कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

زمین:جانداروں کے لیے جائے قرار

تحریر : عارف محمد خان، جلگاؤں

زمین وہ عظیم نعمت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے جانداروں، خصوصاً انسان کے لیے ایک محفوظ اور پُرسکون مسکن بنایا۔ قرآنِ کریم میں بارہا زمین کو “قرار” (ٹھہرنے کی جگہ) اور “مہد” (بچھونا) قرار دیا گیا ہے، جو اس کی زندگی کے لیےموزونیت کو واضح کرتا ہے۔ جدید سائنس بھی اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے کہ زمین کا نظام نہایت متوازن اور زندگی کے لیے بہترین ہے۔
قرآنی آیات میں زمین کا تصورِ قرار
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
"أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهَادًا”
(سورۃ النبأ: 6)
ترجمہ: "کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا؟”
ایک اور مقام پر ارشاد ہے:
"اللَّهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَرَارًا”
(سورۃ غافر: 64)
ترجمہ: "اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو جائے قرار بنایا۔”
اسی سلسلے میں سورۃ النمل میں نہایت جامع انداز میں فرمایا گیا:
"أَمَّن جَعَلَ الْأَرْضَ قَرَارًا وَجَعَلَ خِلَالَهَا أَنْهَارًا وَجَعَلَ لَهَا رَوَاسِيَ وَجَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِزًا ۗ أَإِلَٰهٌ مَّعَ اللَّهِ”
(سورۃ النمل: 61)
ترجمہ: "بھلا وہ کون ہے جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس کے درمیان دریا جاری کیے اور اس میں پہاڑ رکھے اور دو سمندروں کے درمیان رکاوٹ بنائی؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؟”
اسی طرح ایک اور آیت میں فرمایا:
"وَالْأَرْضَ وَضَعَهَا لِلْأَنَامِ”
(سورۃ الرحمن: 10)
ترجمہ: "اور زمین کو اس نے مخلوق کے لیے رکھا۔”
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ زمین کو نہایت حکمت کے ساتھ جانداروں کے لیے ایک مکمل، متوازن اور پائیدار مسکن بنایا گیا ہے۔
سائنس کی نظر میں زمین کی خصوصیات:
جدید سائنسی تحقیق کے مطابق زمین کی کئی خصوصیات ایسی ہیں جو اسے زندگی کے لیے منفرد بناتی ہیں۔
1. مناسب فاصلہ (Habitable Zone)
زمین سورج سے ایک ایسے فاصلے پر واقع ہے جہاں درجہ حرارت معتدل رہتا ہے، جس سے پانی مائع حالت میں موجود رہ سکتا ہے۔
2. کششِ ثقل (Gravity)
زمین کی کششِ ثقل فضا کو برقرار رکھتی ہے، جو زندگی کے لیے ضروری ہے۔
3. فضائی نظام (Atmosphere)
زمین کا ماحول آکسیجن، نائٹروجن اور دیگر گیسوں پر مشتمل ہے، جو سانس لینے اور درجہ حرارت کے توازن میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
4. پانی اور دریاؤں کا نظام
جیسا کہ سورۃ النمل (61) میں ذکر ہوا، زمین میں دریا بہائے گئے ہیں۔ سائنسی طور پر یہ آبی نظام زندگی کے تسلسل، زراعت اور ماحولیاتی توازن کے لیے نہایت ضروری ہے۔
5. پہاڑوں کا کردار
قرآن میں پہاڑوں کو زمین کے استحکام کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ سائنس کے مطابق پہاڑ زمینی پلیٹوں کے توازن اور ماحولیاتی نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
6. گردش اور موسمی نظام
زمین کی گردش دن اور رات پیدا کرتی ہے، جبکہ جھکاؤ موسموں کی تبدیلی کا باعث بنتا ہے، جو زندگی کو متوازن رکھتا ہے۔
قرآن اور سائنس کا باہمی تعلق:
قرآنِ کریم نے زمین کو “قرار” یعنی ایک مستحکم اور موزوں جگہ قرار دیا، اور اس میں دریا، پہاڑ اور سمندری نظام کا ذکر کیا۔ آج سائنس بھی یہ تسلیم کرتی ہے کہ یہ تمام عناصر زندگی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
اگر زمین کے یہ نظام معمولی سا بھی تبدیل ہو جائیں تو زندگی کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمین کا موجودہ نظام انتہائی متوازن اور حکمت پر مبنی ہے۔
انسان کی ذمہ داری:
جب زمین کو اللہ تعالیٰ نے ایک بہترین جائے قرار بنایا ہے تو انسان پر لازم ہے کہ وہ اس کی حفاظت کرے۔ آلودگی، وسائل کا بے جا استعمال اور ماحولیاتی بگاڑ اس توازن کو متاثر کر رہے ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے