कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

وندے ماترم کی لازمیت، مذہبی آزادی اور آئینی پہلو

از قلم: ڈاکٹر سید تابش امام
کاکو، جہان آباد
رابطہ۔۔۔۔9934933992

حکومتِ بہار کے ذریعہ گزشتہ دنوں جاری کردہ ہدایات نے ایک بار پھر اس حساس اور دیرینہ بحث کو تازہ کر دیا ہے کہ قومی جذبات کے اظہار اور آئینی آزادیوں کے درمیان حدِ فاصل کہاں قائم کی جائے۔ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی قیادت میں محکمۂ عمومی انتظام کی طرف سے جاری ہدایت کے مطابق اب ریاست کے تمام سرکاری تقریبات اور تعلیمی اداروں کا آغاز ’وندے ماترم‘ سے ہوگا، اس کے بعد قومی ترانہ پیش کیا جائے گا، اور پروگرام کا اختتام ریاستی گیت ’میرے بھارت کے کنٹھ ہار‘ پر کیا جائے گا۔ بظاہر یہ فیصلہ قومی یکجہتی، ثقافتی شناخت اور حب الوطنی کے فروغ کے مقصد سے کیا گیا ہے، لیکن اس کے ساتھ کئی آئینی، قانونی اور سماجی سوالات بھی پوری شدت کے ساتھ سامنے آئے ہیں، جنہیں نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ’وندے ماترم‘ کے تناظر میں اختلافی آرا سامنے آئی ہوں۔ بلا شبہ اس نغمے کی تاریخی حیثیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ تحریکِ آزادی کے دوران یہ نغمہ ایک جوشیلی علامت کے طور پر پیش ہوا اور عوامی بیداری میں اس نے اہم کردار ادا کیا۔ اس کے الفاظ نے غلامی کے اندھیروں میں امید کی شمع روشن کی اور لاکھوں ہندوستانیوں کو جدوجہد کے لیے آمادہ کیا۔ باوجود اس کے، نغمے کے چند اشعار کے مذہبی اور نظریاتی پہلو ہمیشہ سے ایک حساس مسئلہ رہے ہیں۔ اس نغمے کے بعض حصوں میں دیوی درگا کی تمثیل موجود ہے، جس کی بنیاد پر ملک کے کچھ طبقات اسے اپنے مذہبی عقائد سے متصادم سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آزادی کے بعد جب قومی ترانے کے انتخاب کا مرحلہ آیا تو ’جن گن من‘ کو سرکاری قومی ترانہ تسلیم کیا گیا، جب کہ ’وندے ماترم‘ کو قومی گیت کا درجہ دیے جانے کے باوجود اسے لازمی قرار نہیں دیا گیا۔
بہار حکومت کا حالیہ فیصلہ اسی تاریخی پس منظر میں ایک نئے مباحثے کا آغاز کرتا ہے۔ ہدایت نامہ کے مطابق نہ صرف ’وندے ماترم‘ کے مکمل چھہ وند گانا لازم ہوگا بلکہ اس کے دوران کھڑا ہونا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ریاستی گیت کو بھی لازمی حیثیت دے دی گئی ہے۔ بظاہر یہ ایک انتظامی ہدایت ہے، مگر اس کے اثرات شہریوں کے بنیادی حقوق سے براہِ راست جڑے ہوئے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی گیت کو لازمی قرار دینا آئینی اصولوں کے مطابق ہے؟ اور کیا اس طرح کے احکامات شہریوں کی آزادیٔ ضمیر اور مذہبی آزادی سے متصادم نہیں؟
ہندوستان کا آئین اپنے شہریوں کو بنیادی حقوق کی وسیع ضمانت دیتا ہے۔ آرٹیکل 19(1)(a) کے تحت اظہارِ رائے کی آزادی ہر شہری کا حق ہے، جبکہ آرٹیکل 25 ہر فرد کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کی آزادی فراہم کرتا ہے۔ ان دفعات کی روشنی میں یہ سوال نہایت اہم ہو جاتا ہے کہ اگر کوئی شہری کسی مخصوص نغمے کو اپنے عقیدے کے خلاف سمجھتا ہے تو کیا اسے زبردستی اس میں شریک کیا جا سکتا ہے؟ جمہوری نظام کی بنیاد ہی اس بات پر ہے کہ ریاست شہریوں کے ضمیر کا احترام کرے، نہ کہ ان پر کسی مخصوص طرزِ اظہار کو مسلط کرے۔ آئینی ماہرین بھی اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ بنیادی حقوق کی روح کو کسی بھی انتظامی حکم کے ذریعے محدود نہیں کیا جا سکتا۔
اسی تناظر میں سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ ایک رہنما اصول فراہم کرتا ہے، جس میں عدالت نے واضح کیا تھا کہ اگر کوئی شخص اپنے مذہبی عقیدے کی بنیاد پر قومی ترانہ گانے سے گریز کرتا ہے، لیکن احتراماً کھڑا رہتا ہے، تو اسے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ حب الوطنی کے اظہار کی کوئی ایک لازمی شکل نہیں ہو سکتی۔ یہ اصول محض قومی ترانے تک محدود نہیں بلکہ ہر اس معاملے پر لاگو ہوتا ہے جہاں ریاست کسی علامتی عمل کو لازمی بنانے کی کوشش کرے۔ اس فیصلے کی روشنی میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ریاست کو شہریوں کے ضمیر میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔
بہار حکومت کے حالیہ اقدام کو اسی آئینی کسوٹی پر پرکھنا ضروری ہے۔ حب الوطنی ایک داخلی جذبہ ہے، جسے احکامات کے ذریعے پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ریاست کسی عمل کو لازمی قرار دیتی ہے تو وہ دراصل ایک داخلی احساس کو خارجی جبر میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتی ہے، جو جمہوری روح کے منافی ہے۔ اس طرح کے اقدامات وقتی طور پر نظم و ضبط کا تاثر تو پیدا کر سکتے ہیں، لیکن طویل مدت میں یہ اختلاف، بے چینی اور ردِ عمل کا سبب بنتے ہیں۔ جمہوری معاشروں میں پالیسی سازی کا مقصد ہم آہنگی پیدا کرنا ہوتا ہے، نہ کہ یکسانیت کو مسلط کرنا۔
مرکزی سطح پر جاری کردہ رہنما ہدایات میں قومی علامات کے احترام کا ایک عمومی خاکہ ضرور پیش کیا گیا تھا، لیکن اس میں لازمی حیثیت کا پہلو اس شدت کے ساتھ شامل نہیں تھا۔ ایسے میں ریاستی سطح پر اسے سختی کے ساتھ نافذ کرنا ایک اضافی قدم ہے، جو قانونی و آئینی بحث کو دعوت دیتا ہے۔ یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا ریاستی حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ایسے معاملات میں لازمی ہدایات جاری کرے جو بنیادی حقوق سے براہِ راست تعلق رکھتے ہوں۔ اگر اس روایت کو عام کر دیا جائے تو مستقبل میں دیگر معاملات میں بھی اسی نوعیت کی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں، جو جمہوری اقدار کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
ریاستی گیت ’میرے بھارت کے کنٹھ ہار‘ کی شمولیت بھی اس پالیسی کا ایک اہم پہلو ہے۔ اس گیت کو ریاست کی تہذیبی شناخت کو اجاگر کرنے کے لیے اپنایا گیا تھا، لیکن جب کسی ثقافتی علامت کو لازمی بنا دیا جاتا ہے تو وہ اپنی فطری کشش کھو بیٹھتی ہے۔ ثقافت کی اصل طاقت اس کی خود رو قبولیت میں ہوتی ہے، نہ کہ سرکاری احکامات میں۔ جب کوئی چیز دل سے اپنائی جائے تو وہ دیرپا اثر چھوڑتی ہے، لیکن جب اسے زبردستی نافذ کیا جائے تو وہ محض ایک رسمی عمل بن کر رہ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ثقافتی مظاہر کو فطری انداز میں فروغ دینا زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔
سماجی سطح پر بھی اس فیصلے کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہندوستان ایک کثیر مذہبی اور کثیر الثقافتی معاشرہ ہے، جہاں مختلف عقائد، زبانوں اور ثقافتوں کے لوگ بستے ہیں۔ ایسے معاشرے میں کسی ایک علامت کو لازمی قرار دینا بعض طبقات میں احساسِ محرومی پیدا کر سکتا ہے۔ اگرچہ اکثریت اسے معمول کا حصہ سمجھ کر قبول کر لے، لیکن اقلیتوں کے لیے یہ ایک نفسیاتی دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔ اس طرح کے اقدامات سماجی ہم آہنگی کے بجائے غیر محسوس طور پر نفرت کے فروغ کا سبب بن سکتے ہیں، جو کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے نیک فعال نہیں۔
یہ بھی ایک اہم حقیقت ہے کہ حب الوطنی کا مفہوم محض گیت گانے یا نعروں تک محدود نہیں۔ ایک ذمہ دار شہری کا کردار، قانون کی پاسداری، سماجی انصاف کے لیے جدوجہد، اور آئینی قدروں کا احترام—یہ سب حب الوطنی کے حقیقی مظاہر ہیں۔ اگر ریاست ان بنیادی پہلوؤں کو نظر انداز کر کے صرف علامتی اقدامات پر زور دے تو یہ ترجیحات کے عدم توازن کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایک مضبوط قوم وہی ہوتی ہے جہاں شہری شعور، انصاف، مساوات اور رواداری کو فروغ دیا جائے، نہ کہ محض رسمی علامات پر اکتفا کیا جائے۔
تعلیمی اداروں کا کردار بھی اس تناظر میں نہایت اہم ہے۔ یہ ادارے محض ہدایات کے نفاذ کا مرکز نہیں بلکہ فکری آزادی اور تنقیدی شعور کی آبیاری کے گہوارے ہوتے ہیں۔ اگر طلبہ کو کسی مخصوص عمل کے لیے مجبور کیا جائے تو اس سے ان کی فکری آزادی متاثر ہونے کا اندیشہ پیدا ہوتا ہے۔ تعلیم کا مقصد اطاعت پیدا کرنا نہیں بلکہ شعور بیدار کرنا ہے۔ اگر طلبہ کو یہ سکھایا جائے کہ وہ ہر حکم کو بغیر سوال کے قبول کریں تو یہ جمہوری تربیت کے اصولوں کے خلاف ہوگا۔ اس کے برعکس، اگر انہیں سوچنے، سمجھنے اور دلیل کے ساتھ اپنی رائے قائم کرنے کی تربیت دی جائے تو وہ بہتر شہری بن سکتے ہیں۔
یہاں یہ نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ ریاست اور شہری کے درمیان تعلق اعتماد پر قائم ہوتا ہے۔ جب ریاست اپنے شہریوں پر کسی عمل کو مسلط کرتی ہے تو یہ اعتماد کمزور پڑنے لگتا ہے۔ اس کے برعکس، جب ریاست شہریوں کو آزادی دیتی ہے اور ان کے شعور پر اعتمادکااظہارکرتی ہے تو وہ زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہی اعتماد جمہوری استحکام کی بنیاد بنتا ہے۔
حکومتوں کو چاہیے کہ وہ ایسے حساس معاملات میں نہایت احتیاط سے کام لیں۔ قومی علامات کا احترام ہر شہری کا فریضہ ہے، لیکن اس احترام کو لازمی احکامات کے ذریعے نافذ کرنا مناسب نہیں۔ ایک بالغ جمہوریت کی پہچان یہی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے اختلاف کو برداشت کرے اور ان کے ضمیر کا احترام کرے۔ جب ریاست اپنے شہریوں کے احساسات کو سمجھتی ہے تو اس کے فیصلے زیادہ قابلِ قبول ہو جاتے ہیں۔
المختصر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کسی بھی پالیسی کی کامیابی اس کی قبولیت میں مضمر ہوتی ہے، نہ کہ اس کی سختی میں۔ اگر حکومت واقعی قومی یکجہتی کو فروغ دینا چاہتی ہے تو اسے ایسے اقدامات اختیار کرنے چاہئیں جو دلوں کو جوڑیں، نہ کہ ذہنوں پر بوجھ بنیں۔ حب الوطنی ایک زندہ اور فطری جذبہ ہے، جو آزادی، احترام اور اعتماد کے ماحول میں پروان چڑھتا ہے۔ آئینِ ہند کی روح بھی یہی درس دیتی ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کو نہ صرف حقوق فراہم کرے بلکہ ان کے ضمیر، شناخت اور آزادی کا بھی احترام کرے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک مضبوط، متوازن اور ہم آہنگ جمہوری معاشرے کی حقیقی ضمانت فراہم کرتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے