कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ایودھیا کے بعد کا ہندوستان

ڈاکٹر ایم اعجاز علی(یونائیٹیڈ مسلم مورچہ، نئی دہلی)(9110102789, 8700062129, 9431016479)

22؍جنوری 2024کو ایودھیا میں بنائے گئے نئے رام مندر کا افتتاح ہوجائے گا۔ سارے دانشور وسیاسی پارٹیاں یہ اچھی طرح سے جان رہی ہیں کہ یہ پروگرام مذہبی سے زیادہ سیاسی مقصد سے انجام دیا جارہا ہے۔ اس لیے ہمیں اس دن کو زیادہ سیریس نہیں لینا ہے۔ حفاظت تو ضروری ہے لیکن اس کے باوجود یہ دن یوں گذرے،جیسے دیوالی، درگا پوجا، یا اسی طرح کے تہوار دن گذرتا ہے۔ بس اتنا ہی کیوں کہ اب تو 22؍جنوری کا دن ایک تہوار کی طرح ہی منایا جائے گا۔ ہمیں یاد آتا ہے کہ 6؍دسمبر 1992 کو پورے ملک میںایسا سناٹا چھا گیا تھا گویا کرفیو لگ گیا ہو۔ ویسا سین اس موقع پر نہ ہو تو زیادہ اچھا ہے۔ اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم خود ہی زیادہ حساس نہ بنیں۔ خاموشی کے ساتھ روزمرہ زندگی کی طرح یہ دن بھی گذرجائے، ایسا ماحول پہلے سے ہمیں بنا کے رکھنا ہوگا۔ اس موضوع پر کسی طرح کی بات یا بحث مباحثہ کرنے سے بچیں۔ ہاں اگر بحث ومباحثہ یا غور وفکر ہی کرنا ہے تو ہمیں اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ ایودھیا کے بعد کا ہندوستان کیسا ہوگا اور تب ہمیں اور ہماری آنے والی نسل کو کن مشکلات سے گذرنا پڑسکتا ہے۔ بہتر ہو کہ ہم ہرسال اس دن کو یوم محاسبہ کے طور پر منائیں۔ ہمیں ایمانداری سے اس بات پر غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے کہ گزشتہ 75برسوں میں ہم نے کیا پایا، کیا کھویا اور کیوں کھویا؟
اب تک تو صاحب اقتدار حضرات صرف اسی پر سوچا کرتے ہیںکہ سیاست میںہم نے کیا کھویا، کیوں کہ وہ اسی کہاوت پر مکمل یقین رکھتے ہیں کہ اقتدار میں حصہ داری ہی وہ ماسٹر چابھی ہے جو ترقی کے ہر دروازے کھولتی ہے۔ لیکن اس کہاوت کے صحیح ہونے کی گارنٹی بھی اس بات پر ہے کہ اقتدار میں بیٹھنے والے حضرات کے پاس حکمت اپنا کر قدم اٹھانے کی صلاحیت ہے یا نہیں؟۔ ایسا ہوگا تبھی مثبت رزلٹ آئے گا، ورنہ اقتدار میں بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ جب بھارت کا بٹوارہ مذہب کی بنیاد پر ہو ہی گیا یا کرسی کے چکر میں کروا ہی دیا گیا تو پھر آزاد بھارت میں مسلم نمائندوںکو بہت سوچ سمج کر اور حکمت کے ساتھ یہاں قدم اٹھانا چاہئے تھا۔ ان کی لاحکمتی اور ’کرسی پرستی میشن‘ کی وجہ کر بھارت کے عام مسلمانوں کو آج اس پستی کا دن دیکھنا پڑرہا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ جس ٹکرائو اور حصہ داری کی سیاست کی وجہ کر بھارت کا تقسیم ہوا اس سیاست کا دامن آزاد بھارت میں بھی مسلم نمائندوں نے نہیں چھوڑا۔ 800برسوں کی حکومت کا نشہ جو برٹش حکومت میں بھی نہیں اترا وہ آزاد بھارت میں بھی اقتداری طبقات پر چھایا رہا اور اسی ماضی کی یاد میں وہ پچھلے 75سالوں کو بھی ٹکرائو کی سیاست میں گذاردیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ملک کے عام مسلمانوں کو یہ پستی کا دن دیکھنا پڑرہا ہے۔ کاش کہ انہوںنے آزاد بھارت میں ایسی حکمت اپنائی ہوتی کہ دونوں قوموں کے بیچ میل ملاپ کے مضبوط راستے نہ صرف بنتے جاتے بلکہ مستقل ہوتے چلے جاتے۔ لیکن علیحدہ پسندی کی پالیسی اور مذہبی ایشوز پرٹکرائو کی ڈگر پر چلتے رہنے میں سب کچھ لٹ گیا۔ عام مسلمانوںکو ان فارمولے کے پیچھے بار بار دوڑا کر اتنا جذباتی بنادیا گیا کہ بڑے اور چھوٹے دشمنوں کو پہچاننے کی عقل ہی باقی نہیں رہی۔ آج ہر کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ ملک و سماج کو اس بدتر حالت میںپہنچانے کی ذمہ دار کانگریس ہے۔ لیکن آزادی کے 45-50 برسوں تک اسی کانگریس کا دامن پکڑے رہنے کا کھیل کھیلا گیا۔ یہی کیسی حکمت تھی۔ آئین نافذ ہونے کے بعد پہلا وار دفعہ 341 پر ہوا اور مسلمانوں کی بڑی آبادی (دلت، مسلم) کا بنیادی حقوق چھینا گیا، لیکن سرکار میں بیٹھے یہ نمائندے خاموشی اختیار کرگئے ۔ انہیں یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ اس بندش کے لگانے کے پیچھے کا راز کیا ہے، کیوںکہ بنیادی حقوق کے دفعات کو روندتے ہوئے ایسا کیا گیا تھا۔ 1950 کے اگست میں یہ بندش لگائی گئی لیکن 6سال کے بعد اس سرکاری حکم نامہ کو 1956 میں آئینی درجہ دیا گیا لیکن ان 6 سالوںمیں بھی کوئی مخالفت نہیں ہوئی ایسا کیوں؟ اس کے بعد یکے بعد دیگرے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مائینارٹی کردار کا معاملہ، شاہ بانو کیس، بابری مسجد کا معاملہ سامنے آتا گیا اور اس دوران صرف ٹکرائو کی سیاست ہی کی گئی، کوئی حکمت عملی نہیں اپنایا، بلکہ اپنے سیاسی مفاد میں عام مسلمانوںکو اس میں جھونکا گیا۔ آج کیا ہوا ہے، مسجد بھی ہاتھ سے گئی، پرسنل لاء بھی تبدیل کردی گئی، اور عام مسلمانوںکو ملا سچرکمیٹی کی رپورٹ، یعنی بڑی آبادی حاشیے پر چلی گئی۔ یہ سب برہمنی سیاست کے مزاج (سازش) کو نہ سمجھنے اور لاحکمتی طریقہ سے صرف ردعمل دکھاتے رہنے کا نتیجہ ہے۔ یہ سارے مسائل بغیر ٹکرائو کے بھی حل کیے جاسکتے تھے، اگر مسلمانوںکے سیاسی طبقوں نے حکمت سے کام لیا ہوتا۔ ایمانداری سے عام مسلمانوں کے حالات کو سامنے رکھ کر اگر فیصلہ لیے ہوتے تو شاید آرٹیکل 370، بابری مسجد، پرسنل لاء پر مار بھی نہ کھاتے ہوتے اور سنگھ پریوار کا سیاست پر غلبہ بھی نہ ہوا ہوتا، لیکن جہاں سیاسی طبقوں کے ذہن میں ’پدرم سلطان بود‘ ہی بیٹھا رہے تو پھر برے دن دیکھنے پڑ ہی سکتے ہیں۔
بہرحال کسی بھی ملک وسماج کے لیے 75 سالوںکا عرصہ بہت بڑا ہوتا ہے۔ اس عرصے میں جو قوم (برادر وطن) حکمت سے چلی وہ کامیاب ہوئی اور جس کے نمائندوں نے لاحکمتی برتی اسے آج ذلالت جھیلنا پڑرہا ہے۔
اب تو ایودھیا کے بعد کا ہندوستان ہمارے سامنے ہے۔ ہمارے برادر وطن اسے کس چشمے سے دیکھ رہے ہیں، یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ 75سال کا عرصہ ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔ اب آنے والے مستقبل کے لیے ہمیں سر جوڑ کر حکمت عملی طے کرنی ہوگی، ورنہ ٹکرائو والی سیاست ہی چلتی رہی تو پھر آنے والا کل (50-75سال) حالات حاضرہ سے بھی برا ثابت ہوسکتا ہے۔
’’ایودھیا کے بعد کے ہندوستان‘‘ میں خوش حال زندگی پانے کے لیے ہمیں سیرت کے مطابق اپنی حکمت تیار کرنی ہوگی۔ آج مسلمانان ہند (عام) مکی زندگی گذارنے کے درپے ہیں۔ آنے والے 50-75 سالوں میںہمیںکیا کرنا ہے، اس کے لیے ہمیں حضور اکرمؐ کے فیصلوں پر غور کرنا ہوگا۔ صلح حدیبیہ جیسا معاملہ کرکے ہمیں اپنے سماج کو برادر وطن سے ٹکرائو کے بجائے تحفظ، تجارت اور تعلیم کی طرف موڑنا ہوگا۔ ملک میں ہندو-مسلمان کے بیچ خانہ جنگی کی طرف جس طرح سے سماج کو لے جانے کی مہم چل رہی ہے اسے رکوانے کے لیے پہلے قانونی راستہ (ایس سی/ ایس ٹی ایکٹ) نکالنا ہوگا تاکہ آپسی بھائی چارگی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی بنی رہے، جس میں ابھی زیادہ دراڑ نہیں پڑا ہے۔ صلح حدیبیہ میں جس طرح حضور اکرمؐ نے اپنے بڑے اور کٹر دشمن یعنی اہل قریش سے سمجھوتہ کرکے عرب کی سرزمین پر آپسی بھائی چارگی اور مکی-مدنی ہم آہنگی کا راستہ نکالا، اسی طرح سے ہمیں بھی مرکزی سرکار و ان کے معاونین سے سمجھوتہ کا راستہ نکالنا ہوگا۔ ہمیں بھولنا نہیں چاہئے کہ حضور اکرمؐ نے اہل قریش سے سمجھوتہ کے لیے خود پہل کی، خود مکہ کی طرف اپنے اصحاب کے ساتھ تشریف لے گئے، اہل قریش کی سختی کو دیکھتے ہوئے ایک طرح سے دب کر صلح کی، لیکن آپؐ کے اس حکمت عملی نے کیا رزلٹ دیا کہ محض دو سالوں کے بعد فتح مکہ (وطن واپسی) نصیب ہوا اور وہ بھی بغیر کسی جنگ کے۔
ابھی مسلمانان ہند کے خلاف سنگھ کے پاس کئی مسالے ہیں، جسے ہم یوں سمجھ سکتے ہیں کہ جانور (گائے)، جلوس اور جائیداد (وقف پراپرٹی) پر ہمیشہ ٹکرائو پیدا کرنے کی کوشش ہوگی۔ یہ مسائل صرف سیاسی حصہ داری سے حاصل نہیں ہوسکتی ہے، بلکہ اس کے لیے ہمیں بہت سوچ سمجھ کر چلنا ہوگا۔ ورنہ یہ اذان، قربانی حتی کہ ختنہ پر روک لگانے پر بھی اترسکتے ہیں۔ حضورؐ کی یہ حدیث ہے کہ ’’بادشاہ وقت سے مت ٹکرائو، ورنہ چُور کردیے جائوگے، اگر اس کے کسی فیصلے سے تمہیں تکلیف ہو تو ادب کے ساتھ اُس کے کانوں میں اپنی تکلیف رکھ کر اس پر خیال رکھنے کی عرض کردو۔‘‘
یاد کیجئے 2014 میں لال قلعہ سے ہوئے اپنی پہلی تقریر میں موجودہ وزیراعظم ہند نے کہا تھا کہ اگلے دس برسوں تک آپسی جھگڑے کو بند کیجئے اور ملک کو آگے بڑھائیے۔ یہ کہیں نہ کہیں فرقہ وارانہ فساد کو بند کرنے کا اشارہ تھا۔ ہمارے نمائندوں نے اس پر غور نہیں کیا، کیوں کہ انہیں تو مودی کا چہرہ دیکھنا تک گوارہ نہیں۔ ہماری تنظیم نے اس اشارہ کو سمجھ کر ’’تحفظ معاشرہ کانفرنس‘‘ کیا اور مرکزی سرکار سے ایس سی/ ایس ٹی ایکٹ میں مسلمانوں کو بھی شامل کرنے کی مانگ شروع کردی تاکہ ماب لنچنگ،دنگے فساد، وقف جائیداد پر ناجائز قبضے اور غلط نعروں پر قانونی روک لگے۔ مرکزی سرکار کا بھی اس ایشو پر مثبت رخ پایا، لیکن بیچ میں کورونا کی وبا نے اس مہم پر بریک لگادی۔ ہمیں پہلے اس ایشو پر پہل کرنی چاہئے تاکہ سمجھوتہ کا راستہ نکلے۔ 2024 میں موجودہ سرکار جانے والی تو نہیں لگتی ہے، یہ سبھی لوگ سمجھ رہے ہیں، ہمیں بھی یہ سمجھتے ہوئے آگے قدم اٹھانی چاہئے، لیکن سب سے پہلے ٹکرائو کی سیاست سے پرہیز کرنا وقت کا سب سے اہم تقاضہ ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے