कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

گرمی کی شدت سے مزدور طبقے کا تحفظ کرنا آجر (مالک) کی بنیادی ذمہ داری

خلاف ورزی پر متعلقہ اداروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے اسسٹنٹ لیبر کمشنر کا انتباہ

ناندیڑ:25؍اپریل ( نمائندہ اعتبار) موجودہ بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت (ہیٹ ویو کی صورتحال) کے پیش نظر دوپہر 12 بجے سے شام 4 بجے کے درمیان کھلے میں کام کرنے والے مزدوروں کے ساتھ ساتھ فیکٹریوں، دکانوں، ہوٹلوں، ریستورانوں، آئی ٹی کمپنیوں، شاپنگ مالز، ریٹیل دکانوں، ایم آئی ڈی سی کے صنعتی یونٹس اور دیگر مقامات پر کام کرنے والے کارکنوں کی صحت کو شدید خطرہ لاحق ہونے کا امکان ہے۔ تمام اداروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس بات کو سنجیدگی سے لیں۔ گرمی کی شدت سے مزدوروں کا تحفظ کرنا آجر (مالک) کی اولین ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں درج ذیل اقدامات فوری طور پر نافذ کرنا تمام اداروں کے لیے لازمی ہے۔دوپہر 12 سے 4 بجے کے دوران مزدوروں سے سخت اور جسمانی مشقت والے کام نہ کروائے جائیں۔ اس کے لیے کام کے اوقات میں تبدیلی کی جائے یا ایسے کام عارضی طور پر بند رکھے جائیں۔ مزدوروں کے لیے سایہ دار جگہ (شیڈ) اور آرام گاہ فراہم کی جائے۔ کام کی جگہ پر صاف، ٹھنڈا اور وافر مقدار میں پانی مہیا کیا جائے۔ حفاظتی ہدایات اور ہنگامی نمبر واضح طور پر آویزاں کیے جائیں۔ مقامی صحت کے نظام سے رابطہ رکھ کر ہیٹ اسٹروک جیسے معاملات میں فوری علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔ان ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ اداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ یہ انتباہ اسسٹنٹ لیبر کمشنر آشیش دلیپ دھولے نے دیا ہے۔واضح رہے کہ یہ خبر بظاہر ایک انتظامی ہدایت ہے، مگر حقیقت میں یہ ہمارے معاشرے کے ایک اہم مسئلے کی طرف اشارہ کرتی ہے ، یعنی شدید گرمی میں مزدوروں کی صحت اور تحفظ۔سب سے مثبت پہلو یہ ہے کہ حکومت نے ہیٹ ویو کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے واضح رہنما اصول جاری کیے ہیں۔ دوپہر کے اوقات میں سخت کام پر پابندی، ٹھنڈے پانی اور آرام گاہ کی فراہمی، اور ہنگامی طبی سہولیات کی ہدایت،یہ سب اقدامات نہ صرف انسانی ہمدردی پر مبنی ہیں بلکہ عملی طور پر مزدوروں کی جان بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔تاہم اصل سوال عملدرآمد کا ہے۔ ہمارے ہاں اکثر دیکھا گیا ہے کہ اس طرح کی ہدایات کاغذوں تک محدود رہ جاتی ہیں، خاص طور پر غیر منظم شعبوں (جیسے تعمیرات، چھوٹے کارخانے یا روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور) میں۔ وہاں نہ تو مناسب نگرانی ہوتی ہے اور نہ ہی مزدور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا پاتے ہیں۔مختصراً، یہ قدم قابلِ ستائش ہے، مگر اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ کیا واقعی ادارے ان ہدایات پر عمل کرتے ہیں؟ کیا مزدوروں کو اپنے حقوق کی آگاہی دی جاتی ہے؟ اور کیا حکومت سنجیدگی سے نگرانی کرتی ہے؟اگر یہ تینوں پہلو مضبوط ہوں تو یہ ہدایت محض اعلان نہیں بلکہ مزدوروں کے لیے حقیقی تحفظ بن سکتی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے