कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

زندگی قیمتی کیوں ہے؟

تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی، پربھنی: 9881836729
بذریعہ نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

قرآنِ کریم میں اللہ رب العزت کا فرمان ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان سے یہ کہہ رہا ہے کہ کیا آپ نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ آپ یوں ہی پیدا کیے گئے ہیں؟ اور کیا آپ مرنے کے بعد اللہ کی طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے؟ اس دنیا میں روزانہ زندگی نمودار ہوتی ہے اور پھر موت آتی ہے، اس طرح یہ زندگی اور موت کا سلسلہ قیامت تک چلتا رہے گا۔ یہ سلسلہ ایک امتحان ہے اور ایک آزمائش۔ اللہ کی طرف سے اس امتحان میں پاس ہونے والے کی زندگی دنیا میں قیمتی اور خوبصورت، اور آخرت میں کامیابی کا ضامن ہے۔ وہ انسان جو آخرت کی زندگی سے غافل ہے اور دنیا کو ہی خوبصورت زندگی سمجھتا ہے، وہ وبال کے سوا کچھ نہیں۔
چنانچہ اللہ کا ارشاد ہے کہ مال اور دولت صرف دنیا کی زینت ہے، جبکہ زندگی کو خوبصورت اور کامیاب بنانے والی آخرت کی سوچ ہے۔ جس طرح ہم گرمی سے بچنے اور جسم کو راحت پہنچانے کے لیے فریج، کولر اور اے سی کا استعمال کرتے ہیں تاکہ ہمیں راحت اور ٹھنڈک محسوس ہو، کیا ہم نے کبھی قبر کی ٹھنڈک پانے کے لیے کوئی فکر کی ہے؟
اس ضمن میں ایک واقعہ تحریر ہے کہ ایک مرتبہ محی السنہ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق ہردوئی رحمۃ اللہ علیہ کو کہیں جانا تھا۔ حضرت کار میں بیٹھے، گرمی ہو رہی تھی۔ حضرت نے ڈرائیور سے کہا: اے سی چالو کر دو۔ چنانچہ اے سی چالو کر دی گئی لیکن حضرت کو اور گرمی محسوس ہونے لگی۔ انہوں نے ڈرائیور سے کہا: آپ کی اے سی شاید درست نہیں۔ تب ڈرائیور نے کہا کہ حضرت! کوئی کار کا شیشہ کھلا ہے، اسے بند کر دیں۔ جب شیشہ بند کر دیا گیا تو کار ٹھنڈی ہو گئی۔
اس پر حضرت نے بڑی اچھی، دل کو چھو لینے والی نصیحت فرمائی کہ اگر قبر میں ٹھنڈک اور راحت چاہتے ہو تو اپنے دل، دماغ اور کان کے شیشوں کو بند رکھو۔ یعنی کان سے برا نہ سنو، آنکھ سے کوئی غلط چیز نہ دیکھو اور دل میں کوئی غلط خیال نہ لاؤ۔
اسی لیے مومنوں اور مسلمانوں کی جانیں کتنی قیمتی ہیں کہ رب العزت نے اس ضمن میں فرمایا، جس کا مفہوم یہ ہے کہ خدائے برتر نے مسلمانوں اور ایمان والوں کی جانیں اور اموال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں تاکہ ان کو اس کے بدلے جنت عطا کی جائے۔ لیکن ہم نے تو مرنے اور جنت پانے کا خیال ہی ترک کیے ہوئے ہیں۔
آج تقریباً ہر انسان الگ زاویے سے زندگی کو قیمتی اور خوبصورت بنانا چاہتا ہے۔ کم و بیش ہر انسان اس دوڑ میں مصروف ہے کہ مال و زر کو کس طرح جمع کیا جائے۔ سیاسی شہرت اور منصب کی چاہت نے انسان کو خواہشوں کا غلام بنا دیا ہے۔ انسان ایک ایسی دنیا کے پیچھے دوڑا جا رہا ہے جس کو مردار قرار دیا گیا ہے، اور اس کے پیچھے دوڑنے والے کو کتے کے مانند قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ اس دنیا کی قیمت مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں۔
اللہ سے غافل انسان کی خواہشوں کا اختتام نہیں ہوتا۔ وہ مرتے دم تک مال، جھوٹی شہرت، عہدہ اور منصب کا طلبگار رہتا ہے۔ ان چیزوں کے حصول میں وہ اپنی پوری توانائی صرف کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ غیر اہلِ اقتدا کی چاپلوسی، خوشامد پسندی اور ان کے غیر رسمی رواج کو اپنانے اور ان کی مشابہت اختیار کرنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتا۔
اس طرح وہ اپنی اس قیمتی زندگی کو، جسے اللہ نے جنت کے بدلے خریدا ہے، دنیا کی طرف رواں دواں کر دیتا ہے، حالانکہ دنیا دھوکہ اور سراب ہے۔ زندگی اس لیے قیمتی نہیں کہ ہم زمانے کے ساتھ شانہ بشانہ چلیں اور زمانے کے لوگوں کی بری روش کو اپنائیں۔ زندگی اس لیے بھی قیمتی نہیں کہ آپ اختراعات اور ایجادات میں ترقی کریں اور اخلاقی اقدار کی دھجیاں اڑائیں۔
آج یہ دیکھ کر بڑا افسوس ہوتا ہے کہ ہماری قوم، جو دوسروں کی زندگیوں کو بہتر بنانے، اللہ اور رسولؐ کے احکامات کو عام کرنے، اور اسلامی تہذیب و ثقافت کے اثرات اور اس کے نقوش دنیا پر آشکار کرنے کے لیے بھیجی گئی تھی، آج اس کا فقدان نظر آتا ہے۔ نہ ہمارے پاس سچی قیادت ہے اور نہ ہی سچی رہنمائی، نہ سیاسی شعور ہے اور نہ ہی سیاسی بصیرت۔ ہمارے قائدین کی سیاست، قیادت اور رہنمائی صرف سوشل میڈیا پر خوب دکھائی دیتی ہے۔
اللہ نے موقع عنایت فرمایا تو آپ اللہ کے بندوں کی خدمت کریں، جو اپنی زندگی کو قیمتی بنانے کے مترادف ہے اور انسانیت کی خدمت کا سبب بھی۔ ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ایک بل سے دوبارہ نہیں ڈسا جاتا۔ ایک بار دھوکہ ہونے کے بعد دوبارہ اس راہ پر نہیں جاتا، لیکن آج ہم بار بار دھوکہ کھا رہے ہیں اور دھوکہ دے رہے ہیں۔ ہماری سیاست منفعت سے خالی نہیں، ہماری قیادت مطلب سے بھری ہوئی ہے، اور ہماری رہنمائی عہدہ اور منصب کے حصول کا ذریعہ بن چکی ہے۔
موت کو سمجھے ہیں غافل اختتامِ زندگی
ہے یہ شامِ زندگی، صبحِ دوامِ زندگی
دنیا و آخرت میں طلبگار ہیں تیرے
حاصل تجھے سمجھتے ہیں دونوں جہاں میں ہم

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے