कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ قرآن وحدیث کی روشنی میں

تحریر: رضی اللہ قاسمی خیرآبادی (سیتاپور یوپی)

محترم قارئین!
آج فلسطین اور اہل غزہ کی جو حالت اور کنڈیشن ہے وہ ہم سب کے سامنے ہے، وہاں کے مسلمانوں پر جو قیامت گزر رہی ہے، وہ ایک المناک اور درد ناک داستان ہے، جس کے نتیجہ میں بے شمار مسلمان شہید ہوگئے۔ ان کی عورتیں بیوہ اور بچے یتیم ہوگئے ، اُن کے گھر تباہ ہوگئے، روز بروز ہم سوشل میڈیا کے ذریعے وہاں کی خبروں سے باخبر ہوتے رہتے ہیں،اور ظالم اسرائیل کے ظلم کی داستانیں سنتے رہتے ہیں،٧ اکتوبر ٢٠٢٣ء سے لیکر ٢٠ اپریل ٢٠٢٥ء تک ایک رپورٹ کے مطابق تقریبا بہسٹھ ہزار (٦٢٠٠) سے زائد افراد شہید ہوچکے ہیں، گیارہ ہزار ملبے تلے دب کر لا پتہ ہیں، اسی طرح اٹھارہ ہزار (١٨٠٠) سے زیادہ بچے اور بارہ ہزار ( ١٢٠٠) سے زائد خواتین شہید ہوچکی ہیں ، دو ملین سے زائد افراد بے گھر ہیں، جن کے گھروں کو مسمار کردیا گیا ہے، ایک لاکھ پیسٹھ ہزار ( ١٦٥٠٠٠) مکانات مکمل طور پر تباہ و برباد کردئے گئے ۔
اتنا سب ہونے کے باوجود ہماری غیرت نہیں جاگتی، ہمیں احساس تک نہیں ہوتا کہ ہم اس ظالم اسرائیل کی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں، افسوس! ہمارے اندر ایمان کی اتنی بھی حرارت نہیں ہے۔
تمام مسلمان جسم واحد کے مثل ہیں:
اس صورت حال میں ہرمسلمان کو ان کی تکلیف کا احساس ہونا چاہئے، ان کے درد کو سمجھنا چاہئے، کیونکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام مسلمانوں کو جسم واحد کے مانند قرار دیا ہے، جیسا کہ مسلم شریف کی روایت درج ذیل ہے :
عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ، مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى ".
(صحیح مسلم كِتاب البر والصلۃ والآداب )
اس حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان ایک جسم کے مانند ہیں اورایک جسم کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ جسم کے ایک حصے میں اگر درد ہو تو سارا جسم اس درد کو محسوس کرتا ہے اور اس درد کودور کرنے کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور جو کچھ اختیار میں ہوتا ہے وہ کرتا ہے، یہی حالت ہماری اپنے مسلمان بھائیوں کے بارے میں ہونی چاہیے، کیونکہ ساری دنیا کے مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ دنیا کے کسی حصے میں، کسی کونے میں مسلمانوں پر کوئی تکلیف آئے تو یوں سمجھیں کہ گویا ہم پر تکلیف آگئی ہے۔ اس لئے ہمارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ہمیں ان کی تکلیف کا احساس ہونا چاہیے، ایسے موقع پر مسلمانوں کی تکلیف کا احساس ہونا اور اُن کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھنا یہ ہمارے ایمان کے زندہ ہونے کی علامت ہے۔
اہل غزہ کے درد کو محسوس کریں:
اس لئے ہم بھی جسم مسلم بنیں، اہل غزہ کے درد کو محسوس کریں اور اہل غزہ کی آہ و بکا، چیخ و پکار کو محسوس کرتے ہوئے غیرت اسلامی کا مظاہرہ کریں، اور اس ظالم اسرائیل اور اس کے معاون یہود و نصارٰی کی کمپنیوں کا مکمل طور پر بائیکاٹ کریں، کیونکہ اگر محلے میں کسی دوکاندار سے لڑائی ہو جاتی ہے تو ہم اس کی دوکان سے سودا سلف لینا چھوڑ دیتے ہیں، اس دوکان پر جانا ہماری غیرت گوارا نہیں کرتی ہے، لیکن اسرائیل عالمی دہشت گرد جس نے تاریخ انسانی میں قتل عالم اور درندگی کی مثالیں قائم کر دی ہے ہم اس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیوں نہیں کر رہے ؟
بائیکاٹ کرنا اللہ کا حکم ہے:
خوب یاد رکھئے! یہ بائیکاٹ کرنا کسی عالم اور مفتی کا حکم نہیں ہے بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہے، اللہ تعالیٰ خود قرآن کریم کے اندر فرماتا ہے: اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْۚ-وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۔ (سورہ الممتحنہ آیت ٩ )
یعنی اللہ تعالی تمہیں ( تمام طرح کے معاملات کرنے سے) منع کرتا ہے ان لوگوں سے جو تم سے دین میں قتال کریں اور تم کو تمہارے گھروں سے نکال دیں۔
آج ہم غور کریں کہ اسرائیل لڑا ہی نہیں، قتال ہی نہیں کیا بلکہ عالمی جنگی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بچوں عورتوں اور ہسپتالوں کو بھی نشانہ بنا چکا ہے۔اور اہل غزہ کو گھروں سے نہ صرف نکالا بلکہ ان کے گھروں پر بمباری کر کے ملبے کے ڈھیر بنا دیا، دو ملین سے زائد افراد کو بے گھر کردیا، ایک لاکھ سے زائد گھروں کو مکمل طور پر تباہ وبرباد کردیا ہے، عالمی مالی امداد بند کر دی، اس طرح ساری دنیا کے اندر اپنی درندگی کی مثال قائم کر دی ہے،اس لیے ظالم اسرائیل اور یہودیوں سے مالی جہاد کرتے ہوئے بائیکاٹ کرنا ہمارا فریضہ بن چکا ہے، بلکہ قرآن نے تو ان لوگوں کا بھی بائیکاٹ کا حکم دیا ہے جو ان ظالم کے معاون ہیں جیسا کہ اسی آیت کا ٹکڑا ہے وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْۚ۔ یعنی صرف ظالم کا بائیکاٹ نہیں کرنا ہے بلکہ جو ان ظالم کی مدد کریں اور قتال میں ساتھ دیں اور ان سے دوستی رکھیں ان کا بھی بائیکاٹ کیا جائے۔
جیسے آج اسرائیل کے معاون یہود و نصاری کے امریکہ جیسے ممالک اور وہ کمپنیاں جو اسرائیل کی تو نہیں ہیں لیکن وہ اسرائیل پر پیسے خرچ کر رہی ہیں وہ بھی اس بائیکاٹ میں شامل ہیں ان کا بھی مکمل طور پر بائیکاٹ کیا جائے۔
بائیکاٹ کرنا مالی جہاد ہے:
یہ بائیکاٹ کرنا گویا کہ ان کے ساتھ جہاد ہے ، کیونکہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے جس میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَأَلْسِنَتِكُمْ ۔
’’مشرکوں سے اپنے اموال، اپنی جانوں اور زبانوں سے جہاد کرو۔“
(سنن ابی داؤد ، کتاب الجہاد، الرقم الحدیث : 2504)
حدیث مذکورہ میں جہاد کی تین قسمیں بیان کی گئیں ہیں‌، جس میں پہلی قسم جہاد بالمال ہے۔ اور مال ہی کا بائیکاٹ کرنا ہے۔
لیکن کچھ مسلمان اسلامی تعلیمات سے نا واقفیت کی بنیاد پر تذبذب کا شکار ہیں کہ جہاد کا حکم تو اسلام میں ہے بائیکاٹ کا حکم کہاں ہے۔؟
اس کا جواب یہ ہے کہ ۔ اول تو قرآن کی آیت مذکوہ : اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ۔ میں خاص حکم نہیں ہے کہ میل جول سے ، تجارت سے ، بلکہ عام لفظ ہے کہ بس اللہ تمہیں منع کرتا ہے، ان قاتلین اور ظالمین سے ہر طرح کے معاملات سے، یہاں تک کہ لین دین سے بھی، اس سے اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کا حکم بھی ثابت ہو گیا۔
اسی طرح قرآن کریم کی ایک دوسری آیت سے بھی بائیکاٹ کا حکم ثابت ہو رہا ہے: وَلا تَعَاوَنُوا عَلَى الإثْمِ وَالْعُدْوَانِ۔
(سورۃ المائدہ آیت ٢)
گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو
اس آیت میں گناہ اور زیادتی کرنے والے کے ساتھ وَلا تَعَاوَنُوا کا حکم ہے۔ یعنی گناہ اور ظلم میں کسی کی بھی مدد نہ کی جائے، ظالم کا اس کے ظلم میں ساتھ دینا، یا اس کے ساتھ لین دین کا معاملہ رکھنا یہ سب مدد اور تعاون کرنے کے زمرے میں آئے گا، جس کی مذکورہ آیت میں ممانعت ہے،
اس لئے ظالم کا مکمل معاشی بائیکاٹ کیا جائے، آیت مذکورہ میں عام‌ ظالم کا تذکرہ ہے جبکہ اسرائیل نے تو ظلم وستم کے اعتبار سے درندگی کی انتہا کردی ہے ،عالمی ظالم اور انسانیت کا قاتل ثابت ہو چکا ہے اورایسے ایسے ظلم کے پہاڑ اہل غزہ پر توڑے ہیں کہ انسانیت بھی شرماگئی ہے۔
اس لئے اس کی مصنوعات کا بائیکاٹ : وَ لَا تَعَاوَنُوا کے تحت حکم ربی ہے جسے ہر مسلمان کو تسلیم کرتے ہوئے بائیکاٹ کرنا چاہیے۔
بائیکاٹ کے شرعی اصول :
قرآن مجید میں یہود و نصاری سے بائیکاٹ کے جو اصول بیان ہوئے وہ سارے کے سارے اسرائیل پر صادق آرہے ہیں، کیونکہ اسرائیل عالم انسانیت کا مجرم ہے ، عہد شکن ہے، ناحق اہل فلسطین کے معصوم بچوں ، عورتوں ، پناہ گزینوں کا قاتل ہے ، اہل غزہ و فلسطین پر ظلم و بربریت کے پہاڑ ڈھانے والا وہ عالمی مجرم درندہ ہے جسے عالمی عدالت انصاف
International Court of Justice )
بین الاقوامی عدالت انصاف) جو انہی یہود و نصاری کی بنائی ہوئی ہے اس کا قیام 1945 میں ممالک کے مابین تنازعات کے تصفیے کی غرض سے عمل میں آیا تھا،وہ بھی اسے مجرم ثابت کر چکی ہے۔ اسے فلسطین کی نسل کشی کرنے ، عالمی جنگی قوانین کی خلاف
ورزی کرنے پر مجرم قرار دے چکی ہے۔
اس لیے اس کا بائیکاٹ کرنا ہمارا ایمانی فریضہ بن چکا ہے
یہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور اس پر عمل لازم ہے۔ لہذہ ہر مسلمان کو اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ بڑھ چڑھ کر کرنا چاہیے۔
یہ یاد رکھیں ! یہ حکم اللہ کا ہے ، اور اللہ کا حکم تو دوستی تک کرنے سے ممانعت پر موجود ہے جبکہ لین دین میں نفع پہنچانا دوستی سے بھی آگے کا درجہ ہے اور اس سے باز نہ آنا اس سے بھی بڑا جرم ہے۔
شیطانی دھوکہ:
آج دکاندار حضرات یہ سوچتے ہیں کہ اسرائیلی مصنوعات کی سیل بند کر دی تو کاروبار بند ہو جائے گا، خوب یاد رکھئے یہ شیطانی دھوکہ اور ڈر ہےالشَّيْطَنُ يَعِدُ كُمُ الْفَقْرَ۔
(شیطان تمہیں محتاجی کا اندیشہ دلاتا ہے) اس لئے اسے ختم کریں کیونکہ اللہ نے اسکے مقابلے میں اپنے فضل کا وعدہ کیا ہے وَ اللهُ يَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَ فَضْلًا (البقرہ آیت ٢٦٨)
الله تم سے اپنی طرف سے بخشش اور فضل کا وعدہ فرماتا ہے۔“
اس لیے کسی دکاندار کے دل میں یہ بات بالکل نہیں آنی چاہیے کہ اگر اسرائیلی مصنوعات کی خرید و فروخت بند کر دی جائے تو میری دکان بند ہو جائے گی، ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا،بلکہ ہم تو مسلمان ہیں اللہ کے فضل پر یقین رکھیں، ناکہ شیطان کے محتاجی اور تنگدستی کا اندیشہ دلانے پر،
اللہ تعالی ہم سب کے لیے آسانی کا معاملہ فرمائے اور اللہ کی ذات پر کامل یقین اور توکل پیدا فرمائے،اور اہل غزہ کے درد کو ہم سب کو محسوس کرنے کی توفیق نصیب فرمائے اور ان کی مدد کے لئے اسرائیل اور اس کے معاون یہود و نصاری کی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یارب العالمین

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے