कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

نہیں، میری غلطی نہیں ہے تو کس کی ہے؟

تحریر: محمد عادل ارریاوی
7 صفر المظفر 1448ھ

لڑکے نے آپ سے تصویر مانگی، آپ نے معمولی سی بات سمجھ کر دے دی۔ لڑکے نے نمبر مانگا، آپ نے مسکرا کر دے دیا۔ لڑکے نے ویڈیو کال کرنے کو کہا، آپ نے کر لی۔ لڑکے نے دوپٹہ ہٹانے کو کہا، آپ نے ہٹا دیا۔ لڑکے نے کچھ دیکھنے کی خواہش کی، آپ نے بخوشی پوری کر دی۔ لڑکے نے ملنے کو کہا، آپ ماں باپ کو دھوکا دے کر عاشق سے ملنے پہنچ گئیں۔ لڑکے نے باغ میں بیٹھ کر آپ کی جھوٹی تعریف کرتے ہوئے آپ کو سرسبز باغ دکھائے، آپ نے دیکھ لیے۔ پھر جوس کی دکان پر جوس پیتے وقت لڑکے نے ہاتھ لگایا، اشارے کیے، مگر کوئی بات نہیں، اب جدید دور ہے، یہ سب تو چلتا ہی ہے۔
پھر لڑکے نے ہوٹل میں کمرہ لینے کی بات کی، آپ نے جھوٹی مسکراہٹ کے ساتھ شرماتے ہوئے انکار کر دیا کہ شادی سے پہلے یہ سب اچھا تو نہیں لگتا نا، پھر دو تین بار کہنے پر آپ ہوٹل کے کمرے میں جانے کے لیے تیار ہو گئیں۔
آپ دونوں نے مل کر خوب انجوائے کیا، ایک دوسرے کے گرم بستر بن گئے، جھوٹی محبت کے نام پر دولہا دلہن بن گئے، بس بچہ پیدا نہ ہو، اس پر دھیان دیا۔
پھر ایک دن کسی بات پر جھگڑا ہوا اور سب ختم، کیونکہ حرام رشتوں کا انجام کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ ابتدا میں خوب مزے، سب کچھ ہو جانے کے بعد دھوکا ہوتا ہے۔ لیکن یہاں سراسر مرد غلط ہے، وہ بھیڑیا ہے، درندہ ہے، وہ مجرم ہے، وہ سب کچھ ہے۔
کیونکہ آپ نے تو تصویر نہیں دی تھی، وہ زبردستی آپ کے موبائل میں گھس کر تصویر لے گیا تھا۔
آپ نے تو اپنا نمبر نہیں دیا، وہ لڑکا خود آپ کے موبائل سے نمبر لے گیا تھا۔ آپ نے تو ویڈیو کال نہیں کی، وہ لڑکا خود آپ کے گھر پہنچ گیا تھا آپ کو لائیو دیکھنے۔ جوس کی دکان پر بھی وہ آپ کو زبردستی لے گیا تھا۔ ہوٹل کے کمرے تک بھی وہ آپ کو زبردستی آپ کے گھر سے لے گیا تھا۔ تو مجرم تو صرف لڑکا ہے، آپ تو بالکل بھی نہیں۔ بچی ہیں آپ، کوئی چار سال کی؟ آپ کو سمجھ نہیں آتی؟ اللہ نے آپ کو عقل نہیں دی؟ یہ کچرے میں پڑی لاشیں دیکھ کر بھی آپ کو عقل نہیں آتی؟ یہ بنا سر کے ملنے والے دھڑ آپ کی عقل پر کوئی چوٹ نہیں دیتے؟ یہ سوشل میڈیا پر آئے دن زیادتی کے بڑھتے ہوئے کیسز آپ کو کچھ نہیں بتاتے؟
جوس کی دکان پر جانا، اپنی برہنہ تصاویر کسی غیر مرد کو دے دینا، آپ کو نہیں پتا تھا کہ ایک ہوٹل کے کمرے میں یا چار دیواری میں جسموں کی پیاس بجھائی جاتی ہے، برہنہ ہو کر شرم کے چیتھڑے بکھیرے جاتے ہیں؟ سب پتا تھا آپ کو، سب پتا ہے آپ کو۔ ہوٹل کے کمرے میں محبت کے افسانے نہیں لکھے جاتے، وہاں دینی تعلیمات نہیں سیکھی جاتیں، وہاں کوئی عبادت کی درس گاہیں نہیں ہیں۔ وہاں پر کسی کی نظر نہیں جاتی، وہاں پر کوئی پوچھنے والا نہیں کہ کیا کر رہے ہیں، پھر شکوہ کہ نوجوانوں نے مل کر گروپ ریپ کر دیا۔
پھر کبھی یہ افسوسناک خبر بھی سننے کو ملتی ہے کہ چند دن بعد لڑکی کی لاش کسی ویران جگہ سے برآمد ہوئی یا وہ کسی سنگین جرم، دھوکے یا استحصال کا شکار ہو گئی۔ ایسے واقعات سن کر اور لڑکیوں کا یہ رویہ دیکھ کر غم، افسوس اور بے چینی ہوتی ہے، اس لیے خدا کے لیے وقتی جذبات، جھوٹی محبت اور شیطانی دھوکوں سے خود کو محفوظ رکھیں، کیونکہ ایک غلط فیصلہ بعض اوقات پوری زندگی کی پشیمانی بن جاتا ہے۔
میری بہنو! خدارا اللہ رب العزت کا خوف اپنے دلوں میں پیدا کیجیے، اپنی عزت، حیا اور وقار کی حفاظت کیجیے۔ اپنی زندگی کو سستی شہرت، ناجائز تعلقات اور گناہوں کی نذر مت کیجیے۔ اللہ رب العزت نے آپ کو بڑی عظمت اور عزت عطا فرمائی ہے، اس لیے اپنی قدر پہچانیے، اپنے والدین کے اعتماد کی حفاظت کیجیے اور ہر اس راستے سے دور رہیے جو گناہ، فریب یا نقصان کی طرف لے جاتا ہو۔
ہمیشہ یاد رکھیے کہ حقیقی کامیابی اللہ رب العزت کی اطاعت، حیا، پاکدامنی اور تقویٰ میں ہے۔ جو انسان اپنے رب کی حدود کی حفاظت کرتا ہے، اللہ رب العزت بھی اس کی عزت، جان اور آبرو کی حفاظت فرماتا ہے۔
اللہ رب العزت تمام مسلمان بہنوں اور بھائیوں کو دین کی صحیح سمجھ، حیا و عفت، نیک کردار اور صحیح فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہر قسم کے فتنوں، گناہوں، دھوکوں اور برائیوں سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے