कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

دعوت و تبلیغ کا اصل مشن: انسان کو ترکِ معاصی پر آمادہ کرنا اور اپنے رب سے جوڑنا

تحریر: ڈاکٹر محمد عبدالسّمیع ندوی
اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج، اورنگ آباد
موبائل: 9325217306

دنیا میں بے شمار اسلامی تحریکیں، تنظیمیں اور دینی ادارے اپنے اپنے دائرۂ کار میں دینِ اسلام کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ دینی مدارس اسلام کے مضبوط قلعے ہیں جہاں علماء، داعیانِ دین اور مبلغینِ اسلام تیار ہوتے ہیں جو امت کی فکری، علمی اور روحانی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ انہی دینی کوششوں میں ایک نمایاں اور عالمی سطح پر منظم تحریک، دعوت و تبلیغ کی تحریک ہے، جس کا بنیادی مقصد مسلمانوں کو دین کے قریب لانا، ان کے ایمان کو تازگی بخشنا، انہیں گناہوں اور غفلت کی زندگی سے نکال کر اطاعتِ الٰہی کی راہ پر گامزن کرنا اور بندے کا تعلق اپنے رب سے مضبوط کرنا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کی سب سے بڑی کامیابی دنیاوی عہدوں، مال و دولت، شہرت اور اقتدار کے حصول میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ وہ اپنے رب کو راضی کرنے والی زندگی اختیار کرے۔ مگر یہ راستہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ خصوصاً جب کوئی شخص گناہوں، بری عادتوں اور نفسانی خواہشات سے وابستہ زندگی گزارنے کے بعد توبہ و اصلاح کا سفر شروع کرتا ہے تو اسے ابتداء میں شدید نفسیاتی کشمکش، اندرونی مزاحمت اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
معروف عرب داعی اور ادیب ادہم شرقاوی نے اس حقیقت کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے:
’’گناہوں کو چھوڑنے کے لیے پہلے صبر اور مجاہدہ درکار ہوتا ہے۔ اگر انسان ابتدائی مرحلے میں ثابت قدمی اختیار کر لے تو پھر نفس خود اس کے لیے سیدھا ہو جاتا ہے۔‘‘
وہ مزید مثال دیتے ہیں کہ جس طرح شیر خوار بچہ دودھ کا عادی ہوتا ہے اور دودھ چھڑانے کے ابتدائی دن اس کے لیے بے چینی، اضطراب اور رونے دھونے کا سبب بنتے ہیں، لیکن چند دنوں کے صبر کے بعد وہی بچہ اس کے بغیر جینا سیکھ لیتا ہے، بالکل اسی طرح گناہوں سے توبہ کا معاملہ بھی ہے۔ ابتدا میں نفس بے چین ہوتا ہے، مگر استقامت اختیار کی جائے تو دل نیکی اور پاکیزگی کا عادی بن جاتا ہے۔
یہ مثال انسانی نفسیات کی ایک گہری حقیقت کو آشکار کرتی ہے۔ انسان جس عمل کا عادی ہو جاتا ہے، اس سے جدائی ابتدا میں تکلیف دہ محسوس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ توبہ تو کر لیتے ہیں مگر استقامت کی کمی کے باعث دوبارہ انہی لغزشوں کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ درحقیقت وہ مجاہدۂ نفس کے اس ابتدائی مرحلے کو عبور نہیں کر پاتے جو ہر بڑی تبدیلی کے لیے ناگزیر ہوتا ہے۔
قرآنِ مجید اسی حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے:
﴿وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا﴾
اور جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں ہم ضرور انہیں اپنے راستے دکھاتے ہیں۔” (العنکبوت: 69)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ ہدایت، استقامت اور قربِ الٰہی محض خواہشات سے حاصل نہیں ہوتے بلکہ ان کے لیے مسلسل جدوجہد، صبر اور اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد درکار ہوتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ گناہ صرف ایک وقتی عمل نہیں رہتا بلکہ رفتہ رفتہ عادت، پھر مزاج اور آخرکار نفسیاتی وابستگی بن جاتا ہے۔ ایسے میں توبہ صرف زبان سے استغفار کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنے نفس، خواہشات اور شیطانی ترغیبات کے خلاف ایک مسلسل جنگ کا نام ہے۔ یہی جنگ "مجاہدۂ نفس” کہلاتی ہے جسے اسلام نے عظیم عبادت اور بڑی کامیابی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔
تاریخِ اسلام کے بے شمار اکابرین اور صالحین کی زندگیاں اس حقیقت کی روشن مثال ہیں۔ حضرت فضیل بن عیاضؒ، حضرت بشر حافیؒ اور دیگر اولیائے کرام نے توبہ کے بعد صبر و استقامت کے ساتھ مجاہدہ کیا۔ ابتدا میں آزمائشیں آئیں لیکن چند دنوں اور مہینوں کی ثابت قدمی نے ان کے دلوں کو ایسی پاکیزگی عطا کی کہ پھر نیکی ان کی طبیعت اور عبادت ان کی زندگی بن گئی۔
آج کے دور میں یہ مسئلہ پہلے سے کہیں زیادہ سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ موبائل فون، سوشل میڈیا، فحش مواد، فضول مشاغل اور نت نئے فتنوں نے گناہ تک رسائی کو انتہائی آسان بنا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی نوجوان یا بزرگ توبہ کا ارادہ کرتا ہے تو اسے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ابتدائی بے چینی، ذہنی کشمکش اور نفس کی بار بار بغاوت دراصل اصلاحِ نفس کے سفر کا فطری حصہ ہے۔ یہ ناکامی کی علامت نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان اپنے نفس کی غلامی سے آزادی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس مرحلے میں چند امور غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں:
• اللہ تعالیٰ سے مسلسل دعا اور استغفار کرنا۔
• نیک لوگوں اور اہلِ اللہ کی صحبت اختیار کرنا۔
• گناہ کے اسباب اور مواقع سے حتی المقدور دور رہنا۔
• قرآنِ کریم کی تلاوت اور ذکرِ الٰہی کو معمول بنانا۔
• لغزش ہو جائے تو مایوس ہونے کے بجائے فوراً رجوع الی اللہ کرنا۔
• علماءِ ربانیین سے تعلق مضبوط رکھنا اور ان سے رہنمائی حاصل کرتے رہنا۔
یہاں دعوت و تبلیغ کی تحریک کی اہمیت نمایاں ہو جاتی ہے۔ درحقیقت دعوت و تبلیغ کا اصل مقصد صرف چند اجتماعات منعقد کرنا یا بیانات سنانا نہیں بلکہ انسان کو گناہوں سے نکال کر اطاعت، ذکر، عبادت، اخلاقِ حسنہ اور تعلق مع اللہ کی راہ پر ڈالنا ہے۔ اس تحریک کی ترتیب میں تین دن، دس دن، چالیس دن، چار ماہ اور اس سے آگے کے اوقات اسی حکمت کے تحت رکھے گئے ہیں تاکہ انسان دنیا کی غفلت سے نکل کر دین کی فضا میں سانس لے، اپنی اصلاح کرے اور اپنی زندگی کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔
بعض لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ دعوت و تبلیغ میں وقت لگانے کا کیا فائدہ ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ سوال عموماً اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اس محنت کے تربیتی، اخلاقی اور روحانی اثرات کو گہرائی سے نہ دیکھا جائے۔ انسان کی فکری، اخلاقی اور روحانی تبدیلی کسی ایک تقریر، ایک نشست یا چند نصیحتوں سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے مسلسل محنت، صالح ماحول، نیک صحبت اور مستقل تربیت درکار ہوتی ہے۔
دعوت و تبلیغ کی محنت دراصل اسی تدریجی اصلاح اور روحانی تربیت کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعے انسان اپنے رب سے تعلق مضبوط کرتا ہے، عبادات کی پابندی کی طرف متوجہ ہوتا ہے، گناہوں سے بچنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے اور اپنی زندگی کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں بے شمار افراد کی زندگیوں میں جو دینی، اخلاقی اور روحانی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، وہ اس محنت کے مثبت اثرات کا واضح ثبوت ہیں۔
سنتِ الٰہی یہی ہے کہ دین کی نعمت محنت، قربانی اور استقامت کے ساتھ وابستہ ہے۔ جس طرح علم کے حصول کے لیے محنت ضروری ہے، اسی طرح ایمان کی حفاظت، اخلاق کی اصلاح اور گناہوں سے نجات کے لیے بھی مسلسل جدوجہد ناگزیر ہے۔ قرآن و سنت کا مزاج یہی ہے کہ بندہ عمل، دعا، مجاہدہ اور استقامت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا اور قربت حاصل کرنے کی کوشش کرے۔
تاہم دعوت و تبلیغ کے ثمرات اسی وقت مکمل طور پر ظاہر ہوتے ہیں جب اس کے ساتھ اخلاص، استقامت، دعا، علمِ دین اور اہلِ علم کی رہنمائی بھی شامل ہو۔ دعوتی ماحول سے وابستگی کے ساتھ ساتھ علماء و صلحاء کی تعظیم، ان کی صحبت، ان سے دینی مسائل دریافت کرنا اور علمِ شریعت حاصل کرتے رہنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ دین کا صحیح فہم اور صحیح عمل انہی دونوں چیزوں کے حسین امتزاج سے پیدا ہوتا ہے: دعوتی محنت اور علمی رہنمائی۔
آج امتِ مسلمہ کو اس حقیقت کو دل میں بٹھانے کی ضرورت ہے کہ ترکِ معاصی کا ابتدائی درد دراصل روحانی شفا کی پہلی علامت ہے۔ جس طرح دوا کا ذائقہ تلخ ہوتا ہے مگر انجام صحت اور شفا ہوتا ہے، اسی طرح گناہوں سے جدائی کا ابتدائی مرحلہ مشکل ضرور ہوتا ہے مگر اس کا انجام قلبی سکون، روحانی پاکیزگی اور اللہ تعالیٰ کی قربت کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
لہٰذا اگر کوئی شخص توبہ کے بعد اپنے اندر کشمکش محسوس کرے تو اسے گھبرانا یا مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ چند دنوں کی استقامت، کچھ عرصے کا صبر، صالحین کی صحبت اور مسلسل اللہ تعالیٰ سے تعلق انسان کی پوری زندگی بدل سکتا ہے۔ پھر وہی نفس جو گناہوں کی طرف کھینچتا تھا، نیکیوں میں لذت محسوس کرنے لگتا ہے اور وہی دل جو معصیت کا عادی تھا، اطاعتِ الٰہی کا مشتاق بن جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سچی توبہ، کامل استقامت، صالح صحبت، اخلاصِ عمل، دین کی صحیح سمجھ اور حسنِ خاتمہ کی دولت نصیب فرمائے، اور ہمیں اپنی رضا اور قربت والی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے