कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

قوموں کے عروج اور زوال کے اسباب

تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی، پربھنی
9881836729
بذریعہ نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف، پربھنی

تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی قوم کے عروج، ترقی اور کامیابی کا سبب اس کے اپنے تہذیب و تمدن، علم و ادب، اور بہترین اخلاق کا مظاہرہ ہی رہا ہے۔ اور جو قومیں تنزلی اور (Demotion) زوال کا شکار رہی ہے علم کی عدم حصولی، تہذیب و تمدن کا فقدان، اور اخلاق کو پامال کرنا اس کا سبب بنا ہے۔ (Japan) جاپان ایک ترقی یافتہ ملک ہے، جس نے ہر زاویہ سے اپنی صلاحیت کو منوایا ہے، اور دنیا نے اس کا اعتراف بھی کیا ہے۔ امریکہ نے دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپان کے دو شہر ناگاساکی، اور ہیروشیما پر 1945 میں ایٹمی بم گرائے، جس کے نتیجہ میں جاپان کی معیشت کے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، ہزاروں افراد لقمۂ اجل بنے۔ ایٹم بم اتنے زہریلے تھے کہ آج بھی اس زمین پر ہریالی بھی نہیں اگتی۔ جاپان پر یہ قیامت صغریٰ سے کم نہ تھا۔ لیکن جاپان نے بدلہ لینے کے بجائے علم، ٹیکنالوجی، جدید (New invention) اختراعات، ایجادات، معیشت کو مستحکم کرنے کے ساتھ اپنی (identification) شناخت اور تہذیب کا دامن نہیں چھوڑا۔ اور اپنے آپ کی تعمیر نو میں مصروف رہا۔ یہی وجہ ہے کہ آج جاپان دنیا کا اڈوانس ٹیکنالوجی اور معیشت کا نمبر ون ملک ثابت ہوا۔ جاپان کے لوگ خود بھی خوش رہتے ہیں اور دوسروں کے چہروں پر (Smile) مسکان اور خوشی بکھیرتے ہیں، گویا کہ وہ اس حدیث کا عملی نمونہ بنتے ہیں جہاں پیغمبر اسلام نے یہ فرمایا کہ جو اپنے لیے پسند کرتے ہو وہ دوسروں کے لیے بھی پسند کریں۔ اخلاق (Moral values)، عاجزی (Modestly) اور انکساری سے پیش آتے ہیں، گویا کہ وہ اس حدیث جس نے عاجزی اختیار کی اللہ اسے بلند کرتے ہیں۔ جہاں لاکھوں روپیہ شاہراہ پر پڑا ہو، کسی کی مجال نہیں کہ کوئی اسے اٹھا لے۔ یہاں تک کہ وہ مالک تک نہ پہنچ جائے۔ گویا کہ وہ کسی کی امانت میں خیانت کرنا جرم عظیم سمجھتے ہیں۔ گویا کہ وہ قرآنی آیات اور حدیث پر عمل پیرا ہو۔ ایک دوسرے کو معاف کرنا اور بدلہ نہ لینا ان کے مزاج میں شامل ہے، گویا کہ وہ پیغمبر اسلام کی اس بات اور حدیث پر عمل کرتے ہوئے دید کو ملتے ہیں جہاں پیغمبر اسلام نے فرمایا۔ معاف کرنا (Forgiveness) بڑی دولت ہے، اور بدلہ نہ لینا اور خدائے برتر کے لیے چھوڑ دینا مومن کی علامت ہے۔ جہاں معمولی غلطی پر ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ (I am sorry) اور دوسرا کہے کہ نہیں میری غلطی (I am sorry) جہاں سیکنڈ میں مسئلہ کا حل ہو، جیسا کہ کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ وہ اپنے ذمہ داری اور کام کے تئیں اتنے وفادار اور ایماندار ہوتے ہیں کہ وزیر اعظم کو یہ اعلان کرنا پڑتا ہے کہ جاؤ اور اب آرام کرو۔ گویا کہ وہ راست اس حدیث (کلکم راع و کلکم مسئول عن رعییتہ) یعنی تم میں ہر ایک شخص ذمہ دار ہو، اور اپنی رعایا کے تئیں اللہ کے پاس جواب دہ ہو، عمل کر رہے ہیں۔ ٹرین اگر انہیں مطلوبہ وقت پر اور مطلوبہ اسٹیشن پر کچھ منٹوں کی تاخیر سے پہنچائے تو ریل انتظامیہ ٹکٹ کا پیسہ واپس کرتی۔ گویا کہ وہ کیے گئے وعدے کو خوب نبھاتے ہیں۔ اور غلطی ہو جائے تو معذرت طلب کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جاپان (Knowledge) علم، ٹیکنالوجی، معاشیات، اور اخلاقی اقدار میں سبقت کیے ہوئے ہیں۔ اس کا رزلٹ یہ کہ وہ دنیا کے ممالک میں صف اول کا ملک بنا ہوا ہے۔
جو قوم اپنی تہذیب، اپنے مورخ، اور اپنی زریں تاریخ کو فراموش کرتی ہے وہ تنزلی اور زوال کا شکار ہوتی ہے۔ میں نے ایک حدیث کا ذکر کیا ہے، کہ تم میں ہر شخص ایک ذمہ دار، رہنما، اور قائد کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور بروز حشر اس سے متعلق جواب دہ رہے گا۔ قوم کا ہر فرد اپنے معاشرے، سوسائٹی اور ملک کے قوانین کا پاسدار ہوتا ہے۔
(Nelson Mondela) نیلسن منڈیلا پیدائش 1918 جنوبی افریقہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی قوم کے خاطر اور (Racial Discrimination) نسلی امتیاز کے سدباب اور عدل و مساوات اور جمہوری حکومت کو قائم کرنے کے لیے جدوجہد کی۔ جس کی پاداش میں وہ کم و بیش 27 سال جیل میں قید رہے۔ نیلسن منڈیلا کو عظیم قائد کی روپ میں جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ جب وہ 11 فروری 1990 کو جیل سے رہا ہوئے تو پوری قوم اپنے قومی جھنڈے ہاتھوں میں تھامے ہوئے اپنے انقلابی ہیرو کے استقبال میں کھڑی تھی۔
علم، اخلاق، اور تہذیب یہ تینوں عناصر کے وجود سے ہی قومیں عروج اور ترقی کے راستہ پر گامزن ہوتی ہیں۔ اگر یہ تینوں بنیادی چیزیں نہ ہوں تو زوال اور تنزلی (Demotion) لازمی ہے۔ ویسے تو تاریخ میں کئی ایسی اہم شخصیات ہیں جنہوں نے علم، ادب، اخلاق، اور تہذیب سے اپنی اپنی قوموں کو عروج اور کامیابی بخشی۔ لیکن زندہ تاریخ کے سنہری پنوں پر دنیا کی اولین شخصیت آپ صلی اللہ وعلیہ وسلم، پیدائش 12 ربیع الاول (571) مکہ مکرمہ کی سنہری تاریخ رقم ہے۔ جنہیں خدائے برتر نے ساری دنیا کے لیے، عدل و انصاف، محبت و اخوت، بھائی چارگی، انسانیت نوازی، غم خواری، ہمدردی، اور رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ اور آپ کی یہ تعلیم سب سے پہلے اس دنیا پر آشکارہ ہوئی۔ اخلاق کو اسلام میں اتنی اہمیت اور افادیت حاصل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اور دوسری جگہ ہے۔ آپ نے فرمایا۔ میں اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہوں۔ اور سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی علم، تہذیب، اور اخلاق سے دین الٰہی اور مسلمانوں کو عروج تک پہنچایا۔
یہ بات طے ہے کہ کسی بھی قوم کے عروج کا سبب اخلاق حسنہ اور ادب و تہذیب پر منحصر ہے۔ اگر یہ عناصر کا فقدان ہو تو کوئی بھی کسی قوم کے زوال کو روک نہیں سکتا۔ تاریخ گواہ ہے، ماضی میں جو بھی قومیں زوال پذیر ہوئیں، اس کا سبب محض اخلاق کی پامالی اور تہذیب و تمدن کو مکدر کرنا۔ یہی ان کے ناکامی اور نامرادی کی وجہ اور سبب بنا۔ چنانچہ قرآن کریم میں ہے۔ اگر اللہ کے پاس کوئی دین محبوب ترین ہے تو وہ مذہب اسلام ہے۔ اور مزید ارشاد ہے، خدائے برتر نے فرمایا، تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے نفع رسانی کے لیے بنائی گئی ہے تاکہ بھلائی کا جس میں اخلاق حسنہ شامل ہے حکم دیں، اور برائی سے اجتناب کا حکم دیں۔
لیکن آج ہماری قیادت، ہماری رہنمائی، اور ہماری سیاست، صرف فیس بک کے نذر ہو گئی ہے۔ کام رائی برابر اور فیس بک پر پہاڑ جیسا پیش کرنا ہماری عادت بن چکی ہے، غریب کی مدد کرنا ہو تو اس کو فیس بک پر وائرل کرنا فرض عین سمجھتے ہیں۔ جس سے غریب کا وقار مجروح ہوتا ہے، اور ہم اس کو اس عمل سے شرمسار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جس سے لوگوں اور سماج کو کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچ پا رہا ہے۔
جو چیز سب سے زیادہ اہم اور معاشرہ اور سماج میں بہتری لانے والی ہے وہ "تعلیم” ہے۔ آج اسی کی کمی ہے۔ آج اگر ہم ہمارے معاشرہ اور قوم ملت کے تعلیم کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ہم اوروں سے حد درجہ پست ہیں۔ جو ہماری ناکامی کا بنیادی سبب ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے