कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

قرآنِ کریم کی روشنی میں رات اور دن کا نظام اور اشکالِ قمر

از قلم : عارف محمد خان، جلگاؤں

قرآنِ مجید انسان کو کائنات میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ سورۂ یٰسین کی آیات 38 تا 40 میں اللہ تعالیٰ نے سورج، چاند، رات اور دن کے حیرت انگیز نظام کا ذکر نہایت جامع اور بلیغ انداز میں کیا ہے۔ یہ آیات نہ صرف اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں بلکہ جدید جغرافیہ اور فلکیات کے کئی حقائق کی طرف بھی رہنمائی کرتی ہیں۔
قرآنی آیات:
وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ (38)
وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ مَنَازِلَ حَتَّىٰ عَادَ كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ (39)
لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ ۚ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (40)
سورج کی حرکت اور اس کا نظام
آیت 38 میں بتایا گیا ہے کہ سورج ایک مقررہ راستے پر رواں دواں ہے۔ قدیم زمانے میں سورج کو ساکن سمجھا جاتا تھا، مگر جدید سائنس کے مطابق سورج بھی اپنی کہکشاں (Milky Way) میں ایک خاص رفتار سے حرکت کر رہا ہے۔ یہ حقیقت قرآن نے چودہ سو سال پہلے بیان کر دی، جو اس کی صداقت کی دلیل ہے۔
چاند کی منازل اور اشکالِ قمر
آیت 39 میں چاند کی مختلف منازل کا ذکر ہے۔ چاند ہر ماہ مختلف شکلوں سے گزرتا ہے جیسے:
ہلال (نیا چاند)، تربیع اول، بدر (پورا چاند)، اور پھر گھٹتے ہوئے آخر میں باریک لکیر کی صورت اختیار کر لیتا ہے، جسے قرآن نے "عرجون قدیم” (خشک کھجور کی ٹہنی) سے تشبیہ دی ہے۔
جغرافیائی و سائنسی وضاحت:
چاند خود روشنی پیدا نہیں کرتا بلکہ سورج کی روشنی کو منعکس کرتا ہے۔ زمین، چاند اور سورج کی باہمی پوزیشن کے بدلنے سے ہمیں چاند کی مختلف شکلیں نظر آتی ہیں، جنہیں Phases of the Moon کہا جاتا ہے۔ یہ ایک باقاعدہ نظام کے تحت ہوتا ہے۔
رات اور دن کا بننا
آیت 40 میں رات اور دن کے تسلسل کا ذکر کیا گیا ہے۔ جغرافیہ کے مطابق زمین اپنے محور (Axis) پر گھومتی ہے، جس کی وجہ سے زمین کا ایک حصہ سورج کے سامنے ہوتا ہے (دن) جبکہ دوسرا حصہ اندھیرے میں ہوتا ہے (رات)۔
قرآن میں "نہ رات دن سے آگے نکل سکتی ہے” کا مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں ایک مقررہ نظام کے تحت باری باری آتے ہیں، اور ان میں کوئی ٹکراؤ یا بے ترتیبی نہیں ہوتی۔
فلکی نظام کی ہم آہنگی
اسی آیت میں فرمایا گیا: "وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ” یعنی ہر ایک اپنے اپنے مدار میں تیر رہا ہے۔ جدید فلکیات کے مطابق سورج، چاند، زمین اور دیگر سیارے اپنے مخصوص مدار (Orbit) میں گردش کر رہے ہیں۔ یہ نظام انتہائی منظم اور متوازن ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے