कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس کا ’’ملت کی رہنمائی، جمہوری اقدار کے تحفظ اور مشترکہ حکمتِ عملی‘‘ کے عنوان سے ممبئی میں اعلیٰ سطحی اجلاس

ممبئی: 10؍جون (نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف )پربھنی فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس (FMM) کی جانب سے آج اسلام جمخانہ، ممبئی میں ریاست میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی اور امتیازی حکومتی پالیسیوں کے خلاف ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اجلاس میں مسلم اراکینِ اسمبلی، ریٹائرڈ جج صاحبان، وکلاء، سماجی کارکنان اور ائمۂ مساجد سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس کا بنیادی مقصد ریاست میں ملت کو درپیش مسائل اور چیلنجز کے سلسلے میں بروقت اور مؤثر رہنمائی فراہم کرنا، ان کے حل کے لیے حکومت کے سامنے مضبوط نمائندگی کرنا اور مختلف دینی، سماجی اور ملی تنظیموں کے درمیان اتحاد، اشتراکِ عمل اور مشترکہ حکمتِ عملی کو فروغ دینا ہے۔اجلاس میں رکن اسمبلی ثناء ملک، عارف نسیم خان، ریٹائرڈ جج ابھے تھپسے، امین پٹیل، ساجد پٹھان، ہارون خان، ابو عاصم اعظمی، سابق رکنِ پارلیمان (راجیہ سبھا) عبید اللہ خان اعظمی، رئیس شیخ، ایڈوکیٹ لارا جسانی، مولانا عمرین محفوظ رحمانی (سیکریٹری، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)، مولانا الیاس خان فلاحی (امیرِ حلقہ جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر و رکن مسلم پرسنل لا بورڈ)، مولانا حلیم اللہ قاسمی (جنرل سیکریٹری، جمعیۃ علماء مہاراشٹر)، مولانا مفتی محمد حذیفہ قاسمی (ناظمِ تنظیم، جمعیۃ علماء مہاراشٹر)، مولانا ظہیر عباس رضوی (نائب صدر، شیعہ پرسنل لا بورڈ)، مولانا نظام الدین فخرالدین (رکن مسلم پرسنل لا بورڈ)، مولانا جلیل انصاری (جمعیت اہل حدیث مہاراشٹر)، مولانا مفتی اشفاق قاسمی (رکن مسلم پرسنل لا بورڈ و قاضی شہر اکولہ)، حضرت مولانا آصف ندوی ناندیڑ ،مولانا آغا روح ظفر (امام، کھوجہ جماعت ممبئی)، مولانا شبیر بھوپال والا (بوہرہ جماعت مہاراشٹر)، حافظ اقبال چونا والا (رکن شوریٰ، دارالعلوم دیوبند وقف)، فرید شیخ (صدر امن کمیٹی ممبئی)، شیخ عبدالمجیب (جالنہ) اور شاکر شیخ (ممبئی) سمیت متعدد اہم شخصیات شریک ہوئیں۔اجلاس میں مسلم برادری کو درپیش اہم اور سنگین مسائل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا، جن میں مجوزہ انسدادِ تبدیلیٔ مذہب قانون، یونیفارم سول کوڈ (UCC)، موب لنچنگ، بلڈوزر کلچر، نفرت انگیز تقاریر اور وندے ماترم جیسے موضوعات شامل تھے۔
اجلاس کے اختتام پر درج ذیل قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی گئیں:
(1)اجلاس حکومتِ مہاراشٹر سے مطالبہ کرتا ہے کہ مجوزہ ’’فریڈم آف ریلیجن‘‘ قانون کو واپس لیا جائے، کیونکہ یہ آئینِ ہند کی جانب سے عطا کردہ مذہبی آزادی اور تبلیغِ مذہب کے بنیادی حق کے منافی ہے۔ اجلاس کا ماننا ہے کہ قانون کی موجودہ ساخت اس کے غلط استعمال کے خدشات کو جنم دیتی ہے، جس کے نتیجے میں بے قصور افراد کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ تبلیغِ مذہب ایک آئینی حق ہے اور بھارت جیسے تکثیری معاشرے میں یہ ایک معمول اور تسلیم شدہ عمل ہے۔ لہٰذا اس قانون کے ذریعے مذہبی تبلیغ کو محدود کرنا غیر آئینی اقدام ہوگا۔
(2)اجلاس کا احساس ہے کہ مہاراشٹر، جو ملک کی معاشی راجدھانی کے طور پر جانا جاتا ہے، وہاں شدت پسند عناصر کی جانب سے مسلم نوجوانوں کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔ موب لنچنگ کے واقعات میں متعدد جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت قانون نافذ کیا جائے اور پولیس و مقامی انتظامیہ کو اس سلسلے میں جواب دہ بنایا جائے۔ اجلاس کا یہ بھی ماننا ہے کہ ایسے واقعات کے بعد مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث مجرموں کے حوصلے بلند ہوتے ہیں۔ نفرت انگیز تقاریر کے حوالے سے سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے اور فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
(3)اجلاس کا موقف ہے کہ مہاراشٹر میں بلڈوزر کے ذریعے گھروں اور تجارتی اداروں کو منہدم کرنے کا رجحان مسلمانوں کو ہراساں کرنے کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔ ریاست میں بلڈوزر کلچر تیزی سے فروغ پا رہا ہے، جہاں عدالتی کارروائی مکمل ہونے سے قبل ہی انتظامیہ ملزمین کے مکانات اور کاروباری مقامات کو غیر قانونی قرار دے کر مسمار کر دیتی ہے۔ اجلاس کے مطابق یہ طرزِ عمل ظالمانہ، غیر قانونی اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کے منافی ہے۔ سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کے باوجود بعض مقامی انتظامیہ کی جانب سے ایسی کارروائیاں جاری ہیں، جس سے مسلم برادری میں بے چینی اور مایوسی پیدا ہو رہی ہے۔ لہٰذا اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ ریاست میں امن، انصاف اور قانون کی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے ایسی کارروائیوں پر فوری روک لگائی جائے۔
(4)اجلاس حکومت کی جانب سے یونیفارم سول کوڈ (UCC) نافذ کرنے کے اعلان پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ اجلاس کا ماننا ہے کہ یہ صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ دیگر مذہبی برادریوں کے شخصی قوانین اور مذہبی آزادیوں کو بھی متاثر کرے گا۔ اجلاس کے مطابق ایسے قانون کی کوئی حقیقی ضرورت نہیں ہے۔ لہٰذا حکومت اس قسم کے کسی بھی قانون کے نفاذ سے گریز کرے۔ اجلاس دیگر مذاہب کے ذمہ داران اور بااثر شخصیات سے بھی اپیل کرتا ہے کہ وہ اس مسئلے کو محض مسلمانوں کا مسئلہ نہ سمجھیں بلکہ تمام مذہبی طبقات کے مشترکہ حقوق کے تحفظ کے لیے اس کے خلاف آواز بلند کریں۔
(5)اجلاس ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرِ ثانی (SIR) کے نام پر بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کے عمل کو مسترد کرتا ہے۔ اجلاس کے مطابق کروڑوں ووٹروں کے ناموں کو مشتبہ یا فرضی بنیادوں پر خارج کرنا انتہائی تشویشناک عمل ہے۔ حکومت ایسی کارروائیوں کو فوری طور پر روکے اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کرے تاکہ ووٹر فہرستوں کی نظرِ ثانی مکمل طور پر قانونی اور شفاف انداز میں انجام دی جا سکے۔ ساتھ ہی اجلاس تمام مسلمانوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اپنے ووٹر اندراج، شناختی دستاویزات اور متعلقہ ریکارڈ کی درستگی کے سلسلے میں انتہائی سنجیدگی کا مظاہرہ کریں خصوصاً 29 جون سے شروع ہونے والے SIR مہم میں اپنے آپ کو اس کام کے لئے لگائے کوئی بھی ووٹر محروم نہ ہو اِس کا خیال رکھیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے