कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اے روٹھے وطن!

چودہ اگست دو ہزار چھبیس

تحریر: سعید زکریا الحسینی

اے عزیز من! کیسے بیاں کروں داستانِ غم، جس میں برابر کا شریک مخاطب بھی ہو۔
اے وطن! مجھے پتہ ہے،کچھ لمحوں میں تیری عید شروع ہونے والی ہے۔
وہ عید جو ہر دیش واسی کے لیے عیدِ جہاں سے بڑھ کر عزیز ہے،وہ عید جس کو پانے کی خاطر تیرے یار نے گولیاں کھائیں،وہ عید جس کے حصول میں تیرے دوستوں کا خون بہا،وہ عید جس کی وجہ سے ارضئ وطن کو خونِ انسانی سے شرابور کر دیا گیا،وہ عید جس کے لیے تجھے،بیش قیمت جانوں کا نذرانہ پیش کیا گیا،وہ عید جس کے لیے پھانسی جیسے سنگین اور دردناک مرحلے کو تحفۂ عظیم اور غنیمت کبریٰ کی شکل میں قبول کیا گیا۔
کیا کیا گنواؤں کہ آج کہتے ہوئے آنکھیں بہہ رہی ہیں،درد بڑھتا جا رہا ہے،دل کی دھڑکنیں تیز ہیں،دل بے چین ہی نہیں،بے قرار بھی ہے، پاؤں اپنی جگہ ٹک نہیں پا رہے، اور جسم ایک مصنوعی تصور کے ساتھ خود کو صرف کھڑی لکڑی محسوس کر رہا ہے۔
اے عزیزِ جہاں،مجھے پتہ ہے یومِ عید پر تیرے حق میں گیت پڑھے اور سنائے جائیں گے، تیرے نام پر مٹھائیاں تقسیم ہوں گی،لیکن آہ! تیرے اُس یار پر کیا بیت رہی ہوگی،جس نے تجھے آزاد کرانے کی خاطر اپنے خون سے سودا کرکے اسے سستا سودا باور کرایا تھا ؟
تیرے اُس یار کا کیا ہوگا،جس کی ماں یہ کہتے ہوئے سوتی نہیں ہوگی کہ "میرا بیٹا کل آنے والا ہوگا”، اور پھر خون سے لت پت لاش کو سینے سے لگا کر اپنے جگر کو تسلی دیتی ہوگی؟
تیرے ان جوانوں کا کیا ہوگا جو ہمیشہ تیرے حق کی خاطر ہر قربانی دینے کے لیے تیار تھے،اور قربانیاں دیں،لیکن حقیقت یہ ہے کہ آزادی کی قیمت صرف وہی جانتا ہے جس نے غلامی کی رات اپنی آنکھوں سے دیکھی ہو۔
اے وطن!
آج تیری گلیاں روشن ہوں گی، چراغ جلیں گے، پرچم لہرائیں گے، ترانے گونجیں گے،بچوں کی ریلیاں نکلے گی،بوڑھی آنکھیں ماضی کو یاد کرکے مسکرائیں گی،اور نوجوان تیرے نام پر فخر کریں گے۔
مگر مجھے ڈر ہے…
کہ کہیں اِن چراغوں کی روشنی میں اُن آنکھوں کا اندھیرا نظر انداز نہ ہو جائے،جنہوں نے اپنے بیٹوں کو تیرے نام پر کھو دیا،کہیں اِن ترانوں کی آواز میں اُن ماؤں کی آہ دب نہ جائے،جن کے گھروں میں آج بھی کسی قدم کی چاپ سنائی دیتی ہے،کہیں مٹھائی کی شیرینی ہمیں اُن ہونٹوں کی تلخی بھلا نہ دے،جنہوں نے آخری بار اپنے پیاروں کو "الوداع” کہا تھا۔
اے وطن!
تیری آزادی صرف ایک تاریخ نہیں، ایک حقیقت ہے،ان بے شمار سانسوں کی امانت ہے جو تجھے دیکھے بغیر ہی تجھ پر نثار ہوگئیں،یہ محض ایک سرحد نہیں،ان قبروں کی خاموش گواہی ہے جن میں وہ لوگ سو رہے ہیں جنہوں نے شاید کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ان کے بعد آنے والے لوگ آزادی کی صبح دیکھیں گے۔
اور شاید اسی لیے آج میرا دل تجھ سے ایک سوال کرتا ہے:
اے میرے وطن! کیا تو واقعی آزاد ہے؟
اگر تیرے کسی گوشے میں بھوک ابھی بھی آزادی مانگ رہی ہے،اگر کسی ماں کی آنکھ میں اپنے بچے کے مستقبل کا خوف ابھی باقی ہے،اگر کسی نوجوان کی صلاحیت صرف اس لیے دفن ہو رہی ہے کہ اس کے پاس وسائل نہیں،اگر انصاف کے دروازے پر کمزور آج بھی دستک دے کر تھک جاتا ہے،اگر انسان کو انسان سمجھنے سے پہلے اس کا نام،زبان،علاقہ اور حیثیت دیکھی جاتی ہے،
تو پھر اے وطن! مجھے معاف کرنا…
میں جشن تو دیکھ سکتا ہوں،
مگر منا نہیں سکتا،کیونکہ آزادی صرف یہ نہیں کہ زنجیریں ہاتھوں سے اتر جائیں،آزادی تو یہ ہے کہ ضمیر بھی آزاد ہو،فکر بھی آزاد ہو،انصاف بھی آزاد ہو اور انسان بھی آزاد ہو۔
اے روٹھے وطن!
میں تجھ سے ناراض نہیں،
میں تجھ سے محبت کرنے والوں کے رویوں سے خفا ہوں،تو تو آج بھی وہی ہے،جس کے لیے لوگوں نے اپنا کل قربان کیا تھا۔
روٹھا تو شاید تو نہیں،
روٹھا تو تیرا خواب ہے۔
وہ خواب جس میں ہر بچہ محفوظ تھا،ہر نوجوان باوقار تھا،ہر ماں مطمئن تھی،ہر مظلوم کو انصاف ملتا تھا،اور ہر شہری اپنے وطن کو دل میں محسوس کرتا تھا۔
اے مظلوم وطن!
اپنے مظلوم دوست سے عید قبول کر۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے