कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

عثمان شہید مرحوم کی کتب،و یب سائٹ اور ڈاکومنٹری کا شاندار افتتاح

شریک حیات مسرت جہاں بیگم کا اہم ترین کارنامہ

حیدرآباد۔14/اکتوبر (پریس نوٹ)اردو زبان، قانون، اور سماجی خدمت کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے والے جناب محمد عثمان شہید صاحب مرحوم کی کتب، و یب سائٹ اور ڈاکومنٹری کا شاندار افتتاح فیڈریشن ہاوس، ریڈ ہلز، حیدرآباد میں بتاریخ 12 اکتوبر2025 شام 7 بجے عمل میں آیا، یہ پروگرام عثمان شہید میموریل سوسائٹی کی جانب منظم کیا گیا تھا، جس کی صدارت معروف ماہرِ تعلیم اور دانشور پروفیسر ایس اے شکور نے کی۔ جس میں مہمانان خصوصی کے بطور:جناب طارق انصاری صدر نشین اقلیتی کمیشن، مولانا مظفر علی صوفی صدر کل ہند مجلس چشتیہ،صوفی سلطان شطاری صدر بزم کشور، ڈاکٹر فاضل حسین پرویز، ایڈیٹر ہفتہ وار اخبار گواہ نے بحیثیت مہمانان خصوصی شرکت کی۔ ڈاکٹر جاوید کمال ناظم اجلاس نے سوسائٹی کے قیام اور اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے پروگرام کی نظامت کے فرائض انجام دے۔ پروگرام کا آغاز حافظ محمد مبشر صاحب کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد مرحوم عثمان شہیدؒ کی حیات و خدمات پرمبنی ایک شاندار ڈاکومنٹری کو فلمایا گیا، جس میں جناب عثمان شہید صاحب کے بچپن سے سانحہ ارتحال تک کے مراحل کو مختصر اور جامع انداز میں پیش کیا گیا تھا۔ جس ڈاکومنٹری کو ویزڈم ہاوس، شارجہ کی جانب سے تیار کیا گیا تھا۔ جس کی اسکرپٹ اور بیاک گرونٹ آواز ڈاکٹر أبو مظہر خالد صدیقی نے دی تھی۔جناب عثمان شہید صاحب کی زوجہ محترمہ مسرت جہاں بیگم صاحبہ جنہوں نے اس پروگرام کو اپنی زیر نگرانی ترتیب دیا۔ اور جرم سخن کتاب کو مرتب کیا، اور ایک قدیم کتاب شمیشر و سنان کی بہت زیادہ طلب تھی اس کی دوسری اشاعت منصہ شہود پر پیش کی اور ویب سائٹ کے لئے مواد فراہم کر کہ، جناب لطیف الدین لطیف صاحب کی ایما پر ایک شاندار ڈاکٹومنٹری بنانے پر زوردیا، اور ایک کامیاب ترین پروگرام کو منعقد کرتے ہوئے باقاعدہ طور پر اس بزم کا آغاز کیا جس میں انہوں نے کہا کہ؛ عثمان شہید مرحوم ایک مخلص، درد مند اور علم دوست شخصیت کے متحمل تھے جنہوں نے قانونی، تعلیمی، ادبی اور سماجی میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرحوم کا علمی و ادبی ورثہ نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے اور ان کی یاد میں تیار کی گئی یہ ویب سائٹ ان کے کارناموں کو زندہ رکھنے کی ایک ادنی سی کوشش ہے۔مزید کہا کہ ان کے تمام قانونی، تعلیمی، سماجی و فلاحی کاموں کو عثمان شہید میموریل سوسائٹی کی جانب سے انجام دینے کی کوششیں جاری رہیں گی۔ اشکبار آنکھوں سے اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ؛ میری گزارش ہے کہ اس کتاب کو محض مضامین کا مجموعہ نہ سمجھیں بلکہ اسے ایک پیغام، ایک امانت اور ایک عہد سمجھ کر پڑھیں۔ یہ وہ آواز ہے جو شاید اب خاموش ہو چکی ہے لیکن اس کی بازگشت صدیوں تک گونجے گی۔ اگر یہ کتاب کسی نوجوان کو اپنے خوابوں کی تعبیر تلاش کرنے پر آمادہ کر دے، کسی دانشور کو حق کی حمایت میں کلمہ بلند کرنے کی ہمت دے یا کسی عام قاری کو اپنی زندگی کے معمولات میں ایک چھوٹا سا بدلاؤ لانے پر قائل کر دے تو سمجھ لیجیے کہ مرحوم کا مقصد پورا ہو گیا۔اس کے بعد آپ کے فرزند ایڈوکیٹ محمد عدنان صاحب نے بزم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرے والد کی مکمل حیات قوم کے لئے وقف تھی، اور شخصی طور پر میں بھی ان کے جملہ أمور کی انجام دہی کا پابند ہوں، پھر جناب طارق انصاری صدر نشین اقلیتی کمیشن، نے بہت ہی مختصر اور جامع انداز میں بزم میں موجود تمام افراد کو جناب عثمان شہید صاحب کے کارناموں کا ذکر کرتے ہوئے ان مقدس ساعتوں کا ذکر کیا جن کو جناب عثمان شہید صاحب کی صحبتیں نصیب ہوئیں اور سامعین سے کہا کہ یہ امت ایک عظیم ومخلص قانون داں سے محروم ہوگئی۔ مزید کہا کہ ان سے وابستہ تمام افراد مرحوم کے نیک امور کو فروغ دینے اور اس کو آگے بڑھانے کے پابند ہیں۔ پھر جناب فاضل حسین پرویز، ایڈیٹر ہفتہ واری گواہ نے کہا کہ آپ کی خدمات بہت ہی عالی ہیں جن کا احاطہ مختصر سے وقت میں کرنا ناکافی ہے، تاہم ایک مشورہ یہ ہے کہ عثمان شہید میموریل سوسائٹی کے تحت ایسے طلبہ کو اسکالرشپس سے نوازا جائے جو اسلامی مدارس سے فارغ ہو کر قانون کے میدان میں اپنی تعلیم جاری رکھے ہوں۔ بعد ازاں صدارتی خطاب سے نوازتے ہوئے پروفیسر ایس اے شکور صاحب نے، جناب عثمان شہید صاحب سے وابستہ شخصی مراسم کا ذکر کیا اور ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ایک ہمددر کھویا ہے، جو ہر وقت سماج، قوم کی فلاح و بہبودی کا سوچا کرتے تھے اللہ تعالی انہیں غریق رحمت کرے۔ اور انہوں نے جے آئی ایل ٹی کی جانب سے تیار کردہ ویب سائٹ osmanshaheed.comکی رسم رونمائی انجام دی۔ اور ویب سائٹ کی تیاری پر محترمہ مسرت جہاں بیگم صاحبہ کو مباکباد پیش کی۔ بعد ازاں عثمان شہید میموریل سوسائٹی کی جانب سے جشن میلاد النبی کے موقع پر منعقدہ تحریری و تقریری مقابلوں میں حصہ لینے والے کامیاب طلبا میں مومنٹوز سرٹیفکیٹ اور رقمی انعامات بدست مہماناں خصوصی عمل میں آئی۔ بزم کے اختتام پر ناظم اجلاس نے تمام مہمانان خصوصی، سامعین و سامعات اور بالخصوص پروگرام کے معاونین عالیجناب لطیف الدین لطیف صاحب، محترمہ ریحانہ سلطانہ، ابوعمر صدیقی اور پروگرام کو آرگنائز کرنے والی کمپنی جے آئی ایل ٹی،حیدرآباد اور اس کے تمام عملے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بزم کے اختتام کا اعلان کیا۔ مزید معلومات کیلئے فون9391033484 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے