कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ندوۃ العلماء کے بانی و ناظم اول مولانا سید محمد علی مونگیری حیات و خدمات

ترتیب و انتخاب و پیشکش : نیرہ نور خالد

پیدائش: 28 جولائی 1846ء (کانپور، اترپردیش)
وفات: 13 ستمبر 1927ء (مونگیر، بہار)

محمد علی مونگیری نے حالات کا صحیح جائزہ لیا، مستقبل کا درست اندازہ لگایا اور مسیحی انجمنوں کے خلاف ایک محاذ قائم کر دیا۔ 1289ھ میں انھوں نے صرف مسیحیوں کے اعتراضات اور شکوک و شبہات کا جواب دینے کے لیے کان پور سے ایک اخبار منشور محمدی جاری کیا۔ اس اخبار نے مسیحی عقائد اور اعتراضات کا ایسا اقدامی مقابلہ کیا کہ اس کے اکثر مضامین کا کوئی جواب کسی پادری سے نہ بنا۔ یہ اخبار چار پانچ سال جاری رہنے کے بعد بند ہو گیا۔ اس اخبار کے ذریعے مسلمانوں کے قدموں کو جمایا گیا۔ انھیں شکوک و شبہات سے آزاد اور ان کے ایمان کو مستحکم کیا گیا۔
اس کے علاوہ مسیحی انجمنوں کے مقابلے میں محمد علی مونگیری نے مختلف اہم موضوعات پر اعلی درجے کی تصانیف بھی پیش کیں۔ اس ذیل میں مرآۃ الیقین، آئینہء اسلام، ترانۂ حجازی، دفع التلبیسات، ساطع الب رہان، براہین قاطعہ، البرھان لحفاظۃ القرآن اور پیغام محمدی خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔ آخر الذکر کتاب کو اہل علم رحمت اللہ کیرانوی کی مشہور کتاب اظہار الحق کے ہم پلہ مانتے ہیں۔
مسیحی انجمنوں کے خلاف اس علمی محاذ آرائی کے ساتھ محمد علی مونگیری نے کانپور میں اسلامیہ یتیم خانے کی بھی بنیاد رکھی۔ تاکہ مسیحی پادری غریب و نادار مسلم بچوں کی غربت کا فائدہ اٹھا کر، اُن کا ایمان سلب نہ کر لیں۔ اس یتیم خانے میں انھوں نے بچوں کی تعلیم کا انتظام اور انہیں مختلف کام کاج سکھانے کا بھی نظم کیا، تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں اور کسی کے محتاج نہ رہیں۔
تحریک ندوۃ العلماء :
تحریک ندوۃ العلماء کو بجا طور پر سید محمد علی مونگیری کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس لیے کہ ان کے اس جرات مندانہ اور دانش مندانہ اقدام سے برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ کا نقشہ بڑی حد تک تبدیل ہو گیا۔ 1857ء کی ناکامی کے بعد مسلمانوں پر مایوسی طاری اور ان میں احساس کم تری پیدا ہو گیا تھا۔ اس صورت حال سے بچانے کے لیے دو تحریکیں اٹھیں، تحریک دیوبند اور تحریک علی گڑھ۔ ایک قدیم سے ذرہ برابر ہٹنا نہیں چاہتا تھا اور دوسرا مکمل طور پر جدید کو اختیار کرنے کا حامی تھا۔ اس کے ساتھ تقلید و عدم تقلید کی بحثوں نے تکفیریت کا بازار گرم کر رکھا تھا۔ ساتھ ہی مدارس میں جو نصاب پڑھایا جا رہا تھا، وہ کسی طرح زمانے کا ساتھ دینے کی صلاحیت نہ رکھتا تھا۔ ایسے حالات میں کسی ایسی معتدل اور متوازن شخصیت کی ضرورت تھی، جو قدیم کی حامل بھی ہو اور جدید کی اہمیت کی معترف بھی۔ جو اپنی حکمت کے ذریعے مسلمانوں کو ایک لڑی میں پرو دے۔
ندوۃ العلماء کا قیام :
ایسے سخت اور حوصلہ شکن حالات میں سید محمد علی مونگیری نے 1310ھ بہ مطابق 1892ء میں مدرسہ فیض عام، کانپور کے جلسہ دستار بندی کے موقعے پر ندوۃ العلماء کا تخیل پیش کیا۔ جسے تمام علما نے پسند کیا۔ اس مجلس کا نام "ندوۃ العلماء” تجویز ہوا اور اس کے محرکِ اول سید محمد علی مونگیری ہی کو اس کا ناظمِ اول مقرر کر دیا۔ یہ طے پایا کہ آئندہ سال اس مجلس کا ایک جلسہ عام ہو، جس میں تمام مسالک کے ممتاز علما کو دعوت دی جائے۔ چناں چہ 15-17 شوال المکرم 1311ھ بہ مطابق 22-24 اپریل 1894ء کو مدرسہ فیض عام میں ندوۃ العلماء کا پہلا اجلاس عام منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں اتحاد و اتفاق کے ایسے ایسے منظر سامنے آئے، کہ جن کا تصور بھی محال ہوچکا تھا۔
بنیادی طور پر ندوۃ العلماء کے تین مقاصد قرار پائے:
اصلاح نصاب:
رفع نزاع باہمی
غیر مسلموں میں اسلام کا تعارف
دار العلوم کی تجویز :
محمد علی مونگیری نے محسوس کیا کہ جس فکر اور تخیل کے وہ علم بردار ہیں، وہ اُس وقت تک عام نہیں کی جاسکتی، جب تک اس فکر کو نیا خون نہ ملتا رہے۔ لہٰذا انھوں نے 12 محرم الحرام 1313ھ کو جلسہ انتظامیہ میں ایک دار العلوم کے قیام کی تجویز پیش کی۔ اور انھوں نے پہلے سے تیار شدہ ایک وسیع خاکہ کو مسودہ دار العلوم کے نام سے پیش کیا اور ملک کے ممتاز اہل علم کو ارسال بھی کیا۔ اسی اجلاس میں قیام دار العلوم کی یہ تجویز منظور بھی ہو گئی۔
ندوۃ العلماء سے استعفا :
سید محمد علی مونگیری کے ذریعے نہ صرف دار العلوم ندوۃ العلماء کا قیام عمل میں آیا، بلکہ ان کے دورِ نظامت میں دار العلوم نے ہر لحاظ سے ترقی کی۔ ان کے تقریباً گیارہ سالہ دور نظامت میں عبد الحئی حسنی جیسا معاون ناظم اور شبلی نعمانی جیسا معتمد تعلیم بھی ان کا دست راست بنا رہا۔ محمد علی مونگیری عرصے سے گردے کی تکلیف میں مبتلا تھے۔ اوپر سے بعض اراکینِ ندوہ کے سخت اختلافات نے انھیں ذہنی طور پر تکلیف میں مبتلا کر رکھا تھا۔ مزید بر آں یہ کہ مونگیر اور اس کے اطراف میں اُن کے ہزاروں مرید اُن کے منتظر تحے، نیز ملک بھر میں موجود شاہ فضل رحماں گنج مرادآبادی کے متوسلین بھی محمد علی مونگیری سے وابستہ ہوچکے تھے۔ ان تمام چیزوں کے پیش نظر انھوں نے ندوۃ العلماء کی نظامت سے استعفا دے دیا۔ 23 ربیع الثانی 1321ھ بہ مطابق 19 جولائی 1903ء کو سید عبد الحی حسنی نے جلسہء انتظامیہ میں اُن کا استعفا پیش کیا اور مجلس نے مجبوراً اور نہایت افسوس کے ساتھ اسے منظور کر لیا۔ اس طرح اُن کا ندوۃ العلماء سے ظاہری تعلق ختم ہو گیا، لیکن ندوے کے جلسوں میں شرکت، اس کے مسائل سے دل چسپی، حتی الامکان تعاون اور قلبی تعلق ہمیشہ باقی رہا۔
احمدیہ کے خلاف محاذ آرائی :
بیسویں صدی کے آغاز میں مرزا غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ بہار کے کچھ اضلاع میں احمدیت کو خوب فروغ مل رہا تھے۔ مونگیر اور بھاگل پور میں احمدی اتنے منظم انداز سے تبلیغ کر رہے تھے کہ ان دونوں اضلاع کے مکمل طور پر احمدی ہو جانے کا امکان تھا۔ ایسے میں محمد علی مونگیری نے احمدیہ کا مقابلہ شروع کیا۔ انھوں نے احمدیہ کے رد میں تقریباً سو چھوٹے بڑے رسائل تصنیف کیے، جن میں سے تقریباً چالیس اُن کے اصل نام سے اور باقی دوسرے ناموں سے شائع ہوئے۔
احمدیہ کے مقابلے کے لیے محمد علی مونگیری نے ہر طرح کے اقدامات کیے۔ اصلاحی دورے کیے، گاؤں گاؤں گھومے پھرے، رسائل لکھے، خطوط روانہ کیے، کتابیں تصنیف کیں اور حد تو یہ ہے کہ اپنی خانقاہ میں ایک پریس قائم کر دیا، تاکہ دوسرے شہروں سے مطبوعہ چیزیں منگانے میں بالکل تاخیر نہ ہو۔ وہ اپنے صاحب ثروت مریدین کو ترغیب دلاتے تھے کہ احمدیہ کے خلاف چھوٹے بڑے رسائل کو مفت تقسیم کریں۔ خود بھی ہزاروں روپے خرچ کیے۔ اس سلسلے میں ان کا جملہ اُن کی بے چینی اور اضطراب کو واضح کرتا ہے:
” اتنا لکھو اور اس قدر طبع کراؤ اور اس طرح تقسیم کرو کہ ہر مسلمان جب صبح سو کر اٹھے تو اپنے سرہانے رد قادیانیت کی کتاب پائے۔ “
انھوں نے اپنا تہجد کا وقت بھی اسی کام کے لیے وقف کر دیا تھا۔ کیوں کہ احمدیہ کے مقابلے کو وہ فرض کے بعد سب سے افضل عبادت سمجھتے تھے۔ اپنے متوسلین کو بھی اسی کی ترغیب دیتے تھے۔ اس سلسلے میں ان کی کتابوں میں فیصلۂ آسمانی تین جلدوں میں، شہادت آسمانی دو جلدوں میں، چشمۂ ہدایت، چیلنج محمدیہ، معیار صداقت، معیار المسیح، حقیقت المسیح، تنزیۂ ربانی، آئینۂ کمالات مرزا اور نامۂ حقانی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ بہت سے رسائل اور تصانیف اب نایاب ہو چکی ہیں۔ ان کتابوں میں احمدیوں کو کھلا چیلنج کیا گیا، انعامی چیلنج کیا گیا، قادیان بھیج کر جواب کا چیلنج کیا گیا، لیکن کوئی جواب نہیں دیا جا سکا۔ ان کتابوں میں اول الذکر دونوں کتابیں اپنے موضوع پر بہت اعلٰی اور ممتاز شمار ہوتی ہیں۔
محمد علی مونگیری کی اس تحریک نے اپنا اثر دکھایا۔ بہار ہی نہیں پنجاب، بنگال، مدراس، بمبئی، گجرات، حیدر آباد، دکن، سلہٹ اور ڈھاکہ جہاں جہاں احمدی تھے، وہاں سے اپنی سرگرمیاں بند کرنا پڑیں۔ حتی کہ ہندوستان کے باہر برما اور افریقا تک یہ رسائل پہنچے اور احمدیہ تحریک بری طرح سے متاثر ہوئی۔ مختلف زبانوں میں ان کتابوں کے ترجمے بھی کیے گئے۔
وفات :
سید محمد علی مونگیری ہمیشہ سے گردے کی تکلیف میں مبتلا رہے۔ تکلیف کبھی بڑھ جاتی، کبھی کم ہوجاتی۔ ایک دن سخت بخار آیا اور صاحبِ فراش ہو گئے۔ ایک دن گردے کے درد کا بھی سخت دورہ پڑا۔ گیارہ دن مرض وفات میں گزارنے کے بعد بالآخر 13 ستمبر 1927ء بمطابق 9 ربیع الاول 1346ھ کو ظہر کی نماز کے بعد "اللہ” "اللہ” کا ورد کرتے ہوئے وفات پائی۔ مغرب کے بعد نماز جنازہ ادا کر کے سپرد خاک کیا گیا۔ اولاد کے علاوہ تقریباً دو درجن خلفاء اور ہزاروں مریدین و متوسلین چھوڑے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے