कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

آئینہ خانہ:۲؍اکتوبر کا بخار، صفائی مہم اور کرنسی نوٹ والے گاندھی جی!

از : سید رشید اللہ حسینی ؍ اطہر کلیم احمد، ناندیڑ (مہاراشٹرا)

لیجیے جناب! 2 ؍اکتوبر کی شام ڈھلتے ہی ہماری قوم کا سرکاری اور سوشل میڈیا والاحب الوطنی کا سالانہ بخار اتر چکا ہے۔ 3 ؍تاریخ کی صبح ہوتے ہی پورا ملک کامیابی کے ساتھ واپس اپنی پرانی ’فیکٹری سیٹنگز‘ پر ’ری سیٹ‘ ہے۔ کھادی کے کپڑے، چرخے کی تصویریں اور صفائی مہم کے لیے خریدی گئی ’وی آئی پی جھاڑو‘ ڈرائنگ روم کے شوکیس میں واپس سجائی جا چکی ہے۔ آج چوراہوں پر نصب گاندھی جی کے مجسموں پر پڑی مالائیں سوکھ چکی ہیں، اور ہمارے بابائے قوم اطمینان کے ساتھ واپس ہماری جیبوں میں موجود کرنسی نوٹوں میں قید ہو گئے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ اب اس ملک میں ان کے لئے سب سے محفوظ اور باوقار جگہ وہی ہے۔ ہر سال 2؍ اکتوبر کو ہمارے ملک میں صفائی مہم کے نام پر کچرے کے ساتھ جو مذاق ہوتا ہے، وہ دنیا میں کہیں نہیں ہوتا۔ اس دن ہمارے نیتاؤں کو فوٹو سیشن کا ایسا دورہ پڑتا ہے کہ اگر سڑک پہلے سے صاف ہو، تو میونسپلٹی والے ٹریکٹر میں اسپیشل ’پریمیم کوالٹی‘ کا کچرا لاکر سڑک پر پھیلاتے ہیں۔ پھر نیتا جی اس جھاڑو کو اتنی نزاکت سے پکڑتے ہیں جیسے جھاڑو نہیں، کوئی غیر ملکی گٹار بجا رہے ہوں۔ کچرا بھی کنفیوز رہتا ہے کہ میں تو پہلے ہی ایک کنارے پڑا تھا، یہ مجھے ہوا میں اچھال اچھال کر دوبارہ کیوں بکھیر رہے ہیں؟ پچاس کیمروں سے کلک ہونے کے بعد اگلے دن اخبار کے فرنٹ پیج پر نیتا جی مسکرا رہے ہوتے ہیں، اور اسی دن دوپہر کو وہ اپنی چمچماتی فارچیونر گاڑی کا شیشہ نیچے کر کے سڑک پر گٹکھے کی ایسی پیک تھوکتے ہیں کہ پوری سڑک کا رنگ ’’اہنسا‘‘ کے خون سے لال ہو جاتا ہے۔ ہم نے صفائی کو اصول نہیں، ایک سالانہ ایونٹ مینجمنٹ بنا دیا ہے۔
اس ’سوچھ بھارت‘ ڈرامے میں ہمارے عوام بھی نیتاؤں سے دو ہاتھ آگے ہیں۔ ہمارا عام آدمی 2؍ اکتوبر کی صبح بڑے جوش و خروش سے اپنے گھر کا آنگن صاف کرتا ہے، کچرے کو بڑی نفاست سے سوپڑی میں جمع کرتا ہے، اور دائیں بائیں دیکھ کر بڑی مہارت سے اسے پڑوسی کے دروازے پر ڈال کر واپس آ جاتا ہے۔ ہمارا نوجوان کیلے کا چھلکا سڑک کے بیچوں بیچ پھینکتا ہے، اور پھر اسی سڑک پر کھڑے ہو کر سیلفی لیتا ہے جس کے نیچے کیپشن ہوتا ہے: ’’کلین انڈیا، گرین انڈیا‘‘۔ ہمارے ہاں لوگ دیواروں پر پیشاب کرنے کے بعد اسی گیلی دیوار پر کوئلے سے لکھ دیتے ہیں کہ ’’یہاں گندگی پھیلانا منع ہے‘‘۔ عوام اور خواص کی اس مشترکہ منافقت نے گاندھی جی کی صفائی مہم کا جو حشر کیا ہے، اس پر تو خود کچرا بھی شرمندہ ہے۔
ہمارے ہاں گاندھی جی سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ سرکاری دفتر کا بابو اور ٹریفک پولیس کا حوالدار ان کا سب سے بڑا اور سچا عاشق ہے۔ ہم گاندھی جی کے اصولوں پر چلیں نہ چلیں، لیکن 10 روپے سے لے کر 500 روپے تک کے نوٹوں پر چھپی ان کی مسکراتی ہوئی تصویر پر ہمارا ایمان انتہائی پختہ ہے۔ کسی بھی دفتر میں چلے جائیے، کلرک صبح ڈیسک پر بیٹھ کر قسم کھاتا ہے کہ جب تک وہ بابائے قوم کے مسکراتے ہوئے چہرے کا درشن نہیں کر لے گا، کسی سائل کی فائل کو ہاتھ نہیں لگائے گا۔ وہ عوام کو سچائی اور ایمانداری کا بھاشن تو دیتا ہے، لیکن جب تک میز کے نیچے سے گاندھی جی کی تصویر والاہرا نوٹ اس کے ہاتھ کو نہیں چھوتا، اس کے اندر کی ’’آتما‘‘ کو شانتی نہیں ملتی۔ ہم ان کے اصولوں کو ردی کی ٹوکری میں ڈال سکتے ہیں، لیکن بابائے قوم کو ہم نے رشوت کے لین دین کا سب سے معتبر ضامن بنا دیا ہے۔
ڈیجیٹل دنیا میں ہماری ’’اہنسا‘‘ (عدم تشدد) کا معیار بھی کمال کا ہے۔ ۲؍ اکتوبر کی صبح ہمارا نوجوان فیس بک پر بڑی عقیدت سے گاندھی جی کا قول شیئر کرتا ہے: ’’عدم تشدد ہی سب سے بڑا دھرم ہے‘‘، اور ٹھیک دس منٹ بعد ٹریفک سگنل پر کسی موٹر سائیکل والے سے ذرا سی ٹکر ہو جائے، تو اس کا گریبان پکڑ کر سڑک پر ایسا ڈرامہ رچاتا ہے کہ دیکھنے والے گاندھی جی کی بتائی ہوئی اہنسا کو بھول کر بغلیں جھانکنے لگتے ہیں۔ واٹس ایپ کے ان ڈیجیٹل جنگجوؤں نے سچائی کا بھی جو جنازہ نکالاہے، وہ دیکھنے لائق ہے۔ ہم وہ سچے لوگ ہیں جو اپنی پروفائل پکچر (DP) میں بھی تین بیوٹی فلٹر لگا کر خود کو گورا اور معصوم ثابت کرنے کا جھوٹ بولتے ہیں، اور اس تصویر کے نیچے کیپشن لکھا ہوتا ہے: ’’ستیہ میو جیّتے‘‘ (سچ کی ہمیشہ جیت ہوتی ہے)۔ عدم تشدد اب صرف ہمارے کی بورڈ پر زندہ ہے، عملی زندگی میں تو ہم کسی سے سیدھے منہ بات کرنے کو بھی اپنی توہین سمجھتے ہیں۔
لیکن ان سب سے ہٹ کر، ہمارے عوام کا اصل ’ستیہ گرہ‘ تو یکم؍ اکتوبر کی رات کو دیکھنے میں آیا تھا۔ چونکہ ۲؍ اکتوبر کو ملک بھر میں ’ڈرائی ڈے‘ (شراب کی دکانیں بند) ہوتا ہے، اس لیے یکم ؍تاریخ کی شام شراب کی دکانوں پر وہ قیامت خیز ہجوم اور دھکم پیل تھی، جسے دیکھ کر لگ رہا تھا کہ صبح کسی بیرونی ملک نے ہندوستان پر ایٹم بم گرانے کا اعلان کر دیا ہے اور عوام بنکروں میں چھپنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر راشن جمع کر رہی ہے۔ لوگوں نے جس طرح بوریاں بھر بھر کر بوتلیں ذخیرہ کیں، وہ ہماری ’قومی دور اندیشی‘ کا اعلیٰ نمونہ تھا۔ حقیقت یہی ہے کہ ہم نے گاندھی جی کو صرف کیلنڈر کی ایک سرکاری چھٹی، فوٹو سیشن اور کرنسی نوٹ تک محدود کر دیا ہے۔ اور سچ پوچھیے تو ۳؍ اکتوبر کی صبح پورا ملک یہی سوچ کر سکھ کا سانس لیتا ہے کہ چلو بھئی! بابائے قوم کی سالگرہ بخیر و عافیت گزر گئی، اب اگلے ایک سال تک نہ سچ بولنے کی ٹینشن ہے، نہ اہنسا کی فکر اور نہ ہی سڑکوں سے کچرا اٹھانے کا ڈرامہ۔ اب ہم پورے 364 دن پوری آزادی اور ڈھٹائی کے ساتھ اپنی ’اصلی اوقات‘ میں رہ سکتے ہیں!

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے