कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کیا ہمارا معاشرہ منافقت کی آماجگاہ بن چکا ہے

مذہبی شناخت، اخلاقی زوال اور انسانیت سے دور ہوتا ہوا سماج

از قلم: شیخ محمود علی
سابق لیکچرر و مصنف
8055402819

ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے مذہب کی ظاہری علامتوں کو تو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا ہے، لیکن مذہب کی اصل روح، یعنی سچائی، دیانت داری، عدل، رحم، انصاف اور انسان دوستی کو رفتہ رفتہ فراموش کرتے جا رہے ہیں۔ ہماری زبان پر خدا کا نام ہے، پیشانیوں پر سجدوں کے نشان ہیں، جسموں پر مذہبی وضع قطع نمایاں ہے، لیکن ہمارے معاملات میں جھوٹ، مکر و فریب، بددیانتی، خیانت، ظلم اور خود غرضی کی کوئی کمی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر مذہب ہمارے کردار کو بہتر نہیں بنا رہا، اگر ہماری عبادت ہمیں دوسروں کے حقوق کا احترام کرنا نہیں سکھا رہی، تو پھر ہماری مذہبیت کا حقیقی مفہوم کیا رہ گیا ہے؟
افسوس ناک صورتِ حال یہ ہے کہ بعض لوگ اپنے ہی رشتے داروں کے ساتھ ناانصافی کرتے ہیں، بھائیوں اور بہنوں کے حقوق دباتے ہیں، وراثت کی تقسیم میں بے ایمانی سے کام لیتے ہیں، لین دین میں وعدہ خلافی کرتے ہیں اور معمولی مفادات کی خاطر برسوں کے رشتوں کو پامال کر دیتے ہیں۔ بعض لوگ اپنے پڑوسیوں کے لیے تکلیف اور اذیت کا باعث بنتے ہیں، کمزوروں کا استحصال کرتے ہیں، غریبوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور اپنے ماتحت افراد کے ساتھ تحقیر آمیز سلوک کرتے ہیں۔ لیکن ان تمام رویوں کے باوجود انہیں اپنے مسلمان ہونے پر فخر ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف خود کو نیک سمجھتے ہیں بلکہ دوسروں کی دینداری کے فیصلے کرنے اور معاشرے کی قیادت کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا مسلمان ہونا محض ایک مذہبی شناخت کا نام ہے، یا یہ ایک اخلاقی ذمہ داری بھی ہے؟ اگر کوئی شخص نماز پڑھتا ہے لیکن اس کے ہاتھ سے دوسرے محفوظ نہیں، اگر وہ روزہ رکھتا ہے لیکن اس کی زبان جھوٹ، غیبت اور بہتان سے آلودہ ہے، اگر وہ حج کرتا ہے لیکن اپنے رشتے داروں کے حقوق غصب کرتا ہے، تو کیا اسے اپنے کردار کا احتساب نہیں کرنا چاہیے؟ عبادت اپنی جگہ اہم ہے، لیکن عبادت کے ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی بھی ناگزیر ہے۔ خدا کی بندگی کا دعویٰ کرنے والے انسان کو خدا کی مخلوق کے ساتھ اپنے رویے پر بھی غور کرنا چاہیے۔
مسجدیں آباد، مگر دل و کردار ویران!:
مسجدوں کو نمازیوں سے بھر دینا یقیناً قابلِ قدر عمل ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ مسجد سے باہر نکلنے کے بعد ہماری زندگی میں کیا تبدیلی آتی ہے؟ کیا نماز کے بعد ہماری زبان پہلے سے زیادہ سچی ہو جاتی ہے؟ کیا ہمارے کاروبار میں دیانت داری بڑھ جاتی ہے؟ کیا ہمارے گھروں میں عورتوں، بچوں، بزرگوں اور کمزور افراد کو زیادہ عزت ملنے لگتی ہے؟ کیا ہم دوسروں کے حقوق ادا کرنے میں زیادہ حساس ہو جاتے ہیں؟
اگر ان سوالوں کے جواب نفی میں ہیں تو ہمیں اپنی مذہبی زندگی کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔ مسجد کی رونق اسی وقت معاشرے کی اخلاقی رونق میں تبدیل ہو سکتی ہے جب عبادت انسان کے رویوں، فیصلوں اور معاملات میں بھی نظر آئے۔ سجدے میں جھکنے والا سر اگر کسی مظلوم کے حق کے سامنے جھکنے کو تیار نہ ہو، تو یہ ہمارے اخلاقی تضاد کی علامت ہے۔
یہ کہنا درست نہیں کہ عبادت بے معنی ہے؛ عبادت انسان کی روحانی زندگی کا اہم حصہ ہے۔ لیکن عبادت کو بددیانتی، ظلم اور استحصال کے جواز کے طور پر استعمال کرنا مذہب کی روح سے دوری ہے۔ ہمیں عبادت اور اخلاق کو ایک دوسرے کے مقابل نہیں، بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل سمجھنا چاہیے۔
حج اور عمرہ: روحانی سفر یا سماجی نمائش؟:
اسلام میں حج ایک عظیم فریضہ ہے، جو صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض کیا گیا ہے۔ عمرہ بھی ایک قابلِ قدر عبادت ہے۔ لیکن ایک اہم سماجی سوال یہ ہے کہ جب کوئی شخص بار بار عمرہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے، تو کیا اسے اپنے اردگرد موجود ضرورت مند انسانوں کی حالت پر بھی غور نہیں کرنا چاہیے؟
ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ موجود ہیں جو تین چار مرتبہ عمرہ ادا کرتے ہیں، مگر ان کے اپنے رشتے دار مالی مشکلات میں زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ کسی غریب کے گھر میں علاج کے لیے پیسے نہیں ہوتے، کسی مستحق بچے کی تعلیم محض مالی وسائل کی کمی کے باعث رک جاتی ہے، کسی بیوہ کے لیے گھر چلانا دشوار ہوتا ہے، اور کوئی ضرورت مند قرض کے بوجھ تلے دبا ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں صاحبِ ثروت انسان کو اپنے مال، اپنی ترجیحات اور اپنی سماجی ذمہ داریوں کا جائزہ ضرور لینا چاہیے۔
یہاں مقصد حج و عمرہ کی اہمیت کم کرنا نہیں، بلکہ عبادت کے ساتھ سماجی شعور پیدا کرنا ہے۔ اگر کسی شخص کے ذمے قرض ہے، اس نے کسی کا حق دبایا ہے، اس کے زیرِ کفالت افراد بنیادی ضروریات سے محروم ہیں، یا کوئی مستحق قریبی رشتہ دار شدید ضرورت میں ہے، تو ان ذمہ داریوں کو نظر انداز کرکے نفلی عبادات پر کثیر رقم خرچ کرنے کے فیصلے پر غور کرنا چاہیے۔ ہر معاملے کا شرعی حکم اس کے حالات کے مطابق ہو سکتا ہے، لیکن اخلاقی اصول واضح ہے: عبادت کے ساتھ انسانوں کے حقوق کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔
کیا یہ زیادہ مناسب نہیں کہ بار بار کے نفلی سفر کے بجائے، حالات کے مطابق، کسی غریب کے گھر میں راشن پہنچا دیا جائے، کسی مریض کا علاج کرا دیا جائے، کسی طالب علم کی فیس ادا کر دی جائے، کسی بیوہ کو باعزت طریقے سے مالی مدد فراہم کر دی جائے یا کسی مجبور رشتے دار کو خود کفیل بنانے میں تعاون کیا جائے؟ ایسی مدد محض خیرات نہیں، بلکہ معاشرے میں انسانی وقار کی بحالی کا ذریعہ بھی ہے۔
مذہبی قیادت اور کردار کا بحران:
معاشرے میں مذہبی رہنماؤں، واعظوں اور بااثر شخصیات کی ذمہ داری عام لوگوں سے زیادہ ہوتی ہے، کیونکہ لوگ ان کے اقوال کے ساتھ ان کے کردار کو بھی دیکھتے ہیں۔ اگر کوئی شخص دوسروں کو سچائی، عدل اور دیانت کا درس دے، لیکن اپنے ذاتی معاملات میں ان اصولوں کی خلاف ورزی کرے، تو اس کی بات کا اخلاقی اثر کمزور پڑ جاتا ہے۔
مذہبی قیادت کا معیار محض تقریروں کی گونج، پیروکاروں کی تعداد، مسجد کی رونق یا سماجی اثر و رسوخ نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا اصل معیار یہ ہے کہ اس کے زیرِ اثر معاشرے میں انصاف بڑھ رہا ہے یا نہیں، کمزوروں کو تحفظ مل رہا ہے یا نہیں، خواتین اور بچوں کے حقوق محفوظ ہیں یا نہیں، اور اختلاف کرنے والوں کے ساتھ مہذب رویہ اختیار کیا جا رہا ہے یا نہیں۔
ہمیں مذہبی شخصیات سمیت ہر انسان کو ایک ہی اخلاقی پیمانے پر پرکھنا چاہیے۔ کسی کے مذہبی لباس، عہدے یا شہرت کو اس کے احتساب سے بالاتر نہیں سمجھنا چاہیے۔ البتہ تنقید بھی دلیل، انصاف اور ذمہ داری کے ساتھ ہونی چاہیے، نہ کہ تہمت، تضحیک یا ذاتی دشمنی کی بنیاد پر۔
منافقت کا علاج دوسروں کا نہیں، اپنا احتساب:
معاشرتی منافقت کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ ہم دوسروں کی خامیاں دیکھنے میں بہت تیز اور اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے میں بہت کمزور ہو گئے ہیں۔ ہم دوسروں کی نماز، لباس، عقیدے اور مذہبی معلومات پر گفتگو کرتے ہیں، لیکن اپنے کاروبار، اپنے لین دین، اپنی وراثت کی تقسیم، اپنے گھریلو رویوں اور اپنے وعدوں کا احتساب نہیں کرتے۔
ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے سچ بولیں، مگر کبھی کبھی ان کے سامنے خود جھوٹ بول دیتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے رشتے دار ہمارے حقوق کا خیال رکھیں، لیکن ان کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ پڑوسی ہمیں عزت دیں، مگر خود ان کی تکلیفوں سے بے پروا رہتے ہیں۔ ہم معاشرے میں انصاف کے خواہش مند ہیں، لیکن جب ناانصافی سے ہمیں فائدہ پہنچتا ہے تو خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔
یہی دوہرا معیار ہمارے اخلاقی بحران کی جڑ ہے۔
معاشرے کی اصلاح کا آغاز دوسروں پر الزام لگانے سے نہیں، بلکہ اپنے طرزِ عمل کو درست کرنے سے ہوتا ہے۔ ہمیں یہ سوال دوسروں سے پہلے خود سے کرنا چاہیے کہ کیا میری کمائی حلال اور دیانت دارانہ ہے؟ کیا میں نے کسی کا حق دبایا ہے؟ کیا میرے کسی رویے سے کسی غریب، کمزور، پڑوسی یا رشتے دار کو تکلیف پہنچی ہے؟ کیا میں اپنے وعدوں کی پابندی کرتا ہوں؟ کیا میں اختلاف کے باوجود دوسروں کے وقار کا احترام کرتا ہوں؟
اگر ہم ان سوالوں کے سامنے دیانت داری سے کھڑے ہونے لگیں تو اصلاح کا ایک نیا راستہ کھل سکتا ہے۔
مذہب کی روح انسان دوستی ہے:
کسی بھی مذہبی معاشرے کی حقیقی کامیابی کا اندازہ اس کی عبادت گاہوں کی تعداد سے نہیں، بلکہ اس کے اخلاقی معیار سے بھی لگایا جانا چاہیے۔ مسجدیں آباد ہوں، لوگ نماز پڑھیں، روزے رکھیں، حج اور عمرہ ادا کریں، یہ سب اپنی جگہ قابلِ احترام اعمال ہیں۔ لیکن اسی کے ساتھ معاشرے میں جھوٹ کم ہو، دیانت بڑھے، انصاف عام ہو، رشتوں میں اعتماد پیدا ہو، پڑوسی محفوظ ہوں اور غریبوں کی زندگی میں آسانی آئے، تب مذہب کے اخلاقی اثرات زیادہ واضح طور پر سامنے آتے ہیں۔
ایک اچھا مسلمان ہونا صرف مذہبی شناخت کا اظہار نہیں، بلکہ دوسروں کے لیے قابلِ اعتماد انسان بننا بھی ہے۔ ایسا انسان جس کی زبان سے کسی کو نقصان نہ پہنچے، جس کے ہاتھ سے کسی کا حق پامال نہ ہو، جس کی موجودگی میں کمزور خود کو محفوظ محسوس کرے، اور جس کی دولت و حیثیت دوسروں کی محرومی کا سبب بننے کے بجائے ان کی مدد کا ذریعہ بنے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر مذہبی شخص منافق نہیں اور ہر عبادت گزار کا کردار خراب نہیں ہوتا۔ ہمارے معاشرے میں بے شمار ایسے لوگ بھی ہیں جو خاموشی سے غریبوں کی مدد کرتے ہیں، امانت داری سے زندگی گزارتے ہیں، رشتوں کا احترام کرتے ہیں اور کسی تشہیر کے بغیر انسانیت کی خدمت کرتے ہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہم ایسے کرداروں کو معاشرتی مثال بنائیں اور ظاہری نمائش کے بجائے عملی اخلاق کو اہمیت دیں۔
تجزیہ خدا کے سامنے سجدہ اور انسان کے سامنے انصاف
ہمیں ایک لمحے کے لیے رک کر سوچنا ہوگا کہ ہم کس قسم کا معاشرہ تعمیر کر رہے ہیں۔ ایسا معاشرہ جہاں مذہبی شناخت تو مضبوط ہو، لیکن انسانوں کے درمیان اعتماد کمزور پڑ جائے؟ جہاں عبادت گاہیں آباد ہوں، لیکن غریب انصاف کے لیے بھٹکتے رہیں؟ جہاں حج و عمرہ کے تذکرے عام ہوں، لیکن کسی مجبور رشتے دار کی مدد کے لیے ہاتھ آگے نہ بڑھیں؟ جہاں زبان پر خدا کا نام ہو، لیکن معاملات میں جھوٹ، ظلم اور خیانت کا غلبہ ہو؟
اگر یہ تضادات ہماری زندگی کا حصہ بن چکے ہیں تو ہمیں دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔
مذہب کا مقصد انسان کو بہتر انسان بنانا بھی ہے۔ عبادت ہمیں اپنے خالق سے وابستہ کرتی ہے، جبکہ عدل، دیانت، رحم اور حقوق العباد اس وابستگی کے اخلاقی تقاضوں کو ہماری زندگی میں نمایاں کرتے ہیں۔ ان دونوں میں توازن ہی ایک صحت مند مذہبی اور سماجی زندگی کی بنیاد ہے۔
یاد رکھیے، خدا کے سامنے جھکنا عبادت ہے، لیکن انسان کے حق کے سامنے انصاف کے ساتھ کھڑا ہونا بھی اخلاقی فرض ہے۔ مسجد کی صف میں کھڑا ہونا قابلِ احترام ہے، مگر زندگی کے معاملات میں سچائی، امانت اور انصاف کی صف میں کھڑا ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
ہمیں ایسے معاشرے کی ضرورت ہے جہاں لوگ صرف اپنے مسلمان ہونے کا دعویٰ نہ کریں، بلکہ اپنے کردار سے سچائی، دیانت اور انسان دوستی کا ثبوت بھی دیں۔ کیونکہ معاشرے کو محض مذہبی نعروں سے نہیں، بلکہ انصاف کرنے والے انسانوں سے بدلا جا سکتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے