कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اینٹی ڈیفیکشن لاء کی ناکامی یعنی سیاسی اخلاقیات کا زوال

تحریر:ڈاکٹر شیخ حاجی حسین

ہندوستانی جمہوریت کے اندر حالیہ برسوں میں کئی ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جو اینٹی ڈیفیکشن قانون کی افادیت، منتخب نمائندوں کی وفاداری اور سیاسی اخلاقیات پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔ جب عوام ایک پارٹی کو کرپشن کے خلاف لڑنے اور شفاف حکمرانی کے وعدے پر ووٹ دیتے ہیں مگر وہی ارکان اقتدار کی طرف رخ کر لیتے ہیں تو یہ نہ صرف پارٹی کی تبدیلی بلکہ سیاسی اخلاقیات کا زوال بھی سمجھا جاتا ہے۔اس ہفتے ایسا ہی ایک قابل افسوس واقعہ پیش آیا جب عام آدمی پارٹی (AAP) کے7 راجیہ سبھا ارکان راگھو چڈھا، سندھ پٹھک، اشوک کمارمتل، ہربھجن سنگھ، سواتی ملیوال، وکرمجیت سنگھ ساہنی اور راجندر گپتا نے پارٹی چھوڑ کر بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ 24 اپریل 2026 کو انہوں نے خود کو الگ گروپ قرار دے کر اینٹی ڈیفیکشن قانون (دسویں شیڈول) کی مرجر والی شق کا فائدہ اٹھایا۔ 27 اپریل کو راجیہ سبھا چیئرمین سی پی رادھاکرشنن نے اسے قبول کر لیا اور راجیہ سبھا سیکریٹریٹ نے پارٹی وائز لسٹ اپ ڈیٹ کر دی۔ نتیجتاً بی جے پی کی راجیہ سبھا میں تعداد 113 ہو گئی جبکہ AAP صرف تین ارکان (سنجے سنگھ، این ڈی گپتا اور بلبر سنگھ سیچیوال) تک محدود رہ گئی۔
عام آدمی پارٹی کا سفر 2011 کے انڈیا اگینسٹ کرپشن تحریک سے شروع ہوا تھا۔ انا ہزارے کی قیادت والی اس مہم میں اروند کیجریوال اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ 26 نومبر 2012 کو AAP کی بنیاد رکھی گئی۔ پارٹی نے کرپشن کے خلاف جدوجہد، شفافیت اور عوامی خدمت کا وعدہ کیا تھا۔ 2013 کے دہلی انتخابات میں 28 سیٹیں حاصل کر کے کیجریوال پہلی بار وزیر اعلیٰ بنے، مگر 49 دن بعد جن لوکپال بل نہ پاس ہونے پر استعفیٰ دے دیا۔ 2015 میں AAP نے 67 سیٹیں جیت کر مکمل حکومت بنائی۔ 2020 میں بھی 62 سیٹیں حاصل کیں۔ 2022 میں پنجاب میں landslide victory ہوئی اور 92 سیٹیں جیت کر بھگونت مان وزیر اعلیٰ بنے۔ مگر دس سال کی مسلسل حکومت نے پارٹی کو انکمبینسی کا شکار کر دیا۔ 2025 کے دہلی اسمبلی انتخابات میں AAP بری طرح ہار گئی۔ بی جے پی نے 48 سیٹیں حاصل کیں جبکہ AAP کو صرف 22 سیٹیں ملیں اور کیجریوال خود اپنی سیٹ ہار گئے۔
حکومت گرانے کے پیچھے شراب پالیسی اسکینڈل، ’’شیش محل‘‘ تنازع، خاندانی سیاست کے الزامات اور لمبی حکومت کی وجہ سے عوامی بیزاری اہم وجوہات تھیں۔ اس دوران اروند کیجریوال کو شراب پالیسی کیس میں گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے تقریباً 5 ماہ تہاڑ جیل میں گزارے۔ سپریم کورٹ نے بعد میں انہیں ضمانت دی اور فروری 2026 میں عدالت نے انہیں بری بھی کر دیا۔ مگر جیل کی مدت نے پارٹی کی قیادت اور عوامی امیج پر گہرا اثر ڈالا۔
ان 7راجیہ سبھا ارکان کے بی جے پی میں جانے کی ٹھوس وجوہات اندرونی انتشار اور کیجریوال کی قیادت سے ناراضگی سے جڑی ہیں۔ راگھو چڈھا نے کہا کہ’’وہ پارٹی جسے میں نے 15 سال اپنے خون اور پسینے سے سینچا تھا، اب اپنے اصولوں، اقدار اور اخلاقیات سے مکمل طور پر بھٹک چکی ہے۔ اب یہ پارٹی عوام کے مفاد میں نہیں بلکہ ذاتی فائدے کے لیے کام کرتی ہے۔‘‘سواتی ملیوال، سندھ پٹھک اور دیگر ارکان نے بھی پارٹی میں گٹھن، زہریلے ماحول اور ابتدا کے ارکان کو نظر اندازی کی شکایت کی۔ راگھو چڈھاکو راجیہ سبھا میں ڈپٹی لیڈر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا، جو اس بغاوت کی ایک فوری وجہ بنا۔ان وجوہات کے نظر انداز کرتے ہوئے AAP نے اس پورے عمل کو بی جے پی کا آپریشن لوٹس قرار دیا ہے۔ آپریشن لوٹس (جسے آپریشن کمل بھی کہا جاتا ہے) بی جے پی کی ایک مبینہ حکمت عملی ہے جس کے تحت مخالف پارٹیوں کے ارکان کو توڑ کر اپنے ساتھ ملا لیا جاتا ہے تاکہ حکومت بنائی یا بچائی جا سکے۔ یہ اصطلاح سب سے پہلے 2008 میں کرناٹک میں استعمال ہوئی جب بی جے پی نے کانگریس اور جے ڈی ایس کے ایم ایل ایز کو توڑ کر حکومت بنائی تھی۔ اس کے بعد یہ مہاراشٹر (2019)، مدھیہ پردیش (2020)، گوا، اروناچل پردیش اور میگھالیہ سمیت کئی ریاستوں میں دیکھا گیا۔ AAP کا الزام ہے کہ بی جے پی نے ED، CBI اور دیگر ایجنسیوں کا استعمال کر کے ان ارکان کو دانستہ طور پر منحرف کیا تاکہ AAP کو کمزور کیا جا سکے، خاص طور پر پنجاب کی بھگونت مان کی حکومت کو نشانہ بنانے کے لیے۔ AAP نے راجیہ سبھا چیئرمین کے پاس نااہلی کی درخواست بھی دائر کر دی ہے اور کیجریوال سمیت دیگر لیڈران نے اسے ’’عوامی مینڈیٹ کی خیانت‘‘قرار دیا ہے۔
تاریخی طور پر دیکھیں تو اینٹی ڈیفیکشن قانون کی مرجر شق کو بار بار اسی طرح استعمال کیا گیا ہے۔ 2019-2022 میں گوا کانگریس کے 10 ایم ایل اے بی جے پی میں شامل ہوئے، 2021 میں میگھالیہ میں کانگریس کے 12 ایم ایل اے ترنمول کانگریس میں ضم ہوئے اور 2016 میں اروناچل پردیش میں کانگریس کے 43 ایم ایل اے پیپلز پارٹی آف اروناچل میں شامل ہوئے۔ ان تمام کیسز میں دو تہائی کی شرط پوری ہونے کی وجہ سے ارکان نااہلی سے بچ گئے۔ یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ مرجر کی شق اصل میں ڈیفیکشن روکنے کے بجائے اسے قانونی جواز فراہم کرنے کا ذریعہ بن چکی ہے۔اینٹی ڈیفیکشن قانون کا فائدہ بھی موجود ہے۔ یہ قانون 1985 میں منظور کیا گیا تھا اور اس کا بنیادی مقصد سیاسی استحکام پیدا کرنا تھا۔ اس سے پہلے اکثر ارکان آسانی سے پارٹی بدل لیتے تھے، جس کی وجہ سے حکومتیں بار بار گرتی تھیں۔ اس قانون نے کم از کم اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں بڑے پیمانے پر ڈیفیکشن کو روکا ہے اور حکومتوں کی مدت کو نسبتاً مستحکم کیا ہے۔ تاہم مرجر کی شق کی وجہ سے اس قانون میں ایک بڑی loophole موجود ہے، جو اس کی افادیت کو شدید متاثر کر رہی ہے۔
اب اس قانون کے استعمال میں آگے کیا گنجائش باقی رہ سکتی ہے، اس پر بھی بحث تیز ہو رہی ہے۔ اگر مرجر کی شق کو صرف عددی طاقت (دو تہائی ارکان) کی بنیاد پر قبول کیا جاتا رہا تو مستقبل میں کسی بھی پارٹی کے ارکان آسانی سے گروپ بنا کر دوسری پارٹی میں ضم ہو سکتے ہیں۔ اس سے اینٹی ڈیفیکشن قانون کی بنیادی روح سیاسی استحکام اور وفاداری شدید متاثر ہو گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سپریم کورٹ یا پارلیمنٹ اس شق میں ترمیم نہ کرے تو یہ ”ہول سیل ڈیفیکشن” کو قانونی تحفظ فراہم کرتا رہے گا، جس سے پارٹیوں کی اندرونی جمہوریت ختم ہونے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔
اس واقعے کا آنے والے انتخابات پر بھی گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔ خاص طور پر 2027 کے پنجاب اسمبلی انتخابات میں، جہاں ان میں سے چھ ارکان پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں، یہ ڈیفیکشن AAP کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اگر عوام اسے بی جے پی کی مداخلت سمجھیں تو AAP کو ہمدردی مل سکتی ہے اور پارٹی ووٹروں کو متحد کر کے واپسی کر سکتی ہے۔ البتہ اگر یہ تاثر مضبوط ہوا کہ AAP اندرونی طور پر کمزور اور موقع پرست عناصر سے بھری ہوئی ہے تو پنجاب میں اس کی حکومت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ دیگر ریاستوں جیسے گجرات، ہریانہ اور دہلی میں بھی AAP کی تنظیم پر منفی اثر پڑنے کا امکان ہے۔
یہ واقعہ AAP کے زوال کی طرف اشارہ کرتا ہے یا نہیں، اس پر ماہرین کی رائے تقسیم ہے۔ کئی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ دہلی کی شکست کے بعد یہ دوسرا بڑا دھچکا ہے جو پارٹی کی ساکھ کو مزید کمزور کر رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ کیجریوال کی آمرانہ قیادت اور اندرونی جمہوریت کی کمی نے ہی اس بغاوت کو جنم دیا۔ تاہم کچھ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر بی جے پی کا آپریشن لوٹس جاری رہا تو عوام میں بی جے پی کے خلاف ہمدردی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس سے دیگر ریاستوں میں AAP کو ہمدردی مل سکتی ہے اور کیجریوال پارٹی کو دوبارہ منظم کر کے مضبوط پوزیشن میں واپس آ سکتے ہیں۔
اروند کیجریوال اب پارٹی کو دوبارہ منظم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا فوکس پنجاب کی حکومت کو مضبوط کرنا، 2027 کے انتخابات کی تیاری اور دیگر ریاستوں میں پارٹی کی جڑیں مضبوط کرنے پر ہے۔ وہ اسے ”آپریشن لوٹس” قرار دے رہے ہیں۔تنقیدی طور پر دیکھیں تو سب سے اہم سوال اینٹی ڈیفیکشن قانون کی ناکامی کا ہے۔ دسویں شیڈول میں مرجرکی شق اصل میں ڈیفیکشن روکنے کے لیے بنائی گئی تھی، مگر آج یہ اسی ڈیفیکشن کو قانونی چادر فراہم کرنے کا ذریعہ بن چکی ہے۔ جب راجیہ سبھا جیسے اعلیٰ ایوان کے ارکان عوامی مینڈیٹ کو نظر انداز کر کے اقتدار کی طرف چلے جاتے ہیں تو یہ قانون کی روح کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ہندوستانی جمہوریت کا المیہ یہ ہے کہ سیاستدان کی وفاداری پارٹی سے زیادہ اقتدار سے ہوتی جا رہی ہے۔ AAP کا یہ معاملہ اسی رجحان کی ایک اور واضح مثال ہے۔
اس واقعے نے ایک بار پھر ہندوستانی جمہوریت کی بنیادی کمزوریوں کو اجاگر کر دیا ہے۔ آئین اور قوانین کو اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اینٹی ڈیفیکشن قانون جیسی شقیں، جو اصل میں سیاسی استحکام کے لیے بنائی گئی تھیں، اب موقع پرستی اور اقتدار کی ہوس کو قانونی جواز فراہم کرنے کا آلہ بن چکی ہیں۔ جب تک منتخب نمائندے عوامی مینڈیٹ کی بجائے ذاتی اور گروہی مفادات کو ترجیح دیتے رہیں گے، جمہوریت کی بنیادوں میں دراڑیں پڑتی رہیں گی۔ اگر فوری طور پر اس قانون میں مناسب ترامیم نہ کی گئیں اور سیاسی اخلاقیات کو مضبوط نہ کیا گیا تو آنے والے وقت میں پارٹیوں کے اندر بغاوتیں، مرجر اور ڈیفیکشن کا سلسلہ عام ہوتا چلا جائے گا، جس سے عوامی اعتماد مکمل طور پر ختم ہو سکتا ہے۔یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جمہوریت صرف انتخابات جیتنے کا نام نہیں بلکہ منتخب نمائندوں کی اخلاقی ذمہ داری کا نام بھی ہے۔ جب یہ ذمہ داری کمزور پڑتی ہے تو عوام کا اعتماد ٹوٹتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ AAP اس بحران سے نکل کر اپنے بانی اصولوں کی طرف لوٹ سکتی ہے یا اینٹی ڈیفیکشن قانون کی ناکامی اور سیاسی اخلاقیات کا زوال جاری رہے گا۔ ہندوستانی سیاست کو اس سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے