कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

شرعی رقیہ ہر ‏بیماری کا علاج:قسط نمبر 8

مصنف: شیخ جاسم حسین العبیدلی
ترجمہ: ظفر ھاشمی ندوی
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

3- حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم ایک تبلیغی سفر میں تھے- دوران سفر کسی عرب قبیلہ میں تھوڑی دیر کے لئے رک گئے اور ان سے کھانے پینے کی کچھ مدد مانگی ( یاد رہے اس زمانہ میں کہیں ہوٹل یا کیفیٹیریا جگہ جگہ نہیں ہوا کرتاتھا- ان لوگوں نے انکار کر دیا- اتنے میں اس قبیلہ کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا- اس کے آرام کی ہر کوشش کا کوئی فائدہ نہیں ہوا- ان میں سے کسی نے کہا اس قافلہ کے پاس جاؤ شاید ان کے پاس کوئی دوا ہو- وہ لوگ صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس آئے اور کہا ائے قافلہ والو ہمارے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا ہے کیا تمہارے پاس کوئی دوا ہے؟ ایک صحابی نے کہا مگر ہم نے تم سے مدد مانگی تو تم نے انکار کردیا- بخدا جب تک تم کچھ دینے کا وعدہ نہیں کروگے میں علاج نہیں کروں گا- وہ لوگ بکریوں کی بڑی تعداد دینے پر راضی ہو گئے-
پھر وہ صحابی ان کے ساتھ گئے اور سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا تو وہ سردار ایسے ٹھیک ہو گیا جیسے رسیوں سے جکڑا ہوا تھا اور اب جیسے اسے کوئی تکلیف ہی نہیں تھی- ابو سعید فرماتے ہیں قبیلہ کے لوگوں نے اپنا وعدہ پورا کیا اور جن بکریوں کا وعدہ کیا تھا وہ انھیں حوالہ کیا- صحابہ میں سے کسی نے کہا پس میں تقسیم کر لیں لیکن جن صحابی نے دم کیا تھا انھو نے کہا ابھی مت کرو جب تک ہم نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس پہونچ کر ان کو بتائیں کہ کیا ہوا تھا پھر دیکھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کیا حکم دیتے ہیں – تمام صحابہ راضی ہو گئے- پ صلی اللہ علیہ وسلم نے سار واقعہ سن کر ان صحابی سے پوچھا تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ سورہ فاتحہ رقیہ بھی ہے- پھر فرمایا تم نے ٹھیک کیا- بکریاں آپس میں تقسیم کرو اور مجھے بھی اس میں سے ایک حصہ دے دو اور پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہنس پڑھے-( صحیح بخاری حدیث نمبر 2276)-
امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں دیکھیے اس دوا نے اس زخم پر کیسے اثر کیا اور اسے ایسے دور کیا جیسے کہ وہ زخم ہوا ہی نہ تھا- یہ سب سے آسان دوا ہے اگر کوئی بندہ سورہ فاتحہ سے دوا کا صحیح استعمال جانتا ہو- (مترجم: صحیح استعمال یہ ہے کہ علاج کے لئے سورہ فاتحہ پڑھنے والا ان صحابی کی طرح نمازوں کا پابند اور اور اسلام کے ہر حکم پر چلنے ولا بھی ہو،تبھی اثر ہوگا ورنہ نہیں) تو وہ شفا حاصل کرنے کے لئے عجیب و غریب تاثیر دیکھے گا- میں ُخود ایک مدت تک مکہ مکرمہ میں ٹھیرا تھا اور مختلف بیماریوں کا شکار ہوا- نہ کوئی طبیب یا ڈاکٹر نہ کوئی دوا بس میں خود سورہ فاتحہ پڑھ کر اپنا علاج کرتا رہا- اور اس کی عجیب و غریب تاثیر دیکھتا رہا- پھر کوئی درد کا مارا میرے پاس آتا تو میں اسے بھی یہی دوا بتاتا اور ان میں سے اکثر بہت جلد ٹھیک ہو جاتے- ( کتاب الدواء و الداء ص9)-
اہم ہدایت : شرعی رقیہ سے علاج کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ڈاکٹر کی دوا استعمال نہ کی جائے خصوصا جن لوگوں کو کوئی جسمانی بیماری ہو- بہتر یہ ہے کہ دونوں دوائیں استعمال کی جائیں- شرعی علاج اور ڈاکٹری علاج- نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جس طرح شرعی رقیہ ہمیں سکھایا ہے اسی طرح دواؤں سے علاج کی بھی تعلیم دی ہے-حضرت اسامہ بن شریک سے روایت ہے: نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اللہ کے بندوں دوائیں استعمال کیا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری دنیا میں نہیں بھیجی کہ جس کی دوا نہ ہو سوائے موت اور بڑھاپے کے ( رواہ احمد حدیث نمبر 18455, صحیح حدیث ہونے کی تاکید منجانب علامہ البانی ، انکی کتاب صحیح الجامع نمبر 2930)-

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے