कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اسلامی شناخت، انسانی برتاؤ اور سماجی وقار

داڑھی، ٹوپی، تسبیح، مسواک، مذہبی القابات اور اسلامی جماعتیں اسلامی تعلیمات، نفسیات اور عمرانیات کی روشنی میں

از قلم شیخ محمود علی

اسلام صرف چند ظاہری علامات یا مذہبی رسوم کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا جامع نظامِ حیات ہے جو انسان کے عقیدے، عبادت، اخلاق، معاملات، گفتگو، سماجی تعلقات اور مجموعی Human Behaviour انسانی برتاؤ کی تشکیل کرتا ہے۔ اسلامی تہذیب میں داڑھی، ٹوپی، تسبیح، مسواک اور مذہبی لباس اپنی تہذیبی اور دینی معنویت رکھتے ہیں، لیکن ان تمام علامات کی اصل قدر اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ انسان کے کردار، اخلاق اور معاشرتی رویّے میں مثبت تبدیلی پیدا کریں۔
سماجیات کی زبان میں انسان صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک Social Being سماجی وجود ہے۔ وہ اپنے خاندان، مذہب، جماعت، ماحول، ثقافت، تعلیمی اداروں اور سماجی گروہوں سے رویّے سیکھتا ہے۔ نفسیات ہمیں بتاتی ہے کہ انسان کے خیالات، جذبات، شخصیت، رویّے اور اعمال ایک دوسرے سے گہرے طور پر مربوط ہوتے ہیں۔ اسلام اس پورے انسانی وجود کی اصلاح چاہتا ہے۔
ظاہری مذہبی شناخت اور باطنی کردار:
ہر معاشرے میں کچھ علامات اجتماعی شناخت کا حصہ بن جاتی ہیں۔ مسلمانوں میں داڑھی، ٹوپی، مذہبی لباس، تسبیح اور مسواک بھی بہت سے علا کا احساس دلاتی ہیں۔
لیکن سماجی زندگی میں صرف علامت کافی نہیں ہوتی۔
اگر کوئی شخص داڑھی رکھتا ہے، ٹوپی پہنتا ہے اور ہاتھ میں تسبیح رکھتا ہے، لیکن اس کے رویّے میں غرور، سخت کلامی، بددیانتی یا دوسروں کی تحقیر پائی جاتی ہے تو معاشرے میں ایک نفسیاتی اور اخلاقی تضاد محسوس ہوتا ہے۔
نفسیات میں اس کیفیت کو کسی حد تک Cognitive Dissonance فکری یا عملی تضاد سے سمجھا جا سکتا ہے: انسان کے دعوے اور اس کے عمل میں فرق۔
اسلام اسی فرق کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ مذہبی شناخت صرف چہرے یا لباس میں نہیں، بلکہ معاملات، زبان اور اخلاق میں بھی دکھائی دینی چاہیے۔
داڑھی: علامت کے ساتھ اخلاق:
داڑھی نبوی روایت سے وابستہ ایک اہم دینی علامت ہے اور بہت سے مسلمان اسے محبتِ رسول ﷺ اور اتباعِ سنت کے جذبے سے رکھتے ہیں۔
لیکن سنتِ نبوی کا دائرہ صرف ظاہری ہیئت تک محدود نہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا حلم، عفو، رحم، عدل، سخاوت، نرم گفتگو اور کمزوروں سے حسنِ سلوک بھی سنت کا بنیادی حصہ ہیں۔
اس لیے اگر کوئی شخص ظاہری سنت اختیار کرتا ہے تو اس کے اخلاق میں بھی نبوی مزاج کی جھلک آنی چاہیے۔
داڑھی کسی شخص کو دوسروں سے اخلاقی طور پر برتر ہونے کا خودکار حق نہیں دیتی۔ حقیقی برتری کا تعلق تقویٰ، کردار اور عمل سے ہے۔
ٹوپی اور مذہبی لباس: احترام، نہ کہ سماجی درجہ بندی:
ٹوپی برصغیر کی مسلم تہذیب میں ایک نمایاں علامت رہی ہے۔ نماز، مساجد، مدارس اور مذہبی تقریبات میں اسے احترام کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔
لیکن لباس کو انسانوں کی درجہ بندی کا معیار نہیں بنایا جا سکتا۔
اسلامی اخلاق کا تقاضا ہے کہ جو شخص مذہبی لباس پہنے وہ سادگی، وقار اور تواضع اختیار کرے۔ دوسری طرف، جو مسلمان مخصوص مذہبی لباس نہ پہنے، اس کے دین یا کردار کے بارے میں فوری فیصلہ کرنا بھی مناسب نہیں۔
یہاں ایک اہم عمرانیاتی اصول سامنے آتا ہے: Appearance اور Reality ہمیشہ ایک جیسی نہیں ہوتیں۔
انسان کی اصل سماجی قدر اس کے مسلسل رویّے سے ظاہر ہوتی ہے۔
تسبیح اور نفسیاتی سکون:
تسبیح ذکر کے لیے ایک وسیلہ ہے۔ ذکر کا مقصد محض الفاظ کی تکرار نہیں بلکہ قلبی سکون، خود احتسابی اور اللہ سے تعلق پیدا کرنا ہے۔
نفسیاتی اعتبار سے باقاعدہ ذکر، خاموش توجہ، دعا اور روحانی یکسوئی انسان کے ذہنی انتشار کو کم کرنے، توجہ کو مجتمع کرنے اور جذباتی ضبط میں مدد دے سکتی ہے۔
لیکن اگر تسبیح ہاتھ میں ہو اور زبان مسلسل غیبت، طعنہ، الزام اور تحقیر میں مصروف رہے تو ذکر کا اخلاقی مقصد پورا نہیں ہوتا۔
مذہبی عمل کا سب سے بڑا ثبوت انسان کے رویّے میں ظاہر ہونے والی تبدیلی ہے۔
مسواک: مذہب، صحت اور تہذیب:
مسواک سنت کے ساتھ ساتھ صفائی اور صحت کی علامت بھی ہے۔
اس سے اسلامی تہذیب کا ایک اہم اصول سامنے آتا ہے: روحانی پاکیزگی اور جسمانی پاکیزگی ایک دوسرے سے جدا نہیں۔
صفائی، خوشبو، دانتوں کی حفاظت، لباس کی پاکیزگی اور ماحول کی صفائی اسلامی معاشرت کا حصہ ہیں۔
جدید دور میں مسواک اور جدید Dental Hygiene ایک دوسرے کی مخالف چیزیں نہیں، بلکہ مقصد ایک ہی ہے: صحت اور پاکیزگی۔
Human Behaviour انسانی برتاؤ اصل معیار کیوں؟:
انسانی برتاؤ سے مراد وہ طریقہ ہے جس سے انسان دوسروں سے بات کرتا، ردِعمل ظاہر کرتا، اختلاف کرتا، محبت کرتا، غصہ کرتا اور سماجی ذمہ داریاں نبھاتا ہے۔
نفسیات ہمیں بتاتی ہے کہ Behaviour کے پیچھے کئی عوامل ہوتے ہیں:
خاندانی تربیت،
بچپن کے تجربات،
شخصیت،
جذباتی کیفیت،
تعلیم،
مذہبی تصورات،
سماجی ماحول،
اور گروہی دباؤ۔
اسلامی تربیت کا مقصد ان عوامل کو ایک اخلاقی سمت فراہم کرنا ہے۔
ایک شخص کے مذہبی کردار کا حقیقی امتحان مسجد سے باہر ہوتا ہے:
وہ گھر والوں سے کیسا سلوک کرتا ہے؟
ملازم سے کس لہجے میں بات کرتا ہے؟
غریب کو عزت دیتا ہے یا نہیں؟
مخالف رائے رکھنے والے کو برداشت کرتا ہے یا نہیں؟
غصے کے وقت خود پر قابو رکھتا ہے یا نہیں؟
اور فائدہ نہ ہونے کے باوجود انصاف کرتا ہے یا نہیں؟
یہ سب Human Behaviour کے بنیادی سوالات ہیں۔
گفتگو اور شخصیت:
انسانی شخصیت کی سب سے فوری شناخت اس کی گفتگو ہے۔
اسلام نے زبان کے استعمال پر غیر معمولی توجہ دی ہے۔ قرآن بہتر بات کہنے، نرم گفتگو، تمسخر سے اجتناب اور بدگمانی سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے۔
نفسیات کے مطابق جارحانہ زبان اکثر اندرونی غصے، عدم تحفظ، احساسِ برتری یا جذباتی عدم توازن کا اظہار بھی ہو سکتی ہے۔
اس کے برعکس مہذب گفتگو Emotional Intelligence کی علامت ہے۔
اعلیٰ Emotional Intelligence رکھنے والا شخص اختلاف کے باوجود اپنی زبان پر قابو رکھتا ہے، دوسروں کی بات سنتا ہے اور فوراً توہین یا غصے کی طرف نہیں جاتا۔
اسلامی تہذیب میں یہی ضبطِ نفس ایک اہم اخلاقی فضیلت ہے۔
انسانی وقار:
قرآن مجید میں انسان کی تکریم کا تصور نہایت نمایاں ہے:
’’اور بے شک ہم نے اولادِ آدم کو عزت بخشی۔‘‘
یہ اصول انسانی وقار کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
انسان کی عزت صرف اس کی دولت، تعلیم، ذات، مسلک، منصب یا جماعت کی وجہ سے نہیں ہونی چاہیے۔
انسانی وقار کا تقاضا ہے کہ کسی غریب، کم تعلیم یافتہ، ملازم، عورت، بچے، بوڑھے یا مخالف نظریے کے فرد کی تحقیر نہ کی جائے۔
ایک مذہبی معاشرہ اسی وقت واقعی مذہبی کہلانے کا مستحق ہے جب کمزور ترین انسان بھی اس میں اپنے وقار کو محفوظ محسوس کرے۔
مذہبی القابات اور شخصیت پرستی:
مسلم معاشروں میں مولانا، مفتی، حافظ، قاری، علامہ، شیخ، پیر اور حضرت جیسے القابات استعمال ہوتے ہیں۔
یہ القابات احترام، علم یا دینی خدمت کی علامت ہو سکتے ہیں۔
لیکن عمرانیات ہمیں خبردار کرتی ہے کہ جب کسی شخصیت کے گرد غیر معمولی تقدس قائم ہو جائے تو Personality Cult — شخصیت پرستی پیدا ہو سکتی ہے۔
احترام اور شخصیت پرستی میں فرق ضروری ہے۔
عالم کا احترام کیا جائے، مگر سوال کرنے کا حق باقی رہے۔ بزرگ سے محبت کی جائے، مگر اسے انسانی خطا سے مکمل طور پر بالاتر نہ سمجھا جائے۔
علم کا حقیقی اثر انسان میں غرور نہیں بلکہ تواضع پیدا کرتا ہے۔
اسلامی جماعتیں اور Group Behaviour:
اسلامی جماعتیں، تنظیمیں اور تحریکیں دعوت، تعلیم، اصلاح اور خدمت کے بڑے کام انجام دے سکتی ہیں۔
لیکن سماجی نفسیات میں Group Behaviour گروہی برتاؤ ایک اہم موضوع ہے۔
انسان بعض اوقات اپنے گروہ کے اندر ایسی رائے اختیار کر لیتا ہے جو وہ تنہا شاید اختیار نہ کرتا۔
اسی سے In-group اور Out-group کا تصور پیدا ہوتا ہے: “ہم” اور “وہ”۔
اگر جماعتی وابستگی بہت شدید ہو جائے تو انسان اپنی جماعت کو حق کا واحد نمائندہ اور دوسرے مسلمانوں کو کمتر سمجھنے لگتا ہے۔
یہی مقام تعصب کو جنم دیتا ہے۔
ایک صحت مند اسلامی جماعت وہ ہوگی جو اپنے افراد کو یہ سکھائے کہ:
اپنی جماعت سے محبت کرو مگر دوسرے کی تحقیر نہ کرو۔
اپنے مسلک پر قائم رہو مگر دوسروں کی عزت محفوظ رکھو۔
دعوت دو مگر جبر نہ کرو۔
اختلاف کرو مگر نفرت نہ پھیلاؤ۔
مذہب اور سماجی اخلاق:
عمرانیات کے بڑے مباحث میں مذہب کو سماجی نظم، اجتماعی شعور اور اخلاقی اقدار سے جوڑا جاتا ہے۔
دین انسان کو صرف انفرادی عبادت نہیں سکھاتا بلکہ اسے معاشرتی ذمہ داری کا احساس بھی دیتا ہے۔
اسلام میں پڑوسی، یتیم، مسکین، مسافر، والدین، رشتہ دار اور کمزور طبقوں کے حقوق اسی سماجی اخلاق کا حصہ ہیں۔
اس لیے اگر مذہب انسان کے رویّے میں ہمدردی پیدا نہیں کرتا تو مذہبی تربیت ادھوری رہ جاتی ہے۔
ظاہر، باطن اور سماجی کردار:
ایک متوازن شخصیت میں تین چیزیں باہم ہم آہنگ ہونی چاہییں:
ظاہر Appearance
باطن Inner Character
برتاؤ Behaviour
ظاہر مذہبی ہو، باطن میں اخلاص ہو اور برتاؤ میں انسانیت ہو تو شخصیت مکمل ہوتی ہے۔
لیکن اگر ظاہر اور Behaviour میں بڑا فرق پیدا ہو جائے تو فرد کے ساتھ ساتھ مذہبی اداروں کی سماجی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔
ایک شخص کا غلط برتاؤ کبھی کبھی پورے مذہبی طبقے کے بارے میں منفی تصور پیدا کر دیتا ہے۔ اس لیے مذہبی افراد پر اخلاقی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔
تجزیہ:
داڑھی، ٹوپی، تسبیح اور مسواک اپنی جگہ قابلِ احترام مذہبی اور تہذیبی علامات ہیں۔ مذہبی القابات اہلِ علم کے احترام کا ذریعہ ہو سکتے ہیں اور اسلامی جماعتیں سماجی خدمت اور اصلاح کا مؤثر وسیلہ بن سکتی ہیں۔
لیکن ان سب کی حقیقی معنویت انسان کے Behaviour سے ظاہر ہوتی ہے۔
اسلامی تعلیمات کی کامیابی اس وقت محسوس ہوتی ہے جب:
داڑھی کے ساتھ تواضع ہو،
ٹوپی کے ساتھ شرافت ہو،
تسبیح کے ساتھ نرم زبان ہو،
مسواک کے ساتھ پاکیزگی ہو،
علم کے ساتھ انکساری ہو،
جماعت کے ساتھ وسعتِ قلب ہو،
اختلاف کے ساتھ تہذیب ہو،
اور مذہب کے ساتھ انسانیت ہو۔
انسان کی مذہبی شناخت صرف یہ نہیں کہ وہ کیا پہنتا ہے یا کس جماعت سے وابستہ ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ اس کے وجود سے دوسرے انسان کو عزت، امن، انصاف اور احترام کتنا ملتا ہے۔
یہی اسلامی اخلاق، انسانی نفسیات اور مہذب معاشرت کے درمیان سب سے خوبصورت رشتہ ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے