कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بشیر بدر: نئی غزل کا وہ چراغ جو بجھ کر بھی روشنی دیتا رہے گا

تحریر:ڈاکٹر سید تابش امام
کاکو، جہان آباد
رابطہ۔۔۔۔۔9934933992

اردو ادب کی تاریخ میں بعض نام ایسے ہوتے ہیں جو محض شاعر یا ادیب نہیں رہتے بلکہ ایک عہد، ایک تہذیبی روایت اور ایک فکری رویّے کی علامت بن جاتے ہیں۔ ڈاکٹر بشیر بدر کا شمار بھی انہی نابغۂ روزگار شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اردو غزل کو نئی زبان، نیا آہنگ اور نئی مقبولیت عطا کی۔ ان کی رحلت کے ساتھ اردو شاعری کے اس روشن باب کا اختتام ہوا ہے جس نے نصف صدی سے زائد عرصے تک نہ صرف لاکھوں دلوں کو متاثر کیا بلکہ غزل کو نئی نسل کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر بشیر بدر، جن کا اصل نام سید محمد بشیر تھا، 15 فروری 1935ء کو اتر پردیش کے ضلع فیض آباد (موجودہ ایودھیا) کے ایک علمی و تہذیبی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید محمد نظیر محکمۂ پولیس سے وابستہ تھے۔ بچپن ہی سے حالات نے ان کی شخصیت کو سخت آزمائشوں سے گزارنا شروع کر دیا تھا۔ ابتدائی تعلیم کانپور اور اٹاوہ میں حاصل کی، لیکن والد کے انتقال نے تعلیمی سفر کو اچانک منقطع کر دیا۔ خاندان کی کفالت کی ذمہ داری کم عمری ہی میں ان کے کندھوں پر آ گئی اور معاشی مشکلات کے باعث انہیں پولیس کی ملازمت اختیار کرنی پڑی۔
عام طور پر ایسے حالات کسی نوجوان کے خوابوں کو محدود کر دیتے ہیں، لیکن بشیر بدر کے معاملے میں یہ مشکلات ان کی شخصیت کے لیے ایک نئی تعمیر کا ذریعہ بن گئیں۔ زندگی کی سختیوں نے ان کے اندر موجود حساس شاعر کو مزید بیدار کیا۔ کم عمری میں ہی ان کی شاعرانہ صلاحیتیں نمایاں ہونے لگی تھیں۔ ساتویں جماعت میں ان کی ایک غزل معروف ادبی رسالے میں شائع ہوئی تو اہلِ ادب نے اس نوخیز شاعر کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا۔ چند ہی برسوں میں ان کا نام ادبی حلقوں میں متعارف ہو گیا اور بیس برس کی عمر تک پہنچتے پہنچتے ان کی غزلیں ہندوستان اور پاکستان کے معتبر رسائل کی زینت بننے لگیں۔
بشیر بدر کی زندگی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے نامساعد حالات کو اپنی علمی ترقی کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا۔ ملازمت اور گھریلو ذمہ داریوں کے باوجود انہوں نے دوبارہ تعلیم کا سلسلہ شروع کیا اور مسلسل جدوجہد کے ذریعے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے، ایم اے اور پھر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کا تحقیقی مقالہ ’’آزادی کے بعد اردو غزل کا تنقیدی مطالعہ‘‘ تھا، جس کی نگرانی اردو تنقید کے ممتاز عالم پروفیسر آل احمد سرور نے کی۔ اس تحقیقی کاوش نے انہیں صرف ایک مقبول شاعر ہی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ محقق اور نقاد کے طور پر بھی شناخت عطا کی۔
1967ء میں انہوں نے پولیس کی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا اور خود کو مکمل طور پر علمی و ادبی سرگرمیوں کے لیے وقف کر دیا۔ یونیورسٹی کے وظائف، تدریسی خدمات اور مشاعروں سے حاصل ہونے والی آمدنی ہی ان کے خاندان کا سہارا بنی۔ بعد ازاں وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور پھر میرٹھ کالج سے وابستہ ہوئے، جہاں انہوں نے طویل عرصے تک اردو زبان و ادب کی تدریس اور ترویج کا فریضہ انجام دیا۔
بشیر بدر کی تخلیقی عظمت کا سب سے نمایاں پہلو ان کا اسلوب ہے۔ انہوں نے غزل کو ثقیل الفاظ، پیچیدہ استعاروں اور مشکل تراکیب کے حصار سے نکال کر عام آدمی کے احساسات کے قریب کر دیا۔ ان کے یہاں محبت بھی ہے، جدائی بھی، تنہائی بھی اور معاشرتی کرب بھی۔ ان کی غزلوں میں انسان دوستی، رشتوں کی نزاکت، وقت کی بے ثباتی اور زندگی کے نشیب و فراز نہایت سادہ مگر مؤثر انداز میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام صرف ادبی حلقوں تک محدود نہیں رہا بلکہ عوامی سطح پر بھی بے حد مقبول ہوا۔
ان کا یہ شعر آج بھی لاکھوں لوگوں کے دلوں کی آواز محسوس ہوتا ہے:
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
اسی طرح:
دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں
اور
لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں
یہ اشعار صرف حسنِ بیان کی مثال نہیں بلکہ انسانی تجربات، سماجی شعور اور اخلاقی قدروں کی ترجمانی بھی کرتے ہیں۔ ان میں ایک ایسا درد اور سچائی موجود ہے جو قاری اور سامع دونوں کے دل میں اتر جاتی ہے۔
بشیر بدر کی غیر معمولی مقبولیت کا راز ان کے موضوعات کے ساتھ ساتھ ان کے منفرد اندازِ اظہار میں بھی پوشیدہ تھا۔ انہوں نے غزل کو محض محبوب و عاشق کی داستان تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے عہدِ حاضر کے انسان کے مسائل، نفسیاتی الجھنوں اور سماجی تغیرات کا آئینہ بنا دیا۔ ان کی زبان عام فہم تھی لیکن اس میں فکری گہرائی اور تہذیبی لطافت بھی موجود تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار خواص اور عوام دونوں میں یکساں طور پر مقبول ہوئے اور ان کے متعدد مصرعے روزمرہ گفتگو کا حصہ بن گئے۔
مشاعروں کی دنیا میں بھی بشیر بدر ایک منفرد مقام رکھتے تھے۔ ان کا اندازِ ترنم، برجستہ گفتگو اور سامعین سے فوری ربط قائم کرنے کی صلاحیت انہیں اپنے عہد کے ممتاز ترین مشاعرہ خواں شعرا میں شامل کرتی تھی۔ کسی بھی مشاعرے میں ان کی موجودگی کامیابی کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ وہ نہ صرف اپنے کلام سے سامعین کو متاثر کرتے تھے بلکہ اپنی شائستگی اور خوش مزاجی سے بھی محفل کو یادگار بنا دیتے تھے۔
بشیر بدر کی زندگی مسلسل صدمات اور آزمائشوں سے عبارت رہی۔ 1984ء میں ان کی پہلی اہلیہ کا انتقال ہوا جبکہ وہ ایک مشاعرے کے سلسلے میں پاکستان میں موجود تھے۔ اس سانحے نے انہیں گہرے رنج میں مبتلا کر دیا، لیکن اس کے بعد پیش آنے والا واقعہ ان کی پوری زندگی پر اثر انداز ہوا۔ 1987ء کے میرٹھ فسادات میں ان کا گھر نذرِ آتش کر دیا گیا، ان کا قیمتی کتب خانہ جل کر خاک ہو گیا اور برسوں کی علمی و ادبی محنت راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئی۔ یہ حادثہ ان کے لیے صرف مالی نقصان نہیں تھا بلکہ ایک تہذیبی اور جذباتی سانحہ بھی تھا۔ بعد ازاں وہ میرٹھ چھوڑ کر بھوپال منتقل ہو گئے، جہاں انہوں نے زندگی کا نیا سفر شروع کیا۔
بھوپال ہی میں ان کی دوسری شادی ڈاکٹر راحت سلطان سے ہوئی اور وہیں انہوں نے مستقل سکونت اختیار کی۔ اگرچہ عمر کے ساتھ جسمانی کمزوریاں بڑھتی گئیں، لیکن ان کی ادبی مقبولیت برقرار رہی۔ ملک اور بیرونِ ملک منعقد ہونے والے مشاعروں میں ان کی شرکت سامعین کے لیے خصوصی کشش کا باعث ہوتی تھی۔ ان کی آواز سننے اور ان کا کلام سننے کے لیے لوگ دور دور سے آتے تھے۔
یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ بشیر بدر نے اردو زبان کی ترویج میں ایک غیر معمولی کردار ادا کیا۔ ایسے وقت میں جب اردو مختلف سماجی اور تعلیمی چیلنجوں سے نبرد آزما تھی، انہوں نے اپنی تخلیقات کے ذریعے نئی نسل کو اس زبان اور اس کی ادبی روایت سے جوڑے رکھا۔ ان کا کلام صرف اردو داں طبقے تک محدود نہیں رہا بلکہ مختلف زبانوں کے قارئین و سامعین تک بھی پہنچا۔ ان کی پذیرائی اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ معیاری ادب زبان اور سرحدوں کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔
ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت ہند نے 1999ء میں انہیں پدم شری سے نوازا۔ اسی سال ان کے شعری مجموعے ’’آس‘‘ پر انہیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ بھی ملا۔ یہ اعزازات اس بات کا اعتراف تھے کہ انہوں نے اردو غزل کو قومی سطح پر ایک نئی شناخت اور وقار عطا کیا۔
عمر کے آخری برسوں میں وہ ضعفِ حافظہ اور ڈیمینشیا کے مرض میں مبتلا ہو گئے تھے۔ رفتہ رفتہ یادداشت کمزور ہوتی گئی اور وہ ادبی محفلوں سے دور ہوتے چلے گئے۔ گویا وہ جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود تھے لیکن ادب کی فعال دنیا سے ایک عرصہ پہلے ہی الگ ہو چکے تھے۔ بالآخر 28 مئی 2026ء کو بھوپال میں ان کا انتقال ہو گیا اور اردو ادب ایک ایسے درخشاں نام سے محروم ہو گیا جس نے غزل کو جدید دور کے مزاج سے ہم آہنگ کیا۔
ڈاکٹر بشیر بدر کی رحلت محض ایک شاعر کی وفات نہیں بلکہ اردو غزل کے ایک تابناک دور کا اختتام ہے۔ انہوں نے اپنے فن کے ذریعے ثابت کیا کہ شعر و ادب صرف لفظوں کی آرائش کا نام نہیں بلکہ انسانی جذبات، تہذیبی قدروں اور سماجی شعور کے اظہار کا مؤثر وسیلہ بھی ہے۔ ان کی غزلوں میں محبت کی لطافت ہے، زمانے کی تلخ حقیقتیں ہیں، انسانی رشتوں کی حرارت ہے اور باہمی احترام و رواداری کا پیغام بھی۔
آج جب بشیر بدر ہمارے درمیان موجود نہیں تو ان کی کمی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ وہ ان معدودے چند شعرا میں شامل تھے جنہوں نے کلاسیکی غزل کی روح کو برقرار رکھتے ہوئے اسے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔ ان کے بعد بھی غزل کا سفر جاری رہے گا، لیکن سادگی، اثر انگیزی اور عوامی مقبولیت کا ایسا حسین امتزاج کم ہی دکھائی دے گا۔
بشیر بدر بظاہر ہم سے رخصت ہو چکے ہیں، مگر ان کی فکر، ان کی تخلیقات اور ان کا ادبی سرمایہ آج بھی زندہ ہے۔ ان کا کلام محبت، انسان دوستی، رواداری اور امید کا استعارہ ہے۔ یہی کسی بڑے فنکار کی اصل شناخت ہوتی ہے کہ وہ اپنے عہد سے آگے نکل کر آنے والی نسلوں کے دلوں میں بھی جگہ بنا لے۔ اردو غزل کے افق پر یہ ستارہ غروب ضرور ہوا ہے، لیکن اس کی روشنی مدتوں اہلِ ادب کی راہوں کو منور کرتی رہے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ عظیم تخلیق کار جسمانی طور پر رخصت ہو جاتے ہیں، مگر اپنے فن اور اپنے لفظوں کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے