कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

خیر اور شر

تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی 9881836729
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

اچھائی کی ضد برائی ہے ،اور برائی کی ضد اچھائی ہے۔ قرآن کے الفاظ میں یوں ہے، جس کا مفہوم ہے۔ جو ذرہ برابر اچھائی یعنی خیر کا معاملہ کرے گا، بروز قیامت وہ اس کو یعنی اس کے اجر و ثواب کو دیکھ لے گا، اور جو ذرہ برابر برائی کا عمل کرے گا ،وہ بروز قیامت اس کا صلہ پائے گا۔ اسی طرح قرآن کریم نے اس کو دوسرے انداز میں یوں کہا ہے۔ جس کا مفہوم ہے، جو انسان اللہ کی اس دنیا میں اس کی نعمتوں اور اس کی انسان پر نوازشات کا شکر کرتا ہے، گویا کہ وہ اللہ کا مقرب بن جاتا ہے، اور ناشکری اور کفرانِ نعمت کا مرتکب ہوکر اللہ کے غیض و غضب کا شکار بنتا ہے۔ بس اس دنیا میں اچھائی اور برائی، حق اور باطل، جھوٹ، اور سچ، وفا اور بے وفائی، ظلم اور ناانصافی، انسانیت اور غیر انسانیت، محبت اور نفرت، کی جنگ اس دنیا میں روزِ اول سے جاری ہے۔ اللہ نے موت و حیات کی تخلیق کے بعد انسانوں سے مخاطب ہے۔ جس کا مفہوم ہے۔ اے اللہ ہمیں سیدھے اور سچے اور حق کے راستے پر ڈال دے، ان لوگوں کے راستے پر جس پر تو نے انعام و اکرام کیا ہے۔ اور ان لوگوں کی راہ پر نہ ڈال جن پر تیرا غصہ اور غضب نازل ہوا ہو۔ ہر دور میں اچھے اور برے لوگ رہے ہیں، پھر اللہ نے زندگی کے بعد موت رکھی ہے، زندگی کے دوران اللہ نے ہمارا امتحان رکھا ہے کہ ہم برائی کو چھوڑ کر اچھائی اور خیر کا کام کریں، انسانیت، محبت، اخوت کو فروغ دیں۔ اللہ کا خوف، احساس، اور ڈر ہو تو انسان دنیا کے کسی بھی گوشے میں اچھائی اور خیر کا عمل کرے گا۔ اور اگر آدمی کی نیت میں کمزوری اور کھوٹ ہو تو کہیں بھی برائی اور نازیبا حرکت کا مرتکب ہوگا۔ زمین پر شکر، صبر اور عاجزی و انکساری اختیار کرنا اہلِ زمین کی اصلاح اور امن کا سبب ہے، جس سے انسانیت کا فروغ اور اس کا تحفظ ہے۔ اس کے علاوہ ناشکری، بے صبری، انانیت، عدمِ انصاف اور ظلم و ستم سے اللہ کے دستور اور اس کے قانون کی خلاف ورزی گویا کہ اللہ کے مقدس دستور کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ دنیا میں خدائے برتر نے کم و بیش اٹھارہ ہزار مخلوقات کی تخلیق کی ہے۔ اور سب سے زیادہ انسان کو ہی شرف و عزت بخشا ہے۔ لیکن اٹھارہ ہزار مخلوقات میں اچھائی اور برائی کا عمل صرف انسان میں پایا جاتا ہے۔ جس کو اشرف المخلوقات سے تعبیر کیا گیا ہے، اسی انسان میں اچھائی اور برائی کا عنصر پایا جاتا ہے۔ اسلام اس کا نام نہیں کہ ہم اجلے کپڑے اور باریش ہوں، چنانچہ حدیث میں ہے۔ بے شک اللہ نہ تمہارے مال و دولت کو دیکھتا ہے، اور نہ ہی تمہارے کپڑوں اور نہ صورت کو دیکھتا ہے، بلکہ اللہ تمہاری خالص نیت اور قلوبِ مطہرہ کو دیکھتا ہے۔ شر کا موجد شیطان ہے، اور شیطان نے شر کا کام اللہ کی نافرمانی سے کیا تھا، جبکہ وہ تمام ملائکہ میں افضل ترین رہا ہے۔ انسان اگر کوئی برائی کرتا ہے تو وہ شیطان کی روش پر چلتا ہے۔ اور جان لو کہ ریاکاری بھی ایک بڑا گناہ ہے۔ جس سے نیک اعمال اور عبادتیں رائیگاں ہوجاتی ہیں۔ قرآن میں اللہ کا ارشاد ہے۔ پس افسوس اور خرابی ہے ان نمازیوں کے لیے جو نماز کی اصل روح سے غافل ہیں، صرف حقوق اللہ کی ادائیگی کرتے ہیں، اور بندوں کے حقوق کو پامال کرتے ہیں، اور وہ لوگ جو ریا اور دکھلاوے کے لیے نماز پڑھتے ہیں اور بندوں کے حقوق سے لاپرواہی کرتے ہیں۔ قرآن میں یہ ذکر ہے کہ امتِ مسلمہ ایک خیر امت ہے، جو زمین پر لوگوں کی اصلاح کے لیے مقرر کی گئی ہے۔ کہ لوگوں کو خیر اور کامیابی کی طرف دعوتِ سخن دیں۔ اور منکرات اور شر سے اجتناب خود بھی کریں اور لوگوں کو بھی اس سے بچنے کی دعوتِ سخن دیں۔ اللہ نے امتِ محمدیہ کو ہی یہ عظیم شرف عطا کیا ہے کہ وہ زمین پر خیر امت ہے۔ لیکن ہم آج اگر یہ تجزیہ کریں اور جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ہم خیر سے کتنے قریب اور کتنے دور ہیں۔ آج ہمارے درمیان جو بے بسی اور لاچاری کا عالم رونما ہوا ہے، شاید اس سے قبل ہوا ہو۔ اللہ نے جس قوم کو دیگر اقوام کی رہبری اور ان کی نمائندگی کے لیے اس روئے زمین پر تخلیق کیا ہے۔ پھر آج وہ اتنی بے بس اور لنگڑی لولی کیوں ہوگئی ہے؟ کمزور قیادت، کمزور سیاست، اور کمزور رہنمائی سے ہم گزر رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر بڑا دکھ اور ملال ہوتا ہے کہ ہماری قوم جو خیر امت ہے، لیکن آج ہم کس قدر پسِ پشت ڈال دیے گئے ہیں۔ ہماری تنزلی (debacle) کا سبب یہ بھی ہے کہ خیر کے کاموں میں ریا کی آمیزش ہوتی ہے۔ ہم کسی کو دس روپئے یا ایک کلو آٹا بھی دیتے ہیں تو اس کی تصاویر کو مختلف زاویوں سے لیتے ہیں اور سوشل میڈیا پر وائرل کرتے ہیں۔ جو خیر نہیں شر کے مترادف ہوتا ہے۔ ایک طرف حدیث یہ بتاتی ہے کہ اگر آپ کسی کی مدد کریں تو دوسرے ہاتھ کو خبر نہ ہو۔ یہ سب ہم کو سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ سے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اور یہ خوب جان لو کہ ریاءکاری اور دکھلاوا چاہے وہ عہدہ، سیاست، قیادت، رہنمائی، کرسی، منصب یا پھر کسی کی ہمدردی یا مدد کا ہو، یہ سب شرکِ خفی کہلاتا ہے جو گناہ کا سبب اور ہماری (debacle) تنزلی کی وجہ بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خیر امت سیاسی قیادت اور سیاسی رہنمائی سے متعلق دوسروں پر بھروسہ کرنے پر مجبور ہے۔ کیوں کہ ہم اللہ کے نہیں ہوئے۔ اور نہ ہی اس کے قوانین کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔ حدیث میں ہے۔ من کان للہ کان اللہ لہ۔ یعنی جو اللہ کا ہوجاتا ہے، خدا برتر بھی اپنے سچے بندوں کا تحفظ کرتا ہے اور اس پر سایہ فگن ہوتا ہے۔ ہمارے پاس خوبصورت (bylaws) دستور ہے۔ رہنمائی کے لیے احادیثِ مبارکہ ہیں، لیکن ہم نے اس کی خاطر خواہ قدر نہیں کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ اگر خدا کا خوف دل سے نکل جائے، یقیناً خدا اوروں کا خوف انسان کے دل میں ڈال دیتا ہے، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی اوروں سے ڈرتا ہے۔ اور پھر وہ دنیا کو خوش کرنے میں اپنی کامیابی اور کامرانی سمجھتا ہے۔ اس کا ہر عمل اور ہر فعل خدا کو خوش کرنے کے بجائے، لوگوں کو خوش کرنے میں لگ جاتا ہے۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں، جنہیں دیکھ کر یا انہیں پڑھ کر ایمان تازہ ہوجاتا ہے۔ ہاشم آملہ جو ایک مشہور کرکٹر ہیں، اور عرب پتی ہیں، نے اپنی بیٹی کی شادی ایک یتیم خانے میں کی، جبکہ لوگوں کا خیال تھا کہ بیٹی کی شادی میں دنیا بھر سے کرکٹر (Celebrities) سلیبریٹیز، اور اہم ترین (Political) سیاسی شخصیات موجود ہوں گی۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ ہاشم آملہ نے یتیم خانے میں فرش پر بیٹھ کر بیٹی کا نکاح کیا اور یتیموں کو مدد کے طور پر نقد رقومات سے نوازا۔ جب لوگوں نے ان سے سوال کیا۔ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ ہاشم آملہ نے کہا میں دنیا کو خوش کرنے کے بجائے، خدائے برتر کو خوش کرنا چاہتا ہوں۔ یہ ہمارے لیے ایک انتہائی اہم سبق ہے۔ ہم اپنے نفس سے سوال کریں کہ ہم اللہ کو خوش کر رہے ہیں یا زمین کے خداؤں کو؟ اگر ہم دنیا کے لوگوں کو خوش کر رہے ہیں تو پھر ہماری تنزلی اور بربادی طے ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے