कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بھارت کا بدلتا چہرہ اور تکثیریت سے قوم پرستی تک کا سفر

(گاندھی کے دیس میں نظریاتی تبدیلی اور اسرائیل ماڈل)

بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین (اکولہ، مہاراشٹر)

وہ بھارت جس نے 1974 میں پہلا غیر عرب ملک بن کر فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کو واحد جائز نمائندہ تسلیم کیا، 1975 میں نئی دہلی میں پی ایل او کے دفتر کو سرکاری درجہ دیا، 1980 میں اسے مکمل سفارتی حیثیت بخشی اور 16 نومبر 1988 کو فلسطینی اعلان آزادی کے اگلے ہی دن ریاست فلسطین کو باضابطہ تسلیم کر کے دنیا میں ایک واضح اخلاقی موقف کا اظہار کیا وہی بھارت 25 فروری 2026 کو اسرائیل کا خصوصی تزویراتی شراکت دار بن گیا۔ یہ سفر محض سفارتی نہیں نظریاتی بھی ہے۔ یہ صرف دو ملکوں کے درمیان بدلتے تعلقات کی داستان نہیں بلکہ ایک پوری قوم کی روح، اس کے تہذیبی تخیل اور اس کے آئینی وعدوں پر سنجیدہ سوال ہے۔
بھارت اور اسرائیل کے درمیان موجودہ قربت کسی ایک فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل تدریجی سفر کا انجام ہے۔ 29 جنوری 1992 کو دونوں ممالک کے درمیان مکمل سفارتی تعلقات قائم ہوئے اور یہ وہ لمحہ تھا جب بھارت نے اپنی روایتی فلسطین نوازی کو پس پشت ڈال کر ایک نئی تزویراتی سوچ کو ترجیح دی۔ اس کے بعد سے دفاع، انٹیلی جنس اور ٹیکنالوجی میں تعاون کی رفتار مسلسل تیز ہوتی رہی۔ 1999 کی کارگل جنگ میں اسرائیل نے بھارت کو لیزر گائیڈڈ بم اور نگرانی کرنے والے ڈرون فراہم کیے جن کا کردار بھارتی فضائیہ کی کارکردگی میں فوجی مؤرخین نے تسلیم کیا ہے۔ 11 ستمبر 2001 کے بعد دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کی زبان نے ان دونوں ممالک کو ایک مشترک سکیورٹی بیانیے کے گرد مزید قریب کر دیا کیونکہ دونوں نے اپنے اندرونی چیلنجوں کو اسی عالمی فریم میں پیش کرنا آسان پایا۔
فروری 2026 کا مشترکہ سرکاری بیان اس سفر کی اب تک کی بلند ترین منزل ہے۔ اس بیان میں 35 موجودہ زرعی مراکز امتیاز کے علاوہ مزید 8 نئے مراکز، یو پی آئی اور اسرائیلی ماساو ادائیگی نظام کا انضمام، مشترکہ مصنوعی ذہانت کی تحقیق، سائبر سکیورٹی میں کثیر سالہ حکمت عملی، انسداد دہشت گردی پر مشترکہ موقف اور آئندہ پانچ برس میں 50,000 اضافی بھارتی کارکنوں کے اسرائیل جانے کا اعلان شامل ہے۔ حکومت ہند کا موقف یہ ہے کہ یہ تعاون خالصتاً ترقیاتی اور دفاعی ضروریات پر مبنی ہے اور اسے بھارتی نوجوانوں کے روزگار، کسانوں کی خوشحالی اور ملکی دفاع کے لیے ناگزیر قرار دیا جاتا ہے۔ یہ دلائل بذات خود بے بنیاد نہیں کیونکہ تعاون کا یہ پہلو حقیقی اور قابل پیمائش ہے اور ایک ذمہ دار تجزیے کو اسے تسلیم کرنا چاہیے۔
تاہم سوال یہ ہے کہ جب دفاع، سائبر، مصنوعی ذہانت اور سکیورٹی کا یہ پورا نیٹ ورک کسی خاص نظریاتی فریم کے ساتھ مل جائے تو ٹیکنالوجی کا رنگ کیا ہو جاتا ہے۔ ڈرون کسانوں کے کھیتوں کی نگرانی کر سکتے ہیں یا احتجاجی ہجوم کی اور یہ فرق ریاست کی سوچ میں ہے۔ سائبر نظام بیرونی دشمن کی جاسوسی کر سکتے ہیں یا اپنے صحافیوں اور اپوزیشن رہنماؤں کی اور یہ فرق ریاست کی نیت میں ہے۔ فرانسیسی ماہر سیاسیات کرسٹوف جیفریلو نے اسرائیل کو نسلی اکثریتی جمہوریت قرار دیا ہے اور بھارت میں بھی ایسے رجحانات کی نشاندہی کی ہے جہاں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے لیے روزگار، رہائش، تعلیم اور شہری مواقع عملاً غیر مساوی ہوتے جا رہے ہیں۔ نیو لائنز انسٹی ٹیوٹ کے 2025 کے تجزیاتی مضمون میں ہندوتوا اور صہیونیت کی نظریاتی مماثلتوں کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے جن میں دونوں کا مذہبی بنیادوں پر قومی شناخت کی تعریف کرنا، دونوں کا تاریخی دشمن کی مستقل تخلیق پر انحصار اور اقلیت کو مشکوک وجود کے طور پر پیش کرنا شامل ہے۔
2019 کا شہریت ترمیمی قانون اس بحث میں ایک ناقابل نظرانداز سنگ میل ہے۔ اس قانون نے پہلی بار بھارتی شہریت کے فریم ورک میں مذہب کو بنیاد بنایا جس کے تحت افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے چھ غیر مسلم مذاہب کے پناہ گزینوں کے لیے راستہ کھلا مگر مسلمانوں کو اس دائرے سے خارج رکھا گیا۔ اسی سال اگست میں آرٹیکل 370 کے خاتمے اور جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے انہدام نے مقامی قانون سازی، زمین کے حقوق اور آبادیاتی توازن کے بارے میں بنیادی سوالات کھڑے کر دیے۔ جینوسائیڈ واچ نے 2025 میں یہ نوٹ کیا کہ بعض بھارتی تبصرہ نگاروں اور سابق سکیورٹی عہدیداروں نے کشمیر میں اسرائیل جیسا جواب دینے کے الفاظ استعمال کیے جس سے اسرائیل ماڈل تجزیاتی استعارے سے نکل کر ایک ریاستی آرزو کی زبان بن گیا۔
تعلیم کے میدان میں بھی یہی رجحان ادارہ جاتی شکل اختیار کر چکا ہے۔ این سی ای آر ٹی نے 2023 میں نویں اور دسویں جماعت کی نصابی کتابوں سے مغلیہ دور کی تاریخ کے اہم ابواب حذف کیے، 2002 کے گجرات فسادات پر مشتمل سیاسیات کا باب نکالا گیا اور ارتقاء کے نظریے کو کمزور کیا گیا۔ بھارت کے پانچ سو سے زائد ماہرین تعلیم نے احتجاجی خطوط میں ان تبدیلیوں کو تاریخ کی نظریاتی تشکیل نو قرار دیا۔ جب کسی نسل کے ذہن میں تاریخ کا وہ حصہ ڈالا جائے جو اسے ایک خاص نظریاتی نتیجے تک پہنچائے اور باقی کو مٹا دیا جائے تو یہ تعلیم نہیں فکری قید ہے۔
اسی پس منظر میں 2026 کے مغربی بنگال کے انتخابات ایک اہم تجربہ گاہ بن کر سامنے آئے۔ الیکشن کمیشن نے ریاست میں 2.4 لاکھ مرکزی نیم فوجی اہلکاروں کی ریکارڈ تعیناتی کی جو کسی ایک ریاست کے انتخابات میں اب تک کی سب سے بڑی فوجی تعیناتی ہے۔ الجزیرہ کی 16 اپریل 2026 کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی میں مسلمان ووٹرز غیر متناسب انداز میں متاثر ہوئے۔ ممتا بنرجی نے اس عمل کو غیر قانونی دراندازوں کی آڑ میں ووٹ چوری قرار دیا جبکہ بی جے پی نے اسے جائز قانونی کارروائی کہا اور یہ دونوں موقف ریکارڈ پر ہیں جن تک قاری کو رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ مرشد آباد کے ان سینکڑوں رہائشیوں کی طرح جن کے نام ووٹر لسٹ سے غائب تھے حالانکہ وہ دہائیوں سے اسی ضلعے میں مقیم تھے اور بھارت بھر میں ایسے لوگ ہیں جن کے لیے یہ بحثیں فکری نہیں بلکہ عملی زندگی کا دکھ ہیں۔
بی جے پی نے 2021 کی بنگال شکست کے بعد اپنی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلی کی ہے۔ جے شری رام کے مقابلے میں جے ما کالی کا نعرہ، مرکزی چہروں کے بجائے مقامی رہنما اور ہندی بیانیے کے بجائے بنگالی ثقافتی زبان کا استعمال اس بات کی علامت ہے کہ اکثریتی قوم پرستی اب خام آواز میں نہیں بلکہ مقامی لہجے میں بولتی ہے اور یہ لہجہ اسے زیادہ نفوذ پذیر بناتا ہے۔ فوجی تعیناتی، ووٹر لسٹ کا تنازع اور میڈیا بیانیے کی یکسانیت مل کر ایک ایسی انتخابی فضا بناتے ہیں جہاں جمہوری اعتماد کی جگہ ریاستی رعب حاوی ہونے لگتا ہے۔
فروری 2020 کے شمال مشرقی دہلی کے فسادات کو بھولنا ممکن نہیں جن میں 53 افراد ہلاک ہوئے اور جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پولیس کی جانبداری اور ریاستی غفلت کی باقاعدہ دستاویز سازی کی۔ اسی طرح شاہین باغ کی ان ماؤں کو بھی نہیں بھولا جا سکتا جو ہاتھوں میں آئین کی کاپی تھامے مہینوں بیٹھی رہیں جب تک کہ وبا نے انہیں منتشر کرنے کا بہانہ فراہم نہ کیا۔ یہ واقعات بھارت کی اصل کہانی کے دو رخ ہیں جن میں ایک طرف آئین کے سنہری وعدے اور دوسری طرف زمین پر ٹوٹتا ہوا اعتماد شامل ہے۔
وی ڈیم انسٹی ٹیوٹ کی 2025 کی رپورٹ میں بھارت کو انتخابی آمریت کی درجہ بندی دی گئی ہے اور لبرل ڈیموکریسی انڈیکس میں یہ 180 ممالک میں سے 100 ویں نمبر تک گر گیا ہے۔ رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے 2025 کے پریس فریڈم انڈیکس میں بھارت 151 ویں نمبر پر ہے۔ حکومت ان رپورٹوں کو مغربی تعصب قرار دے کر رد کرتی ہے اور اس موقف کو بھی نوٹ کیا جانا چاہیے۔ مگر جب ایک درجن سے زائد آزاد بین الاقوامی ادارے ایک ہی سمت میں اشارہ کریں تو محض انکار کافی نہیں ہوتا بلکہ جواب دینا پڑتا ہے۔
یہاں وہ اصل سوال سر اٹھاتا ہے جو اس پورے مضمون کی روح ہے کہ گاندھی کا عدم تشدد جس نے ایک سلطنت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا، بدھ کی کرُنا اور مساوات جس نے آدھے ایشیا کو امن کا پیغام دیا، نانک کا وہ اعلان کہ ناہی کوئی ہندو ناہی مسلمان جس نے مذہبی تقسیم کو انسانی وحدت سے شکست دی، اور معین الدین چشتی کا وہ در جو صدیوں تک ہر مذہب کے مسافر کے لیے کھلا رہا، یہ سب محض تاریخی شخصیات نہیں بلکہ بھارت کی تہذیبی روح کے زندہ استعارے ہیں۔ انہی اقدار کی بنیاد پر آزادی کے بعد بھارت نے اپنے آپ کو خودمختار، سوشلسٹ، سیکولر، جمہوریہ کے طور پر وضع کیا اور دنیا کے سامنے ایک جدید کثیر مذہبی جمہوریت کا نمونہ پیش کرنے کا وعدہ کیا۔ مگر جب ریاست مذہبی شناخت کو شہریت کا پیمانہ بنائے، جب انتخاب فوج کی چھاؤں میں ہوں، جب نصاب سیاسی آرزو کا آلہ بنے اور جب اختلاف رائے کو سکیورٹی کی زبان میں خطرے سے جوڑا جائے تو ان اقدار کی توہین ہوتی ہے اور وہ بھی ان کی زبان میں جو انہیں سب سے زیادہ جانتے تھے۔
بھارت کی اصل طاقت کبھی اس کی فوج نہیں بلکہ اس کی تکثیریت رہی ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں کیرالہ کے یہودی دو ہزار سال تک اپنی شناخت کے ساتھ محفوظ رہے، جہاں پارسی صدیوں بعد بھی اپنی زبان اور مذہب کے ساتھ زندہ ہیں اور جہاں مسیحی گرجوں اور مسجدوں کی اذان ایک ہی شہر کی فضا میں صدیوں سے گھلتی آئی ہے۔ یہ تکثیریت کوئی آئینی خیرات نہیں تھی بلکہ یہ بھارت کی تہذیبی فطرت تھی۔ مگر جب ریاست اس فطرت کو بوجھ سمجھنے لگے، جب ہم اور وہ کی لکیر قانون کی زبان میں کھینچی جانے لگے اور جب ٹیکنالوجی، سکیورٹی اور انتخابی مشینری سب ایک نظریاتی مقصد کی خدمت میں لگ جائیں تو بھارت محض ایک اور قوم پرست ریاست بن جاتا ہے۔ اور ایسی ریاستیں تاریخ میں کم ہی اپنے آپ سے محفوظ رہی ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ بھارت اسرائیل کا دوست ہے یا دشمن بلکہ سوال یہ ہے کہ بھارت اپنے گاندھی کا، اپنے بدھ کا، اپنے نانک کا اور اپنے چشتی کا وارث رہا یا ان سے منہ موڑ کر کسی ایسے راستے پر نکل پڑا جہاں واپسی ممکن تو ہے مگر ہر قدم کے ساتھ مشکل ہوتی جاتی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے