कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

تہذیب و ثقافت کا گرتا معیار اور ہمارا رویّہ

تحریر: فیروز ہاشمی

موجودہ دور میں جس تیزی سے سماجی رویّہ میں بدلاؤ گراوٹ کی شکل میں آیا ہے وہ شاید پہلے کبھی نہیں ہوا۔ تہذیبیں بدلیں، ثقافتی معیار بدلا، لیکن تنزلی اتنی نہیں آئی تھی جتنی کہ اب آ چکی ہے۔ جب کہ آج کے دور میں سہولتوں اور ذرائع کی بہتات ہے۔ اس کے باوجود ہمارا سماجی رویّہ نہایت ہی خودغرضانہ ہو چکا ہے۔ جس کے نقصانات تعلیم و تعلّم، تعلقات، معاملات کے علاوہ دیگر شعبۂ حیات میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
اکثر کہا جاتا رہا ہے کہ
’’اردو زبان ہماری مذہبی اور تہذیبی شناخت، ادبی روایت اور علمی ورثے کی ایک اہم علامت ہے۔ یہ زبان صدیوں تک علم و ادب صحافت اور تدریس کا مؤثر ذریعہ رہی اور موجودہ دور میں اردو زبان اپنی وسعت لچک اور ادبی حسن کے باعث ہر دور میں نئے موضوعات کو سمیٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔‘‘
تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج ہماری علمی شناخت کس معیار پر پہنچ چکی ہے؟ اس کی بھی وضاحت ضروری ہے۔ جب سائنسی و تکنیکی ایجادات و اصطلاحات کی بات آتی ہے تو عرصے سے یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اردو زبان اس میدان میں پیچھے رہ گئی ہے۔ کیوں کہ علمی اور عملی حقیقت حال یہ ہے کہ سائنسی و تکنیکی اصطلاحات موجود ہونے کے باوجود ہم اسے برتنے میں پیچھے رہ گئے۔ حالاں کہ نئی اصطلاحات بنائی بھی جا سکتی ہیں لیکن ہمارے اوپر انگریزی کا ایسا رعب برپا ہو چکا ہے کہ ہم اس زبان کے غلام بن کر رہ گئے ہیں اور علمی میدان ایک طرح سے مال کمانے کا ذریعہ تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ اکثر علماء کرام اور پڑھے لکھے لبرل خاندانوں کا رویّہ تہذیب و تمدن سے بے میل دکھائی دیتا ہے۔ اور اکثر طبقہ ایک فریم میں زندگی گزارنے کا عادی بھی بن چکا ہے۔
اُردو طرزِ تعلیم خصوصاً کالج اور اعلیٰ تعلیمی سطح پر زوال کا شکار ہے۔ یہ زوال صرف تعلیمی نظام تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات ہماری سماجی نفسیات اور اجتماعی رویّوں پر بھی واضح طور پر نظر آتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ عمومی طور اردو سے جڑے ہوئے لوگ بھی اپنی نسل کو اردو پڑھانے سے گریز کر رہے ہیں۔ اُردو کے دعویدار خود اردو کو کس طرح درگور کر رہے ہیں اُس کی ایک مثال ’’احمد علوی‘‘ کے اِن اشعار میں ملاحظہ فرمائیں؛
بجاتے ہیں ہراک محفل میں یہ شہنائی اردو کی
کہ ساری عمر کھائی ہے فقط بالائی اردو کی
پروفیسر یہ اردو کے جو اردو سے کماتے ہیں
اسی پیسے سے بچّوں کو یہ انگریزی پڑھاتے ہیں
ہماری مذہبی کتابیں اب اُردو اور عربی زبان کے بجائے ہندی یعنی دیوناگری خط میں شائع کی جا رہی ہیں۔ حالاں کہ دیوناگری میں اشاعت کوئی معیوب عمل نہیں ہے۔ لیکن اپنی پہچان کو دھندلا کرنا بھی تو اچھا عمل نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے لوگ اب عربی سے بھی دور ہوتے جا رہے ہیں کیوں کہ عربی، اردو دونوں ہی زبانیں لکھنے اور پڑھنے کے اعتبار سے زیادہ قریب ہیں، بہ نسبت دوسری زبانوں کے۔ پھر بھی یہ ہماری کتنی بڑی کم نصیبی ہے کہ ایک سو خاندان پر بھی ہم ایک پرائمری درجہ تک کی تعلیمی ادارے کھولنے اور چلانے کے اہل نہیں بن پائے۔ ہم کیوں نہیں اپنے بچّوں کے لیے دینیات اور عصری تعلیم کے ساتھ ابتداء تا پانچویں درجہ تک کی تعلیم کا بندوبست کر پائے؟
اِس وقت جب تہذیب تمدن کی بات کی جائے گی تو دیکھ لیجیے کہ ہم کسی کے نیک اور پرہیزگار ہونے کے لیے نمازی ہونا اوّلین علامت سمجھتے ہیں۔ جب کہ اگر عبادات کی بات کی جائے تو کیا ’’نماز‘‘ سے ہماری زندگی بدل رہی ہے؟ …جب کہ قرآن میں کہا گیا کہ کہ نماز فحش اور منکرات سے روکتی ہے۔ … کیا ہم نے وقت پر کام کرنا سیکھ لیا ہے؟ …جب کہ قرآن میں کہا گیا ہے کہ نماز وقت مقررہ پر فرض کیا گیا ہے۔ … کیا ہم نے زکوٰۃ و صدقات اسی طرح ادا کرنا سیکھ لیا ہے جس طرح سے ہمیں حکم دیا گیا ہے؟ جب کہ حکم کے تحت یہ فرض ہونے پر میل یا گندگی کی طرح اسے نکال پھینکنا ضروری ہے۔ … ہمارا اکثر طبقہ اسے سنبھال کر رکھے ہوتے ہیں۔ …فرائض کا احساس دل و دماغ سے جاتا رہا ہے۔ …
شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے مالدار طبقہ اور اکثر لوگ اپنی پچاس سال کی محنت کی کمائی عمر کے آخری پانچ برسوں میں بہتر زندگی کی خواہش لیے اسپتالوں میں دے کر گزر جاتے ہیں، …یا جسمانی طور پر اپاہج ہو کر بستر پر زندگی گزارتے ہیں، …یا مساجد میں کرسیوں پر بیٹھ کر نماز کی ادائیگی کرتے ہیں، وہ بھی صفوں کے درمیان۔ …ذہنی اور جسمانی طور پر اپاہج ہونے کے باوجودہ دل و دماغ سے اکڑ نہیں جاتی۔ …
ایسا لگتا کہ وہ اللہ کے سامنے عاجزی نہیں بلکہ اپنی شان دکھانے جاتے ہیں۔ …
ایسا ہی کچھ رویّہ مالدار حاجیوں اور عمریوں میں نظر آتا ہے۔ …حاجی، نمازی، زکاتی، سب طرح کے لوگ ہمارے معاشرے میں موجود ہیں، …لیکن اُن کے طریقہ سے رواداری کی جھلک دکھائی نہیں دیتی۔ …یا صرف خودغرضی اور مطلب ہی تک دوستی اور تعلقات قائم ہوتے ہیں۔
اکثر طبقہ تعلیم اور دین کے بنیادی معلومات کو پس پشت ڈال چکے ہیں یا *تبرکاتی* تعلیم پر منحصر ہو چکے ہیں۔ تعلیم کے سلسلے میں ہمیں وراثت میں ایک سوچ ملی ہوئی ہے کہ مسلمانوں کو نوکری تو ملتی نہیں، تو پڑھ لکھ کے کیا کریں گے؟ یا کوئی خاص توجہ نہیں دیتے۔ …
اب ہم تبرکاتی تعلیم سے ہی اپنے آپ کو بہت بڑا عالم، فاضل یا قابل سمجھ لیتے ہیں۔ اور اسی کو تعلیم کا معراج سمجھ چکے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ مسلمان دینی ادارہ کے تعلیم یافتہ بے روزگار نہیں ہوتے، لیکن اکثریت شاکی اور غیر مطمئن ضرور ہوتے ہیں۔
مسجد اور ابتدائی تعلیم یعنی ناظرۂ قرآن مجید اور حفظ پر توجہ دیتے ہیں، لیکن وقت اور سرمایہ زیادہ خرچ کر دیتے ہیں۔ پورے ملک میں بہت کم ایسے ادارے ہوں گے جہاں ابتدائی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کا بندوبست کیا گیا ہے، جہاں سے نکلنے کے بعد بچّے آگے کی تعلیم کے لیے عصری اسکول میں یا عربی اداروں میں داخل ہونے کے قابل بن پاتے ہیں۔ یہ ہماری علمی کمی ہے۔
جب کہ بحیثیت مسلم ہمیں سب سے پہلے پڑھنے کی رہنمائی کی گئی ہے جس کا ثبوت قرآن کی وہ پہلی پانچ آیتیں ہیں۔ کیا صرف ’’إقرأ‘‘ کے نام پر مسجد اور اداروں کا نام رکھ لینے سے اُس حکم کا مقصد پورا ہو رہا ہے ؟ ہرگز نہیں۔
آج کے دور میں مسجد و مدرسہ کا قیام تعلیم و تعلّم اور آپسی تعلقات معاشرتی ضرورت کو بچائے رکھنے کے لیے نہیں بلکہ زیادہ تر اپنا پیٹ پالنے کے لیے کیا جانے لگا ہے۔ بعدہٗ عصبیت یا ذات پات کے جھگڑے میں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے اور کمتر ثابت کرنے کے لیے کیا جانے لگا ہے۔ جب کہ جو ہمارے لیے سماجی اور معاشرتی رابطے کی جگہ اور وقت تھا وہ صرف نماز یا مسلکی تضاد یا تبرکاتی تعلیم کی جگہ بن گئے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جہاں گنجائش ملی، ایک نیا مدرسہ وجود میں آ گیا اور تعلیم کے نام پر معصومیت کے استحصال کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ جب کہ محلّہ یا علاقہ والے اس سے استفادہ کرنے میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ محلّہ میں میت نہانے اور کفنانے دفنانے کا علم رکھنے والے ناپید، لیکن قرآن خوانی کرنے والے چند بچے موجود ہیں۔
آخر جمعہ کے خطابات محلّہ والوں کے لیے بہتری کا سبب کیوں نہیں بن پا رہا ہے؟ بنیادی مسائل تک کی معلومات لوگوں میں کیوں نہیں پائی جاتی۔ کیا صرف اُن ہی پر سیکھنا فرض ہے یا سکھانے والے کی بھی کچھ ذمہ داری ہے؟ اگر مساجد کے امام و خطیب نے یہ ذمہ داری نبھائی ہوتی تو مساجد کے قرب و جوار میں گندگی کی بھرمار نہ ہوتی۔ نہ وضوخانہ و پائخانہ پان و گٹکھا کے پیک سے بھرا ہوتا اور نہ نالیوں میں کوڑا کرکٹ بھرا ہوتا، یا بہہ رہا ہوتا۔ نہ گلیوں میں غیرضروری قبضہ ہوتا، نہ بالکونی سے کپڑوں سے ٹپکتا پانی ہوتا۔ …
جس سے اپنا دل و دماغ تو پراگندہ رہتا ہی ہے،
ساتھ میں آنے جانے والوں کو ہونے والی تکلیفوں کا خمیازہ کس کو بھگتنا ہوگا؟
کس کے حصہ میں یہ عذاب آئے گا؟
جب کہ مسلم کی پہچان تو یہ بتائی گئی ہے؛
الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ النَّاسَ مِنْ لِسَانِہٖ وَ یَدِہٖ
جس کے ہاتھ اور زبان سے انسان محفوظ رہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ بعض محلّہ اور علاقہ کے مسلمان اپنے علاوہ کسی کو انسان سمجھتے ہی نہیں۔ ورنہ وہ منفی سوچ و الفاظ اور دشنام طرازی کے ذریعہ ایک دوسرے پر حاوی ہونے کی پوری کوشش نہ کرتے ہیں خواہ وہ اپنی سوچ اور عمل میں غلط ہی کیوں نہ ہوں۔
لیکن اپنا کھونٹا گاڑنے کے لیے یا رعب و دبدبہ بنانے کے لیے کسی بھی حد تک شریعت اور انسانی اصول کو پامال کر سکتے ہیں۔
اگر اجتماعی طور پر تجزیہ کیا جائے تو ہماری روزمرّہ کی زندگی دوسری قوموں سے مشترک ہے، سوائے چند لوگوں کے نمازی حاجی بن جانے کے۔ حالاں کہ یہ عبادت ہے یعنی حقوق اللہ کا حصہ ہے۔
جب کہ حقوق العباد (یعنی سماجی زندگی اور آپسی لین دین، میں جھوٹ، فراڈ، دشنام طرازی، اور بداخلاقی اور دیگر بےترتیبی) میں دوسرے کے بالکل مماثل ہیں۔ پبلک پیلس پر قبضہ اور جانوروں کے ذریعہ آس پاس کے لوگوں کے پریشانی کا سبب پیدا کرنا روایتی حق سمجھا ہوا ہے۔
مال داروں کی زندگی گھر کے آسائشی سامان بدلتے ہوئے اور چھوٹے مکان سے بڑے مکان میں منتقل ہوتے ہوئے گزر جاتی ہے۔ متعدی مرض میں مبتلا ہو کر صحت بہتر بنانے کی خواہش میں جوانی کی کمائی ہوئی دولت آخری عمر میں لگزی اسپتالوں کی بستروں کا کرایہ دینے میں خرچ ہو جاتی ہے۔
مالی طور پر درمیانہ اور کمزور طبقہ پرانے صوفے بیڈ خریدتے اور مکان بدلتے ہوئے گزرتے ہیں۔ اگر پلاٹ خرید لیا اور مکان مالک بن گئے تو دروازہ اونچا کرنے، نالی اور سڑک کے معاملے میں پڑوسی سے لڑتے جھگڑتے زندگی گزر جاتی ہے۔ اگر لاپرواہی کی وجہ سے بیمار ہوئے تو گھر بیچ کر علاج کرانے کے لیے سرکاری اسپتالوں کی آمد و رفت کا خرچ اٹھاتے اٹھاتے قلاش ہو کر گزر جاتے ہیں، یا معاشرہ کے لیے بوجھ بن جاتے ہیں۔
اگر کوئی بغیر بیماری کے ٹھیک ٹھاک زندگی گزار رہے تھے تو اپنی آن بان شان بیٹیوں کی شادی میں دکھاتے ہوئے، لڑائی جھگڑے کرکے قید و بند کی صعوبتیں جھیلتے ہیں اور اپنی نسل کو قلاش چھوڑ کر بے نام و نشاں ہو جاتے ہیں۔
کوئی قابل قدر کارنامہ مل بھی جائے تو اسے انگلیوں پر ہی شمار کرکے تمام کر دیاجاتا ہے۔ ہاں علمی شیخی بگھارنے میں ہم کسی سے کم نہیں ہیں۔ ایسے ریٹائرڈ عالموں کی کمی نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ نیک سمجھ عطا فرمائے۔ آمین

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے