कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

لسانیاتی تنوع، لسانی حقوق، مصنوعی ذہانت اور دکنی ورثے کے تحفظ و ترجمہ پر اظہارِ خیال

ڈاکٹر امام احتشام الحق، منور علی مختصر، مولانا عبدالرحیم خرم عمری، جامعی اور ڈاکٹر ابو مظہر خالد صدیقی کا خطاب

حیدرآباد۔13/ اکتوبر (پریس نوٹ)سہ ہفتہ جشنِ ترجمہ2026ء کے تیسرے سیشن کا انعقاد پیر12 /اکتوبرکوجے آئی ایل ٹی کانفرنس ہال، حیدرآباد میں عمل میں آیا۔ پروگرام کی صدارت مولانا عبدالرحیم خرم عمری جامعی نے کی، جبکہ بین الاقوامی شہرت یافتہ آرٹسٹ جناب محمد عبد اللطیف فاروقی نے سرپرستی فرمائی۔ تقریب میں ڈاکٹر امام احتشام الحق، جناب منور علی، جناب راشد احمد، ڈائریکٹر ای بھاشا سیتو پرائیویٹ لمیٹڈ، اور جناب عبدالرشید، تلگو پنڈت و مترجم، نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ پروگرام کا آغاز شام سات بجے ابو مجاہد صدیقی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا اور رات نو بجے اختتام پذیر ہوا۔تقریب میں لسانی تنوع، لسانی حقوق، زبانوں کے اکتساب، مصنوعی ذہانت کے اثرات، ترجمے کی اہمیت اور دکنی تہذیبی و تاریخی ورثے کے تحفظ جیسے موضوعات پر اظہارِ خیال کیا گیا۔
ڈاکٹر امام احتشام الحق نے لسانی تنوع اور لسانی حقوق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مقامی سطح پر زبانوں کے مختلف لہجے اور صورتیں پائی جاتی ہیں، اس لیے آسان اور قابلِ فہم زبان کے استعمال کو فروغ دینا چاہیے۔ ان کے مطابق سادہ زبان کا استعمال کسی بھی زبان کے اکتساب کے عمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے امریکہ میں ترقی یافتہ اور کم ترقی یافتہ طبقات سے متعلق ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے زبان، تہذیب اور ثقافت سے مضبوط تعلق کی اہمیت اجاگر کی اور کہا کہ ان امور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے عربی زبان اور دیگر زبانوں کی بنیادی واقفیت کے لیے مختصر دورانیے کے اکتسابی پروگرام مرتب کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔
جناب منور علی، ٹیلی ویژن، ریڈیو اور اسٹیج کے فن کار، نے اردو زبان کی ترویج و بقا پر زور دیا۔ اپنے مخصوص دکنی اندازِ بیان میں انہوں نے سامعین کو اپنی زبان، تہذیب اور ماضی سے وابستہ رہنے اور زبان کے فروغ کو اپنی ذمہ داریوں میں شامل کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے اپنے بین الاقوامی اسفار کے تجربات بھی بیان کیے اور ان سے وابستہ دلچسپ واقعات کا تذکرہ کیا۔
صدارتی خطاب میں مولانا عبدالرحیم خرم عمری جامعی نے کہا کہ کسی بھی زبان میں موجود علم اور معلومات کو دوسری زبان تک منتقل کرنے کا سب سے اہم ذریعہ ترجمہ ہے۔ انہوں نے جے آئی ایل ٹی کی جانب سے گزشتہ پندرہ برسوں سے ترجمے کے میدان میں انجام دی جانے والی خدمات کو خوش آئند قرار دیا۔ بالخصوص دکنی زبان کے تراجم، عہدِ آصفیہ کے مختلف شعبوں میں استعمال ہونے والی قدیم قانونی دستاویزات کی تفہیم اور ترجمے کے کام کو غیر معمولی علمی و تحقیقی اہمیت کا حامل قرار دیا۔انہوں نے دکن کی تاریخ و تہذیب سے وابستہ سیاقِ دکن، فصلی کیلنڈر اور ابجدی اعداد کے نظام کو نئی نسل کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور ان موضوعات پر تحقیق کو اہم علمی کام قرار دیا۔
جے آئی ایل ٹی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ابو مظہر خالد صدیقی نے اردو زبان کے قدیم نصوص و متون کی رقمی تدوین اور محفوظ کاری کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے قطب شاہی اور عہدِ آصفیہ سے تعلق رکھنے والی قدیم کتابوں کو تلاش کرکے منظرِ عام پر لانے اور انہیں جدید ذرائع کے ذریعے نئی نسل تک پہنچانے کی ضرورت پر توجہ دلائی۔ انہوں نے دکنی زبان، قدیم کتب اور تاریخی دستاویزات کے تحفظ کو علمی و تہذیبی ورثے کی بازیافت کے لیے اہم قرار دیا۔جناب راشد احمد، ڈائریکٹر ای بھاشا سیتو پرائیویٹ لمیٹڈ، نے زبانوں اور لسانیات پر مصنوعی ذہانت کے مثبت اور منفی اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت سے خوف زدہ ہونے کے بجائے اسے ایک معاون وسیلے کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ زبان و ترجمہ کے شعبوں سے وابستہ افراد کو اپنے علم اور فنی مہارتوں کو جدید ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی سے ہم آہنگ کرنا چاہیے، تاکہ اس کے امکانات سے بھرپور استفادہ کیا جا سکے۔جناب عبدالرشید، تلگو پنڈت و مترجم، جنہوں نے اردو سے تلگو زبان میں تقریباً 43 کتابوں کا ترجمہ کیا ہے، نے مصنوعی ذہانت کے دور میں مستند معلومات کی تصدیق کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ ایسی قابلِ اعتماد حوالہ جاتی ویب سائٹ ہونی چاہیے جہاں مطبوعہ مواد کی صحت اور مستند ہونے کی جانچ کی جا سکے، تاکہ محققین، مترجمین اور قارئین کو قابلِ اعتماد معلومات تک رسائی حاصل ہو۔
پروگرام کے اختتام پر قدیم کتابوں کی ورق گردانی کی گئی اور ان کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر جناب محمد عبد اللطیف فاروقی کی مصوری کے نمونوں کی نمائش بھی منعقد ہوئی، جس سے شرکاء کو ان کے فن پاروں کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔
سہ ہفتہ جشنِ ترجمہ2026ء کے تحت منعقد ہونے والے یہ علمی و ثقافتی سیشن ترجمے کے فروغ، زبانوں کے درمیان روابط کے استحکام، مصنوعی ذہانت کے مؤثر استعمال اور دکنی تہذیبی و تاریخی ورثے کی حفاظت کے سلسلے کی ایک اہم کڑی ہیں۔
پروگرام کی انفرادیت اور علمی و تحقیقی اہمیت کے پیشِ نظر سہ ہفتہ جشنِ ترجمہ2026ء میں مزید ایک ہفتے کی توسیع کی گئی ہے۔ اس دوران قدیم کتابوں اور تاریخی دستاویزات کے ترجمے اور ان سے متعلق عملی امور کی نمائش بھی کی جائے گی۔ ان سرگرمیوں میں شرکت کے لیے کوئی فیس مقرر نہیں کی گئی ہے۔ مزید معلومات کے لیے 7396719556 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے