कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

’گردِ سفر‘ کی رسمِ اجرا انور گارڈن، ناندیڑ میں منعقد

از قلم :محمود علی لیکچرر
8055402819

ناندیڑ: 15 اگست: محب قادری صاحب کی مراٹھی زبان میں تحریر کردہ کتاب ’گردِ سفر‘ کے اردو ترجمے کی رسمِ اجرا کے سلسلے میں ایک پُروقار ادبی تقریب انور گارڈن میں منعقد ہوئی۔ پروگرام مسعود علی لیکچرر کی کنوینر شپ میں منعقد کیا گیا، جبکہ پروگرام کے انعقاد میں عبدالماجد سابق ہیڈ ماسٹر، نوبل ہائی اسکول نے اہم کردار ادا کیا۔ تقریب کی صدارت محمود علی سحر اور شہر کی بزرگ اور باوقار شخصیت کمال الدین صدیقی صاحب نے کی۔ سعادالدین صدیقی صاحب، سابقہ لیکچرر، شعبۂ انگریزی، این ایس بی کالج نے کتاب ’گردِ سفر‘ اور ترجمہ کی افادیت و اہمیت پر، صاحبِ ترجمہ کی شخصیت پر روشنی ڈالی۔ شہر کے جانے مانے ادارے مدینۃُ العلوم کے روحِ رواں، قائدِ ملت، سابقہ انگریزی کے لیکچرر جناب شفیع قریشی صاحب نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
جناب فاروق احمد قائدِ ملت نے تو اپنی تقریر میں قومی مفادات کا تحفظ اور اغیار کی چال بازیوں سے بچنے کے گُر سکھائے۔
شمش الدین صدیقی صاحب، انجینئر و مفتی، ان کی مختصر تقریر میں فنِ تعلیم، علم، والدین، اخلاق اور اسلامی اقدار، بچوں کو نصیحت، جو سب سے منفرد ایک صاحبِ بصیرت کی تقریر تھی۔
پروفیسر ارشاد احمد نے اپنی تقریر میں مکمل کتاب کا خلاصہ بڑے ہی منفرد انداز میں کیا۔
کتاب ’گردِ سفر‘ محب قادری صاحب کی مراٹھی زبان میں لکھی ہوئی کتاب ہے، جس میں مصنف نے اپنی زندگی، بچپن، گاؤں، معاشرتی ماحول، تہذیبی روایات اور مختلف انسانی تجربات کو نہایت سادگی اور خلوص کے ساتھ قلم بند کیا ہے۔ کتاب کا مراٹھی سے اردو ترجمہ ڈاکٹر ضیاء الحسن قادری مرحوم نے کیا ہے۔
تقریب میں لیکچرر محمود علی نے اپنی لکھی ہوئی تحریر پڑھ کر سنائی۔ انہوں نے کتاب، مصنف محب قادری اور مترجم ڈاکٹر ضیاء الحسن قادری مرحوم کی ادبی خدمات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا:
محترم صدرِ مجلس، معزز مہمانانِ گرامی، اہلِ علم و ادب، اور میرے عزیز دوستو!
آج کی یہ محفل محض ایک کتاب کی رسمِ اجرا کی محفل نہیں، بلکہ زبان، ادب، تہذیب اور انسانی تجربے کے ایک خوب صورت سفر کا جشن ہے۔ یہ وہ موقع ہے جب ایک قلم نے اپنے تجربات کو ایک زبان میں محفوظ کیا، دوسرے قلم نے انہیں دوسری زبان میں منتقل کرکے ایک وسیع تر حلقۂ قارئین تک پہنچایا، اور یوں دو زبانیں، دو ادبی روایتیں اور کئی انسانی تجربات ایک دوسرے سے ہم کلام ہوئے۔
محب قادری صاحب نے مراٹھی زبان میں اپنی زندگی، اپنے ماحول، اپنے بچپن اور اپنے معاشرتی تجربات کو جس سادگی اور خلوص کے ساتھ قلم بند کیا ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔ ان کی تحریر میں کسی مصنوعی ادبی نمائش کا شائبہ نہیں، یہاں زندگی اپنی تمام تر سادگی، تلخی، خوشی، محرومی اور یادوں کے ساتھ موجود ہے۔
یہ کتاب ہمیں ایک ایسے دیہی مسلم معاشرے کی طرف لے جاتی ہے جہاں زندگی بظاہر محدود تھی، مگر اس کے اندر تجربات کی ایک وسیع دنیا آباد تھی۔ گاؤں، کھیت، اسکول، بازار، گھر، رمضان، عید، تہذیبی روایات، بچپن کے واقعات اور لوگوں کے باہمی تعلقات، یہ سب محض یادیں نہیں بلکہ ایک پورے عہد کی سماجی دستاویز ہیں۔
محب قادری صاحب کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ماضی کو غیر ضروری آرائش سے نہیں سجایا۔ انہوں نے زندگی کو اسی طرح پیش کیا ہے جیسے وہ ان پر گزری۔ یہی سادگی ان کی تحریر کو اثر انگیز بناتی ہے۔ بعض اوقات ایک چھوٹا سا واقعہ پوری صدی کی سماجی تاریخ سے زیادہ کچھ کہہ جاتا ہے، بشرطیکہ اسے سچائی اور احساس کے ساتھ بیان کیا جائے۔
اور آج کی اس تقریب کی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ ڈاکٹر ضیاء الحسن قادری مرحوم نے اس کتاب کو مراٹھی سے اردو میں منتقل کرکے محض ترجمے کا فریضہ انجام نہیں دیا، بلکہ دو زبانوں کے درمیان ایک ادبی پل تعمیر کیا۔
ترجمہ صرف الفاظ کو ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل کرنے کا نام نہیں۔ مترجم کو مصنف کے احساس، اس کے ماحول، اس کے لہجے، اس کی تہذیبی یادداشت اور اس کے تجربے کو بھی سمجھنا پڑتا ہے۔ ایک اچھا مترجم دراصل دو زبانوں کے درمیان ایک ایسا پل بناتا ہے جس پر چل کر ایک زبان کا قاری دوسری زبان کے احساسات تک پہنچ جاتا ہے۔
ڈاکٹر ضیاء الحسن قادری مرحوم نے اسی ادبی ذمہ داری کو نبھایا۔ انہوں نے محب قادری صاحب کے تجربات کو اردو کے قارئین تک پہنچانے میں جو کردار ادا کیا، وہ یقیناً قابلِ قدر اور قابلِ یاد ہے۔ آج اگر یہ کتاب اردو کے قارئین کے سامنے موجود ہے تو اس میں مرحوم ڈاکٹر صاحب کی علمی و ادبی کاوش بھی شامل ہے۔
افسوس کہ آج وہ خود اس کتاب کی رسمِ اجرا کی محفل میں ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں۔ لیکن اہلِ قلم کے لیے جسمانی عدم موجودگی ہمیشہ عدمِ موجودگی نہیں ہوتی۔ کچھ لوگ اپنے الفاظ، اپنی علمی خدمات اور اپنے ادبی کارناموں کے ذریعے ہمارے درمیان زندہ رہتے ہیں۔
ڈاکٹر ضیاء الحسن قادری مرحوم بھی انہی لوگوں میں سے تھے۔
آج ہم انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے یہ محسوس کرتے ہیں کہ انہوں نے جو ادبی کام اپنے ہاتھ سے مکمل کیا، وہ اب ان کی یاد کا ایک روشن حوالہ بن چکا ہے۔ ایک کتاب کا ترجمہ شاید بظاہر ایک محدود ادبی عمل دکھائی دے، مگر جب وہ ترجمہ کسی انسان کے تجربے کو ایک وسیع تر معاشرے تک پہنچاتا ہے تو اس کی معنویت بہت بڑھ جاتی ہے۔
محب قادری صاحب نے اپنی یادوں کو مراٹھی کے لفظوں میں محفوظ کیا، ڈاکٹر ضیاء الحسن قادری مرحوم نے انہیں اردو کے قالب میں ڈھالا، اور آج ہم اس ادبی سفر کی تکمیل کا جشن منا رہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ کتاب صرف ایک مصنف کی کتاب نہیں رہی؛ یہ یادداشت، زبان، ترجمے اور تہذیبی رشتوں کا مشترکہ سفر بن گئی ہے۔
میں محب قادری صاحب کو اس ادبی کاوش پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ ایک ایسے دور میں جب لوگ اپنی یادوں کو چند تصویروں اور مختصر پیغامات تک محدود کر رہے ہیں، انہوں نے اپنے تجربات کو کتاب کی صورت میں محفوظ کرکے آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی دستاویز چھوڑنے کی کوشش کی ہے۔
اور آخر میں ڈاکٹر ضیاء الحسن قادری مرحوم کے لیے یہی کہنا چاہوں گا کہ:
کتابیں ختم نہیں ہوتیں، لفظ مرتے نہیں، اور سچے ادبی کام وقت کی گرد میں گم نہیں ہوتے۔
مصنف کا قلم تجربے کو محفوظ کرتا ہے، مترجم کا قلم اسے نئی زبان عطا کرتا ہے، اور قاری اسے نئی زندگی دیتا ہے۔ آج کی یہ تقریب اسی مسلسل ادبی زندگی کی ایک خوب صورت کڑی ہے۔
اللہ تعالیٰ ڈاکٹر ضیاء الحسن قادری مرحوم کو اپنی رحمتوں میں جگہ عطا فرمائے اور محب قادری صاحب کے قلم کو مزید قوت، وسعت اور دوام بخشے۔
آپ سب کا بہت شکریہ۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے