कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مغربی بنگال کے نتائج: جمہوریت کی آزمائش اور چونکانے والا فیصلہ

از قلم: ڈاکٹر سید تابش امام
کاکو، جہان آباد
رابطہ:9934933992

مغربی بنگال کی سیاست ہمیشہ سے ہندوستانی جمہوریت کا ایک نہایت اہم اور حساس باب رہی ہے۔ یہاں انتخابی نتائج محض اقتدار کی تبدیلی کا اعلان نہیں ہوتے بلکہ قومی سطح پر سیاسی رجحانات، سماجی تقسیم اور جمہوری اداروں کی ساکھ کا آئینہ دار بھی ہوتے ہیں۔ حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج نے ایک بار پھر ملک بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی غیر متوقع اور حیرت انگیز کامیابی، جس کے تحت اس نے ۲۰۶ نشستوں پر فتح حاصل کرتے ہوئے پہلی بار ریاست میں حکومت سازی کی راہ ہموار کی، نہ صرف سیاسی مبصرین بلکہ عوامی حلقوں کے لیے بھی ایک بڑا سوالیہ نشان بن کر سامنے آئی ہے۔
یہ نتیجہ اس لیے بھی چونکانے والا ہے کہ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی)، جو گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے تک ریاست کی سیاست پر غالب رہی، ایک ایسی شکست سے دوچار ہوئی جس کی پیش گوئی نہ سیاسی تجزیہ نگاروں نے کی تھی اور نہ ہی عوامی سطح پر اس کا کوئی واضح عندیہ موجود تھا۔ اس کے برعکس انتخابی مہم کے دوران ٹی ایم سی کی مضبوط تنظیمی بنیاد، وسیع عوامی رابطہ مہم اور فلاحی اسکیموں کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے یہی تصور کیا جا رہا تھا کہ وہ ایک بار پھر اقتدار میں واپسی کرے گی۔ زیادہ سے زیادہ یہ اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ جیت کا فرق کم ہو سکتا ہے، لیکن اس کے برعکس بی جے پی نہ صرف دوتہائی اکثریت کے ساتھ کامیاب ہوئی بلکہ ٹی ایم سی ۸۰ سے بھی کم نشستوں تک محدود ہو کر رہ گئی۔
نتائج کے اعلان کے فوراً بعد وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی جانب سے شکست تسلیم کرنے سے انکار نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے نہ صرف الیکشن کمیشن بلکہ مرکزی ایجنسیوں اور پورے انتخابی نظام پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ انہیں سو سے زائد نشستوں پر منظم طریقے سے ہرایا گیا ہے۔ ان کا یہ مؤقف محض ایک سیاسی ردعمل نہیں بلکہ جمہوری عمل کی شفافیت پر ایک بڑا سوال بھی کھڑا کرتا ہے۔ ہندوستان جیسے وسیع اور متنوع جمہوری ملک میں انتخابی غیر جانبداری پر اس نوعیت کے الزامات یقیناً تشویش کا باعث ہیں۔
ممتا بنرجی کے بیان کے بعد ٹی ایم سی کی صفوں میں ایک طرح کی مزاحمتی سیاست کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔ پارٹی کی رکن پارلیمنٹ سیانی گھوش کا یہ اعلان کہ وہ سڑکوں پر رہ کر عوام کے ساتھ جدوجہد جاری رکھیں گی، اس بات کا اشارہ ہے کہ ٹی ایم سی اس شکست کو محض انتخابی ناکامی کے طور پر نہیں بلکہ ایک منظم سیاسی چیلنج کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ اس طرزِ عمل سے یہ خدشہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ریاست میں سیاسی استحکام متاثر ہو سکتا ہے اور احتجاجی سیاست ایک نئی شدت اختیار کر سکتی ہے۔
انتخابی نتائج کے بعد مختلف علاقوں میں پیش آنے والے تشدد کے واقعات اس اندیشے کو مزید تقویت دیتے ہیں کہ بنگال میں امن و امان کی صورتحال آنے والے دنوں میں ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان کشیدگی، کارکنان کی سطح پر تصادم اور عوامی اضطراب سےایک ایسے ماحول کا ظہور ممکن ہے جو نہ صرف ریاست بلکہ پورے ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس تناظر میں ریاستی اور مرکزی حکومتوں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ فوری طور پر امن و امان کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کریں اور عوام میں اعتماد پیدا کریں۔
اگر انتخابی نتائج کا سنجیدگی سے تجزیہ کیا جائے تو کئی ایسے عوامل سامنے آتے ہیں جو بی جے پی کی اس غیر معمولی کامیابی کی وضاحت کرتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم عنصر ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرِ ثانی (ایس آئی آر) کا عمل بتایا جا رہا ہے، جس کے تحت لاکھوں ووٹروں کے نام فہرست سے حذف کیے جانے کا الزام ہے۔ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ نہ صرف انتخابی شفافیت بلکہ شہری حقوق کے حوالے سے بھی ایک نہایت سنگین معاملہ ہوگا۔ جمہوریت کی بنیاد ہی اس اصول پر قائم ہے کہ ہر اہل شہری کو اپنے ووٹ کا حق حاصل ہو، اور اگر اس حق کو کسی بھی صورت میں محدود کیا جائے تو یہ جمہوری اقدار کی صریح خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔
یہ بھی مشاہدہ کیا گیا ہے کہ جن حلقوں میں بڑے پیمانے پر ووٹروں کے نام حذف کیے گئے، وہاں بی جے پی کی جیت کا مارجن نسبتاً زیادہ رہا۔ اس رجحان نے ان الزامات کو مزید تقویت دی ہے کہ ایس آئی آر کے ذریعے انتخابی عمل کو متاثر کیا گیا۔ تاہم اس حساس معاملے میں کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ناگزیر ہیں۔
دوسری جانب مسلم ووٹوں کی تقسیم بھی ایک اہم عنصر کے طور پر ابھری ہے۔ ہمایوں کبیر اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم) کے اتحاد نے جس طرح مسلم ووٹروں کو ورغلا کر اپنی جانب متوجہ کیا، اس کا براہ راست اثر ٹی ایم سی کے روایتی ووٹ بینک پر پڑا۔ نیز سیکولر جماعتوں کے آپسی اختلافات بھی بی جے پی کی جیت میں معاون ثابت ہوئی۔انتخابی سیاست میں ووٹوں کی معمولی تقسیم بھی نتائج کو یکسر بدل دیتی ہے، اور بنگال کے اس انتخاب میں یہی منظر دیکھنے کو ملا۔
خاص طور پر مسلم اکثریتی حلقوں میں بی جے پی کی کامیابی سے کئی سوالات ابھر کر منظر عام پر آئے ہیں ۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ یا تو ووٹوں کی تقسیم غیر معمولی سطح تک پہنچی یا پھر انتخابی حکمت عملی میں ایسی تبدیلیاں آئیں جنہوں نے روایتی سیاسی رجحانات کو بدل دیا۔ اس ضمن میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بعض جذباتی اور مذہبی نعروں نے انتخابی فضا کو متاثر کیا، جس کا فائدہ بالآخر بی جے پی کو پہنچا۔
مرشد آباد میں بابری مسجد کی تعمیر کے نام پر کیے گئے اعلانات اور سنگِ بنیاد جیسے اقدامات نے بھی انتخابی ماحول کو مذہبی رنگ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس طرح کے معاملات نہ صرف فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرتے ہیں بلکہ انتخابی سیاست کو ایک حساس اور خطرناک رخ پر لے جاتے ہیں۔ بنگال، جو طویل عرصے تک مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کی مثال رہا ہے، وہاں اس نوعیت کی سیاست کا فروغ ایک تشویشناک اشارہ ہے۔
اس کے باوجود یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ٹی ایم سی اپنے بنیادی ووٹروں کا اعتماد بڑی حد تک برقرار رکھنے میں کامیاب رہی۔ مرکزی دباؤ اور اپوزیشن کے انتشار کے باوجود پارٹی نے ایک مضبوط مزاحمت پیش کی۔ اگرچہ وہ اقتدار سے باہر ہو گئی، لیکن اس کی سیاسی حیثیت ختم نہیں ہوئی بلکہ ایک مؤثر حزبِ اختلاف کے طور پر ابھرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔
بی جے پی کے لیے یہ کامیابی یقیناً ایک تاریخی موقع ہے، لیکن اس کے ساتھ ذمہ داریوں کا بوجھ بھی غیر معمولی حد تک بڑھ گیا ہے۔ ایک ایسی ریاست میں جہاں لسانی، ثقافتی اور سماجی تنوع بہت گہرا ہے، وہاں حکومت چلانا محض اکثریت حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنے کا تقاضہ کرتا ہے۔ اگر بی جے پی واقعی بنگال میں اپنی جڑیں مضبوط کرنا چاہتی ہے تو اسے انتخابی کامیابی سے آگے بڑھ کر عوامی مسائل کے حل، روزگار، تعلیم، صحت اور سماجی ہم آہنگی پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔
مزید برآں، نئی حکومت کے لیے یہ بھی ناگزیر ہوگا کہ وہ ریاستی شناخت، ثقافتی حساسیت اور علاقائی خودمختاری کے احساس کا احترام کرے۔ بنگال کی سیاست محض اقتدار کی کشمکش نہیں بلکہ تہذیبی شعور سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر ان پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا تو عوامی ردعمل پیدا ہو سکتا ہے جو سیاسی عدم استحکام کو جنم دے گا۔
جمہوری نظام کی اصل روح اسی میں مضمر ہے کہ اقتدار کی تبدیلی کو خوش دلی سے قبول کیا جائے اور عوامی فیصلے کا احترام کیا جائے۔ اگر سیاسی جماعتیں نتائج کو تسلیم کرنے کے بجائے مسلسل الزامات اور احتجاج کی راہ اختیار کریں گی تو نہ صرف جمہوری ادارے کمزور ہوں گے بلکہ عوام کا اعتماد بھی متزلزل ہوگا۔ اسی کے ساتھ عدالتی نگرانی، میڈیا کی ذمہ دارانہ رپورٹنگ اور سول سوسائٹی کی بیداری بھی اس مرحلے پر نہایت اہم ہے تاکہ سچائی سامنے آ سکے اور افواہوں کی سیاست کو روکا جا سکے۔
بلا شبہ مغربی بنگال کے حالیہ انتخابات نے کئی بنیادی سوالات پیدا ہوئے ہیں مثلا کیا انتخابی عمل واقعی شفاف تھا؟ کیا ووٹر لسٹ کی نظرِ ثانی غیر جانبدارانہ تھی؟ کیا مذہبی اور جذباتی مسائل کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا گیا؟ اور سب سے اہم، کیا جمہوری اقدار پوری طرح محفوظ رہ سکیں؟
ان سوالات کے جوابات تلاش کرنا صرف سیاسی جماعتوں ہی نہیں بلکہ جمہوری اداروں، عدلیہ اور سول سوسائٹی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ شفاف تحقیقات، ادارہ جاتی احتساب اور کھلا عوامی مکالمہ ہی وہ راستے ہیں جن کے ذریعے جمہوریت کو مضبوط بنیادوں پر استوار رکھا جا سکتا ہے۔
ایسےمیں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مغربی بنگال کا یہ انتخاب محض ایک ریاستی الیکشن نہیں بلکہ ہندوستانی جمہوریت کے لیے ایک اہم امتحان ہے۔ اس کے نتائج اور اس کے بعد کے حالات آنے والے وقت میں ملکی سیاست کی سمت متعین کریں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام فریقین تحمل، سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تاکہ جمہوری نظام مضبوط ہو، آئینی اداروں پر اعتماد بحال رہے اور عوام کو یہ یقین حاصل ہو کہ ان کا ووٹ واقعی تبدیلی کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے