कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

انسانیت کا سبق ابھی باقی ہے

تحریر:فضیل اختر قاسمی بھیروی
خادم التدریس دارالعلوم رحیمیہ پیلیر آندھراپردیش

آدمی آدمی سے ملتا ہے
دل مگر کم کسی سے ملتا ہے (بشیر بدر)
علم کی دنیا وسیع ہے، کتابوں کے اوراق بے شمار ہیں، درس گاہیں آباد ہیں، زبانوں پر علوم و فنون کے چرچے ہیں، ذہنوں میں معلومات کا انبار ہے؛ مگر سوال یہ ہے کہ اس سب کے باوجود انسان کتنا انسان بن سکا؟ الفاظ کا ذخیرہ بڑھ گیا، استدلال کی قوت نکھر گئی، گفتگو میں فصاحت آگئی، مگر اگر دل میں نرمی نہ آئی، مزاج میں انکسار نہ پیدا ہوا، دوسروں کے دکھ کا احساس بیدار نہ ہوا اور اپنے نفس کے مقابلے میں آدمی نے جھکنا نہ سیکھا تو علم کی یہ ساری رونق کس دروازے پر جا کر دم توڑے گی؟
تعلیم کا حقیقی حسن یہ ہے کہ وہ انسان کے اندر ایک ایسا چراغ روشن کرے جس کی روشنی اس کے اپنے وجود تک محدود نہ رہے؛ اس سے اس کا معاملہ سنورے، اس کا اخلاق نکھرے، اس کی نگاہ پاکیزہ ہو، اس کی زبان شائستہ ہو، اس کے دل میں مخلوقِ خدا کے لیے خیر خواہی پیدا ہو اور اس کے قدم کسی دوسرے انسان کے لیے زحمت کے بجائے راحت کا سبب بنیں۔ کتاب انسان کو بہت کچھ بتا سکتی ہے، استاذ اسے بہت کچھ سکھا سکتا ہے، مگر انسانیت وہ سبق ہے جو زندگی کے برتاؤ سے مکمل ہوتا ہے۔ اسی حقیقت کو حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے نہایت جامع انداز میں بیان فرمایا۔ آپ فرماتے ہیں:
"میرے یہاں تو صرف ایک چیز سکھائی جاتی ہے اور وہ انسانیت ہے۔ کوئی بزرگی کو ضروری سمجھ رہا ہے، میں انسانیت و آدمیت کو ضروری سمجھتا ہوں، آدمی بننا ہو انسان بننا ہو تو یہاں آئیے۔ دیکھیے وضو نماز کے مقابلے میں کم درجہ رکھتا ہے مگر بدون نماز نہیں ہوتی، تو میں وضو کراتا ہوں۔ ہر جگہ کا مطلوب جدا ہے، یہاں کا مطلوب فنا ہونا ہے اور اسی کی تعلیم ہے جس کی نسبت فرماتے ہیں۔”
پھر فارسی کے ان اشعار سے اس کیفیت کو واضح فرمایا:
افروختن و سوختن و جامہ دریدن
پروانہ زمن، شمع زمن، گل زمن آموخت
یہ چند الفاظ ایک پورا تربیتی نظام اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ انسانیت تو اپنے نفس کی سرکشی کو توڑنے، اپنی خواہشات کو قابو میں رکھنے، دوسروں کے حقوق پہچاننے، اپنی ذات کے حصار سے باہر نکلنے اور خیر کو اپنے وجود کی طبیعت بنانے کا نام ہے۔ جس شخص نے عبادت کی صورتیں سیکھ لیں مگر بندوں کے ساتھ حسنِ معاملہ نہ سیکھا، جس نے علمی اصطلاحات یاد کرلیں مگر کسی دل کی ٹوٹ پھوٹ محسوس نہ کی، جس نے اپنی اصلاح کے قصے بہت سنے مگر اپنے رویے سے کسی دوسرے کو مسلسل اذیت پہنچائی، اسے ابھی اس راستے کا بنیادی سبق باقی ہے۔
انسانیت کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو مرکزِ کائنات سمجھنا چھوڑ دے۔ ہر اختلاف میں اپنی بات کو آخری بات نہ سمجھے، ہر مجلس میں اپنی برتری تلاش نہ کرے، ہر کامیابی کو اپنی قابلیت کا ثمر نہ جانے اور ہر ناکامی کا بوجھ دوسروں کے کندھوں پر نہ رکھے۔ وہ یہ جان لے کہ دل توڑنا آسان ہے، دل جوڑنا مشکل؛ زبان سے زخم دینا سہل ہے، زخم پر مرہم رکھنا دشوار؛ کسی کو حقیر سمجھ لینا ایک نظر کا کام ہے، کسی کی عزتِ نفس کی حفاظت کرنا مسلسل مجاہدہ چاہتا ہے۔ انسانیت کا حسن اس وقت نمایاں ہوتا ہے جب اختیار ہاتھ میں ہو اور انتقام کا موقع سامنے ہو، مگر انسان درگزر کو ترجیح دے؛ جب کسی کمزور پر گرفت کا پورا امکان ہو، مگر دل میں رحم جاگ اٹھے؛ جب کسی کی لغزش سامنے آئے، مگر اپنی لغزشیں یاد آکر زبان کو خاموش کردیں۔ اصل تربیت وہیں شروع ہوتی ہے جہاں انسان اپنے لیے آسانی اور دوسرے کے لیے انصاف چاہتا ہے، اپنے عیبوں کے لیے عذر تلاش کرنے کے بجائے دوسروں کے عیوب کے لیے پردہ پوشی کا راستہ اختیار کرتا ہے۔
آج تعلیم یافتہ معاشرہ اپنی کامیابیوں پر نازاں ہے۔ عمارتیں بلند ہیں، ذرائع ابلاغ تیز ہیں، معلومات کی رسائی وسیع ہے، گفتگو کے ذرائع بے شمار ہیں؛ مگر انسانی دل اگر تنگ ہوجائے، رشتوں میں مروّت کم ہوجائے، بزرگوں کے لیے وقت نہ بچے، چھوٹوں کے لیے شفقت نہ رہے، پڑوسی کی تکلیف بے خبری میں گزر جائے اور کسی ضرورت مند کی آہ ہمارے معمولات میں کوئی ارتعاش پیدا نہ کرے تو ترقی کی یہ ساری داستان اپنے اندر ایک خاموش شکست لیے پھرتی ہے۔ انسانیت کا سب سے خوب صورت پہلو یہ ہے کہ یہ انسان کو اس کی اپنی ذات سے نکال کر دوسروں کے دکھ تک لے جاتی ہے۔ وہ کسی بھوکے کے سامنے کھانا دیکھ کر صرف اپنا پیٹ نہیں سوچتا، کسی غم زدہ کو دیکھ کر اپنے اطمینان پر ناز نہیں کرتا، کسی شکست خوردہ کو دیکھ کر اس کی کمزوری کا مذاق نہیں اڑاتا۔وہ جانتا ہے کہ ہر چہرے کے پیچھے ایک داستان ہے، ہر خاموشی کے اندر ایک درد ہوسکتا ہے اور ہر مسکراہٹ کے پیچھے چھپا ہوا غم ہماری نگاہ سے اوجھل ہوسکتا ہے۔ اسی لیے انسان بننے کا سفر کسی ایک درس، کسی ایک کتاب یا کسی ایک مجلس میں مکمل نہیں ہوتا۔ یہ تو عمر بھر کی تربیت ہے۔ کبھی خاموش رہ کر، کبھی معاف کرکے، کبھی اپنی خواہش قربان کرکے، کبھی کسی کا ہاتھ تھام کر، کبھی کسی کی عزت بچا کر اور کبھی اپنی بات واپس لے کر انسان اپنے اندر کے انسان کو زندہ کرتا ہے۔
علم اگر انسانیت تک نہ پہنچائے تو وہ ذہن کو روشن کرکے کردار کو تاریک چھوڑ سکتا ہے؛ عبادت اگر اخلاق میں جلوہ گر نہ ہو تو اس کی تاثیر ادھوری رہ جاتی ہے؛ اور بزرگی اگر انسان کو عاجزی سے محروم کردے تو وہ بزرگی نہیں، نفس کی ایک نئی صورت ہے۔ اصل کمال یہ ہے کہ انسان جتنا اوپر اٹھے، اتنا ہی جھکے؛ جتنا جانے، اتنا ہی اپنے کم علم ہونے کا احساس کرے؛ جتنا اختیار پائے، اتنا ہی کمزوروں کے لیے نرم ہوجائے۔
حکیم الامت کے مذکورہ ارشاد کی معنویت اسی مقام پر پوری طرح آشکار ہوتی ہے کہ انسان کی تعمیر باہر سے نہیں، اندر سے ہوتی ہے۔ لباس بدلنے سے مزاج نہیں بدلتا، الفاظ بدلنے سے کردار نہیں بدلتا، مقام بدلنے سے طبیعت نہیں بدلتی۔ جب تک نفس کی سختی پگھلے نہیں، دل میں رحم پیدا نہ ہو، دوسروں کے حقوق کا احساس بیدار نہ ہو اور آدمی اپنے وجود کو خیر کا وسیلہ بنانے کی فکر نہ کرے، اس وقت تک تربیت کا سفر اپنی منزل تک نہیں پہنچتا۔ آخرکار انسان اپنے علم، منصب، شہرت اور ظاہری امتیازات سے زیادہ اپنے برتاؤ سے پہچانا جاتا ہے۔ لوگ یہ بھول سکتے ہیں کہ ہم نے کیا کہا تھا، مگر یہ نہیں بھولتے کہ ہمارے ساتھ رہ کر انہیں کیسا محسوس ہوا تھا۔ کسی کے لیے ہماری ایک نرم بات برسوں کی تلخی کم کرسکتی ہے، کسی کے لیے ہماری ایک بے احتیاطی عمر بھر کا زخم بن سکتی ہے۔ اس لیے انسانیت وہ دولت ہے جو کسی خزانے میں نہیں ملتی؛ اسے کردار میں پیدا کرنا پڑتا ہے، اخلاق میں پروان چڑھانا پڑتا ہے اور معاملات میں ثابت کرنا پڑتا ہے۔
شاید زندگی کا سب سے بڑا سوال بھی یہی ہے کہ ہم نے کتنا جانا نہیں، بلکہ یہ کہ جو کچھ جانا اس سے ہمارے اندر کتنا انسان پیدا ہوا۔ اگر ہمارے علم سے دل نرم ہوا، عبادت سے مزاج سنورا، صحبت سے کردار نکھرا اور ہمارے وجود سے کسی دوسرے انسان کو امن، احترام اور آسودگی نصیب ہوئی تو سمجھنا چاہیے کہ تعلیم نے اپنا حق ادا کیا۔ ورنہ کتابیں الماریوں میں رہ جاتی ہیں، الفاظ حافظے میں محفوظ رہتے ہیں اور انسان اپنے اندر کے انسان سے بے خبر دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے۔ اسی لیے انسانیت کوئی اضافی خوبی نہیں؛ یہی تربیت کی روح، علم کی خوشبو اور کردار کی اصل پہچان ہے۔ انسان کو آدمی بنانا آسان نہیں، اس کے لیے نفس کی گرد جھاڑنی پڑتی ہے، خواہشات کی تندی کو قابو کرنا پڑتا ہے، دل کو دوسروں کے درد کے لیے کھولنا پڑتا ہے۔ جس دن انسان اپنے وجود سے کسی دوسرے انسان کے لیے خیر پھوٹتے ہوئے محسوس کرے، اسی دن اس کی تعلیم نے معنی پانا شروع کیے؛ اور جس دن وہ اپنی ذات سے آگے بڑھ کر کسی دل کی حفاظت کو اپنی کامیابی سمجھ لے، اسی دن وہ صرف صاحبِ علم نہیں رہتا، انسان بن جاتا ہے۔
وہی انسان ہے جو دوسروں کے کام آئے
وگرنہ آدمی تو آدمی ہے ہر کوئی
18 اگست 2026ء بروز منگل

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے