कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مسلمان اقلیت میں، لیکن جیل میں ان کی اکثریت

تحریر: عارف عزیز (بھوپال)

مسلمان خود کو اقلیت میں کہتے ہیں، لیکن جیل میں وہ اکثریت میں ہیں۔ ایک سیکولر ملک اور معاشرہ کے لئے اِس سے بڑھ کر بدقسمتی کی بات کیا ہوگی کہ ملک میں اقلیت میں ہوتے ہوئے جیلوں میں مسلمانوں کی تعداد اکثریت میں ہے۔ قومی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین وجاہت حبیب اللہ کہتے ہیں کہ راجیو گاندھی کے زمانہ میں جب وہ پی ایم او میں تھے، اس وقت بھی یہ سوال اٹھا تھا لیکن اِس کے بارے میں نہ تب اور نہ اب کسی طرح کی تحقیق کی ضرورت محسوس کی گئی، مسلمانوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیوں ہورہا ہے جبکہ سابق مرکزی وزیر اقلیتی امور رحمان خان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مسلمان معمولی جرم میں بند ہوتے ہیں، لیکن اُنہیں قانونی امداد نہیں ملتی اور مفت میں ملنے والی قانونی مدد کے بارے میں مسلمان جانتے بھی نہیں ہیں، نہ اُن کے پاس شہری نیز دیہی علاقوں میں سیاسی قیادت ہے لہٰذا انہیں بے یار و مددگار اُن کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور وہ جیلوں میں بند رہتے ہیں۔ اِسی لئے یہ جملہ کافی مشہور ہوگیا ہے کہ ہندوستان میں جیل ہی وہ مقام ہے، جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں۔
کوئی سیکولر پارٹی کی زیر قیادت ریاستی حکومت ہو یا کمیونل پارٹی کی سرکار اُن کے درمیان اِس بارے میں کوئی فرق نہیں، مثال کے طور پر مغربی بنگال میں کبھی بھی فرقہ پرست پارٹی کا راج نہیں رہا لیکن وہاں بھی حال یہی ہے جبکہ اترپردیش میں ہر تیسرا اور مہاراشٹر میں ہر چوتھا قیدی مسلمان ہے۔ یہ حالت امریکہ کے جیلوں سے کافی ملتی جلتی ہے۔ جہاں سیاہ فام قیدیوں کی بہتات ہے۔ جموں و کشمیر، پانڈوچیری اور سکم کے علاوہ عموماً ہر ریاست میں مسلمانوں کی جتنی آبادی ہے اس سے زیادہ تناسب میں مسلمان جیل میں ہیں۔
جیلوں میں ہی مسلم قیدی زیادہ نہیں، موت کی سزا پانے والوں میں بھی مسلمان زیادہ بتائے جاتے ہیں۔ دوسری طرف ۴۴ فیصد مسلم قصورواروں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کا مقدمہ لڑنے والے وکیل کا نام کیا ہے۔ پھانسی کی سزا پانے والے بہت سے مسلم قیدی ایسے ہیں جن کے مقدمہ کی کارروائی اُن کے سمجھ میں ہی نہیں آئی اور وہ سزا کے مستحق قرار پاگئے۔
ایک کہاوت ہے کہ قانون امیروں کے لئے نہیں غریبوں کے لئے ہوتا ہے۔ اس کا اطلاق سب سے زیادہ مسلم قیدیوں پر ہوتا ہے کہ وہ تعلیمی و سماجی طور پر پسماندہ ہیں لہٰذا قانون کی زد میں صحیح یا غلط طور پر وہی آرہے ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے