कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

انسانی زندگی کا جامع اخلاقی و اعتقادی منشور —— سورۃ الاعراف (آیت 33)

تحریر: جنید عبدالقیوم شیخ

انسانی زندگی کی اصل کامیابی صرف دنیاوی ترقی یا مادی آسائشوں میں نہیں بلکہ ایک ایسے متوازن، پاکیزہ اور باوقار طرزِ زندگی میں پوشیدہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ہو۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید انسان کو محض عبادات تک محدود نہیں رکھتا بلکہ اس کی پوری زندگی—اس کے خیالات، جذبات، تعلقات اور اعمال—کو ایک مکمل نظام کے تحت ڈھالتا ہے۔ انہی جامع تعلیمات میں سے ایک عظیم آیت سورۃ سورۃ الاعراف کی آیت 33 ہے، جو دراصل انسانی زندگی کے بڑے گناہوں (کبائر) کی ایک مکمل فہرست پیش کرتی ہے اور ان سے بچنے کی واضح ہدایت دیتی ہے۔
یہ آیت نہ صرف اخلاقی اصلاح کا ذریعہ ہے بلکہ یہ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ایک معاشرہ کن بنیادوں پر پاکیزہ اور متوازن بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
آپ فرمایئے کہ میرے رب نے حرام کیا ہے فحش باتوں کو، خواہ وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ، اور گناہ کو، اور ناحق زیادتی (ظلم) کو، اور یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ جس کی کوئی دلیل اللہ نے نازل نہیں کی، اور یہ کہ تم اللہ کے بارے میں وہ بات کہو جسے تم نہیں جانتے۔”
یہ آیت اپنی جامعیت میں ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، کیونکہ اس میں گناہوں کو نہایت حکمت کے ساتھ ترتیب دیا گیا ہے—ایسے گناہ جو فرد کی ذات کو بھی خراب کرتے ہیں اور معاشرے کو بھی تباہ کرتے ہیں۔
(1) فواحش: ظاہر و باطن کی پاکیزگی کا تقاضا:
اس آیت کا پہلا حصہ “الفواحش” یعنی بے حیائی کے اعمال کا ذکر کرتا ہے، خواہ وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے نہایت گہرا پیغام دیا ہے کہ انسان کی پاکیزگی صرف اس کے ظاہری اعمال تک محدود نہیں بلکہ اس کے دل، نیت اور خیالات بھی اسی قدر اہم ہیں۔
آج کے دور میں جہاں فحاشی کو آزادی کے نام پر فروغ دیا جا رہا ہے، وہاں یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حقیقی آزادی دراصل نفس کی پاکیزگی میں ہے۔ بے حیائی صرف جسمانی گناہ نہیں بلکہ نگاہوں کی بے راہ روی، زبان کی آلودگی، اور دل کے غلط خیالات بھی اسی میں شامل ہیں۔
اگر ایک انسان اپنے ظاہر کو سنوارتا ہے مگر دل میں برے خیالات رکھتا ہے، تو وہ مکمل پاکیزگی حاصل نہیں کر سکتا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے واضح کیا کہ فواحش کا ہر پہلو حرام ہے—چاہے وہ چھپا ہوا ہو یا کھلا ہوا۔
(2) گناہ (الإثم): نفس کی تباہی کا راستہ:
آیت کا دوسرا حصہ “الإثم” یعنی گناہ کا ذکر کرتا ہے۔ یہ ایک وسیع اصطلاح ہے جو ہر اس عمل کو شامل کرتی ہے جو اللہ کی نافرمانی ہو۔ خاص طور پر وہ گناہ جو انسان کی اپنی ذات کو نقصان پہنچاتے ہیں، جیسے نشہ، جھوٹ، دھوکہ، یا حرام کمائی۔
یہ گناہ بظاہر ذاتی معلوم ہوتے ہیں، مگر حقیقت میں ان کے اثرات پورے معاشرے پر پڑتے ہیں۔ ایک شخص اگر نشے کا عادی ہو جائے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی تباہ کرتا ہے بلکہ اپنے خاندان اور سماج کے لیے بھی نقصان دہ بن جاتا ہے۔
یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ گناہ ہمیشہ فوراً نقصان نہیں دکھاتے، بلکہ آہستہ آہستہ انسان کی روح کو کمزور کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن ہمیں بار بار خبردار کرتا ہے کہ گناہ سے بچنا صرف ایک مذہبی عمل نہیں بلکہ ایک عملی ضرورت ہے۔
(3) البغی بغیر الحق: ظلم اور ناانصافی کی جڑ:
تیسرا بڑا گناہ “البغی بغیر الحق” یعنی ناحق زیادتی یا ظلم ہے۔ یہ وہ گناہ ہے جو براہِ راست دوسروں کو متاثر کرتا ہے۔
ظلم کی کئی صورتیں ہیں:
کمزوروں پر ظلم
غریبوں کا حق چھیننا
طاقت کے زور پر دوسروں کو دبانا
غلاموں یا ماتحتوں کے ساتھ زیادتی
یہی وہ اعمال ہیں جو معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں انصاف نہ ہو، وہاں ترقی کبھی پائیدار نہیں ہو سکتی۔
اسلام نے ہمیشہ عدل اور انصاف کو بنیادی اصول قرار دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کی شکل اختیار کرے گا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ظلم صرف دنیاوی جرم نہیں بلکہ ایک بڑا روحانی جرم بھی ہے۔
(4) شرک: سب سے بڑا گناہ:
آیت کا چوتھا حصہ “الشرك بالله” یعنی شرک کا ذکر کرتا ہے۔ یہ سب سے بڑا گناہ ہے کیونکہ یہ اللہ کے حقِ توحید کے خلاف ہے۔
شرک صرف بتوں کی پوجا تک محدود نہیں بلکہ اس کی کئی شکلیں ہو سکتی ہیں:
اللہ کے علاوہ کسی پر مکمل بھروسہ کرنا
کسی کو اللہ کے برابر سمجھنا
عبادت میں کسی کو شریک کرنا.
شرک انسان کے عقیدے کو کمزور کر دیتا ہے اور اسے اللہ سے دور کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں بار بار توحید پر زور دیا گیا ہے۔
(5) اللہ پر بغیر علم کے بات کرنا: سب سے خطرناک گناہ:
آیت کا آخری حصہ نہایت اہم ہے: “اللہ کے بارے میں بغیر علم کے بات کرنا”۔
یہ گناہ اس لیے خطرناک ہے کیونکہ:
یہ دین کو بگاڑ دیتا ہے
لوگوں کو گمراہ کرتا ہے
بدعات کو فروغ دیتا ہے
آج کے دور میں یہ مسئلہ بہت عام ہو چکا ہے، جہاں لوگ بغیر علم کے دین کے بارے میں رائے دیتے ہیں، فتوے جاری کرتے ہیں یا اپنی خواہشات کو دین کا نام دے دیتے ہیں۔
یہ عمل نہ صرف خود انسان کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی گمراہی کا سبب بنتا ہے۔
گناہوں کی ترتیب میں حکمت:
اس آیت میں گناہوں کو ایک خاص ترتیب سے بیان کیا گیا ہے:
(1) فواحش
(2) گناہ
(3) ظلم
(4) شرک
(5) بغیر علم کے دین میں بات
یہ ترتیب ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:
انسان پہلے اپنے ظاہر و باطن کو پاک کرے
پھر اپنی ذاتی اصلاح کرے
پھر دوسروں کے حقوق کا خیال رکھے
پھر اپنے عقیدے کو درست کرے
اور آخر میں علم کے بغیر دین میں بات کرنے سے بچے
آج کے دور میں اس آیت کی اہمیت:
اگر ہم موجودہ معاشرے کا جائزہ لیں تو ہمیں یہی پانچ گناہ نمایاں نظر آتے ہیں:
میڈیا میں فحاشی
عام زندگی میں گناہوں کا پھیلاؤ
معاشرتی ناانصافی
عقیدے میں کمزوری
دین کے بارے میں بغیر علم کے گفتگو
یہ آیت ہمیں ایک مکمل اصلاحی پروگرام فراہم کرتی ہے، جس پر عمل کر کے ہم اپنی اور اپنے معاشرے کی اصلاح کر سکتے ہیں۔
نتیجہ: ایک مکمل ضابطۂ حیات:
یہ آیت دراصل ایک آئینہ ہے جس میں ہم اپنی زندگی کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ اگر ہم ان پانچ چیزوں سے بچ جائیں تو:
ہمارا کردار پاک ہو جائے گا
ہمارا عقیدہ مضبوط ہو جائے گا
ہمارا معاشرہ بہتر ہو جائے گا
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ کامیابی کا راستہ مشکل نہیں، بلکہ واضح ہے— صرف ہمیں اس پر چلنے کی ضرورت ہے۔
حاصلِ کلام:
سب سے بڑا گناہ: شرک
سب سے خطرناک عمل: اللہ پر بغیر علم کے بات کرنا
اور ان دونوں کے درمیان وہ تمام برائیاں ہیں جو انسان کو اندر سے کمزور اور معاشرے کو باہر سے تباہ کرتی ہیں۔
اگر ہم اس ایک آیت کو سمجھ لیں اور اپنی زندگی میں نافذ کر لیں، تو ہم نہ صرف ایک بہتر انسان بن سکتے ہیں بلکہ ایک بہتر معاشرہ بھی تشکیل دے سکتے ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے