कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بے باک شاعری کامینار تھے منوررانا

ڈاکٹر محمد سعید اللہ ندوی

عصرحاضر کے اردوشعروادب اورخاص کر مشاعروں کی دنیا میں منوررانا کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ اردو کے مشہور و معروف شاعرہیں اورگذشتہ پچاس برسوںمیں انھوں نے اردوشعروادب کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔منور رانا ایک عہد ساز شخصیت کے حامل تھے آپ ایک بہترین شاعر اور انشاء پرداز تھے ہمارے ادارہ سے خاص تعلق تھا اور وقتاً فوقتاً ادارہ میں تشریف لا کراپنے بہترین مشوروں سے طالبات کو نوازتے رہتے تھے ،یقینا ان کی کمی ادارہ شدت سے محسوس کرے گا۔منور رانا اس عہد جدید میں جدید لب و لہجہ کی شاعری کے امام تھے۔ انکی فکر میں عہد جدید کا کرب رچا بسا تھا اور شعر کہنے کا انداز بھی سب سے منفرد تھا، نصف صدی تک منور رانا کی مشاعروں کے اسٹیج پر حکمرانی رہی ،ان کو اپنی بات کہنے کا سلیقہ بدرجہ اتم آتا تھا۔
انھوں نے جس وزن کے ساتھ اپنی بات رکھی، ویسا ان کے ہم عصروں میں کوئی نہ کر سکا۔ ماں بیٹی اور بھائی جیسے مقدس رشتوں کو اردو شاعری کا حصہ بنانے والے منور رانا نے مہا جرین کو پہلی مرتبہ شاعری کاموضوع بنا کر ہجرت کے تمام کرب کو زبان بخشی۔ منور رانا کے پاس دکھانے کا تماشہ نہیں تھا بلکہ وہ ایک سنجیدہ شاعر تھے۔ اردو شاعری میں شاندار خدمات کیلئے وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ اُنہوں نے اپنی شاعری میں ادبی لطافت کے ساتھ ہی سماج کی نبض بھی ٹٹولی اور اس کی اپنے اشعار میں بھرپور عکاسی کی۔ انہوں نے ملک کے موجودہ حالات پر بھی اپنے زور قلم سے جو عکاسی اور رہنمائی کی ہے، وہ بھی قابل تقلید ہے۔
اردو اور شعر و ادب کی دنیا ویسے ہی انتہائی کمزوری کے دور سے گزر رہی ہے، ایسی صورت میں منور رانا کا دنیا سے چلے جانا انتہائی افسوسناک سانحہ ہے۔اپنے پورے کیریئر کے دوران منور رانا کو ان کی شاعری کی کتاب ’’ شہدابہ‘‘ کے لیے دسمبر 2014ء میں ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈ سے نوازا گیا اس کے علاوہ انہیں متعدد ایوارڈز اور اعزازات بھی حاصل ہوئے لیکن انہوں نے چند سال قبل ملک میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ ایوارڈ واپس کر دیا۔اس وقت ایک مخصوص طبقہ نے انہیں اپنی بیجاتنقید کا نشانہ بنایا تھا۔تاہم وہ اپنے موقف پر قائم ودائم رہے۔بعدازاں جب ان کی جانب سے وضاحت کی گئی تو اردو طبقہ نے بھی انہیں اپنی شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔منور رانا کو امیرخسرو ایوارڈ،میر تقی میر ایوارڈ،غالب ایوارڈ،ڈاکٹر ذاکر حسین ایوارڈ اور سرسوتی سماج ایوارڈز حاصل ہوئے۔ان کی کئی تخلیقات کا متعدد زبانوں میں ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔
ان کی نثر میں بلا کی ندرت، شگفتگی اور برجستگی ہے۔ ناقدین ادب ان کی شاعری سے زیادہ ان کی نثر کو اہمیت دیتے ہیں۔منوررانا اردو کے علاوہ ہندی میں بھی مقبول تھے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب ان کی کتاب ’’ماں‘‘ ہندی میں شائع ہوئی تو اس کی ایک لاکھ سے زائد کاپیاں فروخت ہوئیں۔ یہی حال ان کی طویل نظم ’’مہاجر نامہ‘‘ کی مقبولیت کا بھی تھا۔ ہجرت کے موضوع پر یہ نظم پانچ سو اشعار پر مشتمل ہے اور پاکستا ن ہجرت کرنے والوں کے کرب کو بہترین پیرائے میں بیان کرتی ہے۔ ایک موضوع پر اردو شاعری میں شاید ہی کسی نے اتنا بڑا کارنامہ انجام دیا ہو۔یہ ان کے ایسی تخلیق ہے، جس سے ان کے تخلیقی وفور کا پتہ چلتا ہے۔ یہ انسانی دکھوں کی معراج ہے اور ایسا المیہ ہے جسے بھلایا نہیں جاسکتا۔
ادھر کچھ عرصے سے بعض تنازعات نے انھیں گھیر رکھا تھا۔ ان میں کچھ خاندانی تنازعات تھے اور کچھ سیاسی۔ اس کے ساتھ ساتھ صحت کے مسائل بھی تھے جو دن بدن سنگین ہوتے چلے جارہے تھے۔مگروہ دیوانہ وار ان سب کا مقابلہ کرتے رہے۔انھوں نے حالات کی ستم گری سے شاکی ہوکر 2015 میں اپنا ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ واپس کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اب زندگی میں کوئی ایوارڈ نہیں لیں گے۔ انھوں نے ایسا کیا بھی۔ حکومت نے ان پر شکنجہ کسنے کی بھی کوشش کی، لیکن وہ میدان میں ڈٹے رہے اور صحت و سیاست دونوں کے مسائل سے جوجھتے رہے۔ کبھی کبھی ان کاحال دریافت کرنے کیلئے فون کرتا تو لمبی گفتگو کرتے اواپنے لئے دعائے صخت کی درخواست کرتے۔
منورراناکی پیدائش 1952 میں رائے بریلی میں ہوئی تھی۔ ابتدائی تعلیم بھی وہیں حاصل کی اور اسی دور میں اپنے والد کے ساتھ کلکتہ چلے گئے۔ انھوں نے ابتداء مشاعروں کی نظامت سے کی اور ان کی نظامت میں فیض اور فراق جیسے شاعروں نے بھی کلام پڑھا۔ والی آسی نے ان پر محنت کی۔ انھوں نے تقریباً نصف زندگی لکھنو میں گزاری اور اپنی وہی قلندرانہ شان برقرار رکھی۔چمک ایسے نہیں آتی ہے خودداری کے چہرے پرانا کو ہم نے دو وقت کا فاقہ کرایا ہے منور رانا کی بڑی خوبی یہ تھی کہ انھوں نے اپنی تمام تر مقبولیت اور ہردلعزیزی کے باوجود کبھی نرگسیت کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیا۔ان کے مزاج کا قلندرانہ پہلو انھیں صراط مستقیم پر رکھنے میں کامیاب ہوا۔ ان کے خاکے اور انشائیے بھی ان کے شعروں جیسا لطف عطاکرتے ہیں۔
مختصرطور پر کہہ سکتے ہیں کہ منوررانا کا شمار دورحاضر کے ان مشہورومعروف شعرا میں ہوتاہے،جنھوں نے اپنی شاعری کے ذریعے پوری اردودنیا پر حکومت کی ہے۔ وہ ایک بے باک اورنڈرشاعر ہیں اور انھوں نے زندگی میں کوئی سمجھوتہ نہیں سیکھا۔انھوں نے اپنی شاعری میں سیاسی، سماجی اورمعاشی مسائل کو سچائی کے ساتھ پیش کیاہے۔ ان کی شاعری میں روایت کا احترام، ترقی پسنداور جدید میلانات کی گونج سنائی دیتی ہے۔ انہوں نے غزل کی فکری سوچ کو جس سیدھے سادے،منفرد اور پروقار انداز سے پیش کیاہے،اسے دورحاضر کا آئینہ کہاجائے تو بیجانہ ہوگا۔
ان کے انتقال سے نہ صرف اردو ادب کا خسارہ ہے بلکہ میرے ادارہ جامعۃ الحسنات للبنات کابھی خسارہ ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی بال بال مغفرت فرمائے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے