कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

زمانہ طالب علمی اور فریبِ موبائل

تحریر:فضیل اختر قاسمی بھیروی
خادم التدریس دارالعلوم رحیمیہ پیلیر آندھراپردیش

نوجوان نسل کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتی ہے اور طالب علمی کا دور وہ زرخیز زمین ہے جہاں انسان کی تقدیر کا بیج بویا جاتا ہے۔ اس عہد میں کی گئی محنت آنے والی زندگی کی فصل کا تعین کرتی ہے۔ دورِ حاضر میں سائنس نے انسان کو بے شمار آسانیاں عطا کی ہیں، جن میں اسمارٹ فون بظاہر سب سے دلکش سوغات دکھائی دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ طالب علم کے نازک ہاتھوں میں یہ چھوٹی سی اسکرین ایک ایسا بے رحم جال بن چکی ہے جو اس کے خوابوں، توانائی اور یکسوئی کو خاموشی سے نگل رہی ہے۔
کتاب اور قلم سے رشتہ توڑ کر جب ایک نوخیز ذہن روشن اسکرین کی چکاچوند میں پناہ لیتا ہے، تو اس کی تخیلاتی پرواز سہم کر رہ جاتی ہے۔ موبائل فون کی ورچوئل دنیا ایک ایسا جادوئی سراب ہے جس میں قدم رکھنے والا گھنٹوں بے مقصد خاک چھانتا رہتا ہے۔طالب علم کا اصل سرمایہ اس کا وقت اور یکسوئی ہے، مگر اس چھوٹی سی ڈیوائس سے نکلنے والے غیر ضروری نوٹیفکیشن اس کی توجہ کے دھاگے بکھیر دیتے ہیں۔ کتاب کے اوراق پر جو علم صدیوں کی تحقیق کے بعد سمیٹا گیا تھا، وہ پسِ پشت چلا جاتا ہے اور ذہن مصنوعی ہیجان کے پیچھے بھاگنے لگتا ہے۔
علامہ اقبال نے نوجوانوں کو خودی، بلند خیالی اور جہدِ مسلسل کا جو درس دیا تھا، وہ اس بے معنی مصروفیات کی گرد میں دھندلا کر رہ گیا ہے۔ شاعرِ مشرق نے یوں ہی نہیں پکارا تھا:
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے اس کو اپنی منزل آسمانوں میں
مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسکرین پر انگلیاں پھیرتے رہنے سے عقابی روح بیدار ہو سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ یہ لت تو پرواز چھین کر ذہن کو قیدِ تنہائی میں ڈال دیتی ہے۔ طالب علم کا جسم ایک کمرے میں بند رہتا ہے اور روح ایسی خیالی دنیا میں سرگرداں ہوتی ہے جس کا حقیقت کی تلخیوں اور عملی زندگی کے معرکوں سے کوئی واسطہ نہیں۔
موبائل کی بے جا دلدادہ نسل آہستہ آہستہ گہری سوچ اور ٹھوس نتائج اخذ کرنے کی صلاحیت گنوا بیٹھتی ہے۔ حافظہ کمزور، طبیعت میں چڑچڑاپن اور نیند ادھوری رہ جاتی ہے۔ وہ انگلیاں جنہیں قلم کی نوک سنبھال کر تاریخ رقم کرنی تھی، وہ بے مقصد ویڈیوز اور بے روح گفتگو کی نذر ہو رہی ہیں۔ یہ عادت طالب علم کی تخلیقی صلاحیتوں کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔
علم و آگہی کا راستہ ہمیشہ ریاضت اور ضبطِ نفس مانگتا ہے۔ جو قومیں اپنے نوجوانوں کی توجہ کا تحفظ نہیں کر پاتیں، وہ آنے والے کل کی قیادت سے محروم ہو جاتی ہیں۔ اگر واقعی زندگی میں کوئی نمایاں مقام پانا ہے، اپنے والدین کی امیدوں کو جلا بخشنی ہے اور تاریخ میں اپنا نام چھوڑنا ہے، تو اس طلسمی آئینے کو ایک طرف رکھنا ہوگا۔ کتابوں کی خوشبو میں وہ سکون اور پختگی پوشیدہ ہے جو انٹرنیٹ کے کسی بھی رنگین صفحے پر کبھی دستیاب نہیں ہو سکتی۔
وقت اب بھی ہاتھ سے نہیں نکلا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ طالب علم اپنی ترجیحات کو پرکھے، اپنے روشن مستقبل کے لیے اس عادت کی زنجیریں توڑے اور علم کے اصل چشموں کی طرف لوٹ آئے۔ جب تک قربانی نہیں دی جائے گی، عظمت کا تاج سر پر نہیں سجایا جا سکتا۔ ذاتِ حق جل مجدہ ہمیں امت کے لیے نفع بخش بنائے۔ آمین یا رب العالمین

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے