कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

باصلاحیت وارثانِ انبیاء معاشی مجبوریوں سے ہارنے لگیں!

از قلم:مفتی محمد انصار الحق قاسمی

دینی مدارس اسلام کے وہ عظیم مراکز ہیں جنہوں نے ہر دور میں شریعتِ مطہرہ کی حفاظت، دینِ اسلام کی اشاعت اور امت کی علمی و فکری رہنمائی کا فریضہ انجام دیا ہے۔
انہی مدارس کے فرزندانِ اسلام نے اپنی زندگیاں قرآن و حدیث کی خدمت، تحقیق و تدبر اور امت کی اصلاح کے لیے وقف کیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ انہی بوریا نشین علماء نے امت کو محدث، مفسر، فقیہ اور داعی عطا کیے، جنہوں نے دین کی آبیاری میں اپنا تن، من اور دھن قربان کردیا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّين}
پس کیوں نہ ہر جماعت میں سے ایک گروہ دین کی سمجھ حاصل کرنے کے لیے نکلے۔
(سورۃ التوبہ: 122)
اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ)
“بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں۔”
(سنن ابوداؤد)
مگر افسوس کہ موجودہ دور میں ایک نہایت تشویشناک صورتِ حال جنم لے رہی ہے۔ باصلاحیت، محنتی، مخلص اور صاحبِ فکر فُضَلاء بڑی تعداد میں مدارس و مساجد سے کنارہ کش ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجوہات معاشی پریشانیاں، ذمہ داران کی بے قدری، غیر منصفانہ نظام اور بعض منتظمین کا نامناسب رویہ ہیں۔
آج اکثر مدارس و مساجد میں اساتذہ اور ائمہ کے انتخاب کے وقت تو امام الحرمین اور ائمہ ثلاثہ جیسی صلاحیت، تحقیق و تقریر، درس و تدریس کا تجربہ اور انتظامی قابلیت کی طویل شرائط رکھی جاتی ہیں، مگر جب تنخواہ کی بات آتی ہے تو انہی وارثانِ انبیاء کے لیے آٹھ، دس یا بارہ ہزار روپے کی معمولی رقم کو “معقول تنخواہ” کا نام دے دیا جاتا ہے۔
ظلم بالائے ظلم یہ کہ یہ معمولی تنخواہ بھی کئی کئی ماہ تک روک لی جاتی ہے، اور مطالبہ کرنے پر شکوہ شکایت، طعن و تشنیع اور احسان جتا کر ٹال مٹول کر کے قسطوں میں ادائیگی کی جاتی ہے یا پھر ہاتھ میں رسید تھما دی جاتی ہے۔
یہ طرزِ عمل یقیناً افسوسناک اور قابلِ اصلاح ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے واضح ارشاد فرمایا:
(أَعْطُوا الْأَجِيرَ أَجْرَهُ قَبْلَ أَنْ يَجِفَّ عَرَقُهُ)
کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔”
(سنن ابن ماجہ)
جب ایک عالمِ دین اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے عاجز ہو جاتا ہے تو وہ مجبوراً تجارت، کمپنیوں یا دیگر شعبوں کا رخ کرتا ہے۔ نتیجتاً وہ شخص جو مستقبل کا محدث، مفسر یا فقیہ بن سکتا تھا، معاشی مجبوریوں کی نذر ہوجاتا ہے۔ پھر یہی خلا رفتہ رفتہ نااہل، خوشامدی اور چاپلوس عناصر سے پُر ہونے لگتا ہے، جس سے علمی معیار متاثر ہوتا ہے اور اداروں کا وقار مجروح ہونے لگتا ہے۔
یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ ہمارے اکابر علماء نے اگر قناعت کی زندگی گزاری تو اُس دور کے حالات مختلف تھے۔ اُس زمانے میں محدود تنخواہ میں بھی بنیادی ضروریات پوری ہوجاتی تھیں بلکہ بعض اوقات کچھ بچت بھی ہوجاتی تھی۔ آج مہنگائی، گھریلو اخراجات، علاج، تعلیم اور دیگر ضروریات نے حالات یکسر بدل دیے ہیں۔ اس لیے محض اکابر کا حوالہ دے کر موجودہ دور کے علماء کو کم تنخواہ پر صبر کی تلقین کرنا انصاف نہیں بلکہ ایک طرح کی زیادتی ہے۔
عجیب بات یہ ہے کہ بعض نام نہاد مہتممین حضرات اپنی ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کے لیے موٹی موٹی تنخواہیں رکھتے ہیں، بلکہ بعض جگہوں پر تو تنخواہ کی کوئی حد ہی مقرر نہیں ہوتی۔ مدرسہ میں جتنی آمدنی آتی ہے، اسے اپنی جاگیر تصور کرلیا جاتا ہے۔
البتہ اس سے وہ مہتممین حضرات اور ذمہ داران یقیناً مستثنیٰ ہیں جو اپنی ضروریات کے لیے بھی وہی اصول و ضوابط اختیار کرتے ہیں جو اپنے اساتذہ کے لیے مقرر کیے ہوتے ہیں، بلکہ اپنی سہولتوں پر ملازمین کی ضروریات کو ترجیح دیتے ہیں، اور تنخواہوں میں بھی کشادہ دلی سے کام لیتے ہیں۔ ایسے ذمہ داران حقیقت میں قابلِ تقلید، لائقِ احترام اور امت کا سرمایہ ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں بیس ہزار روپے سے کم تنخواہ ایک باعزت زندگی کی بنیادی ضروریات کے لیے ناکافی محسوس ہوتی ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ایسے حالات میں جب ایک عام آدمی کے لیے کم از کم ایک ہزار روپے یومیہ خرچ ناگزیر بن چکا ہے، تو قرآن و حدیث کی خدمت انجام دینے والے علماء کرام کے لیے اگر اس سے زیادہ نہیں تو کم از کم اتنی معقول تنخواہ ضرور ہونی چاہیے کہ وہ باوقار زندگی گزار سکیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مدارس و مساجد کے نظم و نسق میں توازن پیدا کیا جائے۔ اگر ادارے زیادہ تنخواہ دینے سے قاصر ہیں تو کم از کم ایسا نظام بنایا جائے کہ علماء کو اضافی اوقات میں جائز کاروبار یا دیگر معاشی ذرائع اختیار کرنے کی اجازت ہو۔
ائمہ و مدرسین سے چوبیس گھنٹے کی ڈیوٹی لینے کے بجائے متعین اوقات مقرر کیے جائیں تاکہ وہ عزت کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں اور نائبینِ رسول معاشی اعتبار سے مضبوط بن سکیں۔ کیونکہ بنیادی ضرورتوں سے فارغ حضرات ہی شوق، دلجمعی اور دلچسپی کے ساتھ بہتر انداز میں خدمت انجام دے سکتے ہیں، بہ نسبت ان فُضَلاء کے جو مسلسل معاشی الجھنوں میں گرفتار رہتے ہیں۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ قسطوں یا ٹال مٹول کے بجائے وقت پر مکمل اجرت ادا کی جائے۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
(وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ)
“اور لوگوں کی چیزیں کم نہ کرو۔”
(سورۃ الأعراف: 85)
جو حضرات قرآن و حدیث کی تعلیم میں اپنی زندگیاں کھپا رہے ہیں، ان کی عزت، کفالت اور بنیادی ضروریات کا خیال رکھنا پوری امت کی ذمہ داری ہے۔ اگر علماء معاشی پریشانیوں میں مبتلا رہیں گے تو دینی اداروں کا علمی وقار بھی متاثر ہوگا، اور باصلاحیت فُضَلاء مدارس و مساجد کو خیر باد کہہ کر کسبِ معاش کے دیگر شعبوں میں چلے جائیں گے، جہاں اپنی دینی صلاحیتوں کو برقرار رکھنا بھی دشوار ہوجاتا ہے۔ یہ صورتِ حال پوری امت کے لیے ایک عظیم خسارے کا سبب بنے گی۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مدارس و مساجد کے ذمہ داران خلوص کے ساتھ اپنے اساتذۂ کرام اور ائمہ عظام کی ضروریات کو سمجھیں، ان کے لیے باعزت ماحول فراہم کریں، بروقت تنخواہوں کی ادائیگی کو یقینی بنائیں اور ان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی فکر کریں۔ یہی رویہ مستقبل میں مضبوط، باوقار اور باصلاحیت علمی قیادت پیدا کرسکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ علماء کرام کو اخلاص، استقامت اور عزت کے ساتھ دین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے، اور مدارس و مساجد کے ذمہ داران کو امانت و دیانت کے ساتھ ان وارثانِ انبیاء کی خدمت اور کفالت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے