی کرتی ہے: ایک، حکومت کے خلاف عوامی ناراضگی کا اظہار؛ اور دوسرا، سخت اور کانٹے دار مقابلے کی صورت میں دونوں جانب کے حامیوں کی بھرپور متحرکیت۔ مغربی بنگال کے موجودہ سیاسی منظرنامے میں یہ دونوں امکانات یکساں طور پر موجود دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طرف حکمراں جماعت ترنمول کانگریس اپنی فلاحی اسکیموں، خواتین کے لیے مخصوص پروگراموں اور دیہی سطح پر مضبوط تنظیمی ڈھانچے و فسطائی قوتوں کو بنگال سے باہر کرنے کے اپنے عزم کے سہارے بھر پور عوامی حمایت کا دعویٰ کر رہی ہے، تو دوسری طرف بھارتیہ جنتا پارٹی اس غیر معمولئ ووٹنگ کی شرح کو حکومت کے خلاف ایک خاموش بغاوت سے تعبیر کر رہی ہے۔جب کہ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ مغربی بنگال میں ریکارڈ ووٹنگ دراصل بنگال کی عصمت پر مبینہ حملوں، غیر بنگالی عناصر کی بے جا مداخلت اور خاتونِ آہن ممتا بنرجی کی تضحیک کے خلاف ووٹروں میں پائی جانے والی ناراضگی کا نتیجہ ہے۔
وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اس انتخابی مرحلے کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہوئے اسے محض جماعتوں کے درمیان مقابلہ قرار دینے کے بجائے عوام اور انتخابی نظام کے درمیان اعتماد کی آزمائش قرار دیا ہے۔ ان کا یہ بیان کہ “یہ الیکشن ترنمول کانگریس اور الیکشن کمیشن کے درمیان تھا” اپنے اندر کئی سیاسی اشارے سموئے ہوئے ہے اور انتخابی عمل پر اٹھنے والے سوالات کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ دوسری جانب مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور بی جے پی کی قیادت نے دعویٰ کیا ہے کہ عوام نے تبدیلی کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے اور پہلے مرحلے میں ہی پارٹی کو نمایاں کامیابی حاصل ہوگی۔ ان کے مطابق 152 نشستوں پر ہوئی ووٹنگ میں بی جے پی 110 سے زائد نشستوں پر کامیابی کی پوزیشن میں ہے، یہ دعوی اگر درست ثابت ہوتا ہے تو ریاست کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
ریاست کے مختلف اضلاع میں ووٹنگ کا تناسب غیر معمولی حد تک بلند رہا۔ کوچ بہار میں 92 فیصد سے زائد ووٹنگ درج کی گئی، جبکہ علی پور دوار میں بھی تقریباً 88 فیصد ووٹرز نے اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا۔ شدید گرمی، طویل قطاروں اور بعض مقامات پر تکنیکی رکاوٹوں کے باوجود ووٹروں کا جوش و خروش اس بات کی دلیل تھا کہ عوام اس انتخاب کو اپنے مستقبل کے تعین کا ایک سنجیدہ ذریعہ سمجھتے ہیں۔ صبح سویرے ہی پولنگ مراکز کے باہر لگنے والی طویل قطاریں اس حقیقت کی گواہی دے رہی تھیں کہ بنگال کا ووٹر اپنی جمہوری ذمہ داری سے پوری طرح آگاہ ہے اور کسی بھی قیمت پر اپنے حق سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔
یہاں یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ اگرچہ ووٹنگ کا تناسب غیر معمولی طور پر بلند رہا، لیکن ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ مجموعی ووٹروں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً 91 لاکھ ووٹروں کے نام نظرِ ثانی کے دوران فہرست سے خارج کیے گئے، جس سے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کا آغاز ہوا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس عمل کو مشکوک قرار دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اس سے انتخابی نتائج متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ الیکشن کمیشن نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹر لسٹ کی تطہیر ایک معمول کی کارروائی ہے، جس کا مقصد فہرست کو زیادہ شفاف اور درست بنانا ہے۔ اس معاملے نے جمہوری عمل کی شفافیت اور عوامی اعتماد کے حوالے سے ایک سنجیدہ مکالمے کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا ہے۔
انتخابی عمل کے دوران سیکیورٹی کے سخت اور ہمہ جہت انتظامات کیے گئے تھے۔ حساس علاقوں میں مرکزی فورسز کی تعیناتی، سی سی ٹی وی نگرانی اور سخت ضابطۂ اخلاق کے نفاذ نے مجموعی طور پر انتخابی عمل کو منظم رکھا، لیکن اس کے باوجود بعض مقامات سے تشدد، جھڑپوں اور ووٹروں کو روکنے کی شکایات سامنے آئیں۔ مرشد آباد کے ڈومکل علاقے میں اپوزیشن کارکنوں کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا ثبوت ہے کہ انتخابی عمل مکمل طور پر تنازعات سے پاک نہیں رہا۔
الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں خرابی کی شکایات بھی سامنے آئیں۔ اگرچہ حکام نے فوری طور پر ان مسائل کے حل کا دعویٰ کیا، لیکن اس کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ آیا اس طرح کی تکنیکی رکاوٹیں ووٹنگ کے عمل پر کسی حد تک اثرانداز ہو سکتی ہیں یا نہیں۔
انتخابی تشہیر کے دوران الزام تراشیوں کا سلسلہ بھی اپنے عروج پر رہا۔ بی جے پی نے ترنمول کانگریس پر ووٹروں کو دھمکانے اور انتخابی عمل کو متاثر کرنے کے الزامات عائد کیے، جبکہ ترنمول کانگریس نے اس کے برعکس بی جے پی پر مرکزی ایجنسیوں کے استعمال کا الزام لگایا۔ یہ الزامات و جوابی الزامات دراصل اس شدید سیاسی کشمکش کی عکاسی کرتے ہیں جو بنگال کی سیاست کا ایک مستقل حصہ بن چکی ہے۔
کئی مقامات پر سیاسی کارکنوں کے درمیان جھڑپوں اور تصادم کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جن میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ ایسے واقعات نہ صرف انتخابی ماحول کو متاثر کرتے ہیں بلکہ عوام کے اندر خوف اور بے یقینی کا سبب بھی بنتے ہیں۔ اس کے باوجود مجموعی طور پر بڑی حد تک پرامن ووٹنگ کا انعقاد جمہوریت کے استحکام کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے، جو اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ تمام تر چیلنجز کے باوجود جمہوری عمل اپنی مضبوطی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
پہلے مرحلے کے انتخابات میں خواتین اور نوجوانوں کی پر جوش شرکت خاص طور پر قابلِ ذکر رہی۔ بڑی تعداد میں خواتین ووٹروں کا گھروں سے نکلنا اس بات کی علامت ہے کہ سماجی بیداری کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے، جبکہ نوجوان ووٹروں کی فعال شرکت مستقبل کی سیاست کے لیے ایک امید افزا اشارہ ہے، جو آنے والے برسوں میں سیاسی ترجیحات کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ریکارڈ شرحِ ووٹنگ کے ممکنہ نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔ اگر اسے حکومت مخالف رجحان سمجھا جائے تو یہ حکمراں جماعت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہو سکتی ہے، لیکن اگر اسے سخت مقابلے کا نتیجہ مانا جائے تو یہ دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان ایک کانٹے دار مقابلے کی پیش گوئی کرتا ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ کانگریس بھی اس انتخاب میں غیر متوقع طور پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر حکومت سازی میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے، جو مجموعی سیاسی توازن کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مغربی بنگال کی سیاست میں علاقائی، سماجی اور مذہبی عوامل ہمیشہ اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ مرشد آباد، مالدہ اور کوچ بہار جیسے اضلاع میں ووٹنگ کا رجحان خاص اہمیت رکھتا ہے، جبکہ جنگل محل کے علاقے، جو ماضی میں نکسلی سرگرمیوں کے لیے مشہور رہے ہیں، اب انتخابی سیاست میں ایک نئی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔
بہر حال اب نظریں دوسرے مرحلے کی ووٹنگ پر مرکوز ہیں، جو 29 اپریل کو منعقد ہوگی، اور جس میں باقی ماندہ 142 نشستوں پر فیصلہ کن معرکہ ہوگا۔ حتمی تصویر ووٹوں کی گنتی کے بعد ہی واضح ہو سکے گی، لیکن فی الحال جو کچھ سامنے آیا ہے وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ بنگال کا ووٹر اپنے سیاسی فیصلے کے معاملے میں غیر معمولی سنجیدگی اور بیداری کا مظاہرہ کر رہا ہے اور وہ کسی بھی سطحی نعرے سے متاثر ہونے کے بجائے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کے موڈ میں ہے۔
ایسےمیں یہ کہنا بجا ہوگا کہ مغربی بنگال کے یہ انتخابات محض ایک سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ جمہوری شعور کا ایک بھرپور اظہار ہیں۔ ووٹروں کی غیر معمولی شرکت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ عوام اپنے حقوق اور فرائض کے تئیں بیدار ہیں، تاہم اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ انتخابی عمل کو مزید شفاف، غیر جانبدار اور پرامن بنایا جائے تاکہ جمہوریت پر عوام کا اعتماد مزید مستحکم ہو سکے اور مستقبل میں کسی بھی طرح کے شکوک و شبہات کی گنجائش باقی نہ رہے۔
بہر حال، بنگال کا یہ “خاموش طوفان” کس سمت اختیار کرتا ہے، اس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں ووٹ شماری کے بعد ہو جائے گا، مگر یہ طے ہے کہ 2026 کے یہ انتخابات ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کے طور پر یاد رکھے جائیں گے، جہاں ووٹر کی خاموشی دراصل اس کی سب سے بڑی اور فیصلہ کن آواز بن کر ابھری ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے